صرف نام ہی نہیں، کام بھی ایک جیسا مقبولیت کے جھنڈے گاڑھنے والے پاکستان و بھارت کے ہم نام فنکار

صرف نام ہی نہیں، کام بھی ایک جیسا مقبولیت کے جھنڈے گاڑھنے والے پاکستان و بھارت کے ہم نام فنکار

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفرؔ


ہندوستان اور پاکستان کی فلمی صنعت میں کچھ فنکار ایسے بھی تھے جو ہم نام ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے اداکار بھی تھے۔ ویسے ایک مثال اداکارائوں کی بھی ہے جو ہم نام تھیں اور جنہوں نے اپنے اپنے ملک میں بہت مقبولیت حاصل کی۔
ہم نام اداکار تھے رحمان، ایک بھارتی رحمان اور دوسرے پاکستانی رحمان۔ بھارتی اداکار رحمان کے بارے میں سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ ان کے ایک سگے بھائی مسعود الرحمان پاکستان فلمی صنعت کے نامور کیمرہ مین تھے، اداکار فیصل رحمان ان ہی کے بیٹے ہیں۔ اس رشتے سے بھارتی اداکار رحمان پاکستانی اداکار فیصل رحمان کے سگے چچا تھے۔ بہت سے لوگ ماضی کی معروف بھارتی اداکارہ وحیدہ رحمان کو بھی رحمان خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں حالانکہ وحیدہ رحمان کا اداکار رحمان سے کوئی تعلق نہیں صرف لفظ رحمان کی وجہ سے کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ شاید یہ آپس میں رشتے دار تھے۔ بھارتی اداکار رحمان اس بات پر بہت نازاں تھے کہ ان کا بھائی اور بھتیجا پاکستانی فلمی صنعت میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔80ء کی دہائی میں وہ جب پاکستان آئے تو انہوں نے کئی پاکستانی فلمیں بھی دیکھیں اور دل کھول کر تعریف کی۔
بھارتی اداکار رحمان نے ہیرو کی حیثیت سے بھی کام کیا اور وہ ولن کے طور پر جلوہ گر ہوئے۔ پھر انہوں نے کریکٹر ایکٹر کی حیثیت سے اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ وہ ہر روپ میں فلم بینوں کی توقعات پر پورا اترے۔
رحمان نے ہیرو کی حیثیت سے کئی فلموں میں کام کیا۔ ان کی مشہور فلموں میں ''صاحب بی بی اور غلام، پیاسا، وقت، مجبور، آپ کی قسم، آندھی، دل دیا درد لیا‘‘ اور دیگر کئی فلمیں شامل ہیں۔ وہ جتنے خوش شکل تھے اتنے ہی اچھے اداکار تھے۔ ان کی کھنک دار آواز فلم بینوں کو فوری طور پر اپنی طرف متوجہ کر لیتی تھی۔ شیخ مختار کی فلم ''نور جہاں‘‘ میں انہوں نے شہنشاہ اکبر کا کردار ادا کیا۔ وہ 1990ء میں اس جہان رنگ و بو سے رخصت ہو گئے۔ بھارتی فلمی صنعت میں ہمیشہ ان کا احترام کیا جاتا رہا۔ ذاتی زندگی میں وہ ایک ملنسار اور وضع دار مخلص انسان تھے۔ انہیں شاعری سے بھی شغف تھا مطالعے کے بہت شوقین تھے۔ ان کے بارے میں ایک دفعہ مجروح سلطانپوری نے کہا تھا کہ رحمان وسیع القلب، وسیع النظر اور وسیع المطالعہ تھے۔ ذرا اندازا لگایئے کہ ایک شخصیت بیک وقت اتنی صفات کی حامل بھی ہو سکتی ہے؟۔
اب ذرا پاکستانی اداکار رحمان کی بھی بات ہو جائے۔ ان کا تعلق بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے تھا۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بنگالی فلموں کے علاوہ اردو فلموں میں بھی کام کرتے تھے۔ صرف اداکاری نہیں بلکہ انہوں نے فلمسازی بھی کی۔ ان کی مشہور فلموں میں ''تلاش‘‘، ''درشن‘‘، ''چندا‘‘، ''چاہت‘‘،'' دوستی‘‘ اور ''نادان‘‘ شامل ہیں۔ وہ اپنی فطری اداکاری کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ اداکارہ شبنم کے ساتھ ان کی جوڑی کو بہت پسند کیا جاتا تھا اور ان دونوں کی فلمیں باکس آفس پر بہت کامیاب ہوئیں۔ بدقسمتی سے ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران رحمان ایک حادثے کا شکار ہو گئے جس کے نتیجے میں وہ اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہو گئے لیکن انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور مصنوعی ٹانگ لگوا لی جس کے بعد انہوں نے اپنا فلمی سفر جاری رکھا۔
