سکندرِاعظم کے 9 پوشیدہ حقائق

سکندرِاعظم کے 9 پوشیدہ حقائق

اسپیشل فیچر

تحریر : رضوان عطا


مقدونیہ کا بادشاہ اور فتوحات کے باعث چہاردانگ عالم میں شہرت پانے والا سکندرِاعظم جولائی 356 قبل مسیح کو پیدا ہوا۔ ایشیا اور شمال مشرقی افریقہ میں اس کی غیر معمولی عسکری مہمات نے دورِقدیم کی سب سے وسیع سلطنتوں میں سے ایک کو قائم کیا۔ اسے دنیا کے کامیاب ترین عسکری قائدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ تخت سنبھالنے کے بعد اپنے باپ کے خواب کی تکمیل کرتے ہوئے اس نے ہخامنشی سلطنت (سلطنتِ فارس) پر پے در پے حملے کیے اور یہ سلسلہ تقریباً ایک دہائی تک جاری رہا ۔ اس نے فارسیوں کی طاقت کو ختم اور دارا سوم کو شکست سے دوچار کر دیا۔ برصغیر میں اس کا مقابلہ پارس سے اس علاقے میں ہوا جو اب پاکستان کا حصہ ہے۔ اس کی جنگی مہمات نے جہاں تباہیاں پھیلائیں وہیں دنیا کی مختلف ثقافتوں اور نظریات کو ایک دوسرے سے متعارف بھی کرایا۔ بابل کو وہ اپنا دارالحکومت بنانا چاہتا تھا لیکن یہیں موت نے اسے آ لیا اورجزیرہ نما عرب پر قبضے کا اس کا خواب ادھورا رہ گیا۔ سکندر کے بارے میں بہت سی ایسی اہم باتیں ہیں جو کم لوگ جانتے ہیں۔ ان میں سے چند کو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ماں شاہی خاندان سے تھی:سکندرِاعظم کی ماں کا نام اولمپیاس تھا۔ وہ مقدونیہ کے بادشاہ فلپ دوم کی چوتھی بیوی تھی۔ سکندر کی ماں مقدونی نہیں تھی اور دعویٰ یہی کیا جاتا ہے کہ وہ مولوشیائی بادشاہ کی بیٹی تھی۔یہ یونان میں اپیرس کے علاقے کا ایک قدیم قبیلہ تھا جس نے ایک سلطنت بھی قائم کر رکھی تھی۔ یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کے خاندان کا تعلق جنگ ٹروجن کے ہیرو ایکیلز سے تھا۔ سکندرِ اعظم کی پیدائش کے بعد اس کی ماں کو گویا خاتون اول کا درجہ مل گیا۔چونکہ سکندر کی ماں مقدونی نہیں تھی اس لیے یہ بحث چلتی رہتی تھی کہ وہ وراثتی اقتدار کا حق دار ہے یا نہیں اور اس کی وجہ سے ماں اور باپ کے مابین تناؤ بھی رہتا تھا۔اسی کش مکش نے اسے ظالم بنا دیا تھا۔ حال ہی میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں غیر ملکی مصنف نے لکھاہے کہ سکندر اعظم کی ماںکو بادشاہ کے محل میں اپنا مقام بنانے کے لئے بے انتہا محنت کرنا پڑی تھی۔ پہلے پہل دربار میں اسے بطور ملکہ کوئی ہی نہیں ملا تھا ۔محل کی دوسری ملکائوں کی طاقت اسے بے چین کئے رکھتی تھی۔ سکندر کی پیدائش کے بعد ہی اسے بادشاہ کے دربار میں پہلی ملکہ کی حیثیت حاصل ہوئی تھی ۔ بڑی وجہ یہ تھی کہ کسی نے بادشاہ کو کہا تھا کہ سکندر بہت خوش قسمت ہو گا اور یہ دنیا پر حکومت کرے گا ،اس لئے بادشاہ نے بھی سکندر کی تربیت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی،اسے اچھی سے اچھی تربیت دلوائی۔ سکندر اور اپنی عزت دیکھ کر ملکہ بد دماغ ہو گئی اور انتقام لینے پر اتر آئی۔ اس نے جس کو بھی اپنا حریف سمجھا اسے راستے سے ہٹادیا۔طاقت کے نشے میں بد مست ہو کر اس نے ظلم کی انتہا کر دی تھی۔غیر ملکی مصنف کے مطابق یہی ظلم سکندر نے سیکھا۔ اچھی فوج اور مضبوط سلطنت ملی:سکندر کا باپ فلپ دوم موت سے قبل اپنی سلطنت اور فوج کو خاصی ترقی دے چکا تھا۔اپنی طاقت میں اضافے کے لیے اس نے سفارت کاری کے ساتھ فوجی اصلاحات بھی کیں۔ علاوہ ازیں اس نے اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اس کی بیویوں کی تعداد 7 کے قریب تھی۔ فلپ دوم نے پیادہ فوج میں ترتیب کی بنیاد رکھی جسے ’’مقدونی صف بندی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں پیادہ فوج کا ایک حصہ قریب آکر متحد ہو جاتا ہے۔ ہر سپاہی کے پاس سارسا کہلانے والی 20 فٹ لمبی برچھی ہوتی ہے، جب سوار فوج پیادہ پر چڑھ دوڑنے کی کوشش کرتی تو یہ صف بندی ان کی رہ میں حائل ہو جاتی۔ ’’مقدونی صف بندی‘‘ نے یونان کی شہری ریاستوں اور تھیبس کو شکست دینے میں فلپ دوم کی بہت مدد کی۔ فلپ دوم نے یونانی ریاستوں کی ایک فیڈریشن بنانے کی کوشش کی تاکہ طاقت پا کر ہخامنشی سلطنت پر قبضہ کر سکے لیکن موت نے اسے آ لیا۔ فلپ دوم ہی نے مقدونی فوج کو وہ شاندارہیئت دی جو بعد میں سکندرِاعظم کے کام آئی۔ سکندر اعظم کے جرنیلوں میں سے ایک بطلیموس ( Ptolemy) نے مصر کی حکمرانی حاصل کی اور سکندر اعظم کے نام پر ایک نیا شہر سکندریہ تعمیر کیا اور اسکو ملک کا دارلحکومت بنایا۔اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹے نے یہاں ایک تحقیق و تعلیم کا ایک عظیم و الشان ادارہ قائم کیا جسے ہم آجکل کی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کی مانند قرار دے سکتے ہیں۔اسی سے متصل قدیم دور کی سب سے بڑی لائبریری بھی تعمیر کی گئی ،جہاں اہل علم کے لئے لاکھوں کتب کاذخیرہ موجود تھا۔ ارسطو نے پڑھایا: سکندر میں علوم بالخصوص فلسفے کا ذوق بہت تھا اور غالباً خطہ یونان کے ماحول کے علاوہ ارسطو کی صحبت اس کا سبب بنی۔ اس کے باپ نے سکندر کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا۔ اس دور کے رائج علوم مثلاً ریاضی، تاریخ، نیزہ بازی وغیرہ کی تعلیم اس مقدونی شہزادے کو دی گئی۔