بڑے بے مروت ہیں یہ حسن والے ، دیبو بھٹا چاریہ کا سنگیت سب سے منفرد تھا

بڑے بے مروت ہیں یہ حسن  والے ، دیبو بھٹا چاریہ کا سنگیت سب سے منفرد تھا

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


بات موسیقی کی ہو تو پھر اس حقیقت سے انکار ناممکن ہے کہ پنجاب اور بنگال نے سب سے اعلیٰ سنگیت کار پیدا کئے۔ پنجاب کے حوالے سے بابا جی اے چشتی، ظہور الحسن خیام، مدن موہن، ماسٹر عبداللہ، خواجہ خورشید انور، رشید عطرے، وزیر افضل، بخشی وزیر، ماسٹر عنایت حسین، او پی نیئر، روشن اور دیگر کئی شامل ہیں۔ نئے آنے والے موسیقاروں نے بھی اپنے فن کا سکہ جما لیا ہے جہاں تک بنگالی موسیقاروں کا تعلق ہے تو ان میں ایس ڈی برمن، آر ڈی برمن، سلیل چودھری، انیل بسواس، روبن گھوش، بشیر احمد (بی اے دیپ) اور ہیمنت کمار (گلوکار موسیقار) کے نام کوئی نہیں بھول سکتا۔ بنگالی سنگیت کاروں کا ذکر ہوا ہے تو پھر ایک اور نام ذہن میں گونجتا ہے اور وہ ہے دیبو بھٹا چاریہ۔ نوجوان نسل میں شاید یہ نام کسی کو بھی معلوم نہ ہو لیکن پرانی نسل کے وہ لوگ جو موسیقی سے شغف رکھتے ہیں، یقینا اس موسیقار کو جانتے ہوں گے۔
دیبو بھٹا چاریہ نے 60کی دہائی میں خوب نام کمایا۔ انہوں نے جن پہلی چار فلموں کا سنگیت دیا وہ اتنی کامیاب نہ ہو سکیں لیکن انہیں اصل کامیابی فلم ''بنجارن‘‘ سے ملی جو 1962 میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں میڈم نور جہاں کا یہ گانا ''نہ جانے کیسا سفر ہے میرا‘‘ بہت ہٹ ہوا۔ اس فلم میں دیبو نے مسعود رانا سے چار گانے گوائے۔ اگرچہ ان میں سے کوئی گانا ہٹ نہیں ہوا لیکن مسعود رانا کی آواز نے سب کو چونکا کے رکھ دیا۔ 1963 میں دیبو بھٹا چاریہ کی فلم ''شرارت‘‘ ریلیز ہوئی۔ یہ اقبال شہزاد کی فلم تھی اس فلم کے گیت مسرور انور نے تحریر کئے تھے۔ یہ گیت بہت مقبول ہوا تھا۔
اے دل تجھے اب ان سے یہ کیسی شکایت ہے۔ اسی سال مشہور ہدایت کار حسن طارق کی فلم ''قتل کے بعد‘‘ ریلیز ہوئی۔ اس میں انہوں نے مسعود رانا اور احمد رشدی کو یکجا کر دیا۔ ان دونوں نے اس فلم میں یہ گیت گایا ''او جانِ من ذرا رُک جا، یہ ادا نہ ہم کو دکھا‘‘ اس فلم کا ایک اور گیت بڑا مقبول ہوا تھا جو میڈم نور جہاں نے گایا تھا ''مجھے چاند سے ڈر لگتا ہے‘‘۔