1971ء میں جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تو شبنم کی طرح رحمان نے بھی پاکستان میں قیام کو ترجیح دی۔ مشرقی پاکستان کے ایک گلو کار بشیر احمد کی آواز ان پربہت جچتی تھی۔ بشیر احمد بہت خوبصورت آواز کے مالک تھے اور انہوں نے روبن گھوش کی موسیقی میں کئی شاندار فلمی گیت گائے۔
پاکستان میں رحمان نے دو فلمیں بنائیں۔ ایک تھی ''چاہت‘‘ اور دوسری تھی'' دو ساتھی‘‘۔ دونوں فلموں کی موسیقی روبن گھوش کی تھی اور ان فلموں کے نغمات نے پورے ملک میں دھوم مچا دی تھی۔1974ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''چاہت‘‘ میں مہدی حسن کا گایا ہوا یہ گانا‘‘ پیار بھرے دو شرمیلے نین‘‘ خان صاحب کے معرکہ آرا گیتوں میں سے ایک ہے۔ اسی طرح ''دو ساتھی‘‘ میں غلام عباس کا گیت'' ایسے وہ شرمائے‘‘ بھی اپنی مثال آپ ہے۔
رحمان بڑی صاف ستھری فلمیں بناتے تھے اور ان کا شعور موسیقی بھی انتہائی قابل تحسین تھا۔ روبن گھوش ان کے بارے میں اکثر کہا کرتے کہ یہ شخص موسیقی کے اسرار و رموز کو سمجھتا ہے۔
رحمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ذاتی زندگی میں وہ عاجزی اور انکساری کا مجسمہ تھے۔ انتہائی دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والے رحمان نے کسی سے ناراض ہونا سیکھا ہی نہیں تھا۔
وہ پاکستان میں اپنی تیسری فلم ''تین کبوتر‘‘ بنا رہے تھے لیکن چند نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ فلم مکمل نہ ہو سکی۔ اس سے وہ بہت مایوس ہوئے۔ غالباً 1980ء میں وہ بنگلہ دیش چلے گئے، چند برس پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔
ہم نام ہونے کا شرف ہندوستانی اداکارہ ممتاز اور پاکستانی ممتاز کو بھی حاصل ہے۔ دونوں اداکارائوں میں صرف نام کی مماثلت ہی نہیں بلکہ کچھ اور خوبیاں بھی ایک جیسی تھیں۔ دونوں کمال کی ڈانسرز تھیں انہوں نے شوخ اداکاری کی وجہ سے بہت مقبولیت حاصل کی۔ دونوں کو گانا پکچرائز کرانے میں بھی ملکہ حاصل تھا۔ اگر بھارتی ممتاز روک اینڈ رول پر یہ گانا پکچرائز کراتی ہے '' آجکل تیرے میرے پیار کے چرچے ہر زبان پر‘‘ تو پاکستانی اداکارہ ممتاز بھی ''تت ترو ترو تارا تارا‘‘ جیسا مسحور کن گیت انتہائی خوبصورت انداز میں پکچرائز کرا کے فلم بینوں سے بے پناہ داد وصول کرتی ہے۔بھارتی اداکارہ ممتاز کی مشہور فلموں میں ''دو راستے، آپ کی قسم، برہم چاری، رام اور شیام‘‘ اور ''میلہ‘‘ شامل ہیں۔
پاکستانی اداکارہ ممتاز نے بھی کئی فلموں میں اپنی اداکاری اور رقص کے ذریعے فلم بینوں کو متاثر کیا۔ ان کی قابل ذکر فلموں میں ''انتظار، شرارت، ان داتا، محبت زندگی ہے، نوکر ووہٹی دا، شریف بدمعاش‘‘ اور دیگر فلمیں شامل ہیں۔ یہ ہم نام فنکار تھے اور ان سب نے ناکامی کے کانٹے نہیں بلکہ کامیابی کے پھول سمیٹے۔ یہ سب ہندوستان اور پاکستان کی فلمی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اورروزنامہ ''دنیا‘‘
سے طویل عرصہ سے وابستہ ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
گندم کی کٹائی اور گہائی

