گلوکار بشیر احمد , انہوں نے لازوال گیت گائے، وہ نغمہ نگار اور موسیقار بھی تھے

گلوکار بشیر احمد , انہوں نے لازوال گیت گائے، وہ نغمہ نگار اور موسیقار بھی تھے

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان کی اردو فلموں کی کامیابی میں بنگالی اداکاروں، نغمہ نگاروں اور سنگیت کاروں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ سابقہ مشرقی پاکستان میں 60کی دہائی میں بڑی معیاری اردو فلمیں بنائی گئیں۔ بنگالی فنکاروں میں شبانہ، شبنم، رحمان، مصطفی، نسیمہ خان اور دیگر فنکاروں کی خدمات تسلیم نہ کرنا صریحاً ناانصافی ہوگی۔ اس طرح سرور بارہ بنکوی اور اختر یوسف نے اعلیٰ درجے کے فلمی گیت تخلیق کیے جو آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ موسیقاروں کی بات کی جائے تو روبن گھوش کی فنی عظمت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ انہوں نے یادگار دھنیں تخلیق کیں۔ گلوکاراؤں میں رُونا لیلیٰ فردوسی بیگم اور شہناز بیگم کو کون بھول سکتا ہے اور پھر گلوکار بشیر احمد کی مدھر بھری آواز کے دیوانوں کی آج بھی کمی نہیں۔ وہ بشیر احمد جنہیں مشرقی پاکستان کا ا حمد رشدی کہا جاتا تھا۔ 60 کی دہائی میں نہایت مقبول تھے۔ انہوں نے بلاشبہ اتنے خوبصورت گیت گائے جن کو سن کر آج بھی دل جھوم اٹھتا ہے۔بشیر احمد 11نومبر 1940 کو کولکتہ (مغربی بنگال) میں پیدا ہوئے انہوں نے پاکستانی فلمی صنعت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ ڈھاکہ چلے آئے جہاں انہوں نے پلے بیک گلوکار کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ 15برس کی عمر میں ہی وہ استاد ولایت حسین کے شاگرد بن گئے۔ جب وہ ممبئی آئے تو یہاں انہوں نے استاد بڑے غلام علی خان سے بہت کچھ سیکھا۔ بشیر احمد نے بھارت کی مشہور گلوکارہ گیتاوت کے ساتھ بھی کام کیا۔ ڈھاکہ میں بشیر احمد کے برادرِ نسبتی عشرت کلکتوی نے اُن کا تعارف روبن گھوش سے کرایا۔ وہ ان دنوں اردو فلم ’’تلاش‘‘ کے گیت لکھ رہے تھے۔ یہ اتفاق کی بات ہے اس فلم کے زیادہ گیت سرور بارہ بنکوی نے تخلیق کیے۔ بشیر احمد نے اس فلم کے لیے کچھ گانے گائے۔ جن میں ’’کچھ اپنی کہیے، کچھ میری سنیے‘‘ اور ’’میں رکشے والا بے چارہ‘‘ بہت ہٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دو اور گیت گائے۔بشیر احمد شاعری بھی کرتے تھے اور انہوں نے اپنا ادبی نام بی اے دیپ رکھا ہوا تھا۔ 1963 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’تلاش‘‘ کے سپرہٹ نغمات گانے کے بعد بشیر احمد شہرت کی سیڑھی پر پہلا قدم رکھ چکے تھے۔ اس دوران فلمساز مستفیض نے ان سے رابطہ کیا اور ان سے اپنی فلم ’’ساگر‘‘ کیلئے ایک نغمہ گانے کو کہا۔ بشیر احمد نے وہ نغمہ گایا جس کے بول تھے ’’جو دیکھا پیار ترا‘‘۔ 1964 میں انہوں نے روبن گھوش کی موسیقی میں فلم ’’کارواں‘‘ کے گیت گائے۔اس فلم کے تمام گیت ہٹ ہوئے لیکن بشیر احمد کا گایا ہوا یہ گیت ’’جب تم اکیلے ہو گے ہم یاد آئیں گے‘‘ مقبولیت کی تمام حدیں پار کر گیا۔ اس گیت کو انہوں نے خود ہی لکھا تھا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ وہ نغمات بی اے دیپ کے نام سے لکھتے تھے اور پلے بیک گلوکاری بشیر احمد کے نام سے کرتے تھے۔ انہوں نے ’’ساگر، کارواں، ایندھن، ملن، کنگن اور درشن‘‘ کے نہ صرف نغمات لکھے بلکہ انہیں گایا بھی۔ بشیر احمد نے ان فلموں کے لیے شاندار گیت گائے۔ جن گیتوں نے بہت شہرت حاصل کی ان میں ’’یہ موسم یہ مست نظارے، تمہارے لئے اس دل میں، دن رات خیالوں میں، ہم چلے چھوڑ کر، گلشن میں بہاروں میں تو ہے‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے میڈم نور جہاں کے ساتھ بھی ایک دو گانا گایا ’’چن لیا اِک پھول کو‘‘۔ یہ دو گانا بھی بہت ہٹ ہوا۔1971 میں جب بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا تو مغربی پاکستان کے فلمسازوں نے ان کی وہ قدر و منزلت نہ کی جس کے وہ مستحق تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ بشیر احمد رشدی کے انداز میں گاتے ہیں جو اس وقت بہت بڑے پلے بیک گلوکار تھے۔ اس دوران بشیر احمد نے فلم ’’بِل سٹیشن‘‘ کے جو نغمات گائے اُن کو بہت پذیرائی ملی لیکن ان کے علاوہ ان کا کوئی اور قابل ذکر گیت نہیں ملتا۔کہا جاتا ہے کہ 70کی دہائی میں سقوطِ ڈھاکہ پر ایک فلم بنائی گئی جس کا نام تھا سنگتراش‘‘۔ اس میں بشیر احمد کے گیت بھی شامل تھے، جن میں ’’بول ذرا کچھ دنیا والے‘‘ اور ’’مکھڑے میں چاند‘‘ شامل ہیں اس وقت جنرل ضیا الحق کی حکومت تھی۔ فلمساز کی بے پناہ کاوشوں کے باوجود اس فلم کی نمائش کی اجازت نہ ملی۔ بشیر احمد اس کے بعد بنگلہ دیش چلے گئے جہاں انہوں نے طویل عرصے تک بنگالی فلموں کے بے شمار گیٹ گائے۔ اس لیے بشیر احمد کو صرف اردو فلموں کا ہی نہیں بلکہ بنگالی فلموں کا گلوکار بھی کہا جاتا ہے۔2005 میں انہیں بنگلہ دیش کی حکومت نے ایکوشے پدک ایوارڈ دیا۔ اس کے بعد انہیں ’’کوک ہو تو میگھ کوک ہو تو برستی‘‘ کیلئے شاندار نغمات گانے پر بنگلہ دیش نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بشیر احمد نے غزلیں بھی گائیں اور غزل گائیکی میں بھی انہوں نے شہرت حاصل کی۔ یہ اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ قدرت نے بشیر احمد کو زبردست صلاحیتوں سے نوازا تھا اور انہوں نے عمر بھر اپنی ان صلاحیتوں سے اہل موسیقی کو حیران کیے رکھا۔ یہ حقیقت ہے کہ بشیر احمد جیسا باصلاحیت فنکار بار بار پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے اردو اور بنگالی ہٹ گانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ نغمہ نگار اور موسیقار کی حیثیت سے بھی انہوں نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ آج بھی پاکستان اور بنگلہ دیش میں ان کے مداحین کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔بشیر احمد 19اپریل 2014 کو 73برس کی عمر میں ڈھاکہ میں انتقال کر گئے۔ اس موقع پر ان کا یہ گیت بہت یاد آیا ’’ہم چلے چھوڑ کر تیری محفل صنم‘‘۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
جدید چپ متعارف

