گلوکار بشیر احمد , انہوں نے لازوال گیت گائے، وہ نغمہ نگار اور موسیقار بھی تھے

گلوکار بشیر احمد , انہوں نے لازوال گیت گائے، وہ نغمہ نگار اور موسیقار بھی تھے

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان کی اردو فلموں کی کامیابی میں بنگالی اداکاروں، نغمہ نگاروں اور سنگیت کاروں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ سابقہ مشرقی پاکستان میں 60کی دہائی میں بڑی معیاری اردو فلمیں بنائی گئیں۔ بنگالی فنکاروں میں شبانہ، شبنم، رحمان، مصطفی، نسیمہ خان اور دیگر فنکاروں کی خدمات تسلیم نہ کرنا صریحاً ناانصافی ہوگی۔ اس طرح سرور بارہ بنکوی اور اختر یوسف نے اعلیٰ درجے کے فلمی گیت تخلیق کیے جو آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ موسیقاروں کی بات کی جائے تو روبن گھوش کی فنی عظمت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ انہوں نے یادگار دھنیں تخلیق کیں۔ گلوکاراؤں میں رُونا لیلیٰ فردوسی بیگم اور شہناز بیگم کو کون بھول سکتا ہے اور پھر گلوکار بشیر احمد کی مدھر بھری آواز کے دیوانوں کی آج بھی کمی نہیں۔ وہ بشیر احمد جنہیں مشرقی پاکستان کا ا حمد رشدی کہا جاتا تھا۔ 60 کی دہائی میں نہایت مقبول تھے۔ انہوں نے بلاشبہ اتنے خوبصورت گیت گائے جن کو سن کر آج بھی دل جھوم اٹھتا ہے۔بشیر احمد 11نومبر 1940 کو کولکتہ (مغربی بنگال) میں پیدا ہوئے انہوں نے پاکستانی فلمی صنعت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ ڈھاکہ چلے آئے جہاں انہوں نے پلے بیک گلوکار کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ 15برس کی عمر میں ہی وہ استاد ولایت حسین کے شاگرد بن گئے۔ جب وہ ممبئی آئے تو یہاں انہوں نے استاد بڑے غلام علی خان سے بہت کچھ سیکھا۔ بشیر احمد نے بھارت کی مشہور گلوکارہ گیتاوت کے ساتھ بھی کام کیا۔ ڈھاکہ میں بشیر احمد کے برادرِ نسبتی عشرت کلکتوی نے اُن کا تعارف روبن گھوش سے کرایا۔ وہ ان دنوں اردو فلم ’’تلاش‘‘ کے گیت لکھ رہے تھے۔ یہ اتفاق کی بات ہے اس فلم کے زیادہ گیت سرور بارہ بنکوی نے تخلیق کیے۔ بشیر احمد نے اس فلم کے لیے کچھ گانے گائے۔ جن میں ’’کچھ اپنی کہیے، کچھ میری سنیے‘‘ اور ’’میں رکشے والا بے چارہ‘‘ بہت ہٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دو اور گیت گائے۔بشیر احمد شاعری بھی کرتے تھے اور انہوں نے اپنا ادبی نام بی اے دیپ رکھا ہوا تھا۔ 1963 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’تلاش‘‘ کے سپرہٹ نغمات گانے کے بعد بشیر احمد شہرت کی سیڑھی پر پہلا قدم رکھ چکے تھے۔ اس دوران فلمساز مستفیض نے ان سے رابطہ کیا اور ان سے اپنی فلم ’’ساگر‘‘ کیلئے ایک نغمہ گانے کو کہا۔ بشیر احمد نے وہ نغمہ گایا جس کے بول تھے ’’جو دیکھا پیار ترا‘‘۔ 1964 میں انہوں نے روبن گھوش کی موسیقی میں فلم ’’کارواں‘‘ کے گیت گائے۔اس فلم کے تمام گیت ہٹ ہوئے لیکن بشیر احمد کا گایا ہوا یہ گیت ’’جب تم اکیلے ہو گے ہم یاد آئیں گے‘‘ مقبولیت کی تمام حدیں پار کر گیا۔ اس گیت کو انہوں نے خود ہی لکھا تھا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ وہ نغمات بی اے دیپ کے نام سے لکھتے تھے اور پلے بیک گلوکاری بشیر احمد کے نام سے کرتے تھے۔ انہوں نے ’’ساگر، کارواں، ایندھن، ملن، کنگن اور درشن‘‘ کے نہ صرف نغمات لکھے بلکہ انہیں گایا بھی۔ بشیر احمد نے ان فلموں کے لیے شاندار گیت گائے۔ جن گیتوں نے بہت شہرت حاصل کی ان میں ’’یہ موسم یہ مست نظارے، تمہارے لئے اس دل میں، دن رات خیالوں میں، ہم چلے چھوڑ کر، گلشن میں بہاروں میں تو ہے‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے میڈم نور جہاں کے ساتھ بھی ایک دو گانا گایا ’’چن لیا اِک پھول کو‘‘۔ یہ دو گانا بھی بہت ہٹ ہوا۔1971 میں جب بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا تو مغربی پاکستان کے فلمسازوں نے ان کی وہ قدر و منزلت نہ کی جس کے وہ مستحق تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ بشیر احمد رشدی کے انداز میں گاتے ہیں جو اس وقت بہت بڑے پلے بیک گلوکار تھے۔ اس دوران بشیر احمد نے فلم ’’بِل سٹیشن‘‘ کے جو نغمات گائے اُن کو بہت پذیرائی ملی لیکن ان کے علاوہ ان کا کوئی اور قابل ذکر گیت نہیں ملتا۔کہا جاتا ہے کہ 70کی دہائی میں سقوطِ ڈھاکہ پر ایک فلم بنائی گئی جس کا نام تھا سنگتراش‘‘۔ اس میں بشیر احمد کے گیت بھی شامل تھے، جن میں ’’بول ذرا کچھ دنیا والے‘‘ اور ’’مکھڑے میں چاند‘‘ شامل ہیں اس وقت جنرل ضیا الحق کی حکومت تھی۔ فلمساز کی بے پناہ کاوشوں کے باوجود اس فلم کی نمائش کی اجازت نہ ملی۔ بشیر احمد اس کے بعد بنگلہ دیش چلے گئے جہاں انہوں نے طویل عرصے تک بنگالی فلموں کے بے شمار گیٹ گائے۔ اس لیے بشیر احمد کو صرف اردو فلموں کا ہی نہیں بلکہ بنگالی فلموں کا گلوکار بھی کہا جاتا ہے۔2005 میں انہیں بنگلہ دیش کی حکومت نے ایکوشے پدک ایوارڈ دیا۔ اس کے بعد انہیں ’’کوک ہو تو میگھ کوک ہو تو برستی‘‘ کیلئے شاندار نغمات گانے پر بنگلہ دیش نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بشیر احمد نے غزلیں بھی گائیں اور غزل گائیکی میں بھی انہوں نے شہرت حاصل کی۔ یہ اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ قدرت نے بشیر احمد کو زبردست صلاحیتوں سے نوازا تھا اور انہوں نے عمر بھر اپنی ان صلاحیتوں سے اہل موسیقی کو حیران کیے رکھا۔ یہ حقیقت ہے کہ بشیر احمد جیسا باصلاحیت فنکار بار بار پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے اردو اور بنگالی ہٹ گانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ نغمہ نگار اور موسیقار کی حیثیت سے بھی انہوں نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ آج بھی پاکستان اور بنگلہ دیش میں ان کے مداحین کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔بشیر احمد 19اپریل 2014 کو 73برس کی عمر میں ڈھاکہ میں انتقال کر گئے۔ اس موقع پر ان کا یہ گیت بہت یاد آیا ’’ہم چلے چھوڑ کر تیری محفل صنم‘‘۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
کوانٹم بیٹری:کیا واقعی لمحوں میں چارج ہوگی؟