گندم کی کٹائی اور گہائی

محنت،ثقافت اور خوشیوں کی روایتاپریل ، مئی ہمارے ملک کے میدانی علاقوں میں گندم کی کٹائی کا موسم ہے۔ برصغیر کے دیہی معاشرے میں گندم کی فصل صرف ایک زرعی پیداوار نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے تو گاؤں کے کھیتوں میں سنہری بالیوں کا منظر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے زمین نے سونے کا لباس پہن لیا ہو۔ اس خوبصورت منظر کے بعد شروع ہوتا ہے گندم کی کٹائی اور پھر گہائی کا مرحلہ، جو محض ایک زرعی عمل نہیں بلکہ ایک اجتماعی تہوار کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔پہلے زمانے میں ہر جگہ مگر آج بھی کہیں کہیں گندم کی کٹائی ہاتھوں سے درانتی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ مرد، عورتیں اور بعض اوقات بچے بھی اس عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ فصل کو کاٹ کر گٹھوں (پولوں) کی شکل میں باندھ لیا جاتا ہے اور پھر انہیں کھیت کے کسی صاف اور ہموار حصے میں جمع کیا جاتا جسے '' کھلیان ‘‘کہا جاتا تھا۔ یہی کھلیان بعد میں گندم کی گہائی کا مرکز بنتے ہیں۔ گندم کی گہائی کا عمل نہایت محنت طلب کام ہے۔ آج کے جدید تھریشر یا کمبائن ہارویسٹر مشینوں کی جگہ ماضی میں بیلوں یا اونٹوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ گندم کے گٹھوں کو ایک ڈھیری کی شکل میں ایک جگہ اکٹھا کیا جاتا۔پھر اسے زمین پر بچھا کر اس کے اوپر جانوروں کو چکر لگوائے جاتے تھے۔ بعض کسان بیلوں کے پیچھے اس گندم کی ڈھیری میں سے بڑے بڑے پھلے بنا کر باندھتے۔ پورا دن جانور ایک دائرے میں گھومتے رہتے۔ جس کے نتیجے میں گندم کی بالیوں سے دانے الگ ہو جاتے۔ گہائی کے دوران کسان بڑی محنت اور صبر سے کام لیتے۔ صبح سویرے سورج نکلنے سے پہلے ہی کام شروع ہو جاتا۔ وہ مسلسل ایک ہی جگہ پر گندم کو روندتے رہتے۔ اس روندی ہوئی فصل کو لکڑی سے بنے ہوئے اوزاروں سے الٹ پلٹ بھی کرتے رہتے۔ گندم کے تنکوں اور دانوں سے بھوسہ الگ کیاجاتا۔جب دانے مکمل طور پر الگ ہو جاتے تو انہیں ایک جگہ جمع کر کے ڈھیری بنائی جاتی۔گندم کی یہ ڈھیری نہ صرف کسان کی محنت کا ثمر ہوتی بلکہ اس کے سال بھر کے رزق کی علامت بھی سمجھی جاتی۔ جب گندم کی ڈھیری تیار ہو جاتی تو اس کے بعد آتا تولائی کا مرحلہ۔ پرانے زمانے میں ترازو اور باٹ کے ذریعے گندم تولی جاتی تھی۔ اس موقع پر گاؤں کے بچے بھی بڑی دلچسپی سے کھلیان میں آ جاتے۔ایک خوبصورت روایت یہ تھی کہ جب گندم تولی جاتی تو بچوں کو خوشی کے طور پر دانے دیے جاتے۔ بچے اپنے چھوٹے چھوٹے دامن میں گندم کے دانے لے کر خوشی سے جھوم اٹھتے۔ بعض جگہوں پر بچوں کو چنگیر بھر کر گندم دی جاتی جو اُن کے لیے کسی انعام سے کم نہ ہوتی تھی۔یہ روایت نہ صرف بچوں کی خوشی کا باعث بنتی بلکہ انہیں محنت اور رزق کی قدر بھی سکھاتی تھی۔ وہ دیکھتے کہ یہ دانے کتنی محنت کے بعد حاصل ہوئے ہیں۔ اس لیے ان کے دل میں کسانوں کے لیے احترام پیدا ہوتا۔ سال بھر کسان کا کام کرنے والے بھی کھلیان میں پہنچ جاتے اور سال بھر کی محنت کا عوضانہ وصول کرتے۔گندم کی گہائی کے دن سے گاؤں میں ایک خاص رونق ہوتی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کی مدد کے لیے آتے، کھانا اکٹھے کھایا جاتا۔یہ محنت صرف جسمانی نہیں بلکہ ایک روحانی اور سماجی تجربہ بھی تھی۔ اس میں تعاون، بھائی چارہ اور سادگی کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ ہر شخص دوسرے کے کام میں ہاتھ بٹاتا اور کسی کو اکیلا نہیں چھوڑتا۔ اج کے جدید دور میں مشینوں نے ان تمام روایتی طریقوں کی جگہ لے لی ہے۔ تھریشر، کمبائن ہارویسٹر اور دیگر زرعی آلات نے کام کو آسان اور تیز بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ثقافتی رنگ بھی ماند پڑ گئے ہیں جو کبھی گندم کی گہائی کا حصہ تھے۔ اب نہ وہ کھلیان کی رونق رہی، نہ بیلوں کی گھنٹیوں کی آواز اور نہ ہی بچوں کو دانے دینے کی وہ سادہ مگر خوبصورت روایت۔ سب کچھ مشینی اور تیز رفتار ہو گیا ہے۔ گندم کی گہائی ایک مکمل ثقافتی عمل تھا جس میں محنت، خوشی، تعاون اور روایات کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔ یہ صرف دانے نکالنے کا عمل نہیں بلکہ ایک ایسی یادگار روایت تھی جو لوگوں کو آپس میں جوڑتی تھی۔ اگرچہ وقت کے ساتھ طریقے بدل گئے ہیں لیکن ان روایات کی یادیں آج بھی دیہی سماج کے حسن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان روایات کو یاد رکھیں اور اپنی نئی نسل کو ان سے روشناس کرائیں تاکہ وہ جان سکیں کہ ان کے آباؤ اجداد نے کس محنت اور محبت سے یہ زمین آباد کی تھی۔

