گلوکار بشیر احمد , انہوں نے لازوال گیت گائے، وہ نغمہ نگار اور موسیقار بھی تھے

گلوکار بشیر احمد , انہوں نے لازوال گیت گائے، وہ نغمہ نگار اور موسیقار بھی تھے

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان کی اردو فلموں کی کامیابی میں بنگالی اداکاروں، نغمہ نگاروں اور سنگیت کاروں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ سابقہ مشرقی پاکستان میں 60کی دہائی میں بڑی معیاری اردو فلمیں بنائی گئیں۔ بنگالی فنکاروں میں شبانہ، شبنم، رحمان، مصطفی، نسیمہ خان اور دیگر فنکاروں کی خدمات تسلیم نہ کرنا صریحاً ناانصافی ہوگی۔ اس طرح سرور بارہ بنکوی اور اختر یوسف نے اعلیٰ درجے کے فلمی گیت تخلیق کیے جو آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں۔ موسیقاروں کی بات کی جائے تو روبن گھوش کی فنی عظمت سے کون انکار کر سکتا ہے۔ انہوں نے یادگار دھنیں تخلیق کیں۔ گلوکاراؤں میں رُونا لیلیٰ فردوسی بیگم اور شہناز بیگم کو کون بھول سکتا ہے اور پھر گلوکار بشیر احمد کی مدھر بھری آواز کے دیوانوں کی آج بھی کمی نہیں۔ وہ بشیر احمد جنہیں مشرقی پاکستان کا ا حمد رشدی کہا جاتا تھا۔ 60 کی دہائی میں نہایت مقبول تھے۔ انہوں نے بلاشبہ اتنے خوبصورت گیت گائے جن کو سن کر آج بھی دل جھوم اٹھتا ہے۔بشیر احمد 11نومبر 1940 کو کولکتہ (مغربی بنگال) میں پیدا ہوئے انہوں نے پاکستانی فلمی صنعت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ ڈھاکہ چلے آئے جہاں انہوں نے پلے بیک گلوکار کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ 15برس کی عمر میں ہی وہ استاد ولایت حسین کے شاگرد بن گئے۔ جب وہ ممبئی آئے تو یہاں انہوں نے استاد بڑے غلام علی خان سے بہت کچھ سیکھا۔ بشیر احمد نے بھارت کی مشہور گلوکارہ گیتاوت کے ساتھ بھی کام کیا۔ ڈھاکہ میں بشیر احمد کے برادرِ نسبتی عشرت کلکتوی نے اُن کا تعارف روبن گھوش سے کرایا۔ وہ ان دنوں اردو فلم ’’تلاش‘‘ کے گیت لکھ رہے تھے۔ یہ اتفاق کی بات ہے اس فلم کے زیادہ گیت سرور بارہ بنکوی نے تخلیق کیے۔ بشیر احمد نے اس فلم کے لیے کچھ گانے گائے۔ جن میں ’’کچھ اپنی کہیے، کچھ میری سنیے‘‘ اور ’’میں رکشے والا بے چارہ‘‘ بہت ہٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دو اور گیت گائے۔بشیر احمد شاعری بھی کرتے تھے اور انہوں نے اپنا ادبی نام بی اے دیپ رکھا ہوا تھا۔ 1963 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’تلاش‘‘ کے سپرہٹ نغمات گانے کے بعد بشیر احمد شہرت کی سیڑھی پر پہلا قدم رکھ چکے تھے۔ اس دوران فلمساز مستفیض نے ان سے رابطہ کیا اور ان سے اپنی فلم ’’ساگر‘‘ کیلئے ایک نغمہ گانے کو کہا۔ بشیر احمد نے وہ نغمہ گایا جس کے بول تھے ’’جو دیکھا پیار ترا‘‘۔ 1964 میں انہوں نے روبن گھوش کی موسیقی میں فلم ’’کارواں‘‘ کے گیت گائے۔اس فلم کے تمام گیت ہٹ ہوئے لیکن بشیر احمد کا گایا ہوا یہ گیت ’’جب تم اکیلے ہو گے ہم یاد آئیں گے‘‘ مقبولیت کی تمام حدیں پار کر گیا۔ اس گیت کو انہوں نے خود ہی لکھا تھا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ وہ نغمات بی اے دیپ کے نام سے لکھتے تھے اور پلے بیک گلوکاری بشیر احمد کے نام سے کرتے تھے۔ انہوں نے ’’ساگر، کارواں، ایندھن، ملن، کنگن اور درشن‘‘ کے نہ صرف نغمات لکھے بلکہ انہیں گایا بھی۔ بشیر احمد نے ان فلموں کے لیے شاندار گیت گائے۔ جن گیتوں نے بہت شہرت حاصل کی ان میں ’’یہ موسم یہ مست نظارے، تمہارے لئے اس دل میں، دن رات خیالوں میں، ہم چلے چھوڑ کر، گلشن میں بہاروں میں تو ہے‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے میڈم نور جہاں کے ساتھ بھی ایک دو گانا گایا ’’چن لیا اِک پھول کو‘‘۔ یہ دو گانا بھی بہت ہٹ ہوا۔1971 میں جب بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا تو مغربی پاکستان کے فلمسازوں نے ان کی وہ قدر و منزلت نہ کی جس کے وہ مستحق تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ بشیر احمد رشدی کے انداز میں گاتے ہیں جو اس وقت بہت بڑے پلے بیک گلوکار تھے۔ اس دوران بشیر احمد نے فلم ’’بِل سٹیشن‘‘ کے جو نغمات گائے اُن کو بہت پذیرائی ملی لیکن ان کے علاوہ ان کا کوئی اور قابل ذکر گیت نہیں ملتا۔کہا جاتا ہے کہ 70کی دہائی میں سقوطِ ڈھاکہ پر ایک فلم بنائی گئی جس کا نام تھا سنگتراش‘‘۔ اس میں بشیر احمد کے گیت بھی شامل تھے، جن میں ’’بول ذرا کچھ دنیا والے‘‘ اور ’’مکھڑے میں چاند‘‘ شامل ہیں اس وقت جنرل ضیا الحق کی حکومت تھی۔ فلمساز کی بے پناہ کاوشوں کے باوجود اس فلم کی نمائش کی اجازت نہ ملی۔ بشیر احمد اس کے بعد بنگلہ دیش چلے گئے جہاں انہوں نے طویل عرصے تک بنگالی فلموں کے بے شمار گیٹ گائے۔ اس لیے بشیر احمد کو صرف اردو فلموں کا ہی نہیں بلکہ بنگالی فلموں کا گلوکار بھی کہا جاتا ہے۔2005 میں انہیں بنگلہ دیش کی حکومت نے ایکوشے پدک ایوارڈ دیا۔ اس کے بعد انہیں ’’کوک ہو تو میگھ کوک ہو تو برستی‘‘ کیلئے شاندار نغمات گانے پر بنگلہ دیش نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ بشیر احمد نے غزلیں بھی گائیں اور غزل گائیکی میں بھی انہوں نے شہرت حاصل کی۔ یہ اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ قدرت نے بشیر احمد کو زبردست صلاحیتوں سے نوازا تھا اور انہوں نے عمر بھر اپنی ان صلاحیتوں سے اہل موسیقی کو حیران کیے رکھا۔ یہ حقیقت ہے کہ بشیر احمد جیسا باصلاحیت فنکار بار بار پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے اردو اور بنگالی ہٹ گانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ نغمہ نگار اور موسیقار کی حیثیت سے بھی انہوں نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ آج بھی پاکستان اور بنگلہ دیش میں ان کے مداحین کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔بشیر احمد 19اپریل 2014 کو 73برس کی عمر میں ڈھاکہ میں انتقال کر گئے۔ اس موقع پر ان کا یہ گیت بہت یاد آیا ’’ہم چلے چھوڑ کر تیری محفل صنم‘‘۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
’’بوئنگ بی29‘‘

