آشوری، بابلی اور سمیری جنگیں

آشوری، بابلی اور سمیری جنگیں

اسپیشل فیچر

تحریر : پروفیسر مقبول بیگ بدخشانی


آشوری اور بابلی بہت قدیم زمانے سے دجلہ اور فرات کے بالائی اور زیریں علاقوں میں رہتے تھے۔ ان کی حدود کو قطعی طور پر متعین نہیں کیا جا سکتا البتہ قدیم تاریخوں سے یہ پتا چلتا ہے کہ آشوریوں کے مشہور شہر اُور، اُوروک یا ارخ اور نیپ پور تھے اور بابلیوں کے نامی شہر سپار، کیش، بابل اور اکد تھے۔ آخری شہر اکد کی مناسبت سے یہ لوگ بابلی کہلائے پھر ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ آشوری اور بابلی ایک ہی قوم بن گئے۔ آشوری: یہ لوگ اپنے حکمران کو پاتسی کہتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ پاتسی امور شہر کو خدا کی مرضی کے مطابق انجام دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے پاتسی ایک قسم کے مطلق العنان بادشاہ تھے جو امور مملکت اور رسوم مذہبی کو اپنی مرضی کے مطابق تنظیم و ترتیب دیتے تھے۔ ایک آشوری پاتسی نے تین ہزار قبل مسیح میں ایلام پر چڑھائی کی اور اسے فتح کر لیا لیکن کچھ عرصہ بعد ایلام پھر آزاد ہو گیا۔ اکدی اور سلسلۂ سامی: 2800 ق م کے لگ بھگ اکد میں ایک سامی نژاد شخص مانیستتو پاتسی بن گیا۔ اس نے ایلام پر چڑھائی کی اور ایلام کے بادشاہ کو شکست دے کر اسیر کر لیا۔ اس سے ایلام اکدیوں کا باج گزار بن گیا۔ اکد کو روز بروز ترقی حاصل ہوتی گئی۔ سامی سلسلے کے سارگن نامی بادشاہ نے بہت سی فتوحات حاصل کیں اور اپنی سلطنت کو مغرب میں شام تک اور شمال میں کوہ زاگروس تک یعنی موجودہ کرمانشاہان تک وسعت دی۔ اس کا ایک اہم کارنامہ یہ ہے کہ اس کے حکم سے تمام ادب جو مذہب اور قوانین سلطنت سے متعلق تھا، سامی زبان میں منتقل کر دیا گیا۔ سارگن کے بعد بھی اکدیوں کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا، چنانچہ ایک کتبے سے جو ڈی مورگان نے دریافت کیا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ اکدی بادشاہ نرام سین نے بھی بہت سی فتوحات حاصل کیں۔ 2500 ق م میں سومیر کو ازسر نو عروج ہوا۔ اس زمانے میں سامی زبان کی بجائے سومیری زبان نے رواج پایا۔ اس سلسلے کے دوسرے بادشاہ دونگی نے سامیوں سے تیراندازی کا فن سیکھا اور اپنے لشکر کو سکھایا۔ اس سے سمیری لشکر زیادہ تربیت یافتہ ہو گیا۔ دونگی نے آس پاس کے علاقے فتح کیے اور ایلام اور لولوبی (یعنی بغداد اور کرمانشاہان کے درمیانی علاقے) پر قبضہ کر لیا۔ اس سلسلے کے جو آثار دست یاب ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایلام اس زمانے میں کاملاً سومیری کی سلطنت کا جزو بن گیا تھا۔ سمیری سلطنت خاتمہ: 2280 ق م کے لگ بھگ ایلامی بادشاہ ’’کورونان خوندی‘‘ کو اقتدار حاصل ہوا اور اس نے سمیریوں کے شہر اُور کو فتح کر لیا۔ اس کے بعد کچھ اور شہروں کو بھی مسخر کیا اور سمیری سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ ایلامی بادشاہ ارخ کے دیوتا کے مجسمے کو جسے ’’نانا‘‘ یا ’’نہ نہ‘‘ کہتے تھے، ایلام اٹھا لے گیا۔ اس کے بعد تقریباً 60 سال تک سمیر ایلام کی سلطنت کا حصہ بنا رہا، یہاں تک کہ 2239 ق م میں سمیر میں ایک نیا سلسلہ شاہی قائم ہوا، جو سامی الاصل تھا۔ 2115 ق م میں ریم سین بادشاہ ایلام نے اس سلسلے کو بھی ختم کر دیا۔ اس کے بعد سمیریوں کی سلسلے کی حکومت پنپ نہ سکی۔ بالآخر سمیری اور اکد دونوں قومیں بعض دوسری قوموں میں خلط ملط ہو گئیں اور ان کا انفرادی وجود باقی نہ رہا۔ سمیریوں کا تمدن: سمیری تین خداؤں کو مانتے تھے۔ ان کے نزدیک ایک خدا زمین کا تھا، دوسرا آسمان کا اور تیسرا درۂ عمیق کا۔ یہ لوگ جنوں اور بھوتوں کے بھی قائل تھے۔ کاہنوں کو معاشرے میں بہت عمل دخل تھا۔ خداؤں کے ناموں پر انہوں نے معبد بھی بنائے تھے جہاں خزانے بھی رکھے جاتے تھے۔ سمیریوں کا بہت بڑا تاریخی کارنامہ ’’خط میخنی‘‘ کی ایجاد ہے۔ دوسرا کارنامہ سمیریوں کا یہ ہے کہ پہلے پہل انہوں نے ہی سلطنت کے قوانین مرتب کیے جو آگے چل کر حمورابی بادشاہ کے قوانین کا سنگ بنیاد بنے۔ ان کا تیسرا کارنامہ مختلف صنائع اور علوم و فنون کی ابتدا ہے۔ یہی علوم و فنون ایک قوم سے دوسری قوم میں منتقل ہوتے گئے اور کمال کو پہنچے۔ آثار قدیم کے ماہرین کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قدیم یونانیوں نے طب، علم ہیئت اور صنائع میں جو ترقی کی، اس کی بنیاد سمیریوں کے علم و فنون پر ہے۔ اس سلسلے میں مزید تحقیق ہو رہی ہے اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ سمیری تمدن دور دور تک یہاں تک کہ بلوچستان تک آ پہنچا تھا۔ سمیریوں اور اکدیوں کی حکومتوں کا زمانہ 3100 سے 1975ق م تک ہے۔ اس طویل زمانے میں اکد کے چار سلسلے اُوروک کے پانچ اور اُور کے تین سلسلے مشہور ہوئے۔ عروجِ بابل: محققین کے بیان کے مطابق سامی نژاد لوگ غالباً جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر اطراف میں پھیلتے رہے۔ یہ لوگ بہت توانا تھے اور موسم کی سختیوں کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ انہوں نے اپنی اسی صلاحیت سے فائدہ اٹھا کر سمیر، اکد اور آس پاس کے علاقوں پر اپنا تسلط جما لیا۔ یہاں ان لوگوں کے کئی شاہی سلسلے قائم ہوئے۔ ان کے بعد بابل میں اس قوم نے حکومت قائم کی جس نے بابل کو دنیا کی ایک عظیم مملکت بنا دیا اور اس کے اثر و نفوذ سے بابل کو عالم گیر شہرت حاصل ہوئی۔ سلسلۂ اول: حکومت بابل کے پہلے سلسلے میں 15 بادشاہ ہوئے۔ ان بادشاہوں میں حمورابی کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔شہر شوش کی کھدائی سے ایک کتبہ دستیاب ہوا ہے۔ اس کتبے پر حمورابی بادشاہ نے 282 فرامین کندہ کرائے تھے۔ یہ فرامین قانون، مذہب، تجارت، کشتی سازی، عورتوں کے حقوق، غلاموں کے حقوق اور دیگر معاشرتی مسائل سے متعلق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قوانین انسانی اصلاح کے قدیم ترین قوانین ہیں۔ کوہ زاگروس کے گردونواح سے ایک قوم کا سویا کاسی اٹھی جس نے بابل کی زمینوں کو تہ و بالا کیا۔ لارسا میں، جسے حمورابی نے فتح کیا تھا، آشوریوں نے بغاوت کی۔ خلیج فارس کے سواحل سے ایک شخص ایلیما ایلوم نے یلغار کر کے سمیر کا سارا علاقہ اپنے تسلط میں لے لیا۔ اہل آشور نے بھی حکومتِ بابل سے روگردانی کی۔ بالآخر ہتیوں نے حملہ کر کے 1806 ق م میں حکومت بابل کے اس سلسلے کو ختم کر دیا۔ سلسلۂ دوم: ہتیوں نے جو بابل میں حکومت قائم کی تھی اس کے متعلق زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔ البتہ یہ پتا چلتا ہے کہ کاسی قوم، جو ایران کے مغربی علاقوں میں گزربسر کرتی تھی، بابل پر حملہ آور ہوئی اور وہاں سے ہتیوں کو نکالا۔ سلسلۂ سوم: کاسی یا کاسووہ لوگ تھے جو کرمان شاہان کے نزدیک کردستان کے پہاڑوں میں رہتے تھے۔ انہوں نے بابل فتح کر کے کاسیہ سلسلے کی بنیاد رکھی جو 1747 ق م سے 1173 ق م تک قائم رہی۔ اس زمانے میں بابل کی حریف سلطنت آشور برابر ترقی کر رہی تھی، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ آشوریوں نے بابل پر قبضہ کر لیا لیکن یہ قبضہ وقتی تھا۔ بابلی پھر سنبھلے اور آشوریوں کو شکست دے کر بابل سے آشوریوں کا تسلط ختم کر دیا۔ اس زمانے میں بابل اور مصر کی حکومتوں کے تعلقات بڑھے۔ ایلام، بابل کی ایک اور حریف سلطنت تھی۔ ایلام کے نامور بادشاہ، شوتروک ناخون تا، نے بابل پر حملہ کر کے اسے مسخر کر لیا اور اس کے ہاتھوں کاسیوں کا تیسرا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اس فتح کے بعد شوتروک ناخون تا، شہر بابل کی تمام لطیف و نادر اشیا اٹھوا کر شہر شوش میں لے گیا، جو ایلام کا پایہ تخت تھا۔ سلسلۂ چہارم: 1170 ق م میں ایک اور سلسلے کی بنیادی پڑی۔ اس سلسلے کا معروف ترین بادشاہ بخت النصر اول تھا جس نے 1146 سے 1123 ق م تک حکومت کی۔ سلسلۂ پنجم: بابل میں حکومت کا پانچواں سلسلہ ایک شخص سیماش شی پاک نے قائم کیا۔ اس سلسلے کے صرف تین حکمران ہوئے جن کی مدت 1038 تا 1016 ق م قائم رہی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
بچا ہوا کھانا کب تک محفوظ!