دماغی صحت کے لیے کتنی نیند ضروری ہے؟

دماغی صحت کے لیے کتنی نیند ضروری ہے؟

سائنسی تحقیق کی روشنی میں ایک جائزہنیند انسانی زندگی کی ایک بنیادی اور لازمی ضرورت ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی توانائی کو بحال کرتی ہے بلکہ دماغی صحت کے لیے بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے اس پہ روشنی ڈالی ہے کہ نیند کا دورانیہ براہِ راست دماغی بیماریوں، خصوصاً ڈیمنشیا کے خطرے سے جڑا ہوا ہے۔ اس مضمون میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ مناسب نیند کس طرح ہماری دماغی صحت کو بہتر بنا سکتی ہے۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈیمنشیا کیا ہے۔ ڈیمنشیا ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان کی یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور روزمرہ کے کام انجام دینے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ یہ عموماً عمر کے ساتھ بڑھتا ہے لیکن طرزِ زندگی کے کئی عوامل اس کے خطرے کو کم یا زیادہ کر سکتے ہیں۔ انہی عوامل میں سے ایک اہم عنصر نیند ہے۔یارک یونیورسٹی کینیڈا کے ماہرین کی ایک ٹیم کی ایک حالیہ تحقیق میں تقریباً 69 مختلف مطالعات کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں لاکھوں افراد کے نیند کے معمولات اور دماغی صحت کا تجزیہ کیا گیا، اس جامع تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند دماغی صحت کے لیے سب سے زیادہ مفید ہے۔ یہ وہ درمیانی حد ہے جہاں انسان کا دماغ بہترین طریقے سے کام کرتا ہے اور بیماریوں کا خطرہ کم رہتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس حد سے کم یا زیادہ سوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ 7 گھنٹے سے کم سوتے ہیں ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 18 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیند کی کمی دماغ کو مکمل آرام نہیں دیتی جس کے نتیجے میں دماغی خلیات صحیح طریقے سے کام نہیں کر پاتے۔ نیند کے دوران دماغ خود کو صاف کرتا ہے اور نقصان دہ مادوں کو خارج کرتا ہے، لیکن کم نیند اس عمل کو متاثر کرتی ہے۔دوسری طرف اگر کوئی شخص 8 گھنٹے سے زیادہ سوتا ہے تو بھی مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق زیادہ نیند لینے والوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً 28 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ یہ سن کر حیرت ہوتی ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ نیند لینا اکثر کسی پوشیدہ بیماری یا کمزور صحت کی علامت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زیادہ سونا جسمانی سرگرمی میں کمی کا باعث بنتا ہے جو دماغی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ صرف نیند ہی کافی نہیں بلکہ دیگر طرزِ زندگی کے عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص روزانہ 8 گھنٹے سے زیادہ بیٹھا رہتا ہے (جیسے دفتر میں کام کرنے والے افراد) تو اس میں بھی ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر ہفتے میں 150 منٹ سے کم جسمانی سرگرمی بھی دماغی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔اس تحقیق سے ایک اہم پیغام یہ ملتا ہے کہ متوازن طرزِ زندگی اپنانا بے حد ضروری ہے۔ نیند، جسمانی سرگرمی اور روزمرہ کی عادات ،یہ سب مل کر ہماری دماغی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر ہم صرف نیند پر توجہ دیں اور باقی عوامل کو نظر انداز کریں تو ہم مکمل فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔مزید یہ کہ نیند کا معیار بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اس کا دورانیہ۔ اگر کوئی شخص 7 سے 8 گھنٹے بستر پر تو گزارتا ہے لیکن اس کی نیند بار بار ٹوٹتی ہے یا وہ بے سکون رہتا ہے تو اس کا فائدہ کم ہو جاتا ہے۔ اچھی نیند کے لیے ضروری ہے کہ سونے کا ماحول پرسکون ہو، روشنی کم ہو اور سونے سے پہلے موبائل یا سکرین کا استعمال محدود کیا جائے۔ ماہرین یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ ایک مستقل نیند کا شیڈول اپنایا جائے یعنی روزانہ ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا۔ اس سے جسم کا اندرونی نظام درست رہتا ہے اور نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ دماغی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے نیند ایک سادہ مگر مؤثر ذریعہ ہے۔ روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی معیاری نیند، مناسب جسمانی سرگرمی اور متوازن طرزِ زندگی اپنانے سے نہ صرف ڈیمنشیا بلکہ دیگر کئی بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔یہ تحقیق ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ہمیں بڑے اور پیچیدہ اقدامات کی ضرورت نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی عادات میں بہتری لا کر ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ نیند کو نظر انداز کرنا ایک بڑی غلطی ہو سکتی ہے اس لیے اسے اپنی روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنائیں اور اپنی دماغی صحت کا خیال رکھیں۔