کوانٹم بیٹری:کیا واقعی لمحوں میں چارج ہوگی؟

سائنس کی دنیا میں توانائی کے ذخیرے کو ہمیشہ ایک بنیادی چیلنج سمجھا جاتا رہا ہے۔ موبائل فون سے لے کر برقی گاڑیوں تک ہر جگہ بیٹری ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ مگر روایتی بیٹریوں خاص طور پر لیتھیم آئن ٹیکنالوجی کی اپنی حدود ہیں، جیسا کہ چارج ہونے میں وقت، محدود صلاحیت اور وقت کے ساتھ کارکردگی میں کمی۔ ایسے میں حالیہ دنوں سامنے آنے والی کوانٹم بیٹری کی خبر نے عالمی سطح پر سائنسی حلقوں اور ٹیکنالوجی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔حالیہ تحقیق کے مطابق آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے ایک ایسی تجرباتی کوانٹم بیٹری تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو روایتی اصولوں کے برعکس نہ صرف انتہائی تیزی سے چارج ہو سکتی ہے بلکہ اس کی کارکردگی میں ایک حیران کن خصوصیت بھی دیکھی گئی ہے کہ جتنی بڑی بیٹری اتنی ہی تیز چارجنگ۔ یہ تصور کلاسیکل فزکس کے اصولوں سے بالکل مختلف ہے، جہاں بیٹری کا سائز بڑھنے کے ساتھ چارجنگ وقت بھی بڑھ جاتا ہے۔کوانٹم بیٹری بنیادی طور پر روایتی کیمیائی ردعمل کے بجائے کوانٹم فزکس کے اصولوں پر کام کرتی ہے۔ اس میں توانائی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ایٹمی یا ذیلی ایٹمی سطح پر روشنی اور مادے کے درمیان تعامل کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں نے ایک خاص قسم کے نظام،جسے مائیکروکیویٹی (microcavity) کہا جاتا ہے،میں روشنی کو قید کر کے توانائی جذب کرنے کا عمل ممکن بنایا۔ اس دوران پولیریٹونز (polaritons) نامی ہائبرڈ ذرات تشکیل پاتے ہیں جو روشنی اور مادے کی مشترکہ خصوصیات رکھتے ہیں اور توانائی کو انتہائی مؤثر انداز میں ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں پہلی بار ایک مکمل چارج-ڈسچارج سائیکل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ یعنی بیٹری کو نہ صرف چارج کیا گیا بلکہ اس میں محفوظ توانائی کو دوبارہ استعمال بھی کیا گیا۔ اس سے قبل کوانٹم بیٹری کے نظریات تو موجود تھے مگر عملی طور پر توانائی کو خارج (discharge) کرنے کا مرحلہ ایک بڑا مسئلہ تھا۔تقریباً فوری چارجنگ کی اصطلاح اس تحقیق کے تناظر میں استعمال کی جا رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ بیٹری کو انتہائی مختصر وقت حتیٰ کہ فیمٹو سیکنڈز (ایک سیکنڈ کا کھربواں حصہ)میں چارج کیا جا سکتا ہے۔ یہ ممکن ہوتا ہے ایک کوانٹم مظہر کے ذریعے جسے سپر ابسورپشن(super absorption) کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں متعدد ذرات اجتماعی طور پر توانائی جذب کرتے ہیں جس سے چارجنگ کی رفتار میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔تاہم اس ساری پیش رفت کے باوجود یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی تجرباتی مرحلے میں ہے۔ اس وقت جو کوانٹم بیٹری تیار کی گئی ہے وہ نہایت معمولی مقدار میں توانائی ذخیرہ کر سکتی ہے اور وہ بھی صرف چند نینو سیکنڈز کے لیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال یہ بیٹری کسی بھی عملی استعمال مثلاً موبائل فون یا الیکٹرک گاڑی کو چلانے کے قابل نہیں ۔ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا فوری استعمال ممکنہ طور پر کوانٹم کمپیوٹنگ اور نینو ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہو سکتا ہے جہاں انتہائی تیز اور مختصر دورانیے کے توانائی کے پلسز درکار ہوتے ہیں۔ مستقبل میں اگر اس ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دی جائے اور اسے بڑے پیمانے پر قابلِ عمل بنایا جا سکے تو یہ توانائی کے شعبے میں ایک انقلاب برپا کر سکتی ہے۔تصور کریں کہ آپ کا موبائل فون چند سیکنڈز میں مکمل چارج ہو جائے یا الیکٹرک گاڑیوں کو چارج کرنے میں گھنٹوں کے بجائے چند لمحے لگیں۔ یہ سب کچھ فی الحال سائنس فکشن محسوس ہوتا ہے مگر کوانٹم بیٹری کی تحقیق اس سمت میں ایک اہم قدم ضرور ہے۔یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ کوانٹم بیٹری کا تصور گزشتہ ایک دہائی سے سائنسی نظریات کا حصہ رہا ہے مگر اب پہلی بار اس کی عملی جھلک سامنے آئی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوانٹم فزکس نہ صرف نظریاتی میدان تک محدود نہیں بلکہ عملی ٹیکنالوجی کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔نتیجتاً کوانٹم بیٹری کو فی الحال ایک سائنسی پیش رفت کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے نہ کہ فوری طور پر قابلِ استعمال ٹیکنالوجی کے طور پر۔ اس تحقیق نے اگرچہ یہ ثابت کر دیا ہے کہ توانائی کو ذخیرہ کرنے اور استعمال کرنے کے روایتی اصولوں کو چیلنج کیا جا سکتا ہے مگر اسے روزمرہ زندگی کا حصہ بننے میں ابھی کافی وقت درکار ہوگا۔اگر آنے والے برسوں میں سائنسدان اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف توانائی کے شعبے بلکہ پوری ٹیکنالوجی کی دنیا کو ایک نئی سمت دے سکتی ہے۔ فی الحال یہ کہنا درست ہوگا کہ کوانٹم بیٹری مستقبل کی ایک امید ضرور ہے مگر وہ مستقبل ابھی کچھ فاصلے پر ہے۔