یونان کا معروف فلسفی ارسطو سکندر کو تقریباً16 برس کی عمر تک پڑھاتا رہا۔ فلسفے اور فلسفیوں سے رغب کا اظہار اس واقعے سے ہوتا ہے۔ روایات کے مطابق جب سکندرِ اعظم ابھی شہزادہ تھا، اس کے ذہن میں ناشائستہ اور مٹی کے مرتبان میں محوخواب رہنے والے فلسفی دیوجانس کلبی سے ملنے کا خیال آیا۔ ایک مقام پر سکندر کا اس سے سامنا ہوگیا، اس نے پوچھاکہ وہ اس کے لیے کیا کر سکتا ہے؟ اس پر دیوجانس نے جواب دیا ’’آگے سے ہٹ جاؤ، تم نے سورج کی روشنی کو روک رکھا ہے۔‘‘ اس ملاقات کا سکندرِاعظم پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے کہا ’’اگر میں سکندر نہ ہوتا تو دیوجانس ہوتا۔‘‘ پسندیدہ ترین کتاب الیڈ تھی:ارسطو نے سکندر کو ہومر کی رزمیہ نظم الیڈ کی ایک نقل دی تھی جس کی شرح ارسطو نے خود لکھی تھی۔ سکندر ہومر کا مداح تک لیکن الیڈ اس کی پسندیدہ ترین کتاب تھی۔اپنی عسکری مہمات کے دوران وہ اسے اپنے ساتھ رکھتا۔ اس امر کی تصدیق یونانی سوانح نگار پلوٹارک کرتا ہے۔ اس کے مطابق وہ اسے عسکری علم و اقدار کا مثالی سفری خزانہ تصور کرتا تھا۔ بوسیفالوس محبوب گھوڑا تھا: بوسیفالوس غالباً دورِ عتیق کا سب سے مشہور گھوڑا تھا۔ یہ گھوڑا پارس کے ساتھ جنگ میں مارا گیا اورایک روایت کے مطابق جہلم کے نزدیک دفن ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی آنکھیں نیلی تھیں۔ سکندر کی سوانح میں پلو ٹارک بتاتا ہے کہ 10 برس کی عمر میں سکندر کے والد نے اسے ایک اعلیٰ گھوڑا دیا لیکن اسے سدھانا مشکل ہو رہا تھا۔ شہزادے نے محسوس کیا کہ گھوڑا اپنے سائے سے خوف کھا رہا ہے اور جلد اس بظاہر ضدی گھوڑے کو سدھانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس پر فلپ دوم نے اپنے بیٹے پر فخر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میرے بیٹے! مقدونیہ تمہارے لیے بہت چھوٹا ہے، تمہیں تمہارے عزم کے مطابق بڑی سلطنت کی جستجو کرنی ہے۔‘‘سکندر نے اس گھوڑے کو اپنے ساتھ رکھ لیا اور اسے بوسیفالس کانام دیا جس کا مطلب ہے ’’بیل کا سر‘‘۔ تخت پاتے ہی تشدد کا سہارا لیا:مقدونیہ میں صاحبانِ اقتدار کے قتل کی روایت خاصی پختہ تھی۔ 336 قبل مسیح میں فلپ دوم کو اس کے محافظین کے سربراہ نے قتل کر دیا۔ وہ ایک شادی کی تقریب میں شریک تھا۔مارنے والا خود بھی مارا گیا۔ سکندر کی وراثت اور تخت پر حق کی بحث برسوں سے جاری تھی کیونکہ ماں کی وجہ سے اسے نصف مقدونی خیال کیا جاتا تھا،البتہ اشرافیہ اور فوج نے 20 سالہ شہزادے کو فی الفور بادشاہ بنانے کا اعلان کر دیا۔ اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے کے لیے سکندر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خود کو محفوظ بنانے کے لیے اس نے تخت کے تمام ممکنہ دعویداروں کا خاتمہ کر دیا جن اس کا کزن اور مقدونیہ کے دو شہزادے شامل تھے۔ فلپ دوم کی ایک بیوی اور اس کی بیٹی بھی قتل ہوئیں۔ اقتدار سنبھالتے ہی اس نے سرکش دھڑوں کو کچلنا شروع کر دیا اور آخر کار طاقت ور بادشاہ کے روپ میں سامنے آیا۔سلطنتِ فارس اور دارا سوم کو شکست دی: اس دور میں سلطنتِ فارس کو شکست دینا سپرپاور کو ہرانے کے مترادف تھا۔334 قبل مسیح میں وہ ایشیا کوچک داخل ہوا اور فارس کی فوج اس کے مقابل آئی۔ وہ دریائے گرانیکوس کے پار اس کی منتظر تھی۔اس میں لڑائی میں سکندر مرتے مرتے بچا۔ خونیں لڑائی میں مقدونیہ کا بادشاہ فاتح ٹھہرا۔ اس کے بعد سکندر کا مقابلہ دارسوم سے اسوس کے مقام پر ہوا جو موجودہ شام میں ہے۔ سکندر کی فوج دارا کے مقابلے میں خاصی کم تھی لیکن اس نے دارا کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ سکندر نے چند ہی برس بعد دارا کو دوبارہ شکست دی جس کے بعد دارا کو اسی کے ساتھیوں نے قتل کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی سلطنت فارس (ہخامنشی سلطنت) کو زوال آ گیااور سکندر فارس کا بادشاہ بن گیا۔ موت تاحال معمہ ہے: کہا جاتا ہے کہ 323 قبل مسیح میںعہدِجوانی میں وہ بخار کی لپیٹ میں آ یااور س کا انتقال دو ہفتے تک منائے جانے والے ایک بڑے جشن کے بعد بابل میں نبوخذنصر دوم کے محل میں ہوا۔ موت کے سبب کے بارے میں تاریخ دانوںمیں مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔ بعض کے مطابق اسے اس کے کسی قریبی نے زہر دیا۔تاریخ دانوں کو یہ بھی شبہ ہے کہ وہ جگر کے ناکارہ ہونے سے مرا۔ میدانِ جنگ میں کبھی شکست نہ کھائی:اگرچہ ’’مقدونی صف بندی‘‘ کی تخلیق کا سہرا فلپ دوم کے سرہے لیکن اسے انتہائی کامیابی سے استعمال اس کے بیٹے نے کیا۔ نوجوانی ہی میں اپنی سپاہ کی سرعت و تنددہی سے میدانِ جنگ میں قیادت کرنے پر اسے لشکر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ دستاویزی ثبوتوں کے مطابق 15 برس تک لڑائیاں کرنے کے باوجود وہ ایک لڑائی میں بھی نہ ہارا۔12سالہ دورِاقتدار میں سکندر اور اس کی فوج نے ہزاروں میل کا فاصلہ پیدل طے کیا۔ اس کی سلطنت یونان سے ہندوستان تک تھی،یہ 2 کروڑ مربع میل رقبہ بنتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
80 سال پرانا مسئلہ اور مصنوعی ذہانت کا حیران کن حل  جس نے ریاضی دانوں کو حیران کر دیا