آج کا دن

آج کا دن

مسولینی کی موت 28 اپریل 1945 کو بینیٹو مسولینی کو اطالوی مزاحمتی جنگجوؤں نے قتل کر دیا۔ مسولینی اٹلی کا فاشسٹ حکمران تھا جس نے 1922 سے ملک پر آمریت قائم کر رکھی تھی۔ وہ ہٹلر کا قریبی اتحادی تھا اور دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کے ساتھ شامل رہا۔جنگ کے آخری دنوں میں جب اتحادی افواج تیزی سے آگے بڑھ رہی تھیں تو مسولینی نے سوئٹزرلینڈ فرار ہونے کی کوشش کی تاہم راستے میں اطالوی پارٹیزنز نے اسے گرفتار کر لیا۔ 28 اپریل کو اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مسولینی کا خاتمہ فاشزم کے خاتمے کی علامت بن گیا۔ورکرز میموریل ڈےہر سال 28 اپریل کو دنیا بھر میں ورکرز میموریل ڈے منایا جاتا ہے، جسے عالمی یومِ تحفظ محنت بھی کہا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد ان مزدوروں کو یاد کرنا ہے جو کام کے دوران حادثات یا بیماریوں کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔یہ دن پہلی بار کینیڈا اور امریکہ میں منایا گیا اور بعد میں انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن سمیت دیگر عالمی اداروں نے بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کیا۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی اور معیشت کے پیچھے محنت کش طبقے کی قربانیاں شامل ہوتی ہیں، اور ان کی حفاظت ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔چرنوبل حادثے کا انکشاف چرنوبل کا حادثہ 26 اپریل 1986ء کو پیش آیا لیکن 28 اپریل کو دنیا کو اس کی شدت کا علم ہوا۔ اس دن سویڈن کے ایک نیوکلیئر پلانٹ میں غیر معمولی تابکاری ریکارڈ کی گئی، تحقیقات سے پتا چلا کہ یہ اخراج سوویت یونین کے شہر چرنوبل سے آ رہا ہے۔بین الاقوامی دباؤ کے بعد سوویت حکومت نے بالآخر اس حادثے کو تسلیم کیا۔ یہ تاریخ کا بدترین ایٹمی حادثہ تھا جس میں ری ایکٹر نمبر 4 دھماکے سے تباہ ہو گیا اور بڑی مقدار میں تابکار مادہ فضا میں پھیل گیا۔اس کے نتیجے میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے، کئی ہلاک ہوئے اور لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ ایئر بس اے 300 کی پرواز 28 اپریل 1974 کوائیر بس اے 300 نے اپنی پہلی باقاعدہ کمرشل پرواز مکمل کی۔ یہ طیارہ یورپی کمپنی Airbus نے تیار کیا تھا اور یہ دنیا کا پہلا دو انجن والا وائیڈ باڈی طیارہ تھا۔اس طیارے کی پہلی پرواز ایئرفرانس نے چلائی۔ اس کامیابی نے عالمی ہوا بازی کی صنعت میں ایک نئی راہ کھولی کیونکہ اس سے پہلے بڑے طیارے زیادہ تر چار انجن والے ہوتے تھے۔A300کی کامیابی کے بعد Airbus نے مزید جدید طیارے تیار کیے جنہوں نے ہوائی سفر کو زیادہ محفوظ، سستا اور مؤثر بنایا۔ میری لینڈ یونیورسٹی کا قیام 28 اپریل 1856ء کو امریکہ میں میری لینڈ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ ابتدا میں اسے میری لینڈ ایگریکلچر کالج کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔اس ادارے کا مقصد زراعت، سائنس اور عملی تعلیم کو فروغ دینا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک بڑی تحقیقی یونیورسٹی میں تبدیل ہو گئی جہاں مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔آج یہ یونیورسٹی امریکہ کے نمایاں تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے اور ہزاروں طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس کا کردار سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی، اور سماجی علوم میں نہایت اہم رہا ہے۔