1964 میں دیبو کی فلم ''بیٹی‘‘ ریلیز ہوئی۔ انہوں نے پہلی بار کسی اُردو فلم کے لئے تھیم سانگ ریکارڈ کرایا تھا جس کے بول تھے ''ایسے بھی معصوم ہیں اس دنیا میں جانے کتنے‘‘۔ یہ ایک پراثر گیت تھا اور لوگوں میں بہت مقبول ہوا تھا۔ فلم ''بیٹی‘‘ میں دیبو نے نسیم بیگم سے ایک کلاسیکل گیت بھی گوایا تھا۔ چھن چھنا چھن بچھوا والے، کنگناں ڈولے‘‘۔ اس میں مسعود رانا کا الاپ تھا۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ مسعود رانا دیبو بھٹا چاریہ کے پسندیدہ گلوکار تھے کیونکہ وہ ہلکے سروں کے علاوہ اونچے سُروں میں بھی گاتے تھے۔
1965 میں دیبو کی فلم ''آرزو‘‘ ریلیز ہوئی۔ یہ بطور ہیرو حنیف کی پہلی فلم تھی۔ اگرچہ حنیف کی شکل دلیپ کمار سے ملتی تھی لیکن وہ اتنے اچھے اداکار نہ تھے۔ بہرحال یہ فلم کامیاب ہو گئی۔ حنیف کی بطور ہیرو یہ پہلی اور آخری فلم تھی جو کامیاب ہوئی۔ اس فلم میں مسعود رانا نے تین گیت گائے جن میں یہ گیت سپرہٹ ثابت ہوا۔
میں تو سمجھا تھا جدائی تری ممکن ہی نہیں
1966میں دیبو نے فلم ''تقدیر‘‘ کی موسیقی دی۔ اس فلم کا یہ گانا بہت ہٹ ہوا۔
ہم شہرِ وقا کے لوگوں کو تقدیر نے اکثر لوٹا ہے اسی سال دیبو بھٹا چاریہ کی ایک یادگار فلم ریلیز ہوئی جس کا نام تھا ''بدنام‘‘۔ اس کی ہدایات اقبال شہزاد نے دی تھیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ''بدنام‘‘ دیبو کی سب سے بڑی فلم تھی۔ اس فلم کے سبھی گیت مقبول ہوئے تھے۔ اس فلم میں ثریا ملتانیکر نے ایک یادگار گیت گایا ''بڑے بے مروت ہیں یہ حُسن والے۔ کہیں دل لگانے کی کوشش نہ کرنا‘‘۔
اس گیت کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اس کی رائلٹی سے ہی فلم کے تمام اخراجات پورے ہو گئے۔ اس فلم کے ایک اور گیت نے ہر طرف دھوم مچا دی۔ ''ہم بھی مسافر، تم بھی مسافر کون کسی کا ہووے‘‘۔ پہلا گیت مسرور انور نے لکھا جبکہ دوسرا گیت حمایت علی شاعر کے زور قلم کا نتیجہ تھا۔ اس گیت کی تاثریت کو دیبو کی دلکش موسیقی نے یادگار بنا دیا۔ ذیل میں مکمل گیت قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔
یہ دنیا میت رے، راہگزر ہے اور ہم بھی مسافر، تم بھی مسافر
کون کسی کا ہووے
کاہے چپ چپ رواے
کوئی ساتھ دے کہ نہ ساتھ دے 
یہ سفر اکیلے ہی کاٹ لے
کہ ہم بھی مسافر تم بھی مسافر
کون کسی کا ہووے
1967 میں دیبو بھٹا چاریہ کی دو فلمیں ریلیز ہوئیں۔ فلم ''بہادر‘‘ میں ان کا یہ گیت بہت پسند کیا گیا ۔
جان غزل لہرا کے نہ چل ، دلبر میرا دل تڑپا کے نہ چل۔ دوسری فلم تھی۔ ''میرے بچے میری آنکھیں۔ اس کے بھی دو گیت بڑے ہٹ ہوئے۔ 