جدید چپ متعارف

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اور سنگِ میلپرسنل کمپیوٹرز میں اے آئی،ٹیکنالوجی کی دنیا کا نیا موڑمصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں تیز رفتار ترقی نے کمپیوٹر کے روایتی تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب مصنوعی ذہانت صرف بڑے ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ پلیٹ فارمز تک محدود نہیں رہی بلکہ اسے براہ راست ذاتی کمپیوٹرز تک پہنچانے کی دوڑ بھی تیز ہو گئی ہے۔ اسی تناظر میں دنیا کی معروف چپ ساز کمپنی این ویڈیا نے ایک نئی اور جدید اے آئی چپ متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کو براہ راست پرسنل کمپیوٹرز تک منتقل کرنا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت صارفین انٹرنیٹ یا کلاؤڈ پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنے کمپیوٹر پر ہی جدید اے آئی ایپلی کیشنز، تخلیقی سافٹ ویئر، ڈیٹا تجزیے اور دیگر ذہین نظاموں سے زیادہ تیز، محفوظ اور مؤثر انداز میں استفادہ کر سکیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف ذاتی کمپیوٹنگ کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو گی بلکہ مصنوعی ذہانت کے روزمرہ استعمال کو بھی مزید آسان، عام اور قابلِ رسائی بنا دے گی، جس کے اثرات تعلیم، تحقیق، کاروبار اور تخلیقی صنعتوں سمیت زندگی کے متعدد شعبوں پر مرتب ہوں گے۔امریکی ٹیکنالوجی کمپنی این ویڈیا رواں سال کے آخر تک مائیکروسافٹ، ڈیل اور دیگر معروف برانڈز کے لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں مصنوعی ذہانت (AI) کی جدید صلاحیتیں متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کے ذریعے کمپنی اپنے اے آئی کاروبار کو مزید وسعت دے گی۔امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سانتا کلارا میں قائم اے آئی چپس بنانے والی کمپنی نے تائیوان کے شہر تائی پے میں منعقدہ اپنی سالانہ این ویڈیا جی ٹی سی کانفرنس کے دوران نئے اور طاقتور چپس متعارف کرائے، جو لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں جدید مصنوعی ذہانت کی سہولیات فراہم کریں گے۔کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ کے مطابق یہ نئی پیش رفت ''پرسنل کمپیوٹر کو ازسرِنو متعارف کرائے گی‘‘۔ یہ پیش رفت مائیکروسافٹ اور این ویڈیا کے درمیان گزشتہ تین برسوں سے جاری تعاون کا نتیجہ ہے اور اس کے ذریعے این ویڈیا کا مقابلہ چپ ساز کمپنی ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز (AMD) اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی معروف کمپنیوں انٹیل اور ایپل سے مزید سخت ہو جائے گا۔جینسن ہوانگ نے تقریب کے دوران ''آرٹی ایکس سپارک‘‘(RTX Spark) نامی نیا سپر چپ بھی متعارف کرایا، جو سی پی یو (Central Processing Unit) اور جی پی یو (Graphics Processing Unit) دونوں کی صلاحیتوں کو یکجا کرتا ہے۔ یہ چپ ونڈوز پر مبنی نئے لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کو طاقت فراہم کرے گی، جنہیں کمپنی نے ''اے آئی پرسنل کمپیوٹرز‘‘ کا نام دیا ہے۔ ان نئے کمپیوٹرز کی فروخت رواں سال خزاں کے موسم میں شروع ہونے کی توقع ہے۔یہ چپ تائیوان کی کمپنی میڈیا ٹیک کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے اور ابتدائی طور پر ڈیل، ایچ پی، لینوو، ایسوس، مائیکروسافٹ سرفیس اور ایم ایس آئی کے کمپیکٹ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں استعمال ہوگی، جبکہ بعد ازاں ایسر اور گیگا بائٹ بھی اس ٹیکنالوجی پر مبنی ماڈلز متعارف کرائیں گے۔دنیا کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں شمار ہونے والی این ویڈیا کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی تخلیقی کاموں (Content Creation) اور گیمنگ کے شعبے میں انقلاب برپا کرے گی۔جینسن ہوانگ کے مطابق ''جب آپ کے کمپیوٹر میں ایک خودمختار مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون (AI Agent) موجود ہوگا، جو آپ کو سمجھے گا اور آپ کی مدد کرے گا، تو آپ اس سے بات کر سکیں گے، وہ آپ کو دیکھ سکے گا، آپ اس سے فائلیں پڑھنے، تحقیق میں مدد کرنے اور دیگر متعدد کام انجام دینے کیلئے کہہ سکیں گے۔ یوں پرسنل کمپیوٹر پہلے سے کہیں زیادہ ذہین اور کارآمد بن جائے گا۔مائیکروسافٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ این ویڈیا کے ''آر ٹی ایکس سپارک‘‘ سپر چپس سے لیس پرسنل کمپیوٹرز نہایت طاقتور مصنوعی ذہانت ماڈلز اور پیچیدہ کمپیوٹنگ ورک لوڈز کو باآسانی چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔این ویڈیا کے مطابق، ان نئے سپر چپس کی بدولت یہ پرسنل کمپیوٹرز مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس کو براہِ راست اپنے سسٹم پر چلا سکیں گے، جس کیلئے ہر وقت کلاؤڈ سروس یا انٹرنیٹ پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس سے صارفین کو تیز رفتار کارکردگی، بہتر رازداری، کم تاخیر اور زیادہ مؤثر انداز میں اے آئی سہولیات میسر آئیں گی۔ماہرین کے مطابق این ویڈیا کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ذاتی مصنوعی ذہانت معاونین (Personal AI Agents)کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ٹیکنالوجی ریسرچ اور مشاورتی ادارے اومڈیا (Omdia) کے چیف تجزیہ کار لیان جے سو نے کہا کہ صارفین کیلئے اس کا مطلب زیادہ انتخاب اور بہتر مواقع ہیں، اور یہ ہمیشہ ایک مثبت پیش رفت ہوتی ہے۔دوسری جانب ٹیکنالوجی مارکیٹ ریسرچ فرم کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کے شریک بانی اور تجزیہ کار نیل شاہ نے این ویڈیا کے اس اعلان کو ایسا قدم قرار دیا جو آئندہ دس برسوں میں پرسنل کمپیوٹرز کی شکل و صورت اور استعمال کا انداز بدل کر رکھ دے گا۔