’’بوئنگ بی29‘‘

وہ طیارہ جس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جنگی تاریخ بدل دیدوسری جنگ عظیم انسانی تاریخ کی ان جنگوں میں شمار ہوتی ہے جس نے نہ صرف دنیا کا سیاسی نقشہ تبدیل کیا بلکہ عسکری ٹیکنالوجی کو بھی نئی سمت عطا کی۔ اس دور میں فضائی طاقت کی اہمیت مسلسل بڑھ رہی تھی اور جنگی طیاروں کی رفتار، پرواز کی بلندی، بم برداری کی صلاحیت اور طویل فاصلے تک کارروائی کی استعداد پر خصوصی توجہ دی جا رہی تھی۔ انہی حالات میں امریکا نے ایک ایسے جدید بمبار طیارے کی تیاری کا منصوبہ بنایا جو دشمن کے علاقوں میں دور تک پہنچ کر بڑے پیمانے پر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس منصوبے کا نتیجہ ''بوئنگ بی29 سپرفورٹریس‘‘ کی صورت میں سامنے آیا، جس نے بعدازاں فضائی جنگ کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔1942ء میں بوئنگ ''بی29 سپرفورٹریس‘‘ نے اپنی پہلی پرواز کی۔ یہ محض ایک نئے طیارے کی آزمائشی پرواز نہیں تھی بلکہ عسکری ہوا بازی میں ایک نئے دور کا آغاز بھی تھا۔ ''بی29‘‘ کو اس زمانے کے دیگر بمبار طیاروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ جدید اور طاقتور بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد طویل فاصلے تک پرواز کرتے ہوئے بھاری بم لے جانا اور دشمن کے اہم اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔''بی29‘‘ کی سب سے نمایاں خصوصیات میں اس کی غیر معمولی پرواز کی بلندی اور طویل فاصلے تک پہنچنے کی صلاحیت شامل تھی۔ زیادہ بلندی پر پرواز کرنے کی وجہ سے یہ طیارہ دشمن کے بعض زمینی دفاعی نظام سے نسبتاً محفوظ رہ سکتا تھا۔ اس میں جدید نوعیت کے دفاعی ہتھیار، پریشرائزڈ عملہ کیبن اور مختلف تکنیکی سہولیات بھی شامل کی گئی تھیں۔ اس زمانے میں طیارے کے اندر عملے کیلئے پریشرائزڈ ماحول فراہم کرنا ایک غیر معمولی تکنیکی کامیابی سمجھی جاتی تھی۔''بی29‘‘ کی تیاری آسان کام نہیں تھا۔ اس منصوبے میں بڑی تعداد میں انجینئرز، سائنسدانوں، صنعتی ماہرین اور کارکنوں نے حصہ لیا۔ طیارے کے طاقتور انجن، بڑے حجم، پیچیدہ ساخت اور جدید آلات نے اسے ایک مہنگا اور مشکل منصوبہ بنا دیا تھا، تاہم امریکی قیادت اسے جنگی حکمت عملی کیلئے انتہائی اہم سمجھتی تھی۔ بالآخر یہ طیارہ امریکی فضائی طاقت کی علامت بن گیا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران بی29 نے خصوصاً بحرالکاہل کے محاذ پر اہم کردار ادا کیا۔ امریکی فضائیہ نے اس کے ذریعے جاپانی علاقوں میں طویل فاصلے کی بمباری کی۔ اس طیارے کی مدد سے ایسے اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا تھا جو امریکی اڈوں سے بہت دور واقع تھے۔ اس صلاحیت نے جنگی منصوبہ بندی میں ایک نئی تبدیلی پیدا کی اور طویل فاصلے کے بمبار طیاروں کی اہمیت مزید واضح کردی۔''بی29‘‘ کا نام تاریخ میں ایک اور وجہ سے بھی انتہائی نمایاں ہے۔ اگست 1945ء میں جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر جوہری بم گرائے گئے، ان دونوں کارروائیوں میں استعمال ہونے والے امریکی طیارے بی29 ہی تھے۔ ہیروشیما پر جوہری بم گرانے والے طیارے کا نام ''اینولا گے‘‘ تھا، جبکہ ناگاساکی پر بمباری کرنے والا ''بی29 باکس کار‘‘ تھا۔ ان واقعات نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام کو تیز کیا، تاہم جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے انسانی، اخلاقی اور تاریخی اثرات آج بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع ہیں۔''بی29‘‘ کی اہمیت صرف دوسری جنگ عظیم تک محدود نہیں رہی۔ جنگ کے بعد بھی اس طیارے نے مختلف فوجی مقاصد کیلئے خدمات انجام دیں اور اس کی ٹیکنالوجی نے بعد میں آنے والے بمبار طیاروں کی تیاری پر اثر ڈالا۔ اس نے ثابت کیا کہ مستقبل کی فضائی جنگ صرف رفتار اور ہتھیاروں تک محدود نہیں ہو گی بلکہ طویل فاصلے، بلندی، جدید الیکٹرانکس، عملے کے تحفظ اور درست نشانہ بندی بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہوں گے۔''بوئنگ بی29 سپرفورٹریس‘‘ دراصل اس دور کی سائنسی اور صنعتی ترقی کا ایک نمایاں نمونہ تھا۔ 1942ء کی پہلی پرواز سے شروع ہونے والا اس طیارے کا سفر جنگی تاریخ کے ایک انتہائی اہم باب سے جڑا ہوا ہے۔ اس نے فضائی طاقت کے تصور کو وسعت دی اور دنیا کو دکھایا کہ جدید ٹیکنالوجی جنگ کے انداز، حکمت عملی اور نتائج پر کس قدر گہرا اثر ڈال سکتی ہے۔ آج بھی '' بی29‘‘ کا ذکر عسکری ہوا بازی کی تاریخ میں ایک ایسے طیارے کے طور پر کیا جاتا ہے جس نے بمبار طیاروں کی صلاحیتوں کو ایک نئی سطح تک پہنچایا۔