ہڑپہ کا سکوت اور لسانیاتی معمہ

ہڑپہ کا سکوت اور لسانیاتی معمہ

کیا تاریخ کے راوی شعوری طور پر مٹا دیے گئے؟برصغیر کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں کے عظیم الشان آثارِ قدیمہ ہمیشہ کسی 'حادثے‘ کی صورت میں دریافت ہوئے؛ کبھی ریلوے لائن بچھاتے وقت اینٹیں مل گئیں تو کبھی زمین کھودتے ہوئے مہریں۔ لیکن ان دریافتوں سے بڑا المیہ وہ خاموشی ہے جو ہڑپہ کی پانچ ہزار سالہ قدیم تہذیب کے گرد لپٹی ہوئی ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ دہائیوں سے ہمیں یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ تہذیب یا تو طغیانی کی نذر ہوگئی یا کسی نامعلوم حملہ آور کی سفاکیت نے اسے مٹا دیا، یا پھر خشک سالی نے اسے نگل لیا۔ مگر ایک محقق کے طور پر میرا سوال ان تمام نظریات کی بنیادوں کو چیلنج کرتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اتنی بڑی تہذیب کا ایک بھی راوی یا قصہ گو نہ بچا ہو؟تعمیر ِ نو کی جبلت اور ارتقا کا تضادتاریخ گواہ ہے کہ انسان کی جبلت تعمیرِ نو ہے، تخریب نہیں۔ اگر ہڑپہ کا انسان اتنا ایڈوانس تھا کہ اس نے پانی کے بہا ؤکو کنٹرول کر رکھا تھا اور شہر سازی کا وہ نظام وضع کیا جو آج کے جدید شہروں کو ٹکر دیتا ہے تو وہ ذہنی طور پر اتنا پسماندہ نہیں ہو سکتا کہ کسی ایک آفت سے اس کا نام و نشان مٹ جاتا۔ فرض کیجیے کہ دریا کے کنارے میرا گھر ہے اور طغیانی میرا سب کچھ بہا لے جاتی ہے، تو میں بحیثیت ایک ترقی یافتہ انسان جہاں بھی ہجرت کروں گا وہاں اپنے ہنر اور اپنی ضرورت کے مطابق ویسا ہی یا اس سے بہتر گھر تعمیر کروں گا۔مگر ہڑپہ کے بعد ہمیں برصغیر میں ایک طویل عرصے تک صرف کچی بستیوں اور پسماندہ طرزِ زندگی کے آثار ملتے ہیں۔ یہ ارتقانہیں بلکہ تنزلی ہے۔ کیا ایک انجینئر قوم ہجرت کر کے اچانک اپنی پانچ ہزار سالہ مہارت بھول سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ بغداد کی مثال ہمارے سامنے ہے؛ ہلاکو خان نے اینٹ سے اینٹ بجا دی مگر علم، زبان اور تہذیبی اثرات نہیں مرے۔ 1947 ء کے بٹوارے نے لاہور کے باشندوں کو جدا کر دیا مگر لاہور کی روح آج بھی زندہ ہے۔ پھر ہڑپہ کا راوی اتنی صفائی سے غائب کیسے ہو گیا؟لسانیاتی سراغ: ہڑپہ سکرپٹ کے حروف سے جدید الفاظ تکہڑپہ کے سکوت کو توڑنے کے لیے ہمیں ان کی مہروں پر موجود علامات کو بے جان تصویروں کے بجائے زندہ آوازوں کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ اگر ہم تقابلی لسانیات کا سہارا لیں تو ہڑپہ سکرپٹ کی پرتیں کھلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مہروں پر کثرت سے نظر آنے والی مچھلی کی علامت محض ایک نقش نہیں بلکہ ایک صوتی علامت ہے۔ قدیم دراوڑی زبانوں میں اسے مین(Meen) کہا گیا جس کا گہرا تعلق فارسی کی اصطلاح 'چشمِ ماہی سے ملتا ہے۔ اسی طرح مہروں پر موجود آنکھ کی شکل براہِ راست سامی رسم الخط کے حرف عین(Ayin) کی یاد دلاتی ہے جو بصارت اور چشمے دونوں کے لیے مستعمل رہا ہے۔تجارت کے حوالے سے اگر ہم مہروں پر موجود ظرف یا پیالے کی شکل کو دیکھیں تو یہ ہمیں قدیم فارسی کے پیالہ اور سنسکرت کے کمبھ تک لے جاتی ہے۔ یہ نشانات دراصل تجارتی پیمانوں اور ملکیت کی نشاندہی کرتے تھے جن کا ذکر ہمیں میسوپوٹیمیا کے ریکارڈز میں بھی ملتا ہے۔ حتیٰ کہ پیپل کے پتے کا نقش بھی محض عقیدت کا نشان نہیں بلکہ قدیم اصطلاحات پیپل یا امرم کے ذریعے خوراک اور نباتیات کے ایک وسیع نظامِ فکر کو واضح کرتا ہے۔ یہ تمام صوتی جڑیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ ہڑپہ کا انسان اپنی زبان سمیت ہمارے اندر ہی کہیں موجود ہے۔شاہ عالم مارکیٹ کا کلیہ اور قدیم فارسی کا اشتراکہڑپہ محض ایک شہر نہیں اپنے دور کا عالمی تجارتی مرکز تھا۔شاہ عالم مارکیٹ کا مفروضہ یہاں صادق آتا ہے۔ آج کے لاہور کی شاہ عالمی مارکیٹ کی ڈوریاں کابل، تہران اور دہلی سے جڑی ہیں۔ ہڑپہ کی تباہی کا اصل سراغ ہمیں ہڑپہ کی مٹی سے زیادہ میسوپوٹیمیا کے ان قدیم ریکارڈز میں ڈھونڈنا چاہیے جہاں کے تاجروں نے ضرور لکھا ہوگا کہ مشرق کے اس عظیم مرکز سے تانبا یا کپاس آنا کیوں بند ہوئی۔ہڑپہ کی زبان کو سمجھنے کی کلید اُن صوتی مماثلتوں میں ہے جو قدیم فارسی اور سنسکرت میں آج بھی موجود ہیں۔خاندانی رشتے: فارسی کا پدر اور سنسکرت کا پتر،فارسی کا مادراور سنسکرت کا ماترایک ہی اصل سے ہیں۔ اعضائے جسمانی: سرکو فارسی میں شیر اور سنسکرت میں شر جبکہ آنکھ کو فارسی میں چشم اور سنسکرت میں چکشس کہا جاتا ہے۔ ایک تہذیبی قتلِ عام یا شعوری خاموشی؟حقیقت یہ ہے کہ ہڑپہ کی کہانی مٹی نہیں ہوئی بلکہ اسے شعوری طور پر خاموش کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی ہجرت ہے جس کے نقشِ قدم شاید ہم نے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیے۔ تاریخ کی یہ خاموشی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ وہ لوگ مرے نہیں تھے بلکہ شاید ہم نے ان کی زبان اور ان کی وراثت کو کسی اور نام سے موسوم کر کے اصل حقیقت پر پردہ ڈال دیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ہڑپہ کو صرف اینٹوں کا ڈھیر نہ سمجھیں بلکہ اس گمشدہ دماغ کو تلاش کریں جو پانچ ہزار سال پہلے بھی ہم سے زیادہ روشن خیال تھا۔