''یاد کرو ہمدم وہ پیار بھرا موسم، اور ''میرا یار ہے ایسا یاروں میں‘‘۔ 1968 میں دیبونے میں دو فلموں کی موسیقی دی۔ خاص طور پر یہ گیت تو اپنی مثال آپ تھا''اے وطن کی سرزمیں‘‘، تیرہ ہرذرہ حسیں‘‘ ۔ پھر رفیق رضوی کی فلم ''سمندر‘‘ ریلیز ہوئی۔ اگرچہ یہ فلم اوسط درجے کی ثابت ہوئی لیکن اس کے گانے ہٹ ہوئے۔ دوسری بات یہ تھی کہ اس فلم میں شبنم نے پہلی بار مغربی پاکستان کی کسی اُردو فلم میں کام کیا تھا ۔ اس فلم کے ہیرو وحید مراد تھے۔ وحید مراد کو احمد رشدی کی آواز بہت سوٹ کرتی تھی۔ اس لیے دیپو سے کہا گیا کہ وہ اس فلم کے تمام گانے احمد رشدی سے گوائیں۔ احمد رشدی شوخ گانے کمال مہارت سے گاتے تھے اس کے علاوہ وہ دھیمے سروں کے گیت بھی عمدگی سے گا لیتے تھے لیکن دیبو کی رائے یہ تھی کہ احمد رشدی اونچے سروں میں نہیں گا سکتے۔ اس لیے انہوں نے ایک کورس میں مسعود رانا کو شامل کیا۔ یہ کورس بہت پسند کیا گیاجسے نامور شاعر صہبا اختر نے لکھا تھا۔ اس کے بول ملاحظہ فرمائیے۔
''ساتھی تیرا میرا ساتھی ہے لہراتا سمندر‘‘
1969 میں ان کی صرف ایک فلم ریلیز ہوئی جس کا نام تھا ''پیار کی جیت‘‘ یہ فلم بری طرح ناکام ہوئی۔ 1970 میں انہوں نے فلم ''ہنی مون‘‘ میں معاون موسیقار کی حیثیت سے کام کیا ۔ اس کے علاوہ ان کے کریڈٹ پر تین اور بھی فلمیں تھیں جن میں '' جھک گیا آسمان، ٹائیگر گینگ اور دل والے‘‘ شامل ہیں۔ 
مہدی حسن نے دیبو کی موسیقی میں ایک لازوال گیت گایا تھا ۔ یہ فلم تھی ''جلتے ارمان بجھتے دیپ‘‘ ۔ افسوس کہ یہ فلم ریلیز نہ ہو سکی ۔ اس فلم میں مہدی حسن نے یہ گیت گایا '' تنہا تھی اور ہمیشہ سے تنہا ہے زندگی‘‘ ۔ اس گیت کو بھی صہبا اختر نے تحریر کیا تھا۔ فلم تو ریلیز نہ ہوسکی لیکن اس گیت نے بہت شہرت حاصل کی اور اب بھی یہ مہدی حسن کے بہترین فلمی گیتوں میں سے ایک ہے۔ دیبو ہندو تھے ۔ وہ 1956 میں فلم ''انوکھی‘‘ کی موسیقی ترتیب دینے کراچی آئے اور پھر واپس نہ گئے۔ 
1971 میں جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تو وہ واپس ڈھاکہ چلے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا انتقال 90کی دہائی میں ہوا تھا۔ بنگلہ دیش میں انہوں نے کام کیا کہ نہیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔ یہ افواہیں بھی گردش کرتی رہیں کہ وہ بنگالی گلوکارہ فردوسی بیگم سے شادی کے آرزومندتھے اور اس مقصد کے لیے اسلام قبول کرنے پر تیار بھی تھے ۔ بہر حال یہ نہ ہو سکا دیبو کی خدمات یاد گار رہیں گی ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
کنگفوروبوٹس