سمندر کی تہہ میں ملنے والے ’’سنہری انڈے‘‘ کا راز فاش

سمندر کی تہہ میں ملنے والے ’’سنہری انڈے‘‘ کا راز فاش

سمندر کی گہرائیوں میں پوشیدہ اسرار ہمیشہ سے انسان کیلئے حیرت اور تجسس کا باعث رہے ہیں۔ حال ہی میں دریافت ہونے والا ایک پراسرار ''سنہری انڈا‘‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ثابت ہوا، جس نے ابتدا میں سائنسدانوں سمیت دنیا بھر کے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ اس عجیب و غریب شے کی ساخت اور مقامِ دریافت نے کئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا، حتیٰ کہ بعض حلقوں میں اسے خلائی مخلوق سے بھی جوڑ دیا گیا۔ تاہم تین سال کی مسلسل تحقیق اور سائنسی تجزیے کے بعد ماہرین نے بالآخر اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے، جو نہ صرف سمندری حیات کے حوالے سے نئی معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ سائنسی تحقیق کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔سمندر کی تہہ میں دریافت ہونے والی یہ عجیب شے، جس کا سائز تقریباً چار انچ (10 سینٹی میٹر) سے کچھ زیادہ تھا، خلیجِ الاسکا کے نیچے دو میل (3.25 کلومیٹر) سے زائد گہرائی میں پائی گئی تھی۔سمندری حیاتیات کے ماہرین کی تحقیق کے باوجود اس کی اصل حقیقت جاننے کیلئے کئی سالوں پر مشتمل ایک پیچیدہ تحقیق درکار ہوئی۔ آخرکار معلوم ہوا کہ یہ نہ تو ایلین کے انڈے جیسا تھا، نہ کوئی نئی عجیب نوع بلکہ درحقیقت یہ انڈا تھا ہی نہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ نام نہاد ''سنہری انڈا‘‘ دراصل مردہ خلیات کا ایک گچھا تھا، جو گہرے سمندر میں پائے جانے والے ایک بڑے اینیمون (anemone) کی بنیاد کا حصہ تھا۔ یہ زرد رنگ کا گچھا اصل میں اس جاندار کو چٹان کے ساتھ جوڑنے کا کام کرتا تھا، تاہم بعد میں یا تو یہ اینیمون مر گیا یا کسی نئی جگہ منتقل ہو گیا، جس کے نتیجے میں اس کے باقیات وہیں رہ گئیں۔اس موضوع پرتحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر اسٹیون آسکاوِچ (Dr Steven Auscavitch)، جو اسمتھسونین انسٹیٹیوشن (Smithsonian Institution)کے نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری سے وابستہ ہیں کے مطابق اس معمہ کو حل کرنا انتہائی تسلی بخش ہے۔ اس کی دریافت کے کئی سال بعد بھی ہمیں اس کی شناخت کے بارے میں مسلسل سوالات موصول ہوتے رہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم اپنے سیارے کی ان چھوٹی مگر عجیب چیزوں کی جانب توجہ مبذول کروا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ یہ ''سنہری انڈا‘‘ 2023ء میں ایک گہرے سمندر کی مہم کے دوران دریافت ہواتھا، جس کی قیادت نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) نے کی تھی۔ ریموٹ سے چلنے والی آبدوز ''ڈیپ ڈسکورر‘‘ کے آپریٹرز سمندر کی تہہ کے اوپر گشت کر رہے تھے کہ اچانک انہیں ایک ایسی چیز نظر آئی جس کی کوئی وضاحت ممکن نہ تھی۔ یہ شے ہموار، چمکدار اور نرم تھی اور اس کے سامنے کی جانب ایک بڑا سا سوراخ موجود تھا۔ ابتدا میں سائنسدانوں نے اندازہ لگایا کہ شاید یہ کسی نئی قسم کے اسفنج یا کسی جانور کے انڈے کا خول ہو سکتا ہے۔دریافت کے وقت ایک محقق نے بتایا تھاکہ کچھ اس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا یا پھر باہر نکلنے کی۔تاہم جب اس سنہری گچھے کو تحقیقی جہاز اوکیانوس ایکسپلورر (Okeanos Explorer) پر لایا گیا تو صرف اتنا ہی معلوم ہو سکا کہ یہ کسی حیاتیاتی (جاندار) نوعیت کی چیز ہے۔ آن لائن دنیا میں اس پراسرار شے کے بارے میں قیاس آرائیاں تیزی سے پھیل گئیں اور بہت سے لوگوں نے یہ سوال اٹھایا کہ کہیں سائنس دان واقعی کسی خلائی مخلوق تک تو نہیں پہنچ گئے۔ کچھ سنجیدہ رائے رکھنے والوں نے خیال ظاہر کیا کہ یہ کوئی نئی نوع ہو سکتی ہے، کیونکہ گہرے سمندروں میں پائی جانے والی تقریباً دو تہائی مخلوقات اب تک سائنس کیلئے نامعلوم ہیں۔دوسری جانب ماہرین کا کہنا تھا کہ غالب امکان یہی ہے کہ یہ کسی سمندری جانور کے انڈے کا خول ہو۔ معمہ حل نہ ہونے پر محققین نے اس نمونے کو اسمتھسونین نیشنل میوزیم آف نیچرل ہسٹری بھیج دیا، جہاں یہ ایک بار پھر توقع سے زیادہ پیچیدہ پہیلی ثابت ہوا۔ ماہرِ حیوانیات ڈاکٹر ایلن کولنز کہتے ہیں کہ ہم سیکڑوں مختلف نمونوں پر کام کرتے ہیں اور مجھے امید تھی کہ ہمارے معمول کے طریقۂ کار اس معمہ کو حل کر دیں گے۔ لیکن یہ ایک خاص کیس بن گیا جس کیلئے مختلف ماہرین کی خصوصی مہارت اور توجہ درکار تھی۔ یہ ایک پیچیدہ معمہ تھا جسے حل کرنے کیلئے ساختی، جینیاتی، گہرے سمندر اور بائیو انفارمیٹکس کی مہارتوں کی ضرورت پڑی۔آخرکار، دونوں نمونوں کے مائٹوکانڈریا میں موجود ڈی این اے کی ترتیب (سیکوینسنگ) سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ یہ واقعی ''Relicanthus daphneae‘‘ہی ہے۔ یہ دیوہیکل سمندری اینیمون دو میٹر تک لمبے ہو سکتے ہیں اور پانی کے بہاؤ میں تیرتے ننھے جانداروں کو شکار بناتے ہیں۔ یہ سنیڈیرینز (Cnidarians) میں سب سے بڑے شمار ہوتے ہیں اور عموماً سمندر کے ان مقامات کے قریب پائے جاتے ہیں جہاں زیر آب آتش فشانی دہانے غذائیت سے بھرپور پانی خارج کرتے ہیں۔شریک مصنفہ شارلٹ بینیڈکٹ کے مطابق یہ نوع گہرے سمندر کی تحقیق کیلئے ایک علامت (ماسکوٹ) ہونی چاہیے، کیونکہ یہ نہ صرف ان جانداروں کی حیرت انگیزی کو ظاہر کرتی ہے جو ایسے مشکل اور ناقابلِ رسائی ماحول میں زندہ رہتے ہیں، بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہم اب تک ان کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں۔ تاہم، سنہری انڈے کا معمہ ابھی مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔ مس بینیڈکٹ کے مطابق اس سنہری گول شے کے بارے میں ایک بڑی الجھن یہ تھی کہ اگر یہ واقعی ریلیکنٹس ہے تو اس کا باقی حصہ کہاں گیا اور یہ اس سے الگ کیسے ہوا؟ کیا یہ جاندار مر گیا اور یہ باقیات چھوڑ گیا، یا پھر اینیمون کا باقی حصہ الگ ہو کر سرک گیا؟