بچا ہوا کھانا کب تک محفوظ!

فریج میں رکھی کچھ غذائیں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں، ماہرین کا انتباہبچا ہوا کھانا فریج میں محفوظ کرنا ایک عام معمول ہے، مگر کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ یہ کھانا کتنے عرصے تک محفوظ رہتا ہے؟ ماہرین کے مطابق ہر غذا کی ایک مخصوص مدت ہوتی ہے، جس کے بعد اسے استعمال کرنا صحت کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں ماہرین نے ان غذاؤں کی نشاندہی کی ہے جو بظاہر محفوظ لگتی ہیں لیکن درحقیقت وہ خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ انکشاف اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ خوراک کے معاملے میں معمولی سی لاپرواہی بھی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا احتیاط نہایت ضروری ہے۔ یونیورسٹی آف لیسٹر کی ماہر جراثیمیات ڈاکٹر پرائم روز فریسٹون (Dr Primrose Freestone)نے ایسے بچے ہوئے کھانوں کی نشاندہی کی ہے جنہیں فریج میں رکھنا خطرناک ہے۔ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق ٹھنڈے پیزا کے ساتھ ساتھ فرائیڈ رائس کے بارے میں بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ یہ فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتے ہیں۔فوڈ پوائزننگ اس وقت ہوتی ہے جب ایسا کھانا کھا لیا جائے جو بیماری پیدا کرنے والے بیکٹیریا، فنگس یا وائرس سے آلودہ ہو گیا ہو۔اگرچہ زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ فوڈ پوائزننگ خراب طریقے سے پکا ہوا کھانا یا غیر محفوظ کھانے کی تیاری کی وجہ سے ہو سکتی ہے، لیکن صحیح طریقے سے نہ رکھے گئے بچے ہوئے کھانے (Leftovers) بھی ایک اہم سبب ہیں۔اس لیے بچا ہوا کھانا محفوظ رکھنے میں احتیاط کرنا بہت ضروری ہے تاکہ آپ کی صحت کو نقصان نہ پہنچے۔بچا ہوا پیزااگرچہ تازہ پیزا بے ضرر لگتا ہے، لیکن یہ کئی طریقوں سے فوڈ پوائزننگ کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق وہ خشک جڑی بوٹیاں اور مصالحے جو لوگ عموماً پیزا پر چھڑکتے ہیں، جیسے باسل، کالی مرچ اور اوریگانو، مائیکروبیل وغیرہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔جس کی وجہ انہیں غیر مناسب طریقے سے ذخیرہ کرنا ہے۔ خوراک سے پیدا ہونے والے وہ جراثیم جو ان خشک جڑی بوٹیوں پر زندہ رہ سکتے ہیں، ان میں فوڈ پوائزننگ پیدا کرنے والے بیکٹیریا بھی شامل ہیں۔اگر یہ خشک جڑی بوٹیاں تازہ پیزا کی گرمی سے سٹیرلائز ہو جائیں بھی تو اگر پکانے کے بعد زیادہ دیر کمرے کے درجہ حرارت پر رہیں یا پیزا کے دیگر ٹاپنگز بھی اسی حالت میں رہیں، تو یہ ممکنہ طور پر نقصان دہ جراثیم کیلئے بہترین ماحول فراہم کر سکتی ہیں۔اس لئے بچا ہوا پیزا ڈلیوری کے دو گھنٹوں کے اندر فریج میں رکھنا ضروری ہے۔بچا ہوا چکنپکے ہوئے چکن کے بھی خراب ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں، کیونکہ اس میں پانی اور غذائی اجزاء کی مقدار زیادہ اور تیزابیت کم ہوتی ہے، جو بیکٹیریا کی نشوؤنما کیلئے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق محفوظ رہنے کیلئے ضروری ہے کہ پکا ہوا چکن جتنا جلد ممکن ہو فریج میں رکھ دیں۔کوشش کریں کہ یہ چکن کمرے کے درجہ حرارت پر دو گھنٹے سے زیادہ نہ رہے۔یہ فریج میں تین دن تک محفوظ رہ سکتا ہے۔بچا ہوئے چاولبچے ہوئے چاول کھانے میں فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق چاولوں میں وہ بیکٹیریا پایا جاتا ہے جو نشاستہ کھانوں کو پسند کرتا ہے اور فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتا ہے ۔اگرچہ بیکٹیریا پکانے کی گرمی سے مر جاتے ہیں مگر ان کے تولیدی ذرات (spores) زندہ رہ سکتے ہیں۔اگر چاولوں کو کمرے کے درجہ حرارت پر دو گھنٹے سے زیادہ چھوڑ دیا جائے، تو یہ تولیدی ذرات تیزی سے بیکٹیریا میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔یہ چاولوں میں زہریلے مادے بھی خارج کر سکتے ہیں، جو شدید قے اور اسہال کا سبب بنتے ہیں۔ڈاکٹر فریسٹون کے مطابق پکے ہوئے چاول صرف اسی صورت میں کھائے جا سکتے ہیں،جب انہیں پکانے کے فوراً بعد ٹھنڈا کیا جائے اور جتنا جلدی ممکن ہو فریج میں رکھ دیا جائے۔ بہتر یہی ہے کہ چاول 24 گھنٹوں کے اندر کھا لیے جائیں۔ ڈبہ بند کھانا بچے ہوئے ڈبہ بند کھانے کے معاملے میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ انہیں ڈھانپ کر فریج میں رکھنا ضروری ہے تاکہ ہوا میں موجود جراثیم ان پر اثر انداز نہ ہوں۔ یہ کتنے عرصے تک محفوظ رہیں گے، یہ کھانے کی نوعیت پر منحصر ہے۔زیادہ تیزابی کھانے پانچ سے سات دن تک محفوظ رکھے جا سکتے ہیں کیونکہ اس کی تیزابیت بیکٹیریا کی نشوؤنما کو روکتی ہے۔تاہم، کم تیزابی کھانے، جیسے گوشت، مچھلی، پھل، سبزیاں اور پاستا، صرف تین دن تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ڈاکٹر فریسٹون نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ بچا ہوا کھانا ٹھنڈا کھایا جا سکتا ہے۔ بس یہ یقینی بنائیں کہ پکانے کے فوراً بعد اسے جتنا جلد ممکن ہو فریج میں رکھیں اور ایک یا دو دن کے اندر کھا لیں۔ 