مصنوعی پلکیں بینائی کی دشمن

مصنوعی پلکیں بینائی کی دشمن

گوند میں پیدا ہونے والے خوردبینی جانداربینائی کو متاثرکرنے کا سبب بنتے ہیں:ماہرینآنکھیں انسانی جسم کا نہایت نازک اور حساس عضو ہیں، اس لیے آنکھوں کی خوبصورتی بڑھانے کیلئے اختیار کیے جانے والے طریقے بعض اوقات صحت کیلئے غیر متوقع خطرات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ مصنوعی پلکوں کا استعمال آج کل حسن و آرائش کا ایک مقبول رجحان بن چکا ہے، مگر ایک حالیہ تحقیق نے اس کے ممکنہ نقصانات کی جانب توجہ دلائی ہے۔ ماہرین کے مطابق مصنوعی پلکوں کے باعث پلکوں کے قریب مائٹس (انتہائی باریک کیڑے) کی افزائش کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو آنکھوں میں خارش، جلن اور سوزش سمیت بعض صورتوں میں نظر دھندلا ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔تحقیق کے مطابق جو افراد باقاعدگی سے یہ حسن افزا طریقہ اختیار کرتے ہیں، ان میں سے 96 فیصد ایسے افراد میں یہ خوردبینی جاندار پائے گئے۔جو پلکوں کے کناروں میں گھس کر بینائی کو متاثر اور دھندلا کرسکتے ہیں۔طبی زبان میں ڈیموڈیکس (Demodex) کہلانے والے یہ مائٹس مردہ جلد کے ان خلیوں کو غذا بناتے ہیں جو مصنوعی پلکیں چپکانے کیلئے استعمال ہونے والے خشک گوند میں جمع ہو جاتے ہیں۔ اس ماحول میں یہ کیڑے تیزی سے افزائش پانے لگتے ہیں۔مصنوعی پلکیں مردہ مائٹس کو بھی پھنسائے رکھ سکتی ہیں، جس کے باعث وہ قدرتی طور پر جھڑ کر الگ نہیں ہو پاتے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ ناخوشگوار مسئلہ ممکنہ طور پر سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے، جن میں پلکوں کے گرد خارش، چھلکے دار جلد اور دھندلا نظر آنا شامل ہیں۔برطانیہ میں ہر ہفتے تقریباً 1 لاکھ 29 ہزار مصنوعی پلکیں لگوانے کے طریقۂ علاج یا حسن افزا سیشنز کیے جاتے ہیں۔ اس عمل میں ماہرین حسن مصنوعی ریشوں کے باریک تار پلکوں کے ساتھ گوند کی مدد سے چپکاتے ہیں، جس سے پلکیں زیادہ گھنی اور لمبی دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم، اب ماہرین امراض چشم نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل کے باعث مسائل پیدا ہونے کے شواہد میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ طریقہ آنکھوں کی صحت کیلئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔یوکرین کی نیشنل پیروگوف میموریل میڈیکل یونیورسٹی کے ماہرین نے یورپی سوسائٹی آف کیٹریکٹ اینڈ ریفریکٹیو سرجنز (ESCRS) کی 44ویں کانگریس میں مصنوعی پلکوں کے ممکنہ نقصانات کے حوالے سے اہم شواہد پیش کیے۔ماہر امراضِ چشم ڈاکٹر ٹیٹیانا ژمد(Dr Tetiana Zhmud) اور ان کی ٹیم کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں 16 سے 28 سال کی عمر کی 345 خواتین سے سروے کیا گیا اور ان سے پوچھا گیا کہ وہ کتنی باقاعدگی سے مصنوعی پلکیں لگواتی ہیں۔ تقریباً نصف خواتین نے بتایا کہ وہ ہر تین سے چار ہفتے بعد یہ عمل کرواتی ہیں، یعنی سال میں تقریباً 17 مرتبہ۔ تقریباً 48 فیصد خواتین نے بتایا کہ مصنوعی پلکیں لگوانے کے بعد انہیں کسی نہ کسی قسم کی بے آرامی، آنکھوں میں سرخی یا خارش کا سامنا کرنا پڑا۔ ان شکایات کا مزید تفصیلی جائزہ لینے کیلئے محققین نے میبوگرافی (Meibography) نامی تکنیک استعمال کی۔ اس طریقے میں پلکوں کے نیچے موجود غدود کا انفراریڈ روشنی کی مدد سے جائزہ لیا جاتا ہے۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن 85 فیصد خواتین نے کم از کم 10 مرتبہ مصنوعی پلکیں لگوائی تھیں، ان میں آنکھوں کے وہ غدود بند ہوچکے تھے یا مناسب مقدار میں تیل پیدا نہیں کر رہے تھے جو آنکھوں کو نم رکھنے کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ اس کے بعد تحقیقاتی ٹیم نے باقاعدگی سے مصنوعی پلکیں لگوانے والی 25 خواتین کی پلکوں کے نمونوں کا خوردبین کے ذریعے جائزہ لیا۔محققین کو ان میں سے 24 خواتین کی پلکوں میں مائٹس موجود ملے، جو 96 فیصد بنتی ہیں۔ ان میں سے 18 خواتین میں خارش، جلن، سرخی، سوجن، جلد پر چھلکے بننے اور پلکوں کے آپس میں چپکنے جیسی علامات بھی پائی گئیں۔اگرچہ ڈیموڈیکس مائٹس بالغ افراد میں بہت عام پائے جاتے ہیں، لیکن عموماً یہ قدرتی طور پر جھڑ کر ختم ہو جاتے ہیں اور نقصان کا باعث نہیں بنتے۔ تاہم، جب ان کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ جائے عام طور پر اس وقت جب یہ جلد کے ذرات میں پھنس جائیں یا غیر معمولی طور پر تیزی سے افزائش پانے لگیں تو یہ آنکھوں میں تکلیف دہ انفیکشن پیدا کرسکتے ہیں۔ ماہرین نے مزید بتایا کہ مصنوعی پلکیں نہ صرف اس مسئلے کا سبب بن سکتی ہیں بلکہ ان طفیلی مائٹس کو تلاش کرنا بھی مشکل بنا دیتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ''عام طور پر اگر یہ مائٹس پلکوں پر موجود ہوں تو ہم ان کی موجودگی کا اندازہ ان کے چھوڑے ہوئے کالرٹس (Collarettes) سے لگاتے ہیں‘‘۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مومی حلقے مردہ مائٹس، ان کے فضلے اور انڈوں کے ساتھ جلد کے ذرات اور تیل کے ملنے سے بنتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ مصنوعی پلکیں لگانے کے دوران استعمال ہونے والا گوند قدرتی پلکوں کی جڑ کے قریب لگایا جاتا ہے، جہاں عام طور پر یہ کالرٹس موجود ہوتے ہیں، اس لیے مصنوعی پلکیں استعمال کرنے والی خواتین میں ان مائٹس کی موجودگی کا پتا لگانا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔ڈاکٹر ژمد کے مطابقحالیہ نتائج اچھی صفائی، خطرے کی علامات سے آگاہی اور مسائل یا علامات ظاہر ہونے کی صورت میں بروقت طبی معائنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ماہر نے مصنوعی پلکیں لگوانے والی خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ دن میں دو مرتبہ کسی نرم کلینزر اور پلکوں کی صفائی کیلئے مخصوص برش کی مدد سے پلکوں کو باقاعدگی کے ساتھ احتیاط سے صاف کریں۔