80 سال پرانا مسئلہ اور مصنوعی ذہانت کا حیران کن حل جس نے ریاضی دانوں کو حیران کر دیا

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ تو کر ہی رہی ہے لیکن گزشتہ ہفتے OpenAI کے اس انکشاف نے دنیا بھر کے ریاضی دانوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا کہ اس کے ایک AI ماڈل نے معروف ریاضی دان پال ایرڈوش کے اُس مسئلے کا نیا حل تجویز کیا ہے جوتقریباً 80 سال سے ریاضی دانوں کے لیے معمہ بنا ہوا تھا۔ اس پیش رفت کو بعض ماہرین مصنوعی ذہانت کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دے رہے ہیں کیونکہ یہ محض تیز رفتار حساب کتاب ہی نہیں بلکہ ایک نئے ریاضیاتی ماڈل کی دریافت سے متعلق ہے۔یہ مسئلہ ہنگری کے معروف ریاضی دان پال ایرڈوش (Paul Erdos) نے 1946ء میں پیش کیا تھا۔ ایرڈوش بیسویں صدی کے عظیم ترین ریاضی دانوں میں شمار ہوتے ہیں اور انہوں نے ہزاروں ریاضیاتی مسائل اور نظریات پر کام کیا۔تاہم ان کا مذکورہ مسئلہ کئی دہائیوں تک دنیا بھر کے ریاضی دانوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔مسئلہ کیا تھا؟ایرڈوش نے سوال اٹھایا تھا کہاگر ایک ہموار سطح پر بہت سے نقطے لگائے جائیں تو ان نقطوں کے درمیان ایسے نقطوں کی جوڑیوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کتنی ہو سکتی ہے جن کا باہمی فاصلہ بالکل ایک یونٹ ہو۔ ایسے دو نقاط جن کے درمیان فاصلہ ایک یونٹ ہو، یونٹ ڈسٹنس جوڑی (Unit Distance Pair) کہلاتے ہیں۔اس مسئلے کو Planar Unit Distance Problem کہا جاتا ہے اور بظاہر یہ ایک سادہ سا سوال معلوم ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے موجود ریاضی انتہائی پیچیدہ ہے۔ کئی دہائیوں تک ریاضی دان مختلف جیومیٹریکل ترتیبوں یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ زیادہ سے زیادہ کتنے نقاط اس انداز میں رکھے جا سکتے ہیں کہ ان کے درمیان ایک یونٹ فاصلے والے جوڑوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو۔وقت گزرنے کے ساتھ ایک عمومی تصور قائم ہو گیا کہ سکوئر گرڈ (Square Grid)اس مسئلے کے لیے تقریباً بہترین حل فراہم کرسکتا ہے، اگرچہ اس تصور کو مکمل طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا لیکن بیشتر ماہرین اسے درست مانتے تھے۔بہرکیف اس مسئلے سے متعلق کئی دہائیوں تک تحقیق جاری رہی۔مصنوعی ذہانت نے کیا نیا دریافت کیا؟ جب ایک جدید AI ماڈل کے ذریعے ریاضی کے اس مسئلے پر غور کیا گیا تو حیران کن طور پر اس ماڈل نے ایک ایسی نئی جیومیٹریکل شکل (Construction) تجویز کی جو مروجہ نظریات سے مختلف تھی۔اس نئی جیومیٹریکل شکل نے اس بات کے شواہد فراہم کیے ہیں کہ کئی دہائیوں سے رائج گرڈ سکوئر کا تصور مکمل طور پر درست نہیں تھا۔ دوسرے الفاظ میں AI نے ایک ایسا حل دریافت کیا جس نے پرانے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت نے اس حل تک پہنچنے کے لیے ریاضی کے ایک نسبتاً غیر متوقع شعبے، Algebraic Number Theory، سے تعلق رکھنے والے خیالات استعمال کیے ہیں۔ عام طور پر اس مسئلے کے بارے میں سوچتے وقت ریاضی دان جیومیٹری پر زیادہ توجہ دیتے تھے لیکن AI نے مختلف ریاضیاتی شعبوں کے درمیان تعلق تلاش کرتے ہوئے ایک نئی راہ دریافت کی۔یہی وہ پہلو ہے جس نے ماہرین کو سب سے زیادہ متاثر کیا کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت بعض اوقات ایسے راستے تلاش کر سکتی ہے جن کے بارے میں انسانوں نے پہلے غور نہ کیا ہو۔ماہرین ِ ریاضی کا ردِعملاس پیش رفت پر دنیا کے کئی ممتاز ریاضی دانوں نے مثبت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ معروف برطانوی ریاضی دان ٹموتھی گوورز (Timothy Gowers) جو فیلڈز میڈل حاصل کر چکے ہیں، نے کہا کہ اگر یہی نتیجہ کسی انسانی محقق کی جانب سے پیش کیا جاتا تو میں اسے اعلیٰ درجے کے جرنل میں شائع کرنے کی سفارش کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتا۔اسی طرح دیگر ماہرین نے بھی اس کام کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔ بعض ریاضی دانوں کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ مصنوعی ذہانت نے ایسا ریاضیاتی نتیجہ پیش کیا ہے جو اپنی ذات میں تحقیقی اہمیت رکھتا ہے اور جسے صرف کمپیوٹر کی حسابی طاقت کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگرچہ بعد میں انسانی محققین نے اس دریافت کا تفصیلی جائزہ لیا اور مزید بہتریاں بھی تجویز کیں لیکن بنیادی خیال مصنوعی ذہانت کی جانب سے سامنے آیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کامیابی کو AI اور انسانی تحقیق کے اشتراک کی ایک اہم مثال سمجھا جا رہا ہے۔کیا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو گیا؟یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ AI نے پورے Planar Unit Distance Problemکا مکمل حل پیش نہیں کیا اور مسئلہ اب بھی ریاضی دانوں کے لیے ایک چیلنج ہے اور اس کے کئی پہلو ابھی تحقیق طلب ہیں۔البتہ مصنوعی ذہانت نے اس مسئلے سے متعلق ایک معروف اندازے کو غلط ثابت کر کے تحقیق کا رخ موڑ دیا ہے۔ ریاضی کی دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی مسئلے کا مکمل حل حاصل ہونے سے پہلے کئی اہم جزوی نتائج سامنے آتے ہیں۔ یہ دریافت بھی انہی اہم سنگِ میل میں سے ایک تصور کی جا رہی ہے۔مستقبل میں مصنوعی ذہانت کا کرداراس پیش رفت نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا مستقبل میں مصنوعی ذہانت سائنسی اور ریاضیاتی تحقیق میں ایک فعال معاون بن سکتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ AI انسانی محققین کی جگہ نہیں لے گی لیکن یہ پیچیدہ مسائل میں نئی راہیں اور غیر متوقع خیالات ضرور فراہم کر سکتی ہے۔ریاضی، فزکس ، بیالوجی اور دیگر سائنسی شعبوں میں ایسے بے شمار مسائل موجود ہیں جن پر کئی دہائیوں سے تحقیق جاری ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو ممکن ہے کہ مستقبل میں یہ نئی دریافتوں اور نظریات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے۔