کنگفوروبوٹس

مصنوعی ذہانت کا نیا شاہکار دنیا تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں مشینیں صرف احکامات پر عمل کرنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ انسانی حرکات و سکنات کی نقل بھی حیران کن مہارت سے کرنے لگی ہیں۔ حال ہی میں چین میں تیار کیے گئے انسانی شکل کے روبوٹس نے کنگفو کے پیچیدہ کرتب دکھا کر ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ روبوٹس نہ صرف ککس اور قلابازیاں لگاتے ہیں بلکہ ننچک جیسے روایتی ہتھیار کے ساتھ مہارت کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔''سی سی ٹی وی اسپرنگ فیسٹیول گالا‘‘ میں درجنوںروبوٹس نے اسٹیج پر اپنے کرتب پیش کیے۔سرخ واسکٹ پہنے کنگفو روبوٹس ککس، قلابازیاں اور حتیٰ کہ ننچک، تلواریں اور چھڑیاں استعمال کرتے ہوئے مہارت کے کرتب دکھاتے رہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ جرات مندانہ مظاہرہ انسانی بچوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔ روبوٹس بنانے والی معروف کمپنی ''یونٹری‘‘ کی جانب سے شو کی شائع کردہ شاندار ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔یوٹیوب پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مداح نے لکھا: پانچ سال قبل یہ سب سائنس فکشن ہوتا۔ ایک اور نے کہا:اگر میں یہ براہِ راست یونٹری روبوٹکس کے چینل سے نہ دیکھ رہا ہوتا، تو کہتا یہ AI ہے۔ چین میں ہونے والے اس گالا میں انسانی خصوصیات کے حامل روبوٹس بنانے والی چار کمپنیوں یونٹری روبوٹکس، گالبوٹ، نوئٹکس اور میجک لیب کے تیار کردہ روبوٹس نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ یونٹری کے درجنوں روبوٹس ''جی ون‘‘(G1)اسٹیج پر آئے، جو یونٹری کے بقول ''مَنکی کنگ کے ہتھیاروں‘‘ سے لیس تھے۔ لڑائی کے مناظر میں تکنیکی طور پر ایک منفرد سیکوئنس بھی شامل تھا، جس میں ''نشے میں مارشل آرٹس‘‘ کے انداز کی ڈگمگاتی حرکتوں اور پیچھے گرنے کے کرتب کی نقل کی گئی۔اس خاص سیکوئنس سے ''یونٹری ‘‘ نے متعدد روبوٹس کی ہم آہنگی اور فالٹ ریکوری کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا یعنی روبوٹ گرنے کے بعد خود اٹھ سکتا ہے۔یونٹری نے اپنے یوٹیوب ویڈیو کی تفصیل میں بتایاکہ درجنوں ''جی ون‘‘ روبوٹس نے دنیا کی پہلی مکمل خودمختار ہیومنائیڈ روبوٹ کنگفو پرفارمنس انجام دی، جس میں تیز حرکات شامل تھیں۔ ان روبوٹس نے کئی عالمی ریکارڈ قائم کیے۔ ''جی ون‘‘ ہیومنائیڈ روبوٹ کا وزن 35 کلوگرام (77 پاؤنڈ)، قد 1.32 میٹر (4.33 فٹ) اور جوڑوں میں 23 ڈگری کی آزادی ہے، جو اسے اوسط انسانی جسم سے زیادہ حرکت پذیر بناتی ہے۔ اپنے سادہ چہرے کے پیچھے، یہ روبوٹ ایک جدید سسٹم چھپا کر رکھتا ہے، جس میں 3D LiDAR سینسر اور ڈیپتھ سینسنگ کیمرا شامل ہیں۔ یہ خصوصیات اسے دنیا کے سب سے جدید کمرشل دستیاب ہیومنائیڈ روبوٹس میں سے ایک بناتی ہیں۔گزشتہ سال کے گالا میں، 16 یونٹری روبوٹس نے ایک نسبتاً سادہ روٹین پیش کی تھی، جس میں وہ رومال گھما رہے تھے اور رقص کر رہے تھے۔ ٹیکنالوجی کنسلٹنسی کمپنی Stieler کے ایشیاء میں منیجنگ ڈائریکٹر اور روبوٹکس و آٹومیشن کے سربراہ جورج اسٹیلر کے مطابق یہ تبدیلی صرف ایک سال میں ہوئی اوراس کے بعد ان روبوٹس کی پرفارمنس میں یہ فرق حیران کن ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ روبوٹس کی متاثر کن موشن کنٹرول یونٹری کے اس مقصد کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ روبوٹ کے ''دماغ‘‘ یعنی AI سے چلنے والا سافٹ ویئر تیار کرنے پر توجہ دے رہا ہے، جو انہیں نفیس حرکی کام انجام دینے کے قابل بناتا ہے اور یہ حقیقی دنیا کی فیکٹری سیٹنگز میں استعمال ہو سکتے ہیں۔گزشتہ سال کی نسبت اس سال کی بہتری کو یوٹیوب پر بھی کئی ناظرین نے نوٹ کیا۔یونٹری کے ہیومنائیڈ روبوٹس پہلے بھی اپنی عجیب و غریب حرکتوں کی وجہ سے وائرل ہو چکے ہیں۔گزشتہ سال، چینی روبوٹکس فرم نے اپنی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرنے کیلئے دنیا کا پہلا ہیومنائیڈ روبوٹ باکسنگ ٹورنامنٹ منعقد کیا تھا۔ ایک وائرل کلپ میں، دو حقیقی سائز کے روبوٹس، جنہوں نے باکسنگ گلوز اور حفاظتی ہیڈ گیئر پہنے ہوئے تھے، رنگ میں ایک دوسرے سے لڑتے ہیں جبکہ ایک انسانی ریفری انہیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اگرچہ لڑتے ہوئے روبوٹس کچھ ککس اور پنچ لگا پائے، لیکن اکثر انہیں اپنا مخالف تلاش کرنے اور اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں دشواری پیش آئی۔یہ مظاہرہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے میدان میں غیر معمولی پیش رفت کی علامت ہے، جو مستقبل میں صنعت، تعلیم اور تفریح سمیت کئی شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی اور اخلاقی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ کیا انسان اور مشین کا یہ قرب مستقبل میں کسی نئے چیلنج کا پیش خیمہ تو نہیں؟