زیر زمین پانی کے کم ہوتے ذخائر:ایک خاموش بحران

زیر زمین پانی کے کم ہوتے ذخائر:ایک خاموش بحران

اگر کسی صبح آپ اپنے گھر کا نل کھولیں اور اس میں سے پانی نہ آئے تو یقینا آپ کو فوراً احساس ہو جائے گا کہ پانی کی کتنی اہمیت ہے۔ لیکن شاید ہم میں سے بہت کم لوگ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ہمارے گھروں، شہروں اور کھیتوں تک پہنچنے والا یہ پانی آخر آتا کہاں سے ہے۔ دریائوں، نہروں اور ڈیموں کا ذکر تو اکثر ہوتا رہتا ہے، مگر زمین کے سینے میں صدیوں سے محفوظ وہ خزانہ، جسے ہم زیر زمین پانی یا گرائونڈ واٹر کہتے ہیں، خاموشی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔یہ ایک ایسا بحران ہے جو نظر نہیں آتا، اسی لیے شاید اس پر توجہ بھی کم دی جاتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی آبی سلامتی کا مستقبل بڑی حد تک اسی پوشیدہ ذخیرے سے وابستہ ہے۔ اگر یہ ذخائر ختم ہوتے رہے تو صرف کھیت ہی بنجر نہیں ہوں گے بلکہ شہر بھی پیاس کا شکار ہو سکتے ہیں۔پاکستان پہلے ہی پانی کی کمی کا سامنا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز اور پانی کے غیر محتاط استعمال نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ہم اکثر دریائوں میں کم پانی، ڈیموں کی ضرورت یا صوبوں کے درمیان آبی تنازعات پر گفتگو کرتے ہیں، لیکن زمین کے نیچے موجود پانی کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر ہماری توجہ حاصل نہیں کر پاتے۔آج ملک کے لاکھوں ٹیوب ویل دن رات زمین سے پانی کھینچ رہے ہیں۔ یہ پانی کھیتوں کو سیراب کرنے، شہروں کی ضروریات پوری کرنے اور صنعتوں کو چلانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ مسئلہ پانی کے استعمال میں نہیں بلکہ اس کے بے دریغ اور بے قابو استعمال میں ہے۔ قدرت جتنی رفتار سے ان ذخائر کو دوبارہ بھرتی ہے، ہم اس سے کہیں زیادہ تیزی سے انہیں خالی کر رہے ہیں۔لاہور، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہر بڑی حد تک زیر زمین پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ بعض علاقوں میں پانی کی سطح ہر سال کئی فٹ نیچے جا رہی ہے۔ لوگ جب پانی کم ہونے کی شکایت کرتے ہیں تو نئے اور زیادہ گہرے بور کروا لیتے ہیں۔ یوں مسئلہ وقتی طور پر تو حل ہو جاتا ہے مگر اصل بحران مزید سنگین ہو جاتا ہے۔بلوچستان کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں کئی علاقوں میں زیر زمین پانی اس قدر نیچے جا چکا ہے کہ کسانوں نے زمینیں چھوڑنا شروع کر دی ہیں۔ کوئٹہ برسوں سے اس مسئلے کا سامنا کر رہا ہے اور بعض دیہی علاقوں میں پانی کا حصول روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے اور زراعت کا دارومدار پانی پر۔ ہمارے آبپاشی کے نظام کو دنیا کے بڑے نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نہری پانی کی دستیابی میں کمی اور زرعی رقبے میں اضافے نے کسانوں کو ٹیوب ویلوں کی طرف دھکیل دیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بیشتر کسان اپنی فصلوں کیلئے زیر زمین پانی استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ہم اب بھی ایسی فصلیں اگا رہے ہیں جنہیں پانی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ گنا اور چاول جیسی فصلیں ان علاقوں میں بھی کاشت کی جا رہی ہیں جہاں پانی پہلے ہی کم ہے۔ روایتی فلڈ ایریگیشن کے طریقے بھی پانی کے بڑے ضیاع کا سبب بنتے ہیں۔ پانی کھیتوں میں ضرورت سے زیادہ چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ فصلوں کی پانی کی ضرورت بڑھا رہا ہے۔ بارشوں کا نظام غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی طویل خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی شدید سیلاب آ جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم سیلابی پانی کو محفوظ کرنے اور اسے زیر زمین ذخائر تک پہنچانے کا موثر نظام بھی نہیں بنا سکے۔یہ مسئلہ صرف ماحولیات تک محدود نہیں بلکہ براہ راست عام آدمی کی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ جب پانی کی سطح نیچے جاتی ہے تو کسانوں کو زیادہ گہرے کنویں کھودنے پڑتے ہیں، زیادہ طاقتور موٹریں لگانی پڑتی ہیں اور بجلی کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ چھوٹے کسان یہ بوجھ برداشت نہیں کر پاتے اور ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔شہروں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ پانی کی قلت بڑھنے کے ساتھ لوگ نجی واٹر ٹینکروں پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ غریب آبادیوں کیلئے صاف پانی کا حصول مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی کے معیار کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ بعض علاقوں میں زیر زمین پانی میں نمکیات، صنعتی فضلہ، زرعی کیمیکلز اور آرسینک کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہم زیر زمین پانی کو ایک قومی اثاثہ سمجھیں۔ پانی کے بے تحاشا استعمال کو روکنے کیلئے موثر قوانین اور نگرانی کا نظام ضروری ہے۔ نئے ٹیوب ویلوں کی رجسٹریشن اور پانی کے استعمال کے باقاعدہ ریکارڈ کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، ری چارج ویلز بنانے، چھوٹے آبی ذخائر تعمیر کرنے اور شہری علاقوں میں ایسے منصوبے متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو پانی کو دوبارہ زمین میں جذب ہونے کا موقع دیں۔ جدید آبپاشی کے طریقوں کو فروغ دے کر بھی پانی کے ضیاع کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔عوامی شعور بیدار کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ چونکہ زیر زمین پانی نظر نہیں آتا، اس لیے اس کی اہمیت کا احساس بھی کم ہوتا ہے۔ اگر لوگ یہ جان لیں کہ ان کے گھروں، کھیتوں اور شہروں کی بقا اسی پوشیدہ خزانے سے وابستہ ہے تو شاید وہ اس کے استعمال میں احتیاط بھی اختیار کریں۔دنیا کے کئی ممالک نے دانشمندانہ پالیسیوں، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی تعاون کے ذریعے اپنے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو محفوظ بنایا ہے۔ پاکستان کے پاس بھی ماہرین، ادارے اور وسائل موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔زمین کے نیچے موجود پانی صدیوں میں جمع ہوتا ہے مگر چند دہائیوں میں ختم بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ہم نے آج اس خاموش بحران کو نظر انداز کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں شاید کبھی معاف نہ کر سکیں۔