کھیل برائے ترقی اور امن کا عالمی دن

کھیل برائے ترقی اور امن کا عالمی دن

اس سال یہ دن ''کھیل: پل تعمیر کرنا، رکاوٹیں توڑنا‘‘ کے موضوع سے منایا جا رہا ہےکھیل انسانی زندگی کا ایک اہم اور لازمی حصہ ہیں، جو نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتے ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، برداشت اور امن کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے ہر سال 6 اپریل کو دنیا بھر میں ''کھیل برائے ترقی اور امن کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے، جس کا مقصد کھیلوں کو ایک مثبت سماجی تبدیلی کے مؤثر ذریعہ کے طور پر پیش کرنا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کھیل محض تفریح نہیں بلکہ ایک ایسی عالمی زبان ہیں جو رنگ، نسل، مذہب اور سرحدوں کی تفریق کو مٹا کر انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہیں اور ایک پرامن و متحد دنیا کی بنیاد رکھتی ہیں۔کھیلوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ زبان، رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق کو ختم کر دیتے ہیں۔ میدانِ کھیل میں سب برابر ہوتے ہیں اور کامیابی صرف محنت، نظم و ضبط اور ٹیم ورک پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی اصول معاشرے میں بھی اپنائے جائیں تو ایک پرامن اور ترقی یافتہ دنیا کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ تعلیم کے میدان میں بھی کھیلوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ تعلیمی اداروں میں کھیلوں کو نصاب کا حصہ بنانا طلبا کی شخصیت سازی میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ کھیل بچوں میں اعتماد، قیادت، برداشت اور ٹیم ورک جیسے اوصاف پیدا کرتے ہیں۔ یہی اوصاف مستقبل میں انہیں ایک کامیاب شہری بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔کھیل خواتین کے حقوق کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا کے کئی حصوں میں خواتین کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے، لیکن کھیل انہیں خود اعتمادی، شناخت اور مواقع فراہم کرتے ہیں۔ خواتین کھلاڑیوں کی کامیابیاں نہ صرف ان کیلئے بلکہ پوری قوم کیلئے فخر کا باعث بنتی ہیں اور صنفی مساوات کے پیغام کو تقویت دیتی ہیں۔مزید برآں، کھیل نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ جب نوجوان اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں تو وہ جرائم، منشیات اور انتہاپسندی سے بچ سکتے ہیں۔ اس طرح کھیل معاشرے میں امن و استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر کھیل سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیتے ہیں۔ مختلف ممالک کے درمیان ہونے والے کھیلوں کے مقابلے نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہوتے ہیں بلکہ یہ باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کا بھی سبب بنتے ہیں۔ اولمپکس اور دیگر عالمی مقابلے اس کی بہترین مثال ہیں، جہاں مختلف قومیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو کر امن اور دوستی کا پیغام دیتی ہیں۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے کھیلوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہاں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جنہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے کھیلوں کے فروغ کیلئے مؤثر اقدامات کریں، جیسے کھیلوں کے میدانوں کی فراہمی، تربیتی سہولیات اور مقابلوں کا انعقاد، تو نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکتا ہے۔2026ء میں ''کھیل برائے ترقی اور امن‘‘ کے عالمی دن کا مرکزی موضوع ''کھیل: پل تعمیر کرنا، رکاوٹیں توڑنا‘‘ ہوگا، جو اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ کھیل ایک بکھرتی ہوئی دنیا میں تعلق، شمولیت اور امن کو فروغ دینے کی منفرد صلاحیت رکھتے ہیں۔ کھیل ایک عالمی زبان کی حیثیت رکھتے ہیں جو ثقافتی، سماجی اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہو کر لوگوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ یہ سماجی تبدیلی کیلئے ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ کھیل مختلف کمیونٹیز کو سرحدوں اور نسلوں کے پار جوڑتے ہیں، پسماندہ طبقات میں تنہائی کو کم کرتے ہیں، اور مکالمے، یکجہتی اور باہمی احترام کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ 2026ء کا یہ دن اس حقیقت کی توثیق کرے گا کہ کھیل لوگوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور شمولیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں، تاکہ کوئی بھی فرد پیچھے نہ رہ جائے۔کھیل برائے ترقی اور امن کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کھیل صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک طاقتور سماجی آلہ ہیں جو دنیا کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو محض رسمی طور پر نہ منائیں بلکہ اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر اپنائیں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر ہم ایک پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ دنیا چاہتے ہیں تو ہمیں کھیلوں کو فروغ دینا ہوگا۔ کیونکہ کھیل ہی وہ زبان ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے، نفرتوں کو ختم کرتی ہے اور انسانیت کو ایک لڑی میں پرو دیتی ہے۔