کوٹ ڈیجی: وادیٔ سندھ کی تہذیب کے آغاز کی کہانی

کوٹ ڈیجی: وادیٔ سندھ کی تہذیب کے آغاز کی کہانی

ملکِ عزیز پاکستان کی سرزمین دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں کی امین ہے۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کو طویل عرصے تک موئن جو دڑو اور ہڑپہ کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا لیکن 1957-58ء میں سندھ کے تاریخی مقام کوٹ ڈیجی میں ہونے والی آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں نے اس تصور کو نئی جہت عطا کی۔ محکمہ آثارِ قدیمہ کے اُس وقت کے سربراہ ڈاکٹر ایف اے خان کی سربراہی میں ہونے والی ان کھدائیوں نے ثابت کیا کہ وادیٔ سندھ کی ترقی یافتہ شہری تہذیب اچانک وجود میں نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے ایک قدیم اور منظم ثقافتی پس منظر موجود تھا۔ڈاکٹر ایف اے خان کے مطابق کوٹ ڈیجی کی تہذیب موئن جو دڑو اور ہڑپہ کی معروف تہذیب سے پہلے کی ایک اہم ثقافتی کڑی ہے۔ اس دریافت نے ماہرین آثارِ قدیمہ کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ وادیٔ سندھ کی تہذیب کے ارتقا کا عمل کئی صدیوں پر محیط تھا۔قلعہ بند شہر اور منظم شہری زندگیکوٹ ڈیجی کا آثارِ قدیمہ کا مقام دو حصوں پر مشتمل ہے، ایک بلند قلعہ نما حصہ اور دوسرا اس کے گرد پھیلا ہوا شہری علاقہ۔ کھدائیوں سے معلوم ہوا کہ یہاں کے باشندوں نے مضبوط دفاعی فصیلیں تعمیر کی تھیں جن میں پتھر اور کچی اینٹیں استعمال کی گئی تھیں۔ دیواروں کو برجوں کے ذریعے مزید مضبوط بنایا گیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں کے لوگ دفاعی حکمتِ عملی اور تعمیراتی مہارت سے بخوبی واقف تھے۔کھدائی کے دوران کشادہ کمروں، فرشوں، ذخیرہ گاہوں اور رہائشی ڈھانچوں کے آثار بھی دریافت ہوئے۔ گھروں میں مٹی کے برتن، ذخیرہ کرنے کے بڑے مرتبان، بچوں کے کھلونے، گیندیں، کنچے، چوڑیاں اور مختلف قسم کے زیورات ملے۔ یہ اشیا ظاہر کرتی ہیں کہ کوٹ ڈیجی کے باشندے ایک منظم اور نسبتاً خوشحال معاشرے میں زندگی گزار رہے تھے۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں کے مکانات منصوبہ بندی کے تحت تعمیر کیے گئے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شہری نظم و نسق اور اجتماعی منصوبہ بندی کا تصور اس دور میں بھی موجود تھا جو بعد میں ہڑپہ اور موئن جو دڑو کی ترقی یافتہ شہری تہذیب میں مزید نکھر کر سامنے آیا۔کوٹ ڈیجی کی منفرد ثقافت اور فنڈاکٹر ایف اے خان کی رپورٹ میں کوٹ ڈیجی کے برتنوں کو اس تہذیب کی نمایاں ترین خصوصیات میں شمار کیا گیا ہے۔ یہاں سے دریافت ہونے والی مٹی کی اشیا نہایت عمدہ معیار کی ہیں۔ ان کا رنگ گلابی سے سرخی مائل ہے اور ان پر سیاہ، بھورے اور سرخی مائل رنگوں سے دلکش نقش و نگار بنائے گئے ہیں۔خاص طور پر مچھلی کے چھلکوں جیسے ڈیزائن، لہردار خطوط، حلقے اور دیگر جیومیٹریکل نمونے اس فن کے اعلیٰ معیار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بعض برتنوں پر سینگوں والے دیوتا کی تصویر بھی پائی گئی جسے ڈاکٹر خان نے نہایت منفرد اور نادر قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس قسم کا ڈیزائن اس سے پہلے برصغیر کی کسی قدیم تہذیب کے برتنوں پر دریافت نہیں ہوا ۔یہ برتن اس بات کا ثبوت ہیں کہ کوٹ ڈیجی کے باشندے نہ صرف فنی ذوق رکھتے تھے بلکہ ان کے ہاں ایک مضبوط ثقافتی شناخت بھی موجود تھی۔ کوٹ ڈیجی طرز کے برتن ہڑپہ اور دیگر مقامات پر بھی دریافت ہوئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ثقافت کے اثرات وسیع علاقے تک پھیلے ہوئے تھے۔موئن جو دڑو سے پہلے کی تہذیبکوٹ ڈیجی کی سب سے بڑی اہمیت اس حقیقت میں پوشیدہ ہے کہ اس نے وادیٔ سندھ کی تہذیب کے آغاز کے بارے میں رائج تصورات کو تبدیل کر دیا۔ کھدائیوں سے واضح ہوا کہ موئن جو دڑو کی ابتدائی آبادی دراصل کوٹ ڈیجی کے قدیم باشندوں کی بستی کے اوپر آباد ہوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوٹ ڈیجی کی تہذیب موئن جو دڑو اور ہڑپہ کی ترقی یافتہ تہذیب سے پہلے موجود تھی۔ڈاکٹر ایف اے خان کے مطابق کوٹ ڈیجی کی تہذیب ممکنہ طور پر 3000 قبل مسیح کے آس پاس موجود تھی، جبکہ ہڑپہ اور موئن جو دڑو کی تہذیب کا دور عموماً 2500 تا 2300 قبل تھا۔ اس طرح کوٹ ڈیجی وادیٔ سندھ کی تہذیبی تاریخ کو کئی صدیوں پیچھے لے جاتی ہے۔کھدائیوں میں آگ اور سیلاب کے شواہد بھی ملے اور قلعے کے بالائی حصوں میں جلی ہوئی مٹی کی موٹی تہہ دریافت ہوئی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آتش زدگی کے کسی بڑے واقعے نے اس بستی کو تباہ کیا۔ ڈاکٹر خان کا خیال ہے کہ اسی تباہی کے بعد ہڑپہ اور موئن جو دڑو سے وابستہ ثقافت نے اس مقام پر جگہ بنائی۔یہ دریافت اس نظریے کو تقویت دیتی ہے کہ وادیٔ سندھ کی عظیم تہذیب مقامی ارتقائی عمل کا نتیجہ تھی۔ اگرچہ اس کے بیرونی روابط موجود تھے لیکن اس کی بنیادی ترقی اسی خطے میں ہوئی۔ کوٹ ڈیجی اس ارتقائی سفر کی ایک اہم کڑی ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ انسانی تہذیبیں اچانک جنم نہیں لیتیں بلکہ صدیوں کے تجربات، اختراعات اور ثقافتی ترقی کے نتیجے میں پروان چڑھتی ہیں۔کوٹ ڈیجی کی کھدائیاں آج بھی پاکستان کی آثارِ قدیمہ کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ مقام نہ صرف سندھ بلکہ پوری جنوبی ایشیا کی قدیم تاریخ کو سمجھنے کی کلید فراہم کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ اس خطے کے باشندے پانچ ہزار سال قبل بھی تعمیر، فن، تجارت اور سماجی تنظیم کے اعلیٰ معیار سے واقف تھے۔