اپنی زبان، اپنی پہچان

اپنی زبان، اپنی پہچان

21 فروری کودنیا بھر میں مادری زبان کا عالمی دن منایا جاتا ہےانسان کی پہلی پہچان اس کی مادری زبان ہوتی ہے۔ یہی وہ زبان ہے جس میں بچہ اپنی ماں کی لوری سنتا ہے، جذبات کا اظہار سیکھتا ہے اور اپنے گردوپیش کی دنیا کو سمجھنے لگتا ہے۔ مادری زبان نہ صرف ابلاغ کا ذریعہ ہے بلکہ تہذیب، تاریخ اور اجتماعی شعور کی امین بھی ہے۔ کسی بھی قوم کی فکری بالیدگی اور ثقافتی استحکام کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنی زبان سے کس قدر وابستگی رکھتی ہے۔عالمی سطح پر21فروری کو یونیسکو (UNESCO) کے تحت عالمی یومِ مادری زبان منایا جاتا ہے، جس کا مقصد لسانی تنوع کا تحفظ اور مقامی زبانوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مادری زبان محض بول چال کا وسیلہ نہیں بلکہ ہماری شناخت، روایت اور فکری آزادی کی بنیاد ہے۔مادری زبان کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کیلئے عالمی ادارہ یونیسکو نے 1999ء میں 21 فروری کو مادری زبان کاعالمی دن قرار دیاتھا،جو پوری دنیا میںمنایا جاتاہے۔ عوام میں مادری زبانوں کی اہمیت اورافادیت کا شعور اُجاگر کرنے کیلئے مختلف تنظیمیں تقریبات کا اہتمام کرتی ہیں،واک اور بینر ڈسپلے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔بہت ساری زبانیںدم توڑ رہی ہیں۔جب تک حکومت، اخبارات، جرائد و رسائل اور خاص کر الیکٹرانک میڈیا مادری زبانوں کے تحفظ کیلئے بھر پور حصہ نہیں لیں گے، اس دن کو منانے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ۔کثیر لسانی تعلیم میں نوجوانوں کی آواز:2026ء کا موضوعحالیہ برسوں میں لسانی منظرنامے میں گہری تبدیلیاں آئی ہیں، جنہیں بڑھتی ہوئی ہجرت، تیز رفتار تکنیکی ترقی اور کثیر لسانیت کے ادراکی، سماجی اور معاشی فوائد کے بڑھتے ہوئے اعتراف نے شکل دی ہے۔ آج کثیر لسانیت کو صرف ایک سماجی حقیقت ہی نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی خصوصیت اور ایک مؤثر تعلیمی طریقہ کار کے طور پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے۔ نوجوان اس ارتقا میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ زبانوں کے تحفظ اور احیا کیلئے آواز بلند کرتے ہیں، ڈیجیٹل مواد تخلیق کرتے ہیں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے لسانی تنوع کو زیادہ نمایاں اور باوقار بناتے ہیں۔ یہ کوششیں زبان، شناخت، تعلیم، فلاح و بہبود اور سماجی شرکت کے درمیان گہرے تعلق کو مضبوط کرتی ہیں اور ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں جو طلبہ کی زبانوں کو تسلیم اور سہارا دے۔اس کے ساتھ ساتھ نمایاں چیلنجز بھی موجود ہیں، کیونکہ دنیا بھر میں اب بھی 40 فیصد طلبہ کو اس زبان میں تعلیم میسر نہیں جسے وہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں، اور اس صورتحال سے مقامی، مہاجر اور اقلیتی نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کیلئے ایسی تعلیمی پالیسیوں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے جو کثیر لسانی تعلیم کو اپنی بنیاد بنائیں، تاکہ شمولیت، مساوات اور مؤثر تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔ ٹھوس اقدامات کو آگے بڑھا کر، کامیاب تجربات کو شیئر کر کے اور نوجوانوں، اساتذہ اور پالیسی سازوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دے کر عالمی اقدامات ایسے مواقع فراہم کرتے ہیں جہاں خیالات کا تبادلہ ہو اور ایسے حل تلاش کیے جائیں جو دنیا بھر کے اسکولوں اور معاشروں میں لسانی تنوع کو مضبوط کریں۔ دنیا میں سب سے زیادہ 860 مادری زبانیں نیوگنی میں بولی جاتی ہیں۔انڈونیشیا میں 742، نائیجیریا میں 516،بھارت میں425،امریکہ 311،آسٹریلیا میں 275 اور چین میں241 زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ دنیا بھر میں تقریباً کل 6912 زبانیں بولی جاتی ہیں۔آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ بولی جانے والی والی زبان چینی ہے ۔دوسرے نمبر پر ( اُردو یا ہندی) ہے۔ تیسرا نمبر انگلش کو حاصل ہے ۔اس کے بعد ہسپانوی ،عربی ،بنگالی زبان وغیرہ کا نمبر آتا ہے ۔پنجابی 11 او ر (صرف) اُردو، بولی جانے والی زبانوں میں 19 ویں نمبر پر ہے ۔مادری زبان کا عالمی دن، جس کا اعلان پہلے یونیسکو نے کیا اور بعد ازاں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسے منظور کیا، شمولیت کے فروغ اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں زبانوں کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ کثیر لسانی تعلیم نہ صرف جامع معاشروں کے قیام میں مدد دیتی ہے بلکہ غیر غالب، اقلیتی اور مقامی زبانوں کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ سب کیلئے مساوی تعلیمی رسائی اور تاحیات سیکھنے کے مواقع کے حصول کی ایک بنیادی ستون ہے۔