آج کا دن

آج کا دن

بھگت سنگھ کا اسمبلی بم دھماکہ8 اپریل 1929ء کو برصغیر کی آزادی کی تحریک میں ایک اہم واقعہ پیش آیا جب انقلابی رہنما بھگت سنگھ اور ان کے ساتھی بٹوکیشور دت نے دہلی کی مرکزی قانون ساز اسمبلی میں بم پھینکے۔ یہ بم جان لینے کے لیے نہیں بلکہ آواز بلند کرنے کے لیے تھے۔ اس کارروائی کا مقصد برطانوی حکومت کے جابرانہ قوانین خصوصاً پبلک سیفٹی بل اور ٹریڈ ڈسپیوٹس بل کے خلاف احتجاج تھا۔بم پھینکنے کے بعد دونوں انقلابیوں نے فرار ہونے کے بجائے خود گرفتاری دی تاکہ عدالت کو ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر سکیں۔ اس واقعے نے ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونک دی اور نوجوانوں میں انقلابی جذبہ پیدا کیا۔ مارگریٹ تھیچر وزیراعظم منتخب 8 اپریل 1979ء کو برطانیہ میں عام انتخابات کے بعد مارگریٹ تھیچر کی قیادت میں کنزرویٹو پارٹی نے کامیابی حاصل کی جو بعد میں برطانیہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ اگرچہ ان کا باضابطہ حلف مئی میں ہوا لیکن اپریل کے انتخابات نے اس تاریخی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی۔مارگریٹ تھیچر کو آئرن لیڈی کہا جاتا تھا کیونکہ انہوں نے مضبوط اور سخت معاشی و سیاسی پالیسیاں اپنائیں۔ انہوں نے برطانیہ میں نجکاری، مزدور یونینز پر کنٹرول اور مارکیٹ اکانومی کو فروغ دیا۔ ان کی پالیسیوں نے برطانوی معیشت کو نئی سمت دی تاہم ان پر تنقید بھی ہوئی کہ ان کی اصلاحات نے سماجی عدم مساوات کو بڑھایا۔مائیکروسافٹ ونڈوز 7 کا اجرا8 اپریل 2009 کو مائیکرو سافٹ نے اپنے نئے آپریٹنگ سسٹم ونڈوز7 کو باضابطہ طور پر ریلیز کے لیے تیار کیا ۔ یہ سسٹم بعد میں اکتوبر 2009 میں عام صارفین کے لیے دستیاب ہوا۔ونڈوز 7 کو اس کے پیشروونڈوز وزٹا کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس میں بہتر کارکردگی، آسان انٹرفیس اور تیز رفتار شامل تھی۔ صارفین اور ماہرین نے اسے بہت سراہا اور یہ جلد ہی دنیا کے مقبول ترین آپریٹنگ سسٹمز میں شامل ہو گیا۔ ونڈوز 7 نے کئی سالوں تک مارکیٹ پر حکمرانی کی اور اسے آج بھی ایک کامیاب سافٹ ویئر کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔بوئنگ 737 کی پہلی پرواز8 اپریل 1967ء کو دنیا کے مقبول ترین مسافر طیاروں میں شمار ہونے والے بوئنگ 737 نے اپنی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز کی۔ اسے امریکی کمپنی بوئنگ نے تیار کیا تھا اور یہ درمیانے فاصلے کی پروازوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔بوئنگ 737 کی خاص بات اس کی کم لاگت، بہتر ایندھن کارکردگی اور نسبتاً چھوٹے ہوائی اڈوں پر اترنے کی صلاحیت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ طیارہ جلد ہی دنیا بھر کی ایئر لائنز کی پہلی ترجیح بن گیا۔ وقت کے ساتھ اس کے مختلف ماڈلز متعارف کروائے گئے جنہوں نے ہوا بازی کی صنعت میں انقلاب برپا کیا۔HBO کا آغاز8 اپریل 1972 کوHBO نے اپنی نشریات کا آغاز کیا۔ یہ دنیا کا پہلا پریمیم کیبل اور سیٹلائٹ ٹی وی نیٹ ورک تھا جس نے ٹیلی ویژن انڈسٹری میں ایک نئی جہت متعارف کروائی۔ابتدائی طور پر HBO نے فلمیں اور کھیلوں کے پروگرام نشر کیے لیکن وقت کے ساتھ اس نے اپنی ڈرامہ سیریز بھی تیار کرنا شروع کیں۔Game of Thrones اورThe Sopranos جیسی سیریز نے اسے عالمی شہرت دلائی۔HBO نے ناظرین کو معیاری اور سنجیدہ مواد فراہم کیا جس سے ٹی وی ڈرامہ اور تفریحی پروگراموں کا معیار بلند ہوا۔