آج کا دن

آج کا دن

بیت المقدس فتح ہوا1187ء میں صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا۔ بیت المقدس 583ھ بمطابق 1187ء میں صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں صلیبیوں کی شکست کے ساتھ فتح ہوا۔ صلاح الدین ایوبی نے جنگ حطین میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد بیت المقدس کا محاصرہ کر لیا تھا اور کئہ روز تک جاری محاصرے کے بعد شہر فتح کر لیا۔پرتگالی مہم جو کی روانگی1519ء میں آج کے روز پرتگالی مہم جو فرڈیننڈ میگلن (Ferdinand Magellan) نے دنیا کا پہلا بحری چکر لگانے کیلئے سپین سے روانگی اختیار کی۔ فرڈیننڈ میگلن پانچ جہازوں پر مشتمل ایک بیڑے کے ساتھ اسپین کے بندرگاہ شہر سیویلے (Seville) سے روانہ ہوا۔یہ مہم دنیا کے گرد پہلا مکمل بحری سفر بن گئی۔اس مہم نے ثابت کیا کہ زمین گول ہے اور سمندر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔برطانوی خفیہ ایجنسی پر حملہ20ستمبر2000ء کو آئرش ریپبلکن آرمی نے برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6کی ایک عمارت پر حملہ کیا۔اس حملے میں روسی ساختہ اینٹی ٹینک راکٹ استعمال کیا گیا۔ راکٹ300میٹر دور سے فائر کیاگیا اور یہ جنوب کی جانب ایک عمارت سے ٹکرایا۔یہ پہلا موقع تھا جب برطانیہ میں راکٹ لانچر استعمال کیا گیا۔''ایم آئی 6‘‘کی عمارت بلٹ اور بم پروف تھی جس کی وجہ سے بہت کم نقصان ہوا۔جرمنی ،سوویت معاہدہ20ستمبر1955ء کو سوویت یونین اور جرمن ڈیمو کریٹک ریپبلک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ۔جرمن ڈیموکریٹک ریپبلک کو عام طور پر مشرقی جرمنی بھی کہا جاتا تھا۔یہ معاہدہ جرمنی میں سوویت افواج کے گروپ کی قانونی بنیاد بن گیا اور اسی معاہدے کے تحت اس کا جانشین گروہ مغربی گروپ آف فورسز سوویت قبضے کے خاتمے کے بعد جرمنی میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب ہوا۔چکماؤگا کی جنگچکماؤگا کی جنگ،20 ستمبر1863ء کو امریکی اور کنفیڈریٹ افواج کے درمیان لڑی گئی ۔یہ جارجیا میں لڑی جانے والی سب سے بڑی جنگ تھی ۔اس لڑائی کو گیٹسبرگ میں ہونے والی لڑائی کے بعد سب سے زیادہ مہلک شمار کیا جاتا ہے۔اس جنگ میں میجر جنرل ولیم روزکرینز نے امریکی فوج اور جنرل بریکسٹن بریگ نے کنفیڈریٹ آرمی کی قیادت کی، اس جنگ کوچکماؤگا کریک کا نام دیا گیا۔ریزوک مذاکراتریز وک امن معاہدے پر 1697ء میں دستخط کئے گئے۔جس سے فرانس اور گرینڈ الائنس کے درمیان 1688ء سے 1697ء تک جاری رہنے والی نو سالہ جنگ کا خاتمہ ہوا۔ہزاروں افراد ہلاک ہوئے لیکن کوئی بھی اس جنگ میں فتح یا علاقائی برتری حاصل کرنے میں ناکام رہا۔اس معاہدے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہوئی کیونکہ اس نے ایک ایسی جنگ کا خاتمہ کیا جس کا کسی بھی ملک کو فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔

فائر فائٹر روبوٹ

فائر فائٹر روبوٹ

آگ کے شعلوں میں دو منٹ تک ڈٹا رہنے والاٹیکنالوجی کی دنیا میں روبوٹس کو مسلسل ایسے کاموں کیلئے تیار کیا جا رہا ہے جو انسانوں کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک حیرت انگیز مثال چین میں سامنے آئی ہے، جہاں ''تیان لانگ‘‘ (Tianlang) نامی چار ٹانگوں والے روبوٹ نے کھلی آگ اور شدید گرمی کے سامنے ایک خصوصی آزمائشی مشق کامیابی سے مکمل کی ہے۔ ''تیان لانگ‘‘ کا مطلب ''آسمانی بھیڑیا‘‘ یا ''اسکائی وولف‘‘ ہے۔ اس روبوٹ کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ ایسے ماحول میں بھی کام کر سکے جہاں انسانی جان کو شدید خطرات لاحق ہوں۔آزمائشی مشق کے دوران تیان لانگ نے حرارت برداشت کرنے والا خصوصی حفاظتی لباس پہن رکھا تھا۔ اسے کھلی آگ اور شدید درجہ حرارت کا سامنا کروایا گیا اور روبوٹ نے 500 ڈگری سینٹی گریڈ، یعنی 932 ڈگری فارن ہائیٹ تک کی گرمی میں تقریباً دو منٹ تک اپنی فعالیت برقرار رکھی۔ عام انسان کیلئے ایسا ماحول چند لمحوں میں ہی ناقابل برداشت اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس روبوٹ نے انتہائی بلند درجہ حرارت میں ثابت قدم رہ کر یہ ظاہر کیا کہ مستقبل میں روبوٹک ٹیکنالوجی فائر فائٹنگ جیسے خطرناک شعبوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔یہ روبوٹ ''ووبا انٹیلی جنٹ‘‘ (Wuba Intelligent)نامی چینی کمپنی نے تیار کیا ہے۔ کمپنی کا مقصد محض ایک ایسا روبوٹ بنانا نہیں جو آگ برداشت کر سکے بلکہ اسے مستقبل میں فائر فائٹرز کیلئے ایک ابتدائی امدادی اور نگرانی کے آلے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ اس تصور کے مطابق جب کسی عمارت، فیکٹری، گودام یا دوسرے مقام پر شدید آگ بھڑک اٹھے تو فائر فائٹرز کو فوری طور پر اندر داخل کرنے کے بجائے پہلے تیان لانگ جیسے روبوٹ کو آگ کے علاقے میں بھیجا جا سکے گا۔آگ لگنے کے واقعات میں سب سے بڑا خطرہ صرف شعلے اور بلند درجہ حرارت نہیں ہوتے بلکہ عمارت کے اندر موجود مختلف خطرناک گیسیں بھی انسانی زندگی کیلئے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔ دھوئیں اور زہریلی گیسوں کے باعث فائر فائٹرز کو سانس لینے میں دشواری، بے ہوشی اور دیگر خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایسے حالات میں روبوٹ انسانی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر آگ سے متاثرہ علاقے کا جائزہ لے سکتا ہے۔تیان لانگ کے ممکنہ فرائض میں آگ کے شعلوں کا مقام معلوم کرنا، نقصان دہ گیسوں کا سراغ لگانا اور پھنسے ہوئے افراد کی تلاش شامل ہیں۔ اگر کسی عمارت میں لوگ آگ کے باعث مختلف کمروں یا منزلوں میں پھنس جائیں تو روبوٹ وہاں پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لینے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس طرح امدادی کارکنوں کو پہلے سے معلوم ہو سکے گا کہ عمارت کے اندر کہاں خطرہ زیادہ ہے، آگ کس سمت میں پھیل رہی ہے اور ممکنہ طور پر متاثرہ افراد کہاں موجود ہیں۔چار ٹانگوں والا ڈیزائن بھی اس روبوٹ کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ پہیوں والے روبوٹس کے مقابلے میں چار ٹانگوں والے روبوٹس دشوار گزار اور غیر ہموار سطحوں پر نسبتاً بہتر انداز میں حرکت کر سکتے ہیں۔ آگ سے متاثرہ عمارتوں میں فرش پر ملبہ، ٹوٹی ہوئی اشیا، سیڑھیاں اور دیگر رکاوٹیں موجود ہو سکتی ہیں۔ ایسے ماحول میں روبوٹ کا متوازن انداز میں چلنا امدادی کارروائیوں کیلئے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔دنیا بھر میں روبوٹکس کے شعبے میں ایسے روبوٹس کی تیاری پر توجہ بڑھ رہی ہے جو انسانوں کی جگہ خطرناک مقامات پر بھیجے جا سکیں۔ فیکٹریوں میں کیمیائی حادثات، زہریلی گیسوں کا اخراج، آتش زدگی، قدرتی آفات اور منہدم عمارتوں میں امدادی کارروائیاں ایسے شعبے ہیں جہاں روبوٹس انسانی جانوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم کسی روبوٹ کو صرف بلند درجہ حرارت برداشت کرنے کے قابل بنانا کافی نہیں، اسے مشکل ماحول میں درست فیصلے کرنے، راستہ تلاش کرنے، معلومات اکٹھی کرنے اور قابل اعتماد طریقے سے واپس آنے کی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔تیان لانگ کا حالیہ تجربہ اسی بڑے مقصد کی جانب ایک قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ 500 ڈگری سینٹی گریڈ تک کی گرمی میں دو منٹ تک رہنے کا تجربہ اس امر کی جانچ بھی ہے کہ روبوٹ کا حفاظتی نظام شدید حرارت میں کس حد تک مؤثر رہتا ہے۔ مستقبل میں ایسے روبوٹس کو مزید جدید سینسرز، کیمروں اور مواصلاتی نظام سے لیس کیا جا سکتا ہے تاکہ فائر فائٹرز دور بیٹھ کر روبوٹ کی مدد سے آگ کے اندرونی حالات کا مشاہدہ کر سکیں۔اس ٹیکنالوجی کا سب سے اہم پہلو انسانی جان کا تحفظ ہے۔ فائر فائٹرز اپنی جان خطرے میں ڈال کر دوسروں کو بچاتے ہیں، لیکن جدید ٹیکنالوجی انہیں ایسے کاموں میں مدد فراہم کر سکتی ہے جن میں غیر ضروری طور پر انسانی زندگی داؤ پر لگتی ہے۔ اگر روبوٹ پہلے ہی خطرناک علاقے کا جائزہ لے لے تو امدادی ٹیم زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ کارروائی شروع کر سکتی ہے۔تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ روبوٹ فی الحال مکمل طور پر انسانوں کا متبادل نہیں ہیں۔ ہنگامی حالات میں پیچیدہ فیصلے، متاثرین سے براہ راست رابطہ اور بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق فوری حکمت عملی اب بھی تربیت یافتہ انسانی ماہرین کی ضرورت رکھتی ہے۔ روبوٹ بنیادی طور پر انسانی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور خطرات کم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔چین کا تیان لانگ اس مستقبل کی ایک جھلک پیش کرتا ہے جس میں فائر فائٹرز اکیلے آگ کا سامنا نہیں کریں گے بلکہ ان کے ساتھ ایسے روبوٹ بھی موجود ہوں گے جو شعلوں، دھوئیں اور زہریلی گیسوں کے درمیان جا کر ضروری معلومات فراہم کریں گے۔ آج جو مشق ایک تجربہ معلوم ہوتی ہے، ممکن ہے آنے والے برسوں میں یہی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں آگ بجھانے اور انسانی جانیں بچانے کے طریقہ کار کو بدل دے۔