مصروف زندگی میں سکون پانے کا ’’گُر‘‘

مصروف زندگی میں سکون پانے کا ’’گُر‘‘

آج کا دور تیز رفتاری، مقابلہ بازی اور مسلسل مصروفیات کا دور ہے۔ انسان صبح سے شام تک کام، ذمہ داریوں اور مختلف فکروں میں الجھا رہتا ہے، جس کے باعث ذہنی دباؤ اور بے چینی عام ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں سکون کا حصول ایک بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مصروف زندگی میں سکون کیسے حاصل کیا جائے؟ کیا واقعی ہم اپنی بھاگ دوڑ کے درمیان ذہنی اطمینان اور قلبی راحت پا سکتے ہیں؟ اس کا جواب ہاں میں ہے، بشرطیکہ ہم اپنی ترجیحات، طرزِ زندگی اور سوچ میں مثبت تبدیلی لائیں۔سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سکون باہر نہیں بلکہ ہمارے اندر موجود ہوتا ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زیادہ پیسہ، بڑی نوکری یا زیادہ سہولیات ہی سکون فراہم کرتی ہیں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سکون ایک داخلی کیفیت ہے جو اطمینان، شکرگزاری اور توازن سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر انسان اپنی موجودہ زندگی پر مطمئن ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرے تو اسے اندرونی سکون حاصل ہو سکتا ہے۔مصروف زندگی میں سکون حاصل کرنے کا ایک مؤثر طریقہ وقت کی بہتر منصوبہ بندی ہے۔ جب انسان اپنے دن کا واضح شیڈول بناتا ہے اور کاموں کو ترجیح کے مطابق ترتیب دیتا ہے تو بے ترتیبی اور ذہنی دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ غیر ضروری مصروفیات سے اجتناب اور اہم کاموں پر توجہ مرکوز کرنا ذہنی سکون میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، آرام کیلئے بھی وقت نکالنا ضروری ہے تاکہ ذہن اور جسم کو تازگی مل سکے۔سکون کے حصول کیلئے جسمانی صحت کا خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ باقاعدہ ورزش، متوازن غذا اور مناسب نیند نہ صرف جسم کو تندرست رکھتے ہیں بلکہ ذہنی سکون میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ جب انسان صحت مند ہوتا ہے تو اس کی سوچ مثبت ہوتی ہے اور وہ زندگی کے مسائل کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکتا ہے۔روحانی پہلو بھی سکون کے حصول میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ عبادات، ذکر و اذکار اور دعا انسان کے دل کو سکون عطا کرتے ہیں۔ جب انسان اپنے رب سے تعلق مضبوط کرتا ہے تو اسے ایک ایسی داخلی طاقت حاصل ہوتی ہے جو ہر مشکل میں اس کا سہارا بنتی ہے۔ قرآنِ کریم میں بھی دلوں کے سکون کا راز اللہ کے ذکر میں بتایا گیا ہے، جو ایک ابدی حقیقت ہے۔مزید برآں، مثبت سوچ اپنانا بھی سکون کیلئے نہایت ضروری ہے۔ منفی خیالات انسان کو پریشانی اور اضطراب میں مبتلا رکھتے ہیں، جبکہ مثبت سوچ انسان کو امید اور حوصلہ دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مسائل کو مواقع کے طور پر دیکھیں اور ہر حال میں بہتری کی امید رکھیں۔سماجی تعلقات بھی انسان کی زندگی میں سکون کا باعث بنتے ہیں۔ اپنے خاندان، دوستوں اور عزیز و اقارب کے ساتھ وقت گزارنا نہ صرف خوشی دیتا ہے بلکہ ذہنی دباؤ کو بھی کم کرتا ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت، ہمدردی اور تعاون انسان کو تنہائی سے نکال کر سکون کی طرف لے جاتے ہیں۔ٹیکنالوجی کے اس دور میں ایک اور اہم مسئلہ مسلسل موبائل اور سوشل میڈیا کا استعمال ہے۔ یہ چیزیں وقتی طور پر تو تفریح فراہم کرتی ہیں، مگر زیادہ استعمال ذہنی تھکن اور بے سکونی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کریں اور حقیقی زندگی کے لمحات سے لطف اندوز ہوں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ مصروف زندگی میں سکون حاصل کرنا کوئی ناممکن کام نہیں، بلکہ یہ ایک شعوری کوشش کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں توازن قائم کریں، اپنی ترجیحات کو درست کریں اور مثبت رویہ اختیار کریں تو ہم نہ صرف سکون حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ایک خوشحال اور کامیاب زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔ سکون دراصل ایک طرزِ فکر کا نام ہے، اور جب یہ طرزِ فکر اپنایا جائے تو زندگی کی تمام مصروفیات کے باوجود دل مطمئن اور خوش رہتا ہے۔