عالمی یومِ صحت

عالمی یومِ صحت

  تاریخ،مقاصد اور اہمیت    مصروف اور تیز رفتار دورِ حاضر میں جہاں سہولیات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، وہیں انسانی صحت کو درپیش مسائل بھی   بڑھتے جا رہے ہیں۔ غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور ذہنی دباؤ نے انسان کو مختلف بیماریوں نے لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ایسے حالات میں صحت مند زندگی گزارنا نہ صرف ایک ضرورت بلکہ ایک چیلنج بن چکا ہے۔ صحت دراصل اللہ تعالیٰ کی ایک انمول نعمت ہے جس کی قدر انسان کو اکثر اس وقت ہوتی ہے جب وہ اس سے محروم ہونے لگتا ہے۔ہر سال 7 اپریل کو دنیا بھر میں عالمی یومِ صحت منایا جاتا ہے۔ یہ دن صحت کے عالمی مسائل پر توجہ مرکوز کرنے، عوام میں آگاہی پیدا کرنے اور صحت کے شعبے میں بہتری کیلئے مشترکہ اقدامات کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے مختلف ممالک میں سیمینارز، واکس، آگاہی مہمات اور طبی کیمپس کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو صحت مند زندگی گزارنے کی ترغیب دی جا سکے۔عالمی یومِ صحت منانے کی بنیاد عالمی ادارہ صحت(WHO) کے قیام سے جڑی ہوئی ہے۔ دراصل 7 اپریل 1948ء کو عالمی ادارہ صحت کا باضابطہ قیام عمل میں آیا، جس کا مقصد دنیا بھر میں صحت کے معیار کو بہتر بنانا اور بیماریوں کے خلاف عالمی سطح پر اقدامات کرنا تھا۔ اسی مناسبت سے 1950ء سے ہر سال 7 اپریل کو عالمی یومِ صحت کے طور پر منایا جانے لگا۔ہر سال اس دن کیلئے ایک مخصوص تھیم مقرر کیا جاتا ہے جو کسی اہم صحت کے مسئلے کو اجاگر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر مختلف برسوں میں ذہنی صحت، ماں اور بچے کی صحت، متعدی بیماریوں، ماحولیاتی آلودگی اور یونیورسل ہیلتھ کوریج جیسے موضوعات کو مرکزی حیثیت دی گئی۔2026ء کا تھیم ''Together for health Stand with science‘‘ ہے یعنی ''صحت کیلئے اکٹھے سائنس کے ساتھ کھڑے ہوں‘‘۔ ان تھیمز کا مقصد عالمی سطح پر پالیسی سازوں، طبی ماہرین اور عوام کو ایک مشترکہ مقصد کیلئے متحرک کرنا ہوتا ہے۔عالمی یومِ صحت صرف ایک رسمی دن نہیں بلکہ یہ دنیا کو درپیش صحت کے چیلنجز پر غور و فکر کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں ایک طرف جدید طبی سہولیات میسر ہیں وہیں نئی بیماریاں اور وبائیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ COVID19 جیسی عالمی وبا نے صحت کے نظام کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا اور یہ ثابت کیا کہ صحت صرف ایک ملک کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ اس دن کے ذریعے حکومتوں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ صاف پانی، متوازن غذا، ویکسینیشن اور بنیادی طبی سہولیات تک رسائی ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ عالمی یومِ صحت اس بات پر زور دیتا ہے کہ صحت مند معاشرہ ہی ترقی یافتہ معاشرہ ہوتا ہے۔پاکستان کے تناظر میں اہمیتپاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیلئے عالمی یومِ صحت کی اہمیت دوچند ہے۔ یہاں صحت کے شعبے کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں وسائل کی کمی، طبی سہولیات کی غیر مساوی تقسیم اور بڑھتی ہوئی آبادی شامل ہے۔ دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات کا فقدان ایک بڑا مسئلہ ہے جہاں لوگ معمولی بیماریوں کے علاج سے بھی محروم رہتے ہیں۔ پاکستان میں متعدی بیماریوں جیسے ہیپاٹائٹس، ٹی بی اور ڈینگی کے علاوہ غیر متعدی بیماریوں جیسے ذیابیطس اور دل کے امراض کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ڈینگی بخار کے پھیلاؤ نے شہری علاقوں میں صحت کے نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جبکہ ہیپا ٹائٹس ایک خاموش وبا کی صورت اختیار کر چکی ہے۔اس کے علاوہ ماں اور بچے کی صحت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ عالمی یومِ صحت کے موقع پر ان مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کے حل کیلئے اقدامات کرنا نہایت ضروری ہے۔ اقدامات اور چیلنجز حکومت نے صحت کے شعبے میں بہتری کیلئے مختلف اقدامات کیے ہیں جیسے بنیادی صحت مراکز کا قیام، ویکسینیشن پروگرامز وغیرہ مگر ان اقدامات کے باوجود بہت سے مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ صحت کے بجٹ میں کمی اور عملے کی کمی جیسے مسائل نظام کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔عالمی یومِ صحت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ حکومت صحت کے شعبے کو اوّلین ترجیح دے اور بجٹ میں اضافہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو بھی صحت کے میدان میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کرنا ضروری ہے۔عوامی شعور کی ضرورتصحت کے مسائل کا حل صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے عوامی شعور بھی ضروری ہے۔ صاف ستھرا ماحول، متوازن غذا، ورزش اور باقاعدہ طبی معائنہ صحت مند زندگی کے بنیادی عناصر ہیں۔ چہل قدمی جیسی سادہ عادت بھی انسان کو کئی بیماریوں سے بچا سکتی ہے۔آگاہی کے ذریعے لوگوں کو صحت کے اصولوں سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور سماجی تنظیمیں اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔عالمی یومِ صحت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ صحت ایک بنیادی انسانی حق ہے اور اس کے حصول کیلئے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ اور عوام سب مل کر ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔اگر ہم آج صحت کے شعبے پر توجہ دیں گے تو کل ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھ سکیں گے۔