جھیل وکٹوریہ:قدرت کا شاندار آبی عجوبہ

جھیل وکٹوریہ:قدرت کا شاندار آبی عجوبہ

افریقہ کے وسیع و عریض خطے میں قدرت نے ایسے بے شمار مناظر تخلیق کیے ہیں جو دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ انہی قدرتی شاہکاروں میں جھیل وکٹوریہ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ نیلگوں پانی کا یہ وسیع ذخیرہ نہ صرف افریقہ کی عظیم جھیلوں میں شمار ہوتا ہے بلکہ رقبے کے اعتبار سے براعظم افریقہ کی سب سے بڑی جھیل بھی ہے۔ اپنی وسعت، قدرتی حسن، آبی حیات اور جغرافیائی اہمیت کے باعث جھیل وکٹوریہ دنیا بھر کے ماہرین، سیاحوں اور فطرت سے محبت کرنے والوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔جھیل وکٹوریہ تقریباً 59 ہزار 947 مربع کلومیٹر کے وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا پھیلاؤ کئی چھوٹے ممالک کے مجموعی رقبے کے برابر محسوس ہوتا ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی استوائی جھیل بھی ہے۔ سطحی رقبے کے اعتبار سے یہ شمالی امریکا کی جھیل سپیریئر کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی میٹھے پانی کی جھیل قرار دی جاتی ہے۔ یوں جھیل وکٹوریہ کو بیک وقت افریقہ کی سب سے بڑی، دنیا کی سب سے بڑی استوائی اور دنیا کی بڑی میٹھے پانی کی جھیلوں میں شمار ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔جھیل کی وسعت کا اندازہ اس میں موجود پانی کے ذخیرے سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ اس میں تقریباً 2,424 مکعب کلومیٹر پانی موجود ہے اور حجم کے اعتبار سے یہ دنیا کی نویں بڑی براعظمی جھیل ہے۔ تاہم اس قدر وسیع رقبے کے باوجود جھیل وکٹوریہ غیر معمولی طور پر گہری نہیں۔ اس کی اوسط گہرائی تقریباً 40 میٹر ہے، جبکہ بعض مقامات پر زیادہ سے زیادہ گہرائی 80 سے 81 میٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ جھیل کا زیادہ تر حصہ ایک نسبتاً کم گہرے قدرتی نشیبی علاقے میں واقع ہے۔جھیل وکٹوریہ کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا وسیع آبی نکاسی کا علاقہ ہے، جو تقریباً 169,858 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ اس وسیع خطے سے پانی مختلف راستوں کے ذریعے جھیل میں پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جھیل صرف ایک آبی ذخیرے کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ اپنے اردگرد کے وسیع جغرافیائی اور ماحولیاتی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔اس عظیم جھیل کا ساحلی علاقہ بھی حیران کن حد تک وسیع ہے۔ اس کی ساحلی پٹی تقریباً 7,142 کلومیٹر طویل ہے۔ جھیل کے اندر متعدد جزائر بھی موجود ہیں، جو اس کے حسن اور جغرافیائی تنوع میں اضافہ کرتے ہیں۔ مجموعی ساحلی طوالت میں جزائر کا حصہ تقریباً 3.7 فیصد بنتا ہے۔ ان جزائر اور ساحلی علاقوں میں مختلف اقسام کے پودے، پرندے اور آبی جانور پائے جاتے ہیں، جس سے یہ خطہ حیاتیاتی تنوع کے اعتبار سے بھی اہم بن جاتا ہے۔جھیل وکٹوریہ کا تعلق صرف قدرتی حسن سے نہیں بلکہ انسانی زندگی سے بھی گہرا ہے۔ اس کے آس پاس آباد لوگوں کیلئے جھیل پانی، خوراک اور روزگار کا اہم ذریعہ ہے۔ ماہی گیری یہاں کے لوگوں کی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ مقامی آبادی جھیل سے حاصل ہونے والی مچھلی اور دیگر آبی وسائل پر انحصار کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جھیل اور اس کے گردونواح میں زراعت، تجارت اور نقل و حمل کی سرگرمیاں بھی صدیوں سے انسانی زندگی کا حصہ رہی ہیں۔وسیع آبی سطح کی وجہ سے جھیل وکٹوریہ مقامی موسم اور ماحول پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔ جھیل کے آس پاس کا خطہ نسبتاً مرطوب رہتا ہے اور یہاں کا قدرتی ماحول مختلف جانداروں کیلئے موزوں مسکن فراہم کرتا ہے۔ جھیل کے پانی اور اس سے وابستہ ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنا نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے خطے کیلئے اہم ہے۔تاہم جدید دور میں جھیل وکٹوریہ کو مختلف ماحولیاتی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ آبادی میں اضافے، آبی آلودگی، قدرتی وسائل کے بڑھتے ہوئے استعمال اور بعض علاقوں میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے جھیل کے قدرتی نظام کیلئے نئے مسائل پیدا کیے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک اس عظیم قدرتی ورثے کا تحفظ اسی صورت ممکن ہے جب جھیل کے پانی، آبی حیات اور ساحلی ماحول کی حفاظت کیلئے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔جھیل وکٹوریہ دراصل قدرت کی اس عظمت کی ایک خوبصورت مثال ہے جس میں پانی، زمین، آسمان، جزائر، حیاتیاتی تنوع اور انسانی زندگی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کی غیر معمولی وسعت اور قدرتی اہمیت اسے صرف افریقہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا قیمتی قدرتی سرمایہ بناتی ہے۔ اس عظیم جھیل کی حفاظت دراصل آنے والی نسلوں کیلئے قدرت کے ایک شاندار تحفے کو محفوظ رکھنے کے مترادف ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