جنون لطیفہ

جنون لطیفہ

بیماری کا ذکر چل نکلا تو اس قوی ہیکل خانساماں کا قصہ بھی سن لیجئے جس کو ہم سب آغا کہا کرتے تھے (آغا اس لیے کہا کرتے تھے کہ وہ سچ مچ آغا تھے)۔ ان کاخیال آتے ہی معدے میں مہتابیاں سی جل اٹھتی ہیں۔ تادم وداع ان کے کھانا پکانے، اور کھلانے کا انداز وہی رہا جو ملازمت سے پہلے ہینگ بیچنے کا ہوتا تھا۔ یعنی ڈرا دھمکا کر اس کی خوبیاں منوا لیتے تھے۔ بالعموم صبح ناشتے کے بعد سو کر اٹھتے تھے۔ کچھ دن ہم نے صبج تڑکے جگانے کی کوشش کی لیکن جب انھوں نے نیند کی آڑ میں ہاتھا پائی کرنے کی کوشش کی تو ہم نے بھی ان کی اصلاح کا خیال ترک کر دیا۔ اس سے قطع نظر، وہ کافی تابعدار تھے۔ تابعدار سے ہماری مراد یہ ہے کہ کبھی وہ پوچھتے کہ ''چائے لاؤں؟‘‘، اور ہم تکلفاً کہتے کہ ''جی چاہے تو لے آو ورنہ نہیں‘‘۔ توکبھی واقعی لے آتے اورکبھی نہیں بھی لاتے تھے۔ جس دن سے انھوں نے باورچی خانہ سنبھالا گھر میں حکیم ڈاکٹروں کی ریل پیل ہونے لگی۔ یوں بھی ان کا پکایا ہوا کھانا دیکھ کر سر (اپنا) پیٹنے کو جی چاہتا تھا۔ ''اپنا‘‘ اس لیے کہ حالانکہ ہم سب ہی ان کے کھانوں سے عاجز تھے، لیکن کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ان کو کیوں کر پرامن طریق سے رخصت کیا جائے۔ ان کو نوکر رکھنا ایسا ہی ثابت ہوا جیسے کہ شیر ببر پر سوار ہو تو جائے لیکن اترنے کی ہمت نہ رکھتا ہو۔ایک دن ہم اسی ادھیڑ بن میں لیٹے ہوئے گرم پانی کی بوتل سے پیٹ سینک رہے تھے اور دوا پی پی کر ان کو کوس رہے تھے کہ سر جھکائے آئے اور خلاف معمول ہاتھ جوڑکر بولے ''خو! صاب! تم روز روز بیماراوتا اے۔ اس سے امارا قبیلہ میں بڑا رسوائی، خو، خانہ خراب اوتا اے‘‘، (صاحب! تم بار باربیمارہوتے ہو۔ اس سے ہمارے قبیلے میں ہماری رسوائی ہوتی ہے اور ہمارا خانہ خراب ہوتاہے۔) اس کے بعد انھوں نے کہاسنا معاف کرایا، اور بغیرتنخواہ لیے چل دیئے۔ایسی ہی ایک اوردعوت کا ذکرہے جس میں چند احباب اورافسران بالا دست مدعوتھے۔ نئے خانساماں نے جوقورمہ پکایا، اس میں شوربے کایہ عالم تھا کہ ناک پکڑکے غوطے لگائیں توشاید کوئی بوٹی ہاتھ آجائے۔ اکا دکا کہیں نظر آبھی جاتی تو کچھ اس طرح کہ،''صاف چھپتی بھی نہیں سامنے آتی بھی نہیں‘‘اوربساغنیمت تھا کیوں کہ مہمان کے منہ میں پہنچنے کے بعد، غالب کے الفاظ میں، یہ کیفیت تھی کہ،''کھینچتاہے جس قدراتنی ہی کھنچتی جائے ہے!‘‘دوران ضیافت احباب نے بکمال سنجیدگی مشورہ دیا کہ ''ریفریجریٹر خریدلو۔ روز روز کی جھک جھک سے نجات مل جائی گی۔ بس ایک دن لذیذ کھانا پکوالو۔ اورہفتے بھرٹھاٹ سے کھائو اورکھلائو۔‘‘قسطوں پرریفریجریٹرخریدنے کے بعد ہمیں واقعی بڑا فرق محسوس ہوا۔ اور وہ فرق یہ ہے کہ پہلے جو بدمزہ کھانا صرف ایک ہی وقت کھاتے تھے، اب اسے ہفتے بھرکھانا پڑتا ہے۔ہم نے اس عذاب مسلسل کی شکایت کی تو وہی احباب تلقین فرمانے لگے کہ،''جب خرچ کیاہے صبربھی کر، اس میں تو یہی کچھ ہوتاہے۔‘‘کل پھرمرزا سے اپنی گوناگوں مشکلات کا ذکرکیا تو کہنے لگے،''یہ الجھنیں آپ نے اپنے چٹورپن سے خواہ مخواہ پیدا کررکھی ہیں۔ ورنہ سادہ غذا اوراعلیٰ خیالات سے یہ مسئلہ کبھی کاخودبخود حل ہوگیا ہوتا۔ یہی آئین قدرت ہے اوریہی آزاد تہذیب کی اساس بھی! آپ نے مولوی اسماعیل میرٹھی کاوہ پاکیزہ شعرنہیں پڑھا؟ملے خشک روٹی جو آزاد رہ کرتووہ خوف وذلت کے حلوے سے بہترعرض کیا، ''مجھے کسی کے آزاد رہنے پر، خواہ شاعرہی کیوں نہ ہو، کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن اس شعرپرمجھے عرصہ سے یہ اعتراض ہے کہ اس میں آزادی سے زیادہ خشک روٹی کی تعریف کی گئی ہے۔ ممکن ہے عمدہ غذا اعلیٰ تہذیب کوجنم نہ دے سکے، لیکن اعلی تہذیب کبھی خراب غذا برداشت نہیں کرسکتی‘‘فرمایا، ''برداشت کی ایک ہی رہی! خراب کھانا کھا کربدمزہ نہ ہونا، یہی شرافت کی دلیل ہے۔‘‘گزارش کی، ''مردانگی تویہ کہ آدمی عرصہ تک عمدہ غذا کھائے اورشرافت کے جامے سے باہرنہ ہو!‘‘مشتعل ہوگئے، ''بجا! لیکن یہ کہاں کی شرافت ہے کہ آدمی اٹھتے بیٹھتے کھانے کا ذکرکرتا رہے۔ برانہ مانئے گا۔ آپ کے بعض مضامین کسی بگڑے ہوئے شاہی رکابدارکی خاندانی بیاض معلوم ہوتے ہیں۔ جبھی توکم پڑھی لکھی عورتیں بڑے شوق سے پڑھتی ہیں۔‘‘ہم نے ٹوکا، ''آپ بھول رہے ہیں کہ فرانس میں کھانا کھانے اورپکانے کا شمارفنون لطیفہ میں ہوتاہے۔‘‘وہ بگڑگئے، ''مگرآپ نیتو اسے جنون لطیفہ کا درجہ دے رکھا ہے۔ اگرآپ واقعی اپنی بے قصورقوم کی اصلاح کے درپے ہیں توکوئی کام کی بات کیجئے اورترقی کی راہیں سجھائیے۔‘‘مزہ لینے کی خاطرچھیڑا، ''ایک دفعہ قوم کواچھا پہننے اورکھانے کا چسکا لگ گیا توترقی کی راہیں خودبخود سوجھ جائیں گی۔ گاندھی جی کاقول ہے کہ جس دیس میں لاکھوں آدمیوں کودو وقت کا کھانا نصیب نہ ہوتا ہو، وہاں بھگوان کی بھی ہمت نہیں ہوتی کہ ان داتا کے سوا کسی اور روپ میں سامنے آسکے۔ بھوکے کے لیے بھوجن ہی بھگوان کا اوتار ہے اور۔۔۔‘‘قطع کلامی کی معافی مانگے بغیربولے، ''مگروہ تو بکری کادودھ اورکھجورکھاتے تھے اورآپ فن غذا شناسی کو فلسفہ خدا شناسی سمجھ بیٹھے ہیں۔ خود آپ کے محبوب یونانی فلسفی جوبھرپورزندگی کے قائل تھے، دماغ سے محسوس کرتے اوردل سے سوچتے تھے۔ مگرآپ تومعدے سے سوچتے ہیں اوردیکھا جائے توآپ آج بھی وہی مشورہ دے رہے ہیں جوملکہ میری انطونیت نے دیاتھا۔ ایک درباری نے جب اس کے گوش گزارکیا کہ روٹی نہ ملنے کے سبب ہزاروں انسان پیرس کی گلیوں میں دم توڑرہے ہیں تواس نے حیرت سے پوچھا کہ یہ احمق کیک کیوں نہیں کھاتے؟‘‘