CHATGPT

CHATGPT

تیز سیکھنے کا ذریعہ یا ذہنی سہارا؟مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ٹولز خصوصاً ChatGPT نے تعلیم کے میدان میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگرچہ ChatGPT طلبہ کو تیزی سے سیکھنے میں مدد دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ایک اہم خامی بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہ تحقیق جسے ScienceAlert نے رپورٹ کیا، ہمیں سیکھنے کے روایتی اور جدید طریقوں کے درمیان ایک دلچسپ تقابل فراہم کرتی ہے۔یہ تحقیق برازیل کی ریو ڈی جنیرو یونیورسٹی کے ماہر André Barcaui نے کی جس میں 120 یونیورسٹی طلبہ کو شامل کیا گیا۔ طلبہ کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ایک گروپ کو ChatGPT استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔دوسرے گروپ کو روایتی طریقوں (کتب، آرٹیکلز وغیرہ) سے تحقیق کرنے کو کہا گیا۔طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے موضوع پر ایک پریزنٹیشن تیار کرنے کا ٹاسک دیا گیا جس کے لیے انہیں دو ہفتے کا وقت ملا۔تحقیق کے نتائج چونکا دینے والے تھے۔ 45 دن بعد جب طلبہ کا اچانک ٹیسٹ لیا گیا توChatGPT استعمال کرنے والے طلبہ کا اوسط سکور10میں سے 5.75 رہا جبکہ روایتی طریقہ اپنانے والے طلبہ کا اوسط سکور 6.85 تھا۔ یہ تقریباً 11 فیصد کا فرق تھا جو ایک مکمل گریڈ کے برابر ہو سکتا ہے۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ AI کے ذریعے سیکھنا آسان اور تیز ہے، لیکن طویل مدتی یادداشت میں کمی آ سکتی ہے۔سیکھنے کی رفتار بمقابلہ یادداشتتحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ ChatGPT استعمال کرنے والے طلبہ نے کم وقت میں کام مکمل کیا۔AI گروپ نے تقریباً 3.2 گھنٹے میں جبکہ روایتی گروپ نے تقریباً 5.8 گھنٹے میں،یعنی ChatGPT نے سیکھنے کے عمل کو تیز تو بنایا مگر اس رفتار کی قیمت یادداشت کی کمزوری کی صورت میں سامنے آئی۔ ماہرین نے ChatGPT کو cognitive crutch یعنی ذہنی بیساکھی قرار دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم معلومات حاصل کرنے کے لیے AI پر زیادہ انحصار کرتے ہیں تو ہمارا دماغ خود سے سوچنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت کم استعمال کرتا ہے،یہ تصور نیا نہیں۔ اس سے پہلے 2011ء میں Betsy Sparrowکی تحقیق نےDigital amnesia کی اصطلاح متعارف کروائی تھی جس کے مطابق انٹرنیٹ اور سرچ انجنز کے بڑھتے استعمال سے انسانی یادداشت متاثر ہو رہی ہے۔اس تحقیق کے مطابق مؤثر سیکھنے کے لیے ذہنی محنت ضروری ہے۔ جب طلبہ خود سے پڑھتے، نوٹس بناتے اور سوچتے ہیں تو معلومات دماغ میں زیادہ دیر تک محفوظ رہتی ہے لیکن ChatGPT جیسے ٹولزمعلومات کو فوری خلاصے کی صورت میں پیش کرتے ہیں،پیچیدہ موضوعات کو آسان بنا دیتے ہیں، ذہنی مشقت کو کم کر دیتے ہیں،نتیجتاً دماغ وہ ''مشقت‘‘نہیں کرتا جو مضبوط یادداشت کے لیے ضروری ہوتی ہے۔تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ روایتی طریقہ اپنانے والے طلبہ کے نتائج زیادہ یکساں تھے جبکہ ChatGPT استعمال کرنے والوں کے نتائج میں زیادہ فرق پایا گیا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ AI کا استعمال ہر طالب علم کے لیے یکساں فائدہ مند نہیں ہوتا۔کیا AI ٹولز نقصان دہ ہیں؟یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ AI ٹولز نقصان دہ ہیں۔ان ٹولز کے کئی فوائد ہیں جیسا کہ معلومات تک جلد رسائی،پیچیدہ موضوعات کی آسان وضاحت،وقت کی بچت،ذاتی نوعیت کی رہنمائی۔تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب طلبہ مکمل طور پر AI پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔تعلیمی نظام کیلئے پیغاماس تحقیق میں تعلیمی اداروں اور اساتذہ کے لیے ایک اہم اور واضح پیغام ہے کہ AI کو مکمل طور پر رد کرنے کے بجائے اسے ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے مثلاًطلبہ کو پہلے خود تحقیق کرنے دی جائے پھر AI سے وضاحت یا خلاصہ لیا جائے اوراسائنمنٹس میں AI کے استعمال کے واضح اصول بنائے جائیں۔ماہرین کے مطابق مستقبل کی تعلیم کا انحصار Balanced learningپر ہوگا یعنیAI کی سہولت انسانی ذہنی مشقت = مؤثر سیکھنا۔ سیکھنے کے بنیادی اصول آج بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے پہلے تھے بلکہ AI کے دور میں ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ChatGPTایک طاقتور تعلیمی ٹول ہے جو سیکھنے کے عمل کو تیز اور آسان بناتا ہے، لیکن اگر اس پر حد سے زیادہ انحصار کیا جائے تو یہ طلبہ کی یادداشت اور تجزیاتی صلاحیتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔لہٰذا اصل حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ AI کو سہولت کے طور پر استعمال کیا جائے نہ کہ مکمل متبادل کے طور پر۔یاد رہے کہ سیکھنے کا اصل مقصد صرف معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ اسے سمجھنا، یاد رکھنا اور عملی زندگی میں استعمال کرنا ہے،اور یہ کام اب بھی انسانی ذہن ہی بہتر طریقے سے کر سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