میکسیکو زلزلہ19ستمبر1985ء کو میکسیکو شہر میں شدید زلزلہ آیا جس کی شدت8.0ریکارڈ کی گئی۔زلزلے نے گریٹر میکسیکو شہر کے علاقے کو شدید نقصان پہنچایا، تقریباً5ہزار افراد لقمہ اجمل بنے۔ بعدازاں دو بڑے آفٹر شاکس بھی محسوس کئے گئے۔دونوں آفٹر شاکس کی شدت بھی 7.0 اور 7.5 ریکارڈ کی گئی ۔ اس واقعے میں تین سے چار بلین امریکی ڈالر کے درمیان نقصان ہوا، 412 عمارتیں گر گئیں اور ہزاروں افراد کا جانی و مالی نقصان ہوا۔پیرس کا محاصرہ1870ء میں فرانکوپروشیائی جنگ کے دوران 19ستمبر کو پیرس کا محاصرہ شروع ہوا۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس نے دشمن کی افواج کے شدید دباؤ اور مسلسل حملوں کے باوجود تقریباً چار ماہ تک مزاحمت جاری رکھی۔ شہر کے باشندوں اور دفاعی دستوں نے مشکل حالات میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، تاہم طویل محاصرے، خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی قلت نے حالات انتہائی دشوار بنا دیے۔ بالآخر چار ماہ سے زائد عرصے تک مزاحمت کے بعد پیرس کو دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے۔ یو ٹی اے پرواز 772 کا سانحہ 19ستمبر 1989ء کو فرانسیسی فضائی کمپنی یو ٹی اے کی پرواز 772 نائجر کے صحرائے تنورو کے اوپر محوِ پرواز تھی کہ اچانک ایک بم دھماکے کے نتیجے میں طیارہ فضا میں تباہ ہوگیا۔ طیارے میں سوار تمام 170 مسافر اور عملے کے ارکان جاں بحق ہوگئے۔ یہ واقعہ ہوا بازی کی تاریخ کے المناک ترین سانحات میں شمار ہوتا ہے۔ حادثے کے بعد تحقیقات میں بم دھماکے کو طیارے کی تباہی کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا۔ماسکو معاہدہ19 ستمبر 1944ء کو فن لینڈ اور سوویت یونین کے درمیان ماسکو جنگ بندی معاہدے پر دستخط ہوئے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہوگیا۔ یہ معاہدہ دوسری جنگ عظیم کے دوران فن لینڈ اور سوویت یونین کے مابین ہونے والی جنگ کے اختتام کا باعث بنا۔ معاہدے کے تحت فن لینڈ نے سوویت یونین کے ساتھ جنگ بندی قبول کی اور اپنے فوجی اقدامات روک دیے۔ یوں ایک طویل اور تباہ کن تنازع اختتام پذیر ہوا اور خطے میں امن کی نئی صورتِ حال پیدا ہوئی۔آتش فشاں کا خوفناک دھماکاجزیرے لا پالما پر واقع کومبرے ویئیخا آتش فشاں 19 ستمبر 2021ء کو پھٹ پڑا۔ اس کے نتیجے میں لاوا، راکھ اور آتش فشانی مواد بڑی مقدار میں خارج ہوا، جس سے علاقے میں شدید تباہی پھیلی اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ آتش فشاں تقریباً تین ماہ تک سرگرم رہا اور بالآخر 13 دسمبر 2021ء کو اس کا اخراج رک گیا۔ یہ لا پالما کی تاریخ کے اہم ترین آتش فشانی واقعات میں شمار ہوتا ہے۔تھائی لینڈبغاوت 19 ستمبر 2006ء کو تھائی لینڈ کی فوج نے حکومت کے خلاف اچانک بغاوت کرتے ہوئے اقتدار سنبھال لیا۔ فوج نے ملک کا آئین منسوخ کردیا اور مارشل لا نافذ کردیا۔ اس کارروائی کے دوران وزیراعظم تھاکسن شیناواترا بیرونِ ملک تھے۔ فوج نے حکومت کا تختہ الٹ کر سیاسی نظام کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ یہ واقعہ تھائی لینڈ کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور ملک میں جمہوری نظام کو شدید دھچکا پہنچا۔