حکایت سعدیؒ:عیش اور آزادی

حکایت سعدیؒ:عیش اور آزادی

ایک چوہا کسی جنگل میں بھوک کی مصیبت سہتا تھا لیکن آزادی سے رہتا تھا۔ نہ کسی دشمن کا ڈر اور نہ ہی کسی چیز کا خطرہ۔ایک دن کسی قصبے سے چوہے کا ایک مہمان آیا اور جنگل میں دو روز گزارنے کے بعد اس چوہے سے بولا '' تمہاری زندگی قابل افسوس ہے۔ فاقوں مرتے ہو اور روکھی سوکھی کھاتے ہو۔ چلو تم میرے ساتھ میرے گھر، وہاں تمہیں کھانے کو مرغن غذائیں، گھی، دودھ، پستہ، بادام، گری اور اخروٹ وغیرہ کھلاؤں گا‘‘۔جنگل کے چوہے کے منہ میں پانی بھر آیا۔ بڑا خوش ہوا۔ اس کے ساتھ تیاری کرکے اس کے گھر قصبے میں آ گیا۔ ہر طرف عیش و عشرت کا سامان دیکھ کر خوشی سے پاگل ہو گیا۔ اچھی اچھی چیزوں پر ٹوٹ پڑا اور دل میں کہتا جاتا تھا کہ اب کبھی جنگل میں نہ جاؤں گا۔ رات دن یہیں رہوں گا اور مزے اڑاؤں گا۔ ابھی وہ مزے لوٹ ہی رہا تھا کہ ایک بچہ اندر آیا۔ اس نے چوہا دیکھا تو ایک پتھر اٹھا کر مارا۔ اگر جنگلی چوہا بھاگ کر بل میں نہ گھس جاتا تو اس کا کچومر نکل جاتا۔تھوڑی دیر کے انتظار کے بعد جنگلی چوہا گری بادام کے مزے کیلئے دوبارہ باہر نکل آیا۔ بڑی احتیاط سے گری بادام کی طرف سرکنا شروع کیا۔ ابھی اس نے گری پر دانت جمائے ہی تھے کہ دوبارہ دروازہ کھلا اور آنے والے نے پھر پتھر پھینکا۔چوہے کی قسمت اچھی تھی کہ نشانہ چوک جانے سے پھر بچ گیا اور بھاگ کر بل میں چھپ گیا۔ مارے ڈر کے اس کا برا حال ہو رہا تھا۔ اپنے دل میں کہنے لگا کہ لعنت ہے ایسی گری بادام کھانے پر جس میں جان جانے کا ڈر ہو۔ ایسا عیش بیکار ہے جس میں جینا دشوار ہے۔ جنگل میں تو مجھے کچھ خوف نہ تھا۔ روکھی سوکھی ہی سہی لیکن حرام موت مرنے کا کوئی ڈر نہ تھا۔ جو مزا آزادی میں ہے وہ کسی چیز میں نہیں ہے۔ یہ کہہ کر وہ چپکے سے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔آزادی سب سے بڑی نعمت ہے۔ غلامی میں سونے کے نوالے کس کام کے جہاں ہر وقت موت کا ڈر خوف ہو۔