انٹرنیٹ کا معیار (RFC1) شائع ہوا7 اپریل 1969ء کو ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹ ایجنسی (ARPA) کے تحتRFC1 جاری کیا گیا جس کا مقصد ابتدائی کمپیوٹر نیٹ ورکس کے درمیان رابطے کے اصول وضع کرنا تھا۔RFC1 ایک غیر رسمی مگر انتہائی مؤثر دستاویز تھی جس نے مستقبل کے انٹرنیٹ کے لیے بنیاد فراہم کی۔ اس میں نیٹ ورک کے مختلف اجزاکے درمیان معلومات کے تبادلے کے طریقہ کار پر بحث کی گئی۔ اس وقت ARPANET کی تشکیل جاری تھی جو بعد میں انٹرنیٹ کی بنیاد بنا۔آج انٹرنیٹ جس شکل میں ہمارے سامنے ہے اس کی بنیاد انہی ابتدائی کوششوں پر رکھی گئی تھی۔ روانڈا میں نسل کشی افریقی ملک روانڈا میں نسل کشی کا آغاز 7 اپریل 1994ء کو ہوا جو 20ویں صدی کے بدترین انسانی المیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس سانحے میں تقریباً آٹھ لاکھ افراد محض 100 دنوں میں قتل کر دیے گئے۔ان میں زیادہ تر توتسی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔یہ نسل کشی اس وقت شروع ہوئی جب روانڈا کے صدر جووینال ہیبری مانا کا طیارہ 6 اپریل کو گر کر تباہ ہو گیااقوام متحدہ نے 2004ء میں 7 اپریل کو روانڈا میں ہونے والی نسل کشی کی یاد میں ایک عالمی دن کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اس دن کا مقصد عالمی برادری کو یہ یاد دلانا ہے کہ نسل کشی جیسے جرائم کو روکنے کیلئے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔فرانس میں میٹرک سسٹم کا نفاذ7 اپریل 1795 کو فرانس نے باضابطہ طور پر میٹرک نظام کو اپنایا جو آج دنیا بھر میں پیمائش کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نظام ہے۔ یہ فیصلہ فرانسیسی انقلاب کے دوران کیا گیا جب فرانس میں سائنسی اور سماجی اصلاحات کی ایک لہر جاری تھی۔ میٹرک نظام نے لمبائی، وزن اور حجم کے لیے ایک سادہ اور یکساں معیار فراہم کیا جیسے میٹر، کلوگرام اور لیٹر۔یہ نظام جلد ہی دیگر یورپی ممالک اور پھر پوری دنیا میں پھیل گیا۔ آج بھی بیشتر ممالک اسی نظام کو استعمال کرتے ہیں۔ ہنری فورڈ کا انتقالہنری فورڈ جو فورڈ موٹر کمپنی کے بانی تھے 7اپریل 1947ء کو انتقال کر گئے۔ وہ جدید صنعتی دور کے اہم ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے آٹوموبائل صنعت میں انقلاب برپا کیا۔ہنری فورڈ نے اسمبلی لائن کے تصور کو فروغ دیا جس کے ذریعے گاڑیوں کی تیاری تیز، سستی اور مؤثر ہو گئی۔ ان کے کاروباری ماڈل نے نہ صرف صنعتی پیداوار کو بدل دیا بلکہ مزدوروں کے حقوق اور اجرتوں کے حوالے سے بھی نئی مثالیں قائم کیں۔