رمضان کے پکوان:نیپالی رول

رمضان کے پکوان:نیپالی رول

اجزاء : مرغی 250 گرام (صرف گوشت)، آلو (درمیانہ سائز) ایک عدد، انڈا ایک عدد پیاز (چھوٹی ) ایک عدد، ڈبل روٹی کے سلائس (بڑے ) چھ عدد، کالی مرچ پاؤڈر آدھا ٹی سپون، مکھن ایک ٹیبل سپون، ہرا دھنیا، پو دینہ اور مرچ آدھا کپ، نمک حسب ذائقہ،آئل تلنے کیلئے۔ترکیب: مرغی، انڈے اور آلو ابال لیں۔ گوشت کے باریک ریشے کر لیں۔ انڈے اور آلو کو کچل کر گوشت میں شامل کر دیں۔ چوکور پیاز، ہرا دھنیا اور ہری مرچ و پو دینہ بھی گوشت میں ملا دیں۔ اب اس میں مکھن، کالی مرچ اور نمک شامل کر کے اچھی طرح ملائیں۔ سلائس کو ہلکا گیلا کر کے تھوڑا سا پھیلا لیں۔ بنا ہوا مصالحہ حسب انداز درمیان میں رکھ کر رول کی شکل میں بنا لیں۔ ایک گھنٹہ فریج میں رکھ کر آئل میں فرائی کر یں اور جاذب کاغذ پر رکھیں۔قیمے کے سموسے اجزاء: قیمہ 250 گرام، میدہ 500 گرام، میٹھا سوڈا 2 چٹکی، اناردانہ تھوڑا سا، گھی 90 گرام، ہری مرچ چار عدد، ہرا دھنیا ،نمک حسب ضرورت۔ترکیب:میدے کو گھی میں گوندھیں اور اس میں نمک اور سوڈا ملا دیں اور تھوڑا سا پانی بھی ملائیں مگر میدہ سخت ہونا چاہیے۔ اس کے پیڑے بنا کر بیلن سے بیل کر چھوٹی چھوٹی روٹیاں بنا لیں اور ان کو درمیان سے کاٹ لیں پھر ان کو دوہرا کر کے ان میں قیمہ بھر لیں۔ یہ سموسوں کی شکل کے بن جائیں گے۔ انہیں گھی میں تل لیں اور تناول فرمائیں۔

آج کا دن

آج کا دن

نکسن کا تاریخی دورہ چین1972ء میں امریکہ کے صدر رچرڈ نکسن نے عوامی جمہوریہ چین کا ایک تاریخی دورہ کیا۔ جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا تھا۔ یہ دورہ سرد جنگ کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ اس سے پہلے امریکہ اور چین کے تعلقات کشیدہ اور تقریباً منقطع تھے۔ اس پیش رفت نے عالمی سیاست میں ایک نئی جہت پیدا کی، طاقت کے توازن کو متاثر کیا اور بعد ازاں سفارتی و تجارتی روابط کی بحالی کی راہ ہموار کی۔مصر کی آزادی1922ء میں مصر نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔سولہویں صدی سے بیسویں صدی کے آغاز تک مصر پر بیرونی طاقتوں نے ہی حکمرانی کی۔ پہلے سلطنت عثمانیہ اور اس کے بات برطانیہ نے مصر کو اپنی حکومت کا حصہ بنایا۔ مصر کو برطانیہ سے آزادی ملی لیکن آزادی کے فوراً بعد وہاں بادشاہت قائم ہو گئی اور برطانوی فوج کا غلبہ برقرار رہا۔ 1952ء میں مصر میں انقلاب آیا اور مصر کے لوگوں نے برطانوی فوج اور افسروں کو اپنے ملک سے نکلنے پر مجبور کر دیا اوراس طرح مصر نے مکمل آزادی حاصل کی۔کیوبا:کاروبارحکومتی تحویل میں1960ء میں کیوبا کے صدر فیڈل کاسترونے تمام کاروبار حکومتی تحویل میں لے لیے۔ کاسترو نے تقریباً 50 سال کیوبا پر حکمرانی کی۔ فیڈل کاسترو 1959ء سے 1976ء تک کیوبا کے وزیر اعظم رہے اور 1976ء سے 2008ء تک ملک کے صدر رہے۔ 2006ء میں طبیعت کی خرابی پر سیاست سے دور ہو گئے اور 2008ء میں تمام معاملات اپنے بھائی راوّل کاسترو کے حوالے کر دیئے۔ فیڈل کاسترو کے دور میں کیوبا اور امریکا کے تعلقات بہت کشیدہ رہے۔ کیوباکے تمام کاروبار کو حکومتی تحویل میںلینے پر فیڈل کاسترو پر بھی بہت تنقید ہوئی لیکن انہوں نے اس کو اپنے ملک کا اندرونی معاملہ کہتے ہوئے اسے ملکی مفاد میں قرار دیا۔مسافر جہاز پر اسرائیلی حملہلیبیا عرب ائیر لائنر کی پرواز 114 طرابلس سے قاہرہ کیلئے ایک طے شدہ پرواز تھی جسے 21 فروری 1973ء میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے حملہ کر کے گرا دیا۔ بن غازی سے پرواز بھرنے کے بعد خراب موسم اور آلات کی خرابی کی وجہ سے جہاز اپنے راستے سے بھٹک گیا۔ راستہ بھٹکنے کی وجہ سے یہ اسرائیل کے زیر کنٹرول فضائی حدود میں داخل ہو اجہاں اسرائیلی جہازوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد108تھی۔واشنگٹن یادگار مکمل ہوئی1885ء میں یادگار واشنگٹن کو مکمل کیا گیا۔ 169 اعشاریہ 3 میٹر طویل یہ دنیا کی بلند ترین یادگار ہے۔یہ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں واقع ہے ۔اسے امریکہ کے بانی جارج واشنگٹن کی یاد میں تعمیر کیا گیا۔ اگرچہ واشنگٹن یادگار نیو یارک میں پائی جانے والی عمارتوں کے مقابلے میں چھوٹی سی معلوم ہوتی ہے لیکن قانونی لحاظ سے یہ اب بھی ڈی سی کی سب سے اونچی عمارت ہے۔