دیمک : خاموش دشمن، بڑا نقصان

دیمک : خاموش دشمن، بڑا نقصان

گھر کی خاموش دیواروں، لکڑی کے فرنیچر اور کتابوں کے ڈھیروں میں ایک ایسا دشمن پل رہا ہوتا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا مگر اندر ہی اندر سب کچھ کھوکھلا کر دیتا ہے۔ یہ خاموش تباہی پھیلانے والا کیڑا دیمک کہلاتا ہے۔ دیمک نہ صرف گھروں اور عمارتوں کیلئے خطرہ ہے بلکہ قیمتی دستاویزات، کتب اور لکڑی سے بنی اشیاء کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔ اکثر لوگ اس کی موجودگی کا اندازہ اس وقت کرتے ہیں جب نقصان حد سے بڑھ چکا ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دیمک کی بروقت شناخت اور اس کا سدباب نہ کیا جائے تو یہ ایک چھوٹے سے مسئلے کو بڑے معاشی نقصان میں تبدیل کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دیمک کے خطرات، اس کی وجوہات اور اس سے بچاؤ کے طریقوں پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔دیمک کا رنگ عموماً سفید بھورا ہوتا ہے، اس لئے اس کو سفید چیونٹی بھی کہا جاتا ہے۔ دیمک بھی کالی چیونٹی کی طرح خوراک کی طرف قطار بنا کر سفر کرتی ہے فرق صرف یہ ہے کہ کالی چیونٹی سورج کی روشنی میں بھی کام کر سکتی ہے جبکہ دیمک سورج کی روشنی میں کام نہیں کر سکتی۔ اس لئے دیمک مٹی کی سرنگ بنا کر اس سرنگ کے اندر قطار بنا کر سفر کرتی ہیں۔ دیمک ایک سوشل کیڑا ہے، اس کی کالونی میں ملکہ اور بادشاہ، سولجرز اور ورکرز ہوتے ہیں۔جب دیمک کی کالونی فل سائز میں پہنچتی ہے تو اس میں 60ہزار سے 2لاکھ تک ورکرز ہوتے ہیں۔ کالونی میں حکمرانی ملکہ کی ہوتی ہے جو 10ہزار سے 20ہزارتک ایک دن میں انڈے دیتی ہے اور اس کی عمر 10 سال یا اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ دیمک کی خوراک عموماً لکڑی ہے اس کے علاوہ وہ کتابیں، کپڑے، فرنیچر، قیمتی پیپرز بھی کھا جاتی ہے۔کماد یا دوسری فصلوں میں دیمک کا حملہ جڑ سے شروع ہوتا ہے اور اس کی مرغوب غذا بھی سوکھی ہوئی جڑیا تنا ہوتا ہے۔ کھیت میں سوکھے ہوئے پودے اس کے حملہ کی نشانی ہیں۔ اگر ان پودوں کو اُکھاڑا جائے تو جڑیں کٹی ہوئی ملیں گی۔ سوکھی ہوئی جڑیں ختم کرنے کے بعد دیمک تنے پر موجود سوکھے ہوئے پتوں پر حملہ آور ہو جاتی ہے اور ان کے خاتمہ کے بعد سبز پتوں کو بھی کھا جاتی ہے۔ درختوں پر حملہ کی صورت میں پودے کی پہلے ایک شاخ سوکھتی ہے اور اس طرح تمام شاخیں سوکھ جاتی ہیں اور پودا پورا ختم ہو جاتا ہے۔ کنو شاید واحد پودا ہے جو اس موذی کیڑے کا آخری دم تک مقابلہ کرتا ہے۔ کئی شاخیں سوکھ جانے کے باوجود بھی پودہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔کپاس ، گندم، مرچ اور دوسری سبزیوں وغیرہ میں دیمک کے حملہ کی صورت میں کھیت میں کئی پودے مختلف فاصلوں پر خشک ہو جاتے ہیں اور کئی دفعہ یہ نقصان