آج کا دن

آج کا دن

ملکہ الزبتھ کی تاج پوشی2 جون 1953 ء کو برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی تاج پوشی لندن کے مشہور چرچ ویسٹ منسٹر ایبے میں ہوئی۔ اگرچہ وہ اپنے والد شاہ جارج ششم کے انتقال کے بعد 1952ء میں تخت نشین ہو چکی تھیں لیکن برطانوی روایات کے مطابق ان کی رسمی تاج پوشی ایک سال بعد منعقد کی گئی۔اس تقریب میں دنیا بھر سے سربراہانِ مملکت، شاہی خاندانوں کے افراد اور سفارتی نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ تقریب اس لحاظ سے بھی منفرد تھی کہ پہلی مرتبہ کسی برطانوی تاج پوشی کو ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کیا گیا۔ ملکہ الزبتھ دوم برطانیہ کی تاریخ کی سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ بنیں۔ اٹلی کا یوم جمہوریہ 2 جون 1946ء کو اٹلی میں ایک تاریخی ریفرنڈم منعقد ہوا جس کے نتیجے میں صدیوں پرانی بادشاہت کا خاتمہ اور جمہوریہ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اٹلی شدید سیاسی بحران کا شکار تھا اور عوام کی بڑی تعداد شاہی خاندان کو جنگی تباہی کا ذمہ دار سمجھتی تھی۔ریفرنڈم میں لاکھوں شہریوں نے حصہ لیا اور اکثریت نے جمہوری نظام کے حق میں ووٹ دیا۔اس ریفرنڈم کی ایک اور تاریخی اہمیت یہ تھی کہ اطالوی خواتین نے پہلی مرتبہ قومی سطح پر ووٹ کا حق استعمال کیا۔ جمہوریہ کے قیام کے بعد اٹلی نے نیا آئین تشکیل دیا اور جمہوری اداروں کی بنیاد رکھی۔ پی ایل او کا قیام 2 جون 1964 کوفلسطین لیبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے قیام کا اعلان کیا گیا۔1960ء کی دہائی میں مسئلہ فلسطین مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا مرکزی موضوع بن چکا تھا۔ مختلف فلسطینی گروہوں کو ایک متحد پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے اس تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تاکہ وہ اپنی قومی شناخت اور سیاسی مطالبات کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔بعد ازاں پی ایل او فلسطینی عوام کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم بن گئی۔ 1990ء کی دہائی میں اوسلو امن مذاکرات کے دوران بھی پی ایل او نے مرکزی کردار ادا کیا۔ سرویئر-1 چاند پراترا 2 جون 1966ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی جہازسروئیر- 1 نے چاند کی سطح پر کامیاب لینڈنگ کی۔اس مشن کا بنیادی مقصد چاند کی سطح کا مطالعہ کرنا اور یہ جانچنا تھا کہ آیا وہاں مستقبل میں انسانوں کی لینڈنگ ممکن ہوگی یا نہیں۔ سرویئر-1 نے ہزاروں تصاویر زمین پر ارسال کیں جنہوں نے سائنسدانوں کو چاند کی ساخت اور سطح کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کیں۔یہ کامیابی امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جاری خلائی دوڑ میں ایک اہم پیش رفت تھی۔ انہی معلومات کی بنیاد پر بعد میں اپالو پروگرام کو مزید ترقی دی گئی جس کے نتیجے میں 1969ء میں انسان پہلی مرتبہ چاند پر پہنچا۔وائرلیس ریڈیو پیٹنٹ2 جون 1896ء کو اطالوی موجد مارکونی نے برطانیہ میں وائرلیس ٹیلی گرافی کے اپنے نظام کیلئے پیٹنٹ کی درخواست جمع کروائی۔ یہ واقعہ جدید ریڈیو مواصلات کی تاریخ میں ایک بنیادی سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔اس دور میں مواصلات زیادہ تر تاروں کے ذریعے انجام پاتے تھے، جس کی وجہ سے دور دراز علاقوں اور سمندری راستوں میں رابطہ قائم کرنا مشکل تھا۔ ان کی ایجاد کی بدولت بحری جہازوں اور ساحلی مراکز کے درمیان رابطہ ممکن ہوا۔