آج کا دن

آج کا دن

غوری میزائل کا تجربہپاکستان نے غوری میزائل کا پہلا تجربہ کیا۔ غوری پہلا بیلسٹک میزائل ہے جو 1800 کلومیڑ تک وار ہیڈلے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ غوری ٹو بھی اسی پروگرام میں شامل ہے جس کی رینج 2ہزار کلومیٹر تک ہے۔اسے دنیا کی بہترین میزائل ٹیکنالوجیز میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا تجربہ پہلی مرتبہ 6 اپریل 1998ء کو ٹلہ جوگیاں کے قریب ملوٹ ضلع جہلم سے کیا گیاتھا۔اولمپکس کا آغاز1896ء میں یونان کے شہر ایتھنز میں پہلے جدید اولمپک کھیلوں کی شاندار افتتاحی تقریب منعقد کی گئی۔ یہ تاریخی موقع اس لیے بھی اہم تھا کہ قدیم اولمپک کھیل تقریباً 1500 سال قبل رومی شہنشاہ کی جانب سے ممنوع قرار دے دیے گئے تھے۔ جدید اولمپکس کے انعقاد نے دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور بین الاقوامی کھیلوں کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ ان کھیلوں کا مقصد نہ صرف جسمانی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا تھا بلکہ مختلف اقوام کے درمیان امن، دوستی اور بھائی چارے کو فروغ دینا بھی تھا، جو آج تک جاری ہے۔جرمنی کیخلاف اعلان جنگ 2 اپریل 1917ء کو صدر ووڈرو ولسن نے امریکی کانگریس کے خصوصی مشترکہ اجلاس سے جرمن سلطنت کے خلاف جنگ کرنے کی درخواست دی۔ کانگریس نے 6 اپریل کو جواب دیا اور اعلان جنگ کا کہا۔ خط کا متن یہ تھا ''جرمنی نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے خلاف بار بار جنگی کارروائیوں کا ارتکاب کیا ہے۔ لہٰذا سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی طرف سے کانگریس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور جرمن حکومت کے درمیان جنگ کی حالت ہے اور رسمی طور پر اس کا اعلان بھی کیا جائے۔قطب شمالی پر قدم6 اپریل 1909ء کو امریکی متلاشی رابرٹ پیئری اوران کے نائب میتھیئو ہنسن نے اپنے دیگر 4 ساتھیوں سمیت شمالی قطب پر پہلی مرتبہ قدم رکھا۔ کچھ واقعات کے متعلق لاپرواہی اور کچھ کے متعلق کم معلوما ت ہونے کی وجہ سے ماہرین قطب شمالی پر قدم رکھنے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کی تصدیق بھی نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس کے متعلق شواہد بہت کم ہیں اس لئے اس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔برصاکی فتح 6 اپریل 1326ء کو دولت عثمانیہ کے دوسرے حکمران اور عثمان غازی کے بڑے بیٹے اورہان غازی نے بازنطینیوں کے زیر قبضہ شہر برصا کو فتح کیا۔ اس سے قبل اس شہر کو ان کے والد عثمان غازی نے فتح کرنے کی کوشش کی تھی مگر بہت سی لڑائیوں اور جنگوں کے باوجود وہ برصا کو فتح کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے ۔اس فتح کو تاریخ دانوں نے دولت عثمانیہ کے عروج کی شروعات بھی لکھا ہے۔نیویارک: غلاموں کی بغاوت1712ء میں نیویارک کے غلاموں کی پہلی بغاوت کا آغاز ہوا۔ یہ بغاوت غلام بنائے گئے افریقی باشندوں کی طرف سے جبری مشقت کیخلاف ایک اہم احتجاج تھی۔ باغیوں نے آزادی کیلئے مسلح جدوجہد کی اور عمارتوں کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ تاہم مقامی حکام نے اس بغاوت کوکچل دیا۔ اس واقعے کے بعد غلاموں پر مزید سخت قوانین نافذ کیے گئے، جنہوں نے ان کی زندگی کو مزیدمشکل بنا دیا۔ یہ بغاوت تاریخ میں آزادی کی جدوجہد کی ایک اہم مثال کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