رمضان کے مشروب و پکوان

رمضان کے مشروب و پکوان

فروٹ سلاداجزا: سیب: ایک عدد، پپیتا:آدھا، سرخ مرچ: کٹی ہوئی ایک عدد، لیمن جوس: دو کھانے کے چمچ، مونگ پھلی:چوتھائی کپ، کیلا:ایک عدد، کوکونٹ ملک: ایک کپ، تازہ دھنیا :کٹا ہوا ایک چمچ، فش ساس: ایک چمچ، سلاد کے پتے :6عددترکیب:سیب کو آدھا کاٹ لیں اور درمیان سے بیج اور سخت حصہ نکال دیں۔ پھر سیب کے باریک سلائس بنالیں، پپیتا کے باریک ٹکڑے بنالیں۔ کوکونٹ ملک، مرچ، دھنیا،لیمن جوس ، فش ساس اور سیب ایک بائول میں ڈال دیں اور اچھی طرح مکس کرلیں ۔اسے ڈھانپ کر ایک گھنٹہ کیلئے فریج میں رکھ دیں۔ چاروں طرف سلاد کے پتوں سے بارڈر لگادیں۔ملکی لیموئنیڈاجزا: لیمن جوس:آدھی پیالی، سوفٹ ڈرنک :ایک چھوٹی بوتل، دودھ: دو پیالی، چینی: چار کھانے کے چمچ، فریش کریم: آدھی پیالی، کُٹی ہوئی برف: حسب پسند۔ترکیب: دودھ، سوفٹ ڈرنک اور فریش کریم کو علیحدہ علیحدہ پیالوں میں رکھ کر یخ ٹھنڈا کر لیں۔ بلینڈر میں پہلے چینی اور لیمن جوس ڈال کر بلینڈ کر لیں پھر اس میں سوفٹ ڈرنک ڈال کر بلینڈر کو ایک سے دو منٹ چلائیں۔ آخر میں اس میں دودھ ، فریش کریم اور کٹی ہوئی برف ڈال کر بلینڈ کر لیں۔