انٹارکٹیکا میں خطرے کی گھنٹی، سائنسدانوں کا انتباہ

انٹارکٹیکا میں خطرے کی گھنٹی، سائنسدانوں کا انتباہ

گلوبل وارمنگ کے تباہ کن اثرات سامنے آنے لگےتھویٹس گلیشیئر کے انہدام نے ساحلی علاقوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دیزمین کا جنوبی قطب، جو صدیوں سے برف کے عظیم ذخائر کا محافظ سمجھا جاتا تھا، آج موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے۔ انٹارکٹیکا میں موجود ''تھویٹس گلیشیئر‘‘ جسے دنیا بھر کے ماہرین ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ کے نام سے جانتے ہیں، تیزی سے پگھلنے کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس گلیشیئر کی برفانی تہہ مکمل طور پر ٹوٹ گئی تو دنیا بھر میں سمندری سطح خطرناک حد تک بلند ہو سکتی ہے، جس سے ساحلی شہر، جزائر اور کروڑوں انسان متاثر ہوں گے۔ یہ صورتحال نہ صرف ماحولیاتی بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ انسان کو یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ قدرت کے نظام میں بے احتیاطی کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔انٹارکٹیکا کا ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ مکمل تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے اور سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ رواں سال اپنی پوری برفانی تہہ بھی کھو سکتا ہے۔ تھویٹس گلیشیئر دنیا کے سب سے بڑے گلیشیئرز میں شمار ہوتا ہے اور اس کا رقبہ تقریباً برطانیہ کے برابر ہے۔ اگر یہ مکمل طور پر منہدم ہو گیا تو سمندروں کی سطح میں حیران کن حد تک 26 انچ (65 سینٹی میٹر) اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے دنیا کے ساحلی علاقوں میں تباہی پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اب محققین کا کہنا ہے کہ گلیشیئر کو سہارا دینے والی تیرتی ہوئی برفانی دیوار چند مہینوں میں ٹوٹ کر بکھر سکتی ہے۔تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف برف کی ایک عظیم دیوار ہے جو گلیشیئر کے مشرقی کنارے سے جڑی ہوئی ہے اور برف کے سمندر میں بہاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔یہ حفاظتی برفانی رکاوٹ 1,150 فٹ (350 میٹر) سے زیادہ موٹی ہے اور 580 مربع میل (1,500 مربع کلومیٹر) رقبے پر پھیلی ہوئی ہے، جو تقریباً گریٹر لندن کے برابر بنتا ہے۔ تاہم، انٹارکٹیکا کے گرد سمندروں کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے یہ برفانی قلعہ تیزی سے پتلا ہوتا جا رہا ہے۔ برٹش انٹارکٹک سروے کے بحری جغرافیائی ماہر ڈاکٹر رابرٹ لارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اس برفانی تہہ کا ٹوٹ جانا ''بہت زیادہ امکان ہے کہ اسی سال کسی وقت واقع ہو جائے‘‘۔اگرچہ سائنسدان نہیں سمجھتے کہ تھویٹس گلیشیئر کا مکمل انہدام فوری طور پر ہونے والا ہے، لیکن متعدد مطالعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف تباہی کے دہانے پر ہے۔ لائیو سائنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر لارٹر نے کہا کہ گلیشیئر کے سامنے موجود برفانی تہہ کا آخری حصہ ٹوٹ کر بکھرنے کے قریب ہے۔ ہمیں یہ نہیں معلوم کہ یہ برفانی تہہ کس طرح ٹوٹے گی، لیکن یہ یقینی طور پر ختم ہو جائے گی۔ اس بڑی تبدیلی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گرم پانی برف کے نیچے بہہ کر اسے اندر سے پتلا کر رہا ہے۔ایک حالیہ مہم میں برفانی تہہ میں سوراخ کر کے کیے گئے مطالعے سے معلوم ہوا کہ تھویٹس کے نیچے موجود پانی گرم ہو رہا ہے، جو اس کے پگھلنے کے عمل کو تیز کر رہا ہے اور اس کی ساخت کو کمزور بنا رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ برفانی تہہ میں نئی دراڑیں تیزی سے پیدا ہو رہی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ دراڑیں اب ''گراؤنڈنگ لائن‘‘ کے ساتھ ساتھ بن رہی ہیں، یعنی وہ مقام جہاں تیرتی ہوئی برف نیچے موجود چٹان سے ملتی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ برف کے اندرونی حصوں کی طبعی حالت بدل چکی ہے اور اب یہ تہہ خود کو توڑ رہی ہے کیونکہ برف اس اہم ''پننگ پوائنٹ‘‘ سے ٹکرا رہی ہے۔ڈاکٹر لارٹر کے مطابق اس وقت یہ برفانی تہہ گلیشیئر سے الگ ہو کر ٹوٹ رہی ہے، اور اس کی اندرونی ساخت زیادہ سے زیادہ کمزور اور نازک ہوتی جا رہی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کی ترتیب وار (سیریز) میں آپ واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ دراڑیں اور شگاف مسلسل بڑھ رہے ہیں۔جنوری 2020ء سے جنوری 2026ء کے درمیان محققین نے پایا کہ تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف کی بہاؤ کی رفتار تین گنا بڑھ کر سالانہ 2,000 میٹر سے کچھ زیادہ ہو گئی ہے۔اس سال کے آغاز کے ابتدائی پانچ مہینوں میں یہ برفانی تہہ مزید تیزی سے حرکت کرنے لگی ہے۔صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ ڈاکٹر لارٹر نے نیو سائنٹسٹ کو بتایا کہ برٹش انٹارکٹک سروے نے اس برفانی تہہ کیلئے پہلے ہی ایک ''تعزیتی (obituary) پریس ریلیز‘‘ تیار کر لی ہے۔اگر تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف اسی سال ڈاکٹر لارٹر کی پیشگوئی کے مطابق ٹوٹ جاتا ہے تو بہت سے سائنس دانوں کو خدشہ ہے کہ یہ پورے ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ کی تباہی کے عمل کو مزید تیز کر سکتا ہے۔برفانی تہہ کی سہارا دینے والی مخالف قوت ختم ہونے کے بعد بعض ماہرین کا خیال ہے کہ گلیشیئر سمندر کی طرف اپنی رفتار اور تیزی سے بڑھنا شروع کر دے گا۔آخرکار یہ صورت حال گلیشیئر کے مکمل انہدام تک پہنچ سکتی ہے۔تاہم، چاہے یہ چند دہائیوں میں ہو یا چند صدیوں میں، ڈاکٹر لارٹر کا کہنا ہے کہ تھویٹس گلیشیئر کا ٹوٹنا یقینی ہے۔ اگر ہم 2050ء تک نیٹ زیرو (کاربن اخراج) بھی حاصل کر لیں، تب بھی یہ گلیشیئر ختم ہو جائے گا۔ یہ سمندر کی سطح میں 65 سینٹی میٹر (26 انچ) اضافہ کرے گا اور دنیا کے کئی حصوں کیلئے اس سے نمٹنا انتہائی مشکل ہو گا۔یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے آئس شیٹ ماہر ڈاکٹر ڈینیئل گولڈکہتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر لارٹر سے اتفاق کرتے ہیں کہ تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف اس سال کے دوران تباہی کے دہانے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیٹلائٹ تصاویر میں یہ ایسے لگتا ہے جیسے برف کے بہت سے ٹکڑے ہوں جو محض اکٹھے تیر رہے ہوں۔ تھویٹس کے برفانی شیلف کا ختم ہونا لازمی طور پر اس طرح کی تیز رفتار تباہی کو جنم نہیں دے گا جیسا کہ بعض سائنسدان پیش گوئی کرتے ہیں۔تھویٹس ایسٹرن آئس شیلف کے علاقے میں تو کچھ بڑے تبدیلیاں ضرور ہوں گی، لیکن مجموعی طور پر تھویٹس گلیشیئر پر اس کا اثر کچھ حد تک زیادہ بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا ہے۔اسے ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ کا لقب کیوں دیا گیا؟تھویٹس گلیشیئر جو رقبے میں تقریباً برطانیہ یا امریکی ریاست فلوریڈا کے برابر ہے کو ''ڈومز ڈے گلیشیئر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض مقامات پر اس کی برف کی موٹائی 2ہزار میٹر تک ہے۔ اگر یہ گلیشیئر مکمل طور پر منہدم ہو جائے تو عالمی سطح پر سمندروں کی سطح میں 65 سینٹی میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ اضافہ کئی ساحلی آبادیوں کو پانی میں ڈبو دے گا، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو اپنے گھروں سے ہجرت کر کے محفوظ اندرونی علاقوں کی طرف جانا پڑے گا۔