 دفتر میں نوکری

دفتر میں نوکری

ہم نے دفتر میں کیوں نوکری کی اور چھوڑی، آج بھی لوگ پوچھتے ہیں مگر پوچھنے والے تو نوکری کرنے سے پہلے بھی پوچھا کرتے تھے ''بھئی، آخر تم نوکری کیوں نہیں کرتے؟‘‘، ''نوکری ڈھونڈتے نہیں ہو یا ملتی نہیں؟‘‘، ''ہاں صاحب، ان دنوں بڑ ی بیروز گاری ہے‘‘، ''آخرکب تک گھر بیٹھے ماں باپ کی روٹی توڑو گے‘‘۔''لو اور سنو، کہتے ہیں، غلامی نہیں کریں گے۔‘‘''میاں صاحبزادے! برسوں جوتیاں گھسنی پڑیں گی، تب بھی کوئی ضروری نہیں کہ۔۔۔‘‘غرض کہ صاحب گھر والوں، عزیز رشتے داروں، پڑوسیوں اور دوستوں کے دن رات کے تقاضوں سے تنگ آکر ہم نے ایک عدد نوکری کرلی۔ نوکری تو کیا کی، گھر بیٹھے بٹھائے اپنی شامت مول لے لی۔ وہی بزرگ جو اٹھتے بیٹھتے بے روزگاری کے طعنوں سے سینہ چھلنی کئے دیتے تھے، اب ایک بالکل نئے انداز سے ہم پر حملہ آور ہوئے؟‘‘۔ ''اماں، نوکری کرلی؟ لاحول ولا قوہ!‘‘، ''ارے، تم اور نوکری؟‘‘، ''ہائے، اچھے بھلے آدمی کو کولہو کے بیل کی طرح دفتر کی کرسی میں جوت دیا گیا‘‘، ''اگر کچھ کام وام نہیں کرنا تھا تو کوئی کاروبار کرتے اس نوکری میں کیا رکھا ہے‘‘۔لیکن ملازمت کا پرسہ اور نوکری پر جانا دونوں کام جاری تھے۔ ایسے حضرات اور خواتین کی بھی کمی نہ تھی جن کی نظروں میں خیر سے ہم اب تک بالکل بے روزگار تھے۔ لہٰذا ان سب کی طرف سے نوکری کی کنویسنگ بھی جاری تھی۔ روزگار کرنے اور روز گار نہ کرنے کا بالکل مفت مشورہ دینے والوں سے نبٹ کر ہم روز انہ دفتر کا ایک چکر لگاآتے۔ یہاں چکر لگانے کا لفظ میں نے جان بوجھ کر استعمال کیاہے کیونکہ اب تک ہم کو نوکری مل جانے کے باوجود کا م نہیں ملا تھا۔ بڑے صاحب دورے پر گئے ہوئے تھے۔ ان کی واپسی پر یہ طے ہونا تھا کہ ہم کس شعبے میں رکھے جائیں گے۔ دفتر ہم صرف حاضری کے رجسٹر پر دستخط کرنے کی حدتک جاتے تھے۔ فکر اس لیے نہ تھی کہ ہماری تنخواہ جڑرہی تھی، یعنی پیسے دودھ پی رہے تھے۔ پریشانی اس بات کی تھی کہ اس 'باکار‘ 'بے کاری‘ کے نتیجے میں ہم کہیں 'حرام خور‘ نہ ہوجائیں۔بے روزگاری کے تقاضوں سے ہم اس قدر تنگ آچکے تھے کہ اب کسی پر یہ ظاہر کرنا نہ چاہتے تھے کہ باوجود روزگار سے لگے ہونے کے ہم بالکل بے روزگار ہیں اور بے روز گا ر بھی ایسے کہ جس سے کارتو کار، بے گار تک نہیں لیا جارہا ہے۔اس کے بعدہم دفتر میں جاکر حاضری لگا الٹے قدموں باہر آتے، سائیکل اٹھاتے اور شہر کے باہر دیہات، باغوں اور کھیتوں کے چکر لگا لگا کر دل بہلاتے اور وقت کاٹتے۔لیکن دوچار دن میں، جب دیہات کی سیر سے دل بھرگیا، تو شہر کے نکڑ پر ایک چائے خانے میں اڈا جمایا۔ پھر ایک آدھ ہفتے میں اس سے بھی طبیعت گھبرا گئی۔ اب سوال یہ کہ جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک ترکیب سوجھ گئی۔ گھر میں کہہ دیا، چھٹی لے لی ہے۔ دوچار دن بڑے ٹھاٹھ رہے آخر جھک مارکر وہی دفتری آوارہ گردی شروع کردی۔ رفتہ رفتہ وقت گزاری سے اتنے عاجز آگئے کہ ایک دن یہ سوچ کر کہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری، استعفیٰ جیب میں رکھ کر دفتر پہنچے لیکن ہماری بدقسمتی ملا حظہ فرمائیے کہ قبل اس کے کہ ہم استعفیٰ پیش کرتے ہمیں یہ خوشخبری سنادی گئی کہ فلاں شعبے سے ہم کو وابستہ کر دیا گیا ہے، جہاں ہم کو فلاں فلاں کام کرنے ہوں گے۔اب ہم روزانہ بڑی پابندی سے پورا وقت دفتر میں گزارنے لگے۔ دن دن بھر دفتر کی میز پر جمے ناولیں پڑھتے، چائے پیتے اور اونگھتے رہتے۔ جب ہم اپنے انچارج سے کام کی فرمائش کرتے تو وہ بڑی شفقت سے کہتے ایسی جلدی کیاہے، عزیزم زندگی بھر کام کرنا ہے۔ایک دن ہم جیسے ہی دفتر پہنچے تو معلوم ہوا کہ جن ڈائریکٹر صاحب کو ہم اپنے گھر میں مرحوم قرار دے چکے تھے، وہ ہم کو طلب فرما رہے ہیں۔ فوراً پہنچے۔بڑے اخلاق سے ملے۔ دیر تک اِدھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد بولے، ''اچھا!‘‘،''آپ نے شائد مجھے کسی کام سے یاد فرمایا تھا‘‘۔''اوہ! ٹھیک ہے۔ سکریٹری صاحب سے مل لیجئے۔ وہ آپ کو سمجھا دیں گے‘‘۔سکریٹری صاحب سے ایک ہفتے بعد کہیں ملاقات ہوسکی۔ انہوں نے اگلے دن بلایا اور بجائے کام بتانے کے ڈپٹی سکریٹری کاپتہ بتا دیا۔ موصوف دورے پر تھے۔ دوہفتے بعد ملے۔ بہت دیر تک دفتری نشیب و فر از سمجھانے کے بعد ہمیں حکم دیاکہ اس موضوع پر اس اس قسم کا ایک مختصر سا مقالہ لکھ لائیے آدھے گھنٹے کے اندر تیار کردیا۔خوشی کے مارے ہم پھولے نہ سمائے کہ ہم بھی دنیامیں کسی کام آسکتے ہیں۔ دوصفحے کا مقالہ تیار کرنا تھا جو ہم نے بڑی محنت کے بعد آدھے گھنٹے کے اندر تیار کردیا۔ موصوف نے مقالہ بہت پسند کیا۔مزید کام کیلئے ہم ان کے کمرے کا رخ کرنے ہی والے تھے کہ اس دفتر کے ایک گھاگ افسر نے ہمارا راستہ روکتے ہوئے ہمیں سمجھایا، بھیّا اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا چاہتے ہو یا ہم لوگوں کی نوکریاں ختم کرانا چاہتے ہو؟ آخر تمہارا مطلب کیا ہے؟ جو کام تم کو دیا گیا تھا، اسے کرتے رہو ہم لوگ دفتر میں کام کرنے نہیں بلکہ اپنے آپ کو مصروف رکھنے کیلئے آتے ہیں۔اگلے دن اتوار کی چھٹی تھی۔ ناشتہ کرتے وقت اخبار کے میگزین سیکشن پر جو نظر دوڑائی تو وہی مقالہ ہمارے ایک صاحب کے صاحب کے صاحب کے صاحب کے نام نامی اور اسم گرامی کے دم چھلّے کے ساتھ بڑے نمایاں طور پر چھپا ہوا نظر آ گیا۔

آج تم یاد بے حساب آئے!شکیل:ہر دلعزیز اداکار (29مئی 1938ء تا 29جون 2023ء )

آج تم یاد بے حساب آئے!شکیل:ہر دلعزیز اداکار (29مئی 1938ء تا 29جون 2023ء )