فون چارجنگ کی عادت بدلیں

فون چارجنگ کی عادت بدلیں

یہ ایک عمل گھروں میں آگ کے خطرات کو کم کر سکتاہےفائر ڈیپارٹمنٹس کے ماہرین موبائل فون چارج کرنے کی ایک عام عادت کو گھروں میں آگ لگنے کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔فائر سیفٹی حکام کے مطابق سب سے خطرناک عادت یہ ہے کہ لوگ موبائل فون کو بستر، تکیے یا کمبل کے نیچے رکھ کر چارج کرتے ہیں یا رات بھر چارجنگ پر لگا چھوڑ دیتے ہیں۔ بظاہر یہ ایک معمولی بات لگتی ہے لیکن یہ عادت حرارت کے غیر معمولی اضافے سے آگ بھڑکنے کا سبب بن سکتی ہے۔حرارت کیوں بڑھتی ہے؟زیادہ تر سمارٹ فونز میں لیتھیم آئن بیٹریاں استعمال ہوتی ہیں۔ یہ بیٹریاں طاقتور اور مؤثر ضرور ہیں مگر ان کی ایک کمزوری یہ ہے کہ زیادہ حرارت برداشت نہیں کر پاتیں۔ جب فون کو بستر یا تکیے پر رکھا جاتا ہے تو ہوا کا گزر رک جاتا ہے نتیجتاً فون اور چارجر کی پیدا کردہ حرارت باہر نہیں نکل پاتی۔اگر یہ درجہ حرارت ایک حد سے بڑھ جائے تو بیٹری میں کیمیائی ردعمل تیز ہو جاتا ہے جسے ماہرین تھرمل رن اوے کہتے ہیں۔ اس مرحلے پر بیٹری پھول سکتی ہے، دھواں نکل سکتا ہے یا شعلہ بھڑک سکتا ہے۔ فائر ڈیپارٹمنٹس بار بار اس عادت سے بچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔رات بھر چارجنگ ، خطرات اکثر لوگ سونے سے پہلے فون کو چارج پر لگا دیتے ہیں اور پوری رات وہ بجلی سے منسلک رہتا ہے۔ اگرچہ جدید فونز میں اوورچارجنگ سے بچاؤ کے کچھ نظام موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود چارجر، کیبل یا ساکٹ میں خرابی ہو تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ غیر معیاری چارجرز اس حوالے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ ان میں حفاظتی سرکٹس کمزور ہوتے ہیں جس کے باعث شارٹ سرکٹ یا اوور ہیٹنگ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ فائر حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے متعدد واقعات میں غیر معیاری چارجر یا خراب کیبل بنیادی وجہ بنے۔ بستر، صوفہ یا قالین جیسی سطح نہ صرف حرارت کو جذب کرتی ہیں بلکہ خود بھی آتش گیر مواد سے بنی ہوتی ہیں۔ اگر فون یا چارجر میں چنگاری پیدا ہو تو یہ نرم سطح فوراً آگ پکڑ سکتی ہے۔ اگر فون کو کسی سخت سطح جیسے لکڑی کی میز یا ماربل پر رکھا جائے تو حرارت نسبتاً کم جمع ہوتی ہے اور اوورہیٹنگ کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔بچوں کے لیے اضافی خطرہآج کل بچے اور نوجوان موبائل فون کو تکیے کے نیچے رکھ کر ویڈیوز دیکھتے دیکھتے سو جاتے ہیں۔ اس دوران فون چارجنگ پر بھی لگا ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف آگ کے خطرے کو بڑھاتی ہے بلکہ زیادہ حرارت کی وجہ سے جلد یا آنکھوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ماہرین والدین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچوں کو محفوظ چارجنگ عادات سکھائیں اور سونے کے کمرے میں چارجنگ کے بجائے کسی کھلی اور محفوظ جگہ کا انتخاب کریں۔محفوظ چارجنگ کے اصولفائر سیفٹی ماہرین نے چند بنیادی احتیاطی تدابیر تجویز کی ہیں:1 ۔موبائل فون کو ہمیشہ سخت، ہموار اور غیر آتش گیر سطح پر چارج کریں۔2۔ بستر، تکیے، کمبل یا صوفے پر چارجنگ سے گریز کریں۔3 ۔ممکن ہو تو فون کو رات بھر چارجنگ پر نہ چھوڑیں۔4 ۔صرف اصل یا مستند برانڈ کے چارجر اور کیبل استعمال کریں۔5 ۔اگر کیبل کٹی ہوئی، جلی ہوئی یا ڈھیلی ہو تو فوراً تبدیل کریں۔6 ۔اگر فون غیر معمولی حد تک گرم ہو جائے یا بیٹری پھول جائے تو فوری طور پر استعمال بند کر دیں۔سموک الارم کی اہمیتفائر ڈیپارٹمنٹس کا یہ بھی کہنا ہے کہ گھروں میں سموک الارم کا فعال ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اگر خدانخواستہ چارجنگ کے دوران آگ لگ جائے تو سموک الارم ابتدائی مرحلے میں خبردار کر سکتا ہے جس سے جانی و مالی نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کے تناظر میںپاکستان میں بجلی کے اتار چڑھاؤ، غیر معیاری ایکسٹینشن بورڈز اور سستے چارجرز کے استعمال کی وجہ سے یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ خصوصاً گرمیوں کے موسم میں جب درجہ حرارت پہلے ہی زیادہ ہو موبائل فون اور چارجر مزید گرم ہو سکتے ہیں۔ اس لیے صارفین کو اضافی احتیاط کی ضرورت ہے۔موبائل فون ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے مگر اس سہولت کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔ چند احتیاطی تدابیر نہ صرف آپ کے گھر کو کسی بڑے نقصان سے محفوظ رکھ سکتی ہیں بلکہ آپ اور آپ کے اہل خانہ کی جان بھی بچا سکتی ہیں۔