الاسکا: سیاحوں کیلئے پُر کشش کیوں؟

الاسکا: سیاحوں کیلئے پُر کشش کیوں؟

دنیا بھر میں قدرتی حسن سے مالا مال مقامات سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، لیکن الاسکا اپنی منفرد جغرافیائی خصوصیات، برف پوش پہاڑوں، وسیع گلیشیئرز، دلکش جنگلات اور نایاب جنگلی حیات کی وجہ سے ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ امریکہ کی سب سے بڑی ریاست کہلانے والا الاسکا فطرت کے ایسے حیرت انگیز مناظر پیش کرتا ہے جو دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں سیاح یہاں کی شفاف جھیلوں، برفانی وادیوں،روشنیوں اور مہم جوئی سے بھرپور سرگرمیوں سے لطف اندوز ہونے کیلئے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الاسکا دنیا کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔دنیا بھر سے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد ہر سال الاسکا آ تی ہے۔قومی سیاحتی ایسوسی ایشن کے مطابق دنیا بھر سے الاسکا آنے والوں میں یورپی سیاحوں کی تعداد تسلسل سے سب سے زیادہ (38فیصد) چلی آ رہی ہے۔ تاہم چین، بھارت، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ الاسکا میں واقع آٹھ میں سے کسی ایک نیشنل پارک میں جا کر سیاح کراس کنٹری سکی اِنگ کے ذریعے پہاڑوں اور گلیشیئر کے نظاروں سے لطف اندوز ہو تے ہیں۔ ریاست میں دیگر مقبول سیاحتی سرگرمیوں میں کیاک کشتی رانی، گھومنا پھرنا، گلیشیئراور پہاڑوں پر چڑھائی اور دریا کے تند و تیز پانیوں میں کشتی چلانا شامل ہیں۔ سیاح سمندر میں ہیلی بٹ اور کنگ سالمن قسم کی مچھلیوں کے شکار، الاسکا کے بہت سے دریاؤں، ندیوں اور جھیلوں میں ٹراؤٹ مچھلی پکڑنے کیلئے بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔الاسکا جنگلی حیات کے نظارے کیلئے دنیا کے بہترین مقامات میں سے ایک ہے۔ مثال کے طور پر آرکٹک ساحل کے قریب کونگاکٹ دریا میں اترائی کے رخ کشتی چلانے سے بھورے ریچھوں، کیریبو کہلانے والے برفانی ہرنوں کے ریوڑ اور سنہری عقابوں کو دیکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔ الاسکا کے بیابان علاقوں میں واقع لکڑی کے بنے کسی گھروندے میں ٹھہرنے سے آپ مکمل تنہائی میں جنگلی حیات کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ الاسکا کے پہاڑوں کے درمیان ٹرین کا سفر، پس منظر میں برف سے ڈھکے پہاڑ آپ کو عجب ہی نظارہ دیں گے۔وائٹ پاس اور یوکون کے راستے پر ریل کی پٹری ''سکیگوے‘‘ کی جانب جاتی پہاڑی چوٹیوں کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔ریل کا سفر الاسکا میں اہم ترین سیاحتی سرگرمیوں میں سے ایک ہے جہاں سیاح محفوظ اور آرام دہ طور سے ریل گاڑی میں کھڑکی کے قریب بیٹھ کر مختلف النوع نظاروں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ الاسکا میں ریل کی 756 کلومیٹر طویل پٹری جزیرہ نما کینائی میں سیوارڈ سے لے کر شمال کی جانب اینکریج، ٹلکیٹنا، ڈینالی نیشنل پارک اور فیئربینکس تک جاتی ہے۔الاسکا میں مغربی اینکریج کے علاقے پوائنٹ ورونزوف پر آسمان میں شمالی روشنیاں رقص کناں ہوتی ہیں۔ستمبر کے وسط سے اپریل کے اواخر تک سیاحوں کی بڑی تعداد شمالی روشنیاں دیکھنے الاسکا کا رخ کرتی ہے جو کہ آرکٹک خطوں میں فطری روشنیوں کا قابل دید نظارہ ہوتا ہے۔ صاف راتوں میں خیرہ کن سبز، نیلی، سرخ اور جامنی روشنیاں ستاروں بھرے آسمان پر رقص کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ دراصل یہ قطبی روشنیاں سورج کی تمازت سے برقی طور پر چارج ذرات اور زمینی ماحول میں گیسوں کے ذرات کے مابین ٹکراؤ سے جنم لیتی ہیں۔مارچ میں سیاح، کتا گاڑیوں کی دوڑ دیکھنے یہاں آتے ہیں جس ''‘آڈیٹاراڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ طویل فاصلے کے اس مقابلے میں برفانی کتا گاڑیاں اینکریج سے نومے تک اندازاً 1,688 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہیں ۔

کلید کامیابی

کلید کامیابی

ہم لوگ خوش قسمت ہیں کیونکہ ایک حیرت انگیز دور سے گزر رہے ہیں۔ آج تک انسان کو ترقی کرنے کے اتنے موقعے کبھی میسر نہیں ہوئے، پرانے زمانے میں ہرایک کو ہرہنرخود سیکھنا پڑتا تھا، لیکن آج کل ہر شخص دوسروں کی مدد پر خواہ مخواہ تلا ہوا ہے اوربلاوجہ دوسروں کو شاہراہ ِکامیابی پر گامزن دیکھنا چاہتا ہے۔ اس موضوع پربیشمارکتابیں موجود ہیں۔ اگرآپ کی مالی حالت مخدوش ہے تو فوراً ''لاکھوں کماؤ‘‘ خرید لیجئے۔ اگر مقدمہ بازی میں مشغول ہیں تو ''رہنمائے قانون‘‘ لے آئیے۔ اگر بیمار ہیں تو ''گھر کا طبیب‘‘ پڑھنے سے شفا یقینی ہے۔ اس طرح ''کامیاب زندگی‘‘، ''کامیاب مرغی خانہ‘‘، ''ریڈیو کی کتاب‘‘، ''کلید کامیابی‘‘، ''کلید مویشیاں‘‘ اور دوسری لاتعداد کتابیں بنی نوع انسان کی جو خدمت کر رہی ہیں، اس سے ہم واقف ہیں۔مصنف ان کتابوں سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے ازراہ ِتشکر کلیدِ کامیابی، حصہ دوم، لکھنے کا ارادہ کیا تاکہ وہ چند نکتے جو اس افادی ادب میں پہلے شامل نہ ہو سکے، اب شریک کر لیے جائیں۔عظمت کا رازتاریخ دیکھئے۔ دنیا کے عظیم ترین انسان غمگین رہتے تھے۔ کار لائل کا ہاضمہ خراب رہتا تھا۔ سیزر کو مرگی کے دورے پڑتے تھے۔ روس کا مشہور IVAN نیم پاگل تھا۔ خود کشی کی کوشش کرنا کلائیو کا محبوب مشغلہ تھا۔ کانٹ کو یہ غم لے بیٹھا کہ اس کا قد عظیم ادب مغموم موڈ کی تخلیق ہے اور اکثر جیلوں میں لکھا گیا ہے۔ لہٰذا غمگین ہوئے بغیر کوئی عظیم کام کرنا ناممکن ہے۔ غم ہی عظمت کا راز ہے ''یا غم آسرا تیرا‘‘۔ تو پھر آج ہی سے رنجیدہ رہنا شروع کردیجئے۔ بہت تھوڑے ملک ایسے ہیں، جہاں غمگین ہونے کے اتنے موقعے میسر ہیں، جتنے ہمارے ہاں۔ ابھی چند اشعار پڑھئے، ہماری شاعری ماشاء اللہ حزن و الم سے بھر پور ہے۔ سوچئے کہ زندگی پیاز کی طرح ہے، چھیلتے رہیے اندر سے کچھ بھی برآمد نہیں ہوتا۔ رشتہ داروں اور ان کے طعنوں کو یاد کیجئے۔ پڑوسی عنقریب آپ کے متعلق نئی افواہیں اڑانے والے ہیں۔جن لوگوں نے آپ سے قرض لیا تھا، ایک پائی بھی ادا نہیں کی (ویسے جو قرض آپ نے لیا ہے، وہ بھی ادا نہیں ہوا) زندگی کتنی مختصر ہے؟ مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ شام کی گاڑی سے کوئی پندرہ بیس رشتہ دار بغیر اطلاع دیئے آجائیں گے۔ ان کیلئے بستروں کا انتظام کرنا ہوگا۔ یہ چستی صاحب اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں؟ پچھلے ہفتے قطب الدین صاحب نے کھانے پرسارے شہرکومدعو کیا، سوائے آپ کے وغیرہ وغیرہ۔اب آپ غمگین ہیں۔ آہیں بھریئے۔ ماتھے پر شکنیں پیدا کیجئے۔ ہرایک سے لڑئیے۔ عنقریب آپ اس برتری سے آشنا ہوں گے جو سدا بیزار رہنے والوں کاہی حصہ ہے۔ وہ احساس جو انسان کے نطشے کا فوق الانسان بناتا ہے۔ اب آپ شاید کوئی عظیم کام کرنے والے ہیں۔عظیم کام کرچکنے کے بعد اگرموڈ بدلنا منظور ہو تو فوراً بازار سے 'مسرور ہو‘ مسکراتے رہیے، یا ایسی کوئی کتاب لے کر پڑھیے اور خوش ہو جائیے۔اپنے آپ کو پہچانوحکماء کا اصرار ہے کہ اپنے آپ کو پہچانو۔ لیکن تجربے سے ثابت ہوا کہ اپنے آپ کو کبھی مت پہچانو، ورنہ سخت مایوسی ہوگی۔ بلکہ ہو سکے تو دوسروں کو بھی مت پہچانو۔ایمرسن فرماتے ہیں کہ ''انسان جو کچھ سوچتا ہے، وہی بنتا ہے‘‘کچھ بننا کس قدر آسان ہے، کچھ سوچنا شروع کردواوربن جاؤ۔خواب اورعملاپنے خوابوں کو عملی جامہ پہنائیے۔ یہ جامہ جتناجلد پہنایا گیا، اتنا ہی بہترہوگا۔ ان لوگوں سے بھی مشورہ کیجئے۔ جو اس قسم کے جامے اکثر پہناتے رہتے ہیں۔حافظہ تیزکرنااگر آپ کوباتیں بھول جاتی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا حافظہ کمزور ہے۔ فقط آپ کو باتیں یاد نہیں رہتیں۔ علاج بہت آسان ہے۔آئندہ ساری باتیں یاد رکھنے کی کوشش ہی مت کیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ کچھ باتیں آپ کو ضرور یاد رہ جائیں گے۔بہت سے لوگ باربار کہا کرتے ہیں،ہائے یہ میں نے پہلے کیوں نہیں سوچا؟ اس سے بچنے کی ترکیب یہ ہے کہ ہمیشہ پہلے سے سوچ کر رکھیے اور یا پھر ایسے لوگوں سے دور رہیے، جو ایسے فقرے کہا کرتے ہیں۔ دانشمندوں نے مشاہدہ تیز کرنے کے طریقے بتائے ہیں کہ پہلے پھرتی سے کچھ دیکھئے، پھر فہرست بنا ئیے کہ ابھی آپ نے کیا کیا دیکھا تھا۔ اس طرح حافظے کی ٹریننگ ہوجائے گی اور آپ حافظ بنتے جائیں گے۔ لہٰذا اگر اور کوئی کام نہ ہو تو آپ جیب میں کاغذ اور پنسل رکھیے۔ چیزوں کی فہرست بنائیے اور فہرست کو چیزوں سے ملایا کیجئے۔ بڑی فرحت حاصل ہوگی۔مشہور فلسفی شو پنہارسیر پرجاتے وقت اپنی چھڑی سے درختوں کو چھوا کرتا تھا۔ ایک روز اسے یاد آیا کہ پل کے پاس جو لمبا درخت ہے، اسے نہیں چھوا۔ وہ مردعاقل ایک میل واپس گیا اور جب تک درخت نہ چھو لیا، اسے سکون قلب حاصل نہ ہوا۔شو پنہارکے نقش قدم پر چلیے۔ اس سے آپ کا مشاہدہ اس قدر تیز ہوگا کہ آپ اورسب حیران رہ جائیں گے۔