گلوکار بشیر احمد , انہوں نے لازوال گیت گائے، وہ نغمہ نگار اور موسیقار بھی تھے

گلوکار بشیر احمد , انہوں نے لازوال گیت گائے، وہ نغمہ نگار اور موسیقار بھی تھے

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان کی اردو فلموں کی کامیابی میں بنگالی اداکاروں، نغمہ نگاروں اور سنگیت کاروں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ سابقہ مشرقی پاکستان میں 60کی دہائی میں بڑی معیاری اردو فلمیں بنائی گئیں۔ بنگالی فنکاروں میں شبانہ، شبنم، رحمان، مصطفی، نسیمہ خان اور دیگر فنکاروں کی خدمات تسلیم نہ کرنا صریحاً ناانصافی ہوگی۔ اس طرح سرور بارہ بنکوی اور اختر یوسف نے اعلیٰ درجے کے فلمی گیت تخلیق کیے جو آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ موسیقاروں کی بات کی جائے تو روبن گھوش کی فنی عظمت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ انہوں نے یادگار دھنیں تخلیق کیں۔ گلوکاراؤں میں رُونا لیلیٰ فردوسی بیگم اور شہناز بیگم کو کون بھول سکتا ہے اور پھر گلوکار بشیر احمد کی مدھر بھری آواز کے دیوانوں کی آج بھی کمی نہیں۔ وہ بشیر احمد جنہیں مشرقی پاکستان کا ا حمد رشدی کہا جاتا تھا۔ 60 کی دہائی میں نہایت مقبول تھے۔ انہوں نے بلاشبہ اتنے خوبصورت گیت گائے جن کو سن کر آج بھی دل جھوم اٹھتا ہے۔بشیر احمد 11نومبر 1940 کو کولکتہ (مغربی بنگال) میں پیدا ہوئے انہوں نے پاکستانی فلمی صنعت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ ڈھاکہ چلے آئے جہاں انہوں نے پلے بیک گلوکار کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ 15برس کی عمر میں ہی وہ استاد ولایت حسین کے شاگرد بن گئے۔ جب وہ ممبئی آئے تو یہاں انہوں نے استاد بڑے غلام علی خان سے بہت کچھ سیکھا۔ بشیر احمد نے بھارت کی مشہور گلوکارہ گیتاوت کے ساتھ بھی کام کیا۔ ڈھاکہ میں بشیر احمد کے برادرِ نسبتی عشرت کلکتوی نے اُن کا تعارف روبن گھوش سے کرایا۔ وہ ان دنوں اردو فلم ’’تلاش‘‘ کے گیت لکھ رہے تھے۔ یہ اتفاق کی بات ہے اس فلم کے زیادہ گیت سرور بارہ بنکوی نے تخلیق کیے۔ بشیر احمد نے اس فلم کے لیے کچھ گانے گائے۔ جن میں ’’کچھ اپنی کہیے، کچھ میری سنیے‘‘ اور ’’میں رکشے والا بے چارہ‘‘ بہت ہٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دو اور گیت گائے۔بشیر احمد شاعری بھی کرتے تھے اور انہوں نے اپنا ادبی نام بی اے دیپ رکھا ہوا تھا۔ 1963 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’تلاش‘‘ کے سپرہٹ نغمات گانے کے بعد بشیر احمد شہرت کی سیڑھی پر پہلا قدم رکھ چکے تھے۔ اس دوران فلمساز مستفیض نے ان سے رابطہ کیا اور ان سے اپنی فلم ’’ساگر‘‘ کیلئے ایک نغمہ گانے کو کہا۔ بشیر احمد نے وہ نغمہ گایا جس کے بول تھے ’’جو دیکھا پیار ترا‘‘۔ 1964 میں انہوں نے روبن گھوش کی موسیقی میں فلم ’’کارواں‘‘ کے گیت گائے۔اس فلم کے تمام گیت ہٹ ہوئے لیکن بشیر احمد کا گایا ہوا یہ گیت ’’جب تم اکیلے ہو گے ہم یاد آئیں گے‘‘ مقبولیت کی تمام حدیں پار کر گیا۔ اس گیت کو انہوں نے خود ہی لکھا تھا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ وہ نغمات بی اے دیپ کے نام سے لکھتے تھے اور پلے بیک گلوکاری بشیر احمد کے نام سے کرتے تھے۔ انہوں نے ’’ساگر، کارواں، ایندھن، ملن، کنگن اور درشن‘‘ کے نہ صرف نغمات لکھے بلکہ انہیں گایا بھی۔ بشیر احمد نے ان فلموں کے لیے شاندار گیت گائے۔ جن گیتوں نے بہت شہرت حاصل کی ان میں ’’یہ موسم یہ مست نظارے، تمہارے لئے اس دل میں، دن رات خیالوں میں، ہم چلے چھوڑ کر، گلشن میں بہاروں میں تو ہے‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے میڈم نور جہاں کے ساتھ بھی ایک دو گانا گایا ’’چن لیا اِک پھول کو‘‘۔ یہ دو گانا بھی بہت ہٹ ہوا۔1971 میں جب بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا تو مغربی پاکستان کے فلمسازوں نے ان کی وہ قدر و منزلت نہ کی جس کے وہ مستحق تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ بشیر احمد رشدی کے انداز میں گاتے ہیں جو اس وقت بہت بڑے پلے بیک گلوکار تھے۔ اس دوران بشیر احمد نے فلم ’’بِل سٹیشن‘‘ کے جو نغمات گائے اُن کو بہت پذیرائی ملی لیکن ان کے علاوہ ان کا کوئی اور قابل ذکر گیت نہیں ملتا۔کہا جاتا ہے کہ 70کی دہائی میں سقوطِ ڈھاکہ پر ایک فلم بنائی گئی جس کا نام تھا سنگتراش‘‘۔ اس میں بشیر احمد کے گیت بھی شامل تھے، جن میں ’’بول ذرا کچھ دنیا والے‘‘ اور ’’مکھڑے میں چاند‘‘ شامل ہیں اس وقت جنرل ضیا الحق کی حکومت تھی۔ فلمساز کی بے پناہ کاوشوں کے باوجود اس فلم کی نمائش کی اجازت نہ ملی۔ بشیر احمد اس کے بعد بنگلہ دیش چلے گئے جہاں انہوں نے طویل عرصے تک بنگالی فلموں کے بے شمار گیٹ گائے۔ اس لیے بشیر احمد کو صرف اردو فلموں کا ہی نہیں بلکہ بنگالی فلموں کا گلوکار بھی کہا جاتا ہے۔2005 میں انہیں بنگلہ دیش کی حکومت نے ایکوشے پدک ایوارڈ دیا۔ اس کے بعد انہیں ’’کوک ہو تو میگھ کوک ہو تو برستی‘‘ کیلئے شاندار نغمات گانے پر بنگلہ دیش نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بشیر احمد نے غزلیں بھی گائیں اور غزل گائیکی میں بھی انہوں نے شہرت حاصل کی۔ یہ اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ قدرت نے بشیر احمد کو زبردست صلاحیتوں سے نوازا تھا اور انہوں نے عمر بھر اپنی ان صلاحیتوں سے اہل موسیقی کو حیران کیے رکھا۔ یہ حقیقت ہے کہ بشیر احمد جیسا باصلاحیت فنکار بار بار پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے اردو اور بنگالی ہٹ گانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ نغمہ نگار اور موسیقار کی حیثیت سے بھی انہوں نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ آج بھی پاکستان اور بنگلہ دیش میں ان کے مداحین کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔بشیر احمد 19اپریل 2014 کو 73برس کی عمر میں ڈھاکہ میں انتقال کر گئے۔ اس موقع پر ان کا یہ گیت بہت یاد آیا ’’ہم چلے چھوڑ کر تیری محفل صنم‘‘۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 سنہری مسجد