٭...29مئی 1938ء کو غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے،تعلق بھوپال سے تھا، اصل نام یوسف کمال تھا۔٭...1952ء میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان منتقل ہوئے۔٭...ابتدائی تعلیم ایک فرانسیسی مشنری اسکول سے حاصل کی۔٭...1950ء کی دہائی میں زمانہ طالب علمی سے ہی غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا اور ریڈیو پاکستان کی طلبا کیلئے تیار کی گئی خصوصی نشریات میں بھی شرکت کی۔ ٭...1960ء کی دہائی میں علی احمد نے تھیٹر پر متعارف کرایا،جو کراچی میں تھیٹر کے فروغ کیلئے انتہائی سرگرم تھے۔شکیل نے ان کے ساتھ اسٹریٹ تھیٹر اور روایتی تھیٹر دونوں میں عملی شرکت کی ۔٭... بڑے پردے پرآمد 1966ء میں فلم' 'ہونہار‘‘ سے ہوئی۔ جس میں انہیں چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔درجنوں فلموں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔٭...اپنی اداکارانہ صلاحیتوں سے کئی عشروں تک پاکستان اور دنیا بھر میں اردو ڈراموں کی پہچان بنے رہے۔٭...1972ء میں نشر ہونے والے ڈرامے کے 'انکل عرفی‘ ہوں یا 1984ء میں نشر ہونے والے ڈرامے 'آنگن ٹیڑھا‘ کے محبوب احمد یا پھر 1982ء میں نشر ہونے والے ڈرامے 'ان کہی‘ کے تیمور احمد ہوں، ہر کردار کو اس انداز سے نبھایا کہ وہ امر ہوگیا۔ ٭...ٹیلی وژن ڈراموں میں ایسا نام کمایا کہ لوگ ان کی جیسی اداکاری کرنے کی تمنا کرنے لگے۔٭...نیک انسان تھے، شوٹنگ کے دوران نماز کے وقت پر خاموشی سے کونے میں جاکے سربسجود ہو جاتے۔٭...انگریزی فلم ''جناح‘‘ میں پہلے پاکستانی وزیراعظم لیاقت علی خان کا کردار نبھایا۔ ٭... 1992ء میں انہیں صدارتی ایوراڈ ''پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘سے نوازا گیا۔٭...2015ء میں انہیں حکومت کی طرف سے '' ستارہِ امتیاز‘‘ دیا گیا۔٭... یوسف کمال سے شکیل کاسفر کامیابیوں، کامرانیوں اور عروج و شہرت سے بھرپور رہا۔ ٭...29جون 2023ء کو کراچی میں انتقال ہوا۔٭...ان کی کیروٹڈ شریان میں رکاوٹ کا مسئلہ تھا اورچند روز بعدسرجری ہونی تھی‘ جوڑوں کی بھی تکلیف تھی۔مقبول ڈرامےانکل عرفی، ان کہی، شہزوری، زیر زبر پیش، آنگن ٹیڑھا ، افشاں، غرور، دوسری عورت، چودھویں کا چاند،کوٹھی نمبر 156، پرچھائیاں، عروسہ، چاند گرہن، میری ذات ذرہ بے نشاں، کنکر،اڈاری، جنتفلمو گرافیجوشِ انصاف، ناخدا ، پاپی ، زندگی (1968ء)، داستان (1969ء) ، انسان اور گدھا ،بادل اور بجلی‘ چاہت (1973ء)، جیدار (1981ء)، جناح (1998ء)، دستاویزی فلم ''ٹریفک ‘‘(بی بی سی چینل4)،زہر عشق (2016ء)

آج کا دن

آج کا دن

گلوب تھیٹر میں آتشزدگی1613ء میں 29جون کو لندن میں واقع گلوب تھیٹر، جو مشہور ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر کی تھیٹر کمپنی نے تعمیر کیا تھا، ایک المناک آتشزدگی کے باعث مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا۔ یہ واقعہ ایک ڈرامے کی پیشکش کے دوران پیش آیا جب اسٹیج پر استعمال ہونے والی توپ سے نکلنے والی چنگاری نے چھت کو آگ لگا دی۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم تھیٹر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ بعد ازاں اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔آئی فون کی ابتداایپل کارپوریشن نے سمارٹ فون ڈیزائن کیا اور 29جون2007ء کو دنیا کے سامنے آئی فون کے نام سے پیش کیا۔یہ آئی فون کی پہلی جنریشن تھی جسے صارفین کیلئے پیش کیا گیا۔یہ دنیا کے چند موبائل فونز میں سے ایک تھا جس میں جدید دور کی تمام سہولیات موجود تھیں۔ آئی فون نے موبائل فون بنانے کا ایسا رجحان پیدا کیا کہ آج یہ صنعت کھربوں ڈالر سالانہ کما رہی ہے۔آئی فون کو آج بھی تمام موبائل فونز کے معتبر تصور کیا جاتا ہے۔روس امریکہ مشترکہ خلائی مشن1995ء میں امریکی خلائی پروگرام کے تحت ''ایس ٹی ایس71‘‘ مشن کے دوران خلائی شٹل اٹلانٹس نے پہلی مرتبہ روسی خلائی اسٹیشن ''میر‘‘ کے ساتھ کامیاب طور پر ڈاکنگ (اتصال) کی۔ اس مشن کے ذریعے دونوں ممالک کے خلابازوں نے مشترکہ سائنسی تجربات انجام دیے اور مستقبل میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن (آئی ایس ایس) کے قیام کیلئے راہ ہموار کی۔ یہ خلائی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ٹرین حادثہ29جون1864ء کو سینٹ ہیلیر کے قریب ایک خوفناک ٹرین حادثہ پیش آیا۔ ایک مسافر ٹرین پل سے گزرتے ہوئے دریا میں گر گئی۔ٹرین کو رکنے کے سگنل بھی دیا گیا تھا لیکن عملہ اس پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہا۔اس حادثے میں تقریباً99افراد جاں بحق جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔اسے کینیڈا کی تاریخ کا بدترین ریلوے حادثہ سمجھا جاتا ہے۔ٹرین میاں تقریباً500افراد سوار تھے۔کرپریڈی کی لڑائیپہلی انگریز خانہ جنگی کے دوران کوبینبری، آکسفورڈ شائر کے قریب ایک لڑائی لڑی گی۔ اس لڑائی کو کرپریڈی کی جنگ بھی کہا جاتا ہے۔جنگ کے دوران سرولیم والر اور پارلیمنٹیرین فون کنگ چارلس کو پکڑنے میں کامیاب رہے۔یہ برطانیہ کی تاریخی لڑائیوں میں سے ایک تھی۔ اس لڑائی کے نتیجے میں اوربہت سی جھڑپیں ہوئیں لیکن کسی بھی لڑائی میں پارلیمنٹیرین افواج کو قابل ذکر فتح حاصل نہ ہو سکی۔ اس جنگ کو برطانیہ کے تاریخ میں یادگار کے طور پر بھی درج کیا جاتا ہے۔پہلا مس یونیورس مقابلہ1952ء میں دنیا کے مشہور بین الاقوامی حسن کے مقابلے ''مس یونیورس‘‘ کا پہلا انعقاد کیا گیا۔ اس تاریخی مقابلے میں مختلف ممالک کی حسیناؤں نے شرکت کی اور اپنے حسن، اعتماد اور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ فن لینڈ سے تعلق رکھنے والی ارمی کوسیلا نے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے مس یونیورس 1952ء کا اعزاز اپنے نام کیا۔ وہ اس مقابلے کی پہلی فاتح قرار پائیں اور عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔ اس کامیابی نے فن لینڈ کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔ مس یونیورس کا یہ پہلا مقابلہ بعد میں ایک سالانہ عالمی روایت بن گیا۔

اسٹون ہینج کی تعمیر کا حیرت انگیز راز

اسٹون ہینج کی تعمیر کا حیرت انگیز راز

25 ٹن وزنی پتھر کیسے نصب کیے گئے؟انسانی تاریخ میں بعض تعمیرات ایسی ہیں جو صدیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی حیرت اور تجسس کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ برطانیہ میں واقع اسٹون ہینج بھی انہی عجائبات میں سے ایک ہے، جس کی تعمیر کے راز ماہرین آثار قدیمہ کیلئے ایک معمہ بنے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک حیرت انگیز بصری منظرکشی نے اس تاریخی یادگار کی تعمیر کے عمل کو نئے انداز میں اجاگر کیا ہے۔ اس منظرکشی سے اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً پانچ ہزار سال قبل 25 ٹن وزنی پتھروں کو دور دراز مقامات سے کھینچ کر لانا اور انہیں اپنی جگہ نصب کرنا کس قدر دشوار اور محنت طلب کام تھا۔ یہ انکشاف نہ صرف قدیم انسانوں کی انجینئرنگ مہارت کو نمایاں کرتا ہے بلکہ ان کی اجتماعی قوت، تنظیم اور عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ یہ منظرکشی انگلش ہیریٹیج نے لیزر سکین ڈیٹا اور آثارقدیمہ کی تحقیق کی بنیاد پر تیار کی اور اسے اب تک کی سب سے درست اور تفصیلی تعمیر نو قرار دیا جا رہا ہے۔یہ یادگار جسے ہم آج دیکھتے ہیں تقریباً 3100 قبل مسیح سے 1600 قبل مسیح میں تعمیر ہوئی، اگرچہ یہ بصری ماڈل بنیادی طور پر تعمیر کے مرکزی مرحلے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سینکڑوں افراد نے مل کر بڑے بڑے پتھروں کو کھینچنے، اٹھانے اور اپنی جگہ پر نصب کرنے کا کام کیا، جو اس مشہور پتھریلے دائرے کی تشکیل کرتے ہیں۔اس کے معماروں نے حیرت انگیز طریقے استعمال کیے تاکہ اس انتہائی مشکل کام کو نسبتاً آسان بنایا جا سکے۔ اس سے اسٹون ہینج ایک سادہ خندقوں اور لکڑی کے کھمبوں کے دائرے سے تبدیل ہو کر قدیم برطانیہ کی سب سے پیچیدہ مذہبی اور رسوماتی جگہ بن گیا۔یونیورسٹی آف ایکسیٹر کی ماہر آثارِ قدیمہ ڈاکٹر سوزن گرینی، جنہوں نے اس تعمیر نو میں کام کیا کے مطابق اس نئی تعمیر نو میں پتھروں کو جگہ پر لانے کیلئے انہیں بڑے بڑے پتھروں، چھوٹے پتھروں کے ڈھیر پر سہارا دے کر اوپر اٹھایاگیا۔یہ طریقہ ایسٹر آئی لینڈ کے مجسموں کو کھڑا کرنے کے شواہد سے لیا گیا ہے، جو وزن اور جسامت میں اسی طرح کے ہیں۔اس شاندار تعمیر نو، جو کتاب ''Stonehenge: The Story of an Icon‘‘ کیلئے تیار کی گئی ہے، میں دکھایا گیا ہے کہ معمار کس طرح بڑے بڑے پتھروں کو منتقل کر رہے ہیں۔ یہ پتھر اسٹون ہینج کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ پہچانے جانے والے پتھر ہیں، جو کھڑے ستونوں اور ان کے اوپر رکھے گئے افقی ''لنٹلز‘‘ (lintels) یعنی شہتیروں کی شکل میں محرابوں کو مکمل کرتے ہیں۔ماہرین آثارِ قدیمہ کا خیال ہے کہ یہ پتھر شمال کی جانب تقریباً 15 میل کے فاصلے پر واقع مارلبورو ڈاؤنز کے کنارے سے لائے گئے تھے۔ ان میں سے سب سے بڑے پتھر کا وزن 36 ٹن سے زیادہ اور لمبائی تقریباً سات میٹر تھی، اس لیے انہیں منتقل کرنا ایک انتہائی بڑا اور مشکل کام تھا۔ ممکن ہے کہ 150 سے زائد افراد نے مل کر ایک ہی پتھر کو لکڑی کے بنے ہوئے راستے پر کھینچا ہو، جسے جانوروں کی چربی سے چکنا کیا جاتا تھا۔ تاہم محققین کے مطابق یہ ضروری نہیں کہ یہ کام صرف اس لیے کیا جاتا تھا کہ یہ بہت مشکل تھا، بلکہ ممکن ہے کہ پتھروں کو کھینچنا ایک قسم کی اجتماعی تقریب یا جشن کا حصہ بھی ہو۔جب پتھر اپنی جگہ تک پہنچا دیے گئے تو انہیں مزید مہارت سے تراشنے اور شکل دینے کی ضرورت پیش آئی۔سالسبری میدان کی زمین بالکل ہموار نہیں ہے، اس لیے ہر پتھر کو درست اونچائی کے مطابق انتہائی احتیاط سے کاٹنا پڑتا تھا، اور ماہرین آثار قدیمہ کو قریب ہی پتھروں کے ٹکڑوں کے بڑے ڈھیر بھی ملے ہیں جو اس عمل کا ثبوت ہیں۔ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ اسٹون ہینج کی تعمیر میں تقریباً 55 لاکھ گھنٹے کی محنت لگی ہوگی، جس میں سے ساڑھے چار لاکھ گھنٹے صرف بڑے سارسن پتھروں پر خرچ ہوئے۔ 4مرحلوں پر مشتمل تعمیراتی منصوبہموجودہ اسٹون ہینج اس کی آخری شکل ہے جو تقریباً 3,500 سال پہلے مکمل ہوئی تھی۔یادگار کی ویب سائٹ کے مطابق، اسٹون ہینج کی تعمیر چار مراحل میں مکمل کی گئی تھی۔پہلا مرحلہاسٹون ہینج کا ابتدائی ورژن ایک بڑا زمینی ڈھانچہ یا ''ہینج‘‘ تھا، جس میں ایک خندق، مٹی کا بند اور اوبری ہولز شامل تھے۔ یہ سب تقریباً 3100 قبل مسیح میں تعمیر کیے گئے تھے۔ اوبری ہولز چاک کی زمین میں بنے ہوئے گول گڑھے ہوتے ہیں، جن کی چوڑائی اور گہرائی تقریباً ایک میٹر ہوتی ہے۔یہ ایک دائرہ بناتے ہیں جس کا قطر تقریباً 86.6 میٹرہے۔کھدائی کے دوران ان چاک سے بھرے ہوئے گڑھوں میں بعض جگہوں پر جلائی ہوئی انسانی ہڈیاں ملی ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ گڑھے غالباً تدفین کیلئے نہیں بنائے گئے تھے بلکہ یہ کسی مذہبی رسم کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ اس پہلے مرحلے کے بعد اسٹون ہینج کو چھوڑ دیا گیا اور ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک یہ جگہ غیر استعمال شدہ رہی۔ دوسرا مرحلہاسٹون ہینج کا دوسرا اور سب سے زیادہ حیران کن مرحلہ تقریباً 2150 قبل مسیح میں شروع ہوا، جب جنوب مغربی ویلز کے پریسیلی پہاڑوں سے تقریباً 82 نیلے پتھر اس مقام تک لائے گئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سے کچھ پتھروں کا وزن چار ٹن تک تھا، جنہیں لکڑی کے رولرز اور سلیجز کے ذریعے میلٹن ہیون کے پانیوں تک گھسیٹا گیا، جہاں انہیں بیڑوں پر لاد دیا گیا۔ اس کے بعد انہیں وارمنسٹر اور ولٹ شائر کے قریب دوبارہ خشکی پر کھینچا گیا۔ سفر کا آخری مرحلہ زیادہ تر پانی کے ذریعے تھا، جو دریائے وائیلی سے سالسبری اور پھر سالسبری ایون کے راستے ویسٹ ایمسبری تک پہنچا۔ یہ پورا سفر تقریباً 240 میل پر محیط تھا، اور جب یہ پتھر مقام پر پہنچے تو انہیں مرکز میں نصب کر کے ایک نامکمل دوہرا دائرہ بنایا گیا۔ اسی دوران اصل داخلی راستے کو وسیع کیا گیا اور ہیل اسٹونز کا ایک جوڑا نصب کیا گیا۔ اسٹون ہینج کو دریائے ایون سے ملانے والی ''ایونیو‘‘ کا قریبی حصہ بھی اسی دور میں بنایا گیا۔تیسرا مرحلہاسٹون ہینج کا تیسرا مرحلہ تقریباً 2000 قبل مسیح میں شروع ہوا، جب سارسن پتھر وہاں لائے گئے، جو بلیو اسٹونز سے کہیں بڑے تھے۔ یہ پتھر غالباً اسٹون ہینج سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع مارلبورو ڈاؤنز سے لائے گئے تھے۔ ان میں سب سے بڑے سارسن پتھر کا وزن تقریباً 50 ٹن تھا، چونکہ انہیں پانی کے ذریعے منتقل کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے اندازہ ہے کہ انہیں رسوں اور سلیجز کے ذریعے زمین پر گھسیٹا گیا۔ حسابات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک پتھر کھینچنے کیلئے تقریباً 500 افراد درکار ہوتے تھے، جبکہ مزید 100 افراد راستے میں رولرز بچھانے کیلئے کام کرتے تھے۔ ان پتھروں کو بیرونی دائرے کی شکل میں ترتیب دیا گیا جس کے اوپر افقی پتھر (لنٹلز) رکھے گئے۔ اندرونی حصے میں پانچ ٹرائلیتھون (دو کھڑے اور اوپر ایک افقی پتھر پر مشتمل ڈھانچے) گھوڑے کی نعل کی شکل میں نصب کیے گئے، جو آج بھی موجود ہیں۔آخری مرحلہچوتھا اور آخری مرحلہ تقریباً 1500 قبل مسیح کے بعد ہوا، جب چھوٹے بلیو اسٹونز کو دوبارہ ترتیب دے کر آج کی موجودہ گھوڑے کی نعل اور دائرے کی شکل دی گئی۔ بلیو اسٹونز کے اصل دائرے میں تقریباً 60 پتھر تھے، لیکن بعد میں یہ یا تو ہٹا دیے گئے یا ٹوٹ گئے۔ کچھ اب بھی زمین کے نیچے ستونوں کی صورت میں موجود ہیں۔