سنہری مسجد

مغلیہ عہدِ زوال میں تعمیر ہونے والا شاہکارلاہور کے قدیم فصیل بند شہر کی گلیوں اور بازاروں میں جا بجا تاریخی عمارتیں ملتی ہیں مگر سنہری مسجد اپنی منفرد شناخت اور دلکش طرزِ تعمیر کے باعث خاص مقام رکھتی ہے۔ کشمیری بازار کے چوک میں واقع یہ مسجد مغلیہ عہد کے آخری دور کے فنِ تعمیر کا ایک اہم نمونہ سمجھی جاتی ہے۔ سنہری مسجد کی تعمیر اس وقت ہوئی جب مغلیہ سلطنت اپنے زوال کی جانب گامزن تھی، اسی لیے اس کی ساخت اور انداز میں روایتی مغل طرزِ تعمیر کے ساتھ ایک مختلف جمالیاتی رجحان بھی نظر آتا ہے۔تعمیر کا پس منظرسنہری مسجد کی تعمیر 1753ء میں نواب بھکاری خان نے کروائی جو اُس زمانے میں لاہور کے ایک سرکاری عہدیدار تھے اور گورنر میر معین الملک المعروف میر منوں کے دورِ حکومت میں خدمات انجام دیتے رہے تھے۔ یہ مسجد ایسے مقام پر تعمیر کی گئی جہاں ایک سڑک دو حصوں میں تقسیم ہوتی تھی اور اس وقت یہ جگہ کشمیری بازار کے چوک میں ایک خالی قطعہ زمین تھی۔اس مقام کی اہمیت اور مصروفیت کے باعث مسجد کی تعمیر کے حوالے سے مقامی حکام کو خدشہ تھا کہ چوک میں عمارت کی تعمیر سے آمدورفت میں خلل پیدا ہوگا۔ اسی وجہ سے نواب بھکاری خان کو علماسے خصوصی فتویٰ حاصل کرنا پڑا تاکہ اس جگہ مسجد کی تعمیر کو مذہبی اور سماجی جواز فراہم کیا جا سکے۔ اس واقعے سے اس دور کے شہری نظم و نسق اور مذہبی حساسیت کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔سنہری مسجد لاہور کے تاریخی بازاروں کے مرکز میں واقع ہے، جو اسے ایک منفرد شہری شناخت عطا کرتی ہے۔ عام طور پر مساجد کھلے اور وسیع مقامات پر تعمیر کی جاتی تھیں مگر یہ مسجد ایک مصروف تجارتی مرکز میں واقع ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔فصیل بند شہر کے ہنگامہ خیز ماحول، تنگ گلیوں اور قدیم بازاروں کے درمیان اس مسجد کا وجود اس بات کی علامت ہے کہ مذہبی اور سماجی زندگی شہر کے قلب میں ہی پروان چڑھتی تھی۔ مسجد کا محلِ وقوع اسے صرف عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ ایک تاریخی و ثقافتی نشانی کی اہمیت بھی دلاتا ہے۔طرزِ تعمیر اور فنی خصوصیاتسنہری مسجد کا طرزِ تعمیر مغلیہ فنِ تعمیر سے متاثر ضرور ہے مگر اس میں روایتی مغل ڈیزائن کی کلاسیکی ہم آہنگی نسبتاً کم اور تزئین و آرائش کا ایک منفرد انداز زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ مسجد کے گنبد سنہری رنگ کے باعث خاص توجہ حاصل کرتے ہیں جن کی وجہ سے اسے سنہری مسجد کہا جاتا ہے۔مسجد کے تین گنبد اور بلند مینار اس کی بیرونی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں جبکہ داخلی حصے میں محرابوں اور نقش و نگار کی سادہ مگر دلکش آرائش دکھائی دیتی ہے۔ یہ مسجد اگرچہ بادشاہی مسجد جیسی عظیم الشان نہیں مگر اپنی نفاست اور مقامی شہری انداز کے باعث ایک منفرد تعمیراتی شناخت رکھتی ہے۔تاہم معروف ماہرِ تعمیرات کامل خان ممتازنے سنہری مسجد کے طرزِ تعمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے مغلیہ فنِ تعمیر کی اصل روح سے انحراف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق قریب سے جائزہ لینے پر اس مسجد میں مغلیہ طرز کے عناصر میں بگاڑ واضح نظر آتا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ گنبدوں کی ساخت روایتی مغل گنبدوں کے بجائے غیر معمولی حد تک ابھری ہوئی ہے، جبکہ دیگر تزئینی عناصر میں بھی ایک غیر روایتی انداز جھلکتا ہے۔ ان کے مطابق دیواروں کی کنگریاں(merlons) سانپ کے پھنے جیسی شکل اختیار کر چکی ہیں اور ستونوں کے ڈیزائن میں نباتاتی اشکال کا غلبہ نظر آتا ہے۔یہ تنقید اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مغلیہ سلطنت کے آخری دور میں فنِ تعمیر کی کلاسیکی سادگی اور توازن کمزور پڑنے لگا اور اس کی جگہ نمائشی انداز نے لے لی۔مغلیہ عہد کے زوال کی عکاسیسنہری مسجد کی تعمیر کا زمانہ مغلیہ سلطنت کے زوال کا دور تھا جس کا اثر فنِ تعمیر پر بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اس کا موازنہ بادشاہی مسجد سے کر یں تو فرق نمایاں نظر آتا ہے۔ بادشاہی مسجد میں جہاں تناسب، وسعت اور شاہانہ وقار نمایاں ہے وہیں سنہری مسجد میں محدود جگہ، نسبتاً چھوٹے پیمانے اور تزئینی عناصر کی کثرت دکھائی دیتی ہے۔یہ فرق اس بات کی علامت ہے کہ مغلیہ دور کے آخری مرحلے میں وسائل، سیاسی استحکام اور تعمیراتی معیار میں نمایاں تبدیلی آ چکی تھی۔ثقافتی اور مذہبی اہمیتسنہری مسجد محض ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ آج بھی ایک فعال عبادت گاہ ہے جہاں نمازی بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ کشمیری بازار اور اندرونِ لاہور کے تاجر اور مقامی افراد اس مسجد سے گہرا روحانی تعلق رکھتے ہیں۔رمضان المبارک اور جمعہ کے اجتماعات کے دوران اس مسجد کا ماحول روح پرور ہو جاتا ہے۔ ہے۔آج کے دور میں سنہری مسجد لاہور کے اہم تاریخی ورثے کا حصہ ہے اور سیاحوں، محققین اور فوٹو گرافروں‘ ویڈیو گرافروں کے لیے خاص کشش رکھتی ہے۔ چونکہ محققین اور فوٹوگرافروں (خصوصاً تاریخی فنِ تعمیر میں دلچسپی رکھنے والوں) کے لیے یہ مسجد ایک اہم موضوع ہے اس لیے اس کی دستاویزی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔

الٹرا پروسیسڈ غذائیں : دل کی بیماریوں کا خطرہ 47 فیصد زیادہ

الٹرا پروسیسڈ غذائیں : دل کی بیماریوں کا خطرہ 47 فیصد زیادہ

جدید سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں (Ultra-processed foods) کا زیادہ استعمال دل کی بیماریوں کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ ایک حالیہ مطالعے کے مطابق ایسی غذائیں زیادہ کھانے والوں میں ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض کا خطرہ تقریباً 47 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔الٹرا پروسیسڈ غذائیں کیا ہیں؟الٹرا پروسیسڈ غذائیں وہ صنعتی مصنوعات ہیں جو فیکٹریوں میں تیار کی جاتی ہیں اور جن میں چینی، نمک، غیر صحت بخش چکنائی، مصنوعی ذائقے، رنگ اور کیمیائی اجزاشامل کیے جاتے ہیں۔ سافٹ ڈرنکس، پیک شدہ سنیکس، پراسیسڈ گوشت، انسٹنٹ نوڈلز اور تیار شدہ فاسٹ فوڈ اس کی عام مثالیں ہیں۔ان غذاؤں کی تیاری کے دوران قدرتی غذائی اجزاکم ہو جاتے ہیں جبکہ مصنوعی اجزا کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے ان کی غذائی افادیت متاثر ہوتی ہے۔ایک تحقیق جس میں امریکی قومی سروے کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس میں ہزاروں بالغ افراد شامل تھے۔ محققین نے شرکاکی روزمرہ خوراک کا جائزہ لیا اور معلوم کیا کہ ان کی کل کیلوریز میں الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا کتنا حصہ ہے۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ جو افراد زیادہ تر الٹرا پروسیسڈ خوراک کھاتے تھے ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ 47 فیصد زیادہ تھا۔ یہ اضافہ عمر، جنس، تمباکو نوشی اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھنے کے باوجود برقرار رہا۔سوزش اور میٹابولک مسائل کا کردارماہرین کے مطابق الٹرا پروسیسڈ غذائیں جسم میں سوزش (Inflammation) بڑھا سکتی ہیں۔ جسم میں سوزش کی زیادہ مقدار دل کی شریانوں کو متاثر کرتی ہے اور ہارٹ اٹیک کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے۔اسی طرح یہ غذائیں میٹابولک سنڈروم کا خطرہ بھی بڑھاتی ہیں جس میں موٹاپا، انسولین مزاحمت، ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی خرابی شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر دل کی بیماریوں کی بنیاد بنتے ہیں۔عالمی سطح پر بڑھتا ہوا رجحانتحقیق کے مطابق بعض ترقی یافتہ ممالک میں بالغ افراد کی روزمرہ خوراک کا تقریباً 60 فیصد اور بچوں کی خوراک کا 70 فیصد حصہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں پر مشتمل ہے۔ یہ شرح تشویشناک ہے کیونکہ ان غذاؤں کا تعلق پہلے ہی موٹاپے، ذیابیطس اور دیگر دائمی بیماریوں سے جوڑا جا چکا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سہولت، کم قیمت اور جارحانہ مارکیٹنگ نے ان مصنوعات کو عام زندگی کا حصہ بنا دیا ہے۔ بعض ماہرین اس مسئلے کو ماضی میں تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان سے تشبیہ دیتے ہیں۔ جس طرح سگریٹ کے نقصانات کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے میں دہائیاں لگیں اسی طرح الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے مضر اثرات سے متعلق آگاہی بھی وقت لے سکتی ہے۔غذائی صنعت کی بڑی کمپنیاں ان مصنوعات کی تیاری اور تشہیر میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں جس سے صحت عامہ کے اقدامات کو چیلنج درپیش ہے۔مختلف مطالعات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال ذیابیطس، بعض اقسام کے کینسر، ذہنی دباؤ اور قبل از وقت موت کے خطرے سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان غذاؤں کے اثرات صرف دل تک محدود نہیں بلکہ مجموعی صحت پر پڑتے ہیں۔حل کیا ہے؟ماہرین صحت کے مطابق مسئلے کا حل صرف انفرادی سطح پر نہیں بلکہ پالیسی سطح پر بھی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ صحت بخش غذاؤں کی دستیابی کو آسان اور سستا بنانا، غذائی تعلیم کو فروغ دینا اور فوڈ لیبلنگ کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تازہ سبزیاں، پھل، دالیں اور کم پراسیسڈ غذائیں اپنی خوراک کا حصہ بنائیں اور پیک شدہ، میٹھی اور زیادہ نمک والی مصنوعات کا استعمال محدود کریں۔

رمضان کے مشروب وپکوان:ڈیٹ ڈیلائٹ

رمضان کے مشروب وپکوان:ڈیٹ ڈیلائٹ

اجزاء: کھجوریں دو پیالی( درمیان میں سے گھٹلی نکال کر گودا بنالیں )،میری بسکٹ ایک پیکٹ،ناریل آدھی پیالی ،چینی آدھی پیالی ،فریش کریم ایک پیالی،مارجرین چارکھانے کے چمچ(چاہیں توگھی بھی استعمال کرسکتے ہیں) ترکیب : سب سے پہلے ایک دیگچی میں مارجرین کو ہلکا سا گرم کریں، پھر اس میں کھجوروں کا گودا ڈال کر ہلکا سا بھون لیں۔ تاکہ اچھاسا پیسٹ بن جائے پھر شکر اور ناریل کی گری ڈال کر پانچ سے دس منٹ تک بھونیں بسکٹ کو توڑ کر چورا کرلیں پھر سب چیزوں کے ساتھ بسکٹ بھی ڈال دیں، دوتین منٹ بھون کر ایک تھالی میں ذرا سی چکنائی لگاکر کھجور اور بسٹ کے آمیزے کو پھیلا کر رکھ دیں۔ ٹھنڈا ہونے دیں فریش کریم کو خوب پھینٹیں، جب وہ گاڑھا ہوجائے تو اس کے اوپر ڈال دیں، چوکور ٹکڑے کاٹ کر پیش کریں۔ یہ ڈش چار سے چھ افراد کے لیے کافی ہے۔ پودینہ لیمونیڈپودینہ لیمونیڈ، لیموں، پانی اور پودینے کے پتوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ مشروب وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم کو تازگی اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ اس میں تھوڑا سا شہد شامل کر کے اسے مزید مفید بنایا جا سکتا ہے۔ یہ مشروب افطار کے دوران پینے کے لیے بہترین ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!حبیب ورسٹائل اداکار (2016-1931ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!حبیب ورسٹائل اداکار (2016-1931ء)

٭...1931ء میں بھارتی ریاست پٹیالہ میں پیدا ہوئے،اصل نام حبیب الرحمان تھا۔ تقسیم ہند کے وقت بھارت سے ہجرت کر کے گوجرانوالہ آئے۔٭...فلمی کریئر کا آغاز 1956ء میں فلم ''لخت جگر ‘‘ سے ہوا۔٭...1958ء میں ان کی فلم ''آدمی‘‘ ریلیز ہوئی، جسے ان کی بہترین فلم کہا جاتا ہے۔٭...50ء کی دہائی میں وہ اردو اور پنجابی فلموں کے یکساں مقبول اداکار تھے، ٭... وہ پاکستان کے پہلے ہیرو تھے جنہوں نے سب سے پہلے اپنی فلموں کی سنچری مکمل کی ۔٭... 60ء کی دہائی میں جب وہ اپنے کریئر کے ٹاپ پر تھے انہوں کریکٹر رول کرنا شروع کر دیئے تھے۔٭... مجموعی طور پر 203فلموں میں جلوہ گر ہوئے۔متعدد پنجابی فلموں میں بھی کام کیا۔٭... حبیب نے بطورپروڈیوسر اور ڈائریکٹر بھی فلمیں بنائیں۔ ٭... سیاست میں بھی حصہ لیا۔ وہ 1977ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے رہے لیکن بعد میں سیاست سے تائب ہو گئے۔ ٭...25فروری 2016ء کو 80برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

آج کا دن

آج کا دن

ریوالور کا پیٹنٹ 25 فروری 1836ء کو امریکی موجد کولٹ سیموئیل کو اپنے مشہور ریوالور ڈیزائن کا پیٹنٹ حاصل ہوا۔ کولٹ کے ریوالور میں گھومنے والا سلنڈر تھا جس میں متعدد گولیاں موجود رہتی تھیں جس سے تیزی سے فائر کرنا ممکن ہو گیا۔ اس ٹیکنالوجی نے فوجی حکمت عملی، ذاتی دفاع اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار پر گہرا اثر ڈالا۔ امریکہ کی توسیع، مغربی سرحدوں کی آبادکاری اور جنگی تاریخ میں کولٹ ریوالور ایک علامتی ہتھیار بن گیا۔خلائی کیمرہ ٹیکنالوجی 25 فروری 1964ء کو خلا میں جدید فوٹوگرافی کے تجربات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی جب خلائی مشنز میں استعمال ہونے والی خودکار کیمرہ ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا گیا۔ اس دور میں خلائی تحقیق تیزی سے ترقی کر رہی تھی اور تصاویر کی مدد سے زمین اور خلا کے مشاہدات کو محفوظ کرنا سائنسی تحقیق کے لیے نہایت اہم تھا۔ خودکار کیمروں نے ایسے ماحول میں کام کرنا ممکن بنایا جہاں انسان کی موجودگی محدود تھی۔ ان ٹیکنالوجیز نے موسمیاتی تبدیلیوں، زمین کی جغرافیائی ساخت اور خلائی مظاہر کے مطالعے میں انقلاب برپا کیا۔ نیپولین کی ایلبا سے واپسی25 فروری 1815ء کو فرانسیسی فوجی رہنما اور شہنشاہ نپولین بوناپارٹ جلاوطنی کے بعد جزیرہ ایلبا سے فرار ہو کر فرانس کی طرف روانہ ہوا۔ اس کی یہ واپسی یورپی سیاست میں تہلکہ خیز ثابت ہوئی۔ 1814ء میں شکست کے بعد نپولین کو ایلبا جلاوطن کر دیا گیا تھا مگر وہ دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے فرانس پہنچا اور عوام اور فوج کی بڑی تعداد نے ان کا ساتھ دیا۔ اس واقعے نے ''سو دن‘‘ (Hundred Days ) کے نام سے مشہور دور کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں یورپ کی بڑی طاقتیں ایک بار پھر متحد ہو گئیں۔ ویانا سٹیٹ اوپیرا کی دوبارہ تعمیر25 فروری 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران تباہ ہونے والی ویانا سٹیٹ اوپیرا کی بحالی کے منصوبے پر عملی پیش رفت شروع ہوئی۔ آسٹریا کا یہ ثقافتی ادارہ یورپی موسیقی کی روایت کا ایک عظیم مرکز رہا ہے۔ جنگ کے دوران بمباری نے اس تاریخی عمارت کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے بعد اس کی بحالی ایک قومی ثقافتی مشن بن گئی۔ تعمیرِ نو کے اس عمل میں نہ صرف فنِ تعمیر کے ماہرین بلکہ موسیقاروں اور ثقافتی شخصیات نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔

مریم زمانی مسجد

مریم زمانی مسجد

تاریخی،ثقافتی اور جمالیاتی ورثہمریم زمانی مسجد جسے بیگم شاہی مسجد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے لاہور میں مغل دور کی اہم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے اور برصغیر کی اسلامی تعمیراتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔لاہور قلعہ کے بالمقابل اکبری دروازے کے باہر 1614ء میں تعمیرکی گئی یہ مسجد مغل شہنشاہ اکبر کی اہلیہ ملکہ مریم الزمانی سے منسوب ہے۔یہ مسجد نہ صرف اپنی تاریخی اہمیت کے باعث ممتاز ہے بلکہ اپنے منفرد فنِ تعمیر، تزئین و آرائش اور محلِ وقوع کے اعتبار سے بھی ایک نمایاں ثقافتی ورثہ ہے۔ شاہی قلعے کے دروازے کے بالکل سامنے واقع ہونے سے قلعے اور اس مسجد کے تعلق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔یہ قربت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مسجد شاہی خاندان اور درباری افراد کے لیے بہت اہم رہی ہو گی۔فنِ تعمیرفنِ تعمیر کے لحاظ سے مریم زمانی مسجد مغل طرزِ تعمیر کے ابتدائی ارتقائی دور کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً پچاس میٹر مشرق تا مغرب اور پچاس میٹر شمال تا جنوب ہے، جس سے یہ ایک نسبتاً چھوٹی مگر متوازن اور منظم عمارت دکھائی دیتی ہے۔ اس مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا پانچ محرابی داخلی حصہ ہے جو بعد کے مغل دور میں تعمیر ہونے والی مساجد کا ایک مخصوص اور معیاری عنصر بن گیا۔ یوں یہ مسجد اس طرزِ تعمیر کی اولین مثالوں میں شمار ہوتی ہے جس نے بعد میں مغل مساجد کے ڈیزائن کو متاثر کیا۔تاریخی ماہرین کے مطابق یہ مسجد لودھی اور مغل طرزِ تعمیر کے درمیان ایک عبوری کیفیت کی عکاسی کرتی ہے‘ تاہم اس کی تعمیر چونکہ اس وقت ہوئی جب مغل سلطنت کو قائم ہوئے تقریباً نوے سال ہو چکے تھے اس لیے اسے مغل معماروں کی جانب سے روایتی افغان اور سلطنت دور کے طرزِ تعمیر کی ایک نئی تشریح قرار دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس کا مرکزی پیش طاق (پشتہ نما محراب)، گنبدی ساخت اور کشادہ صحن اس بات کی دلیل ہے کہ مغل معماروں نے سابقہ اسلامی تعمیراتی روایات کو اپناتے ہوئے انہیں اپنے جمالیاتی معیار کے مطابق ڈھالا۔اس مسجد کا تقابلی جائزہ دہلی کی قلعہ کہنہ مسجد سے لیا جائے تو دونوں عمارتوں کے خدوخال میں نمایاں مماثلت نظر آتی ہے۔ قلعہ کہنہ مسجد بھی ایک گنبد دار، پانچ محرابی عمارت ہے جس کے سامنے وسیع صحن موجود ہے۔ یہی خصوصیات مریم زمانی مسجد میں بھی نظر آتی ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ مغل فنِ تعمیر نے سابقہ افغان اور سلطنتی روایت کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا مگر اس میں اپنے مخصوص جمالیاتی عناصر شامل کیے۔تزئین و آرائش تزئین و آرائش کے اعتبار سے مریم زمانی مسجد اپنی نوعیت کی ایک شاندار مثال ہے۔ اس کے اندرونی حصے میں پلاسٹر پر بنے ہوئے مقرنس طرز کے طاق، کثیر رنگی فریسکو پینٹنگ اور باریک نقش و نگار پائے جاتے ہیں۔ جیومیٹریائی ڈیزائن، بیل بوٹے، درختوں کی مثالی تصاویر، گلدان اور پرندوں کی مصوری اس کے داخلی حسن کو مزید نکھارتی ہے۔ اگرچہ بیرونی حصے کی آرائش صدیوں کے موسمی اثرات اور آلودگی کے باعث خاصی متاثر ہو چکی ہے لیکن مرکزی پیش طاق کے اندر موجود مقرنس طاق اور اندرونی فریسکو آج بھی اپنی اصل شان کی جھلک پیش کرتے ہیں۔تاریخی روایات کے مطابق اس مسجد کی فریسکو آرائش اتنی مشہور تھی کہ لاہور قلعہ کے مشرقی دروازے کو ''مسجدی یا مسیتی دروازہ‘‘ کہا جانے لگا۔ یہ امر اس مسجد کی فنی عظمت اور اس کے ثقافتی اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ اندرونی سجاوٹ کا انداز جہانگیر اور ابتدائی شاہجہانی دور کی عمارات سے مماثلت رکھتا ہے، جس میں سنجیدگی، توازن اور باوقار رنگوں کا استعمال نمایاں ہے۔ اس اسلوب میں وہی رسمی اور شائستہ جمالیات نظر آتی ہیں جو مغل دربار کے ذوقِ فن کی نمائندگی کرتی ہیں۔تعمیراتی خصوصیاتتعمیراتی نقطہ نظر سے یہ مسجد مغل دور کے اس مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے جب سلطنت اپنی شناخت مستحکم کر رہی تھی اور فنِ تعمیر میں تجرباتی رجحانات موجود تھے۔ اکبر اعظم کے عہد میں شروع ہونے والی مذہبی اور ثقافتی وسعت نے ایسے منصوبوں کو فروغ دیا جن میں روایت اور جدت کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ اسی فکری تسلسل کے تحت مریم زمانی مسجد جیسی عمارات وجود میں آئیں جو نہ صرف عبادت گاہیں تھیں بلکہ ثقافتی علامت بھی بن گئیں۔اگرچہ بعد کے ادوار میں مغل فنِ تعمیر نے عظیم الشان مساجد کی صورت میں اپنی معراج حاصل کی جیسے بادشاہی مسجد لاہور، تاہم مریم زمانی مسجد کو ایک بنیادی اور ابتدائی نمونے کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی سادگی، تناسب اور تاریخی اہمیت اسے مغل فنِ تعمیر کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے ایک کلیدی مثال بناتی ہے۔آج کے دور میں مریم زمانی مسجد لاہور کے تاریخی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے اور محققین، سیاحوں اور فوٹو گرافروں کے لیے خصوصی دلچسپی کا مرکز ہے۔ یہ مسجد اس حقیقت کی علامت ہے کہ مغل عہد میں تعمیراتی فن صرف عظمت اور شان و شوکت تک محدود نہیں تھا بلکہ جمالیاتی توازن، روحانیت اور فنی باریکیوں پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی تھی۔ صدیوں پر محیط موسمی اثرات کے باوجود اس مسجد کی اصل شناخت بڑی حد تک محفوظ ہے، جو اس کی مضبوط تعمیر اور فنی مہارت کا ثبوت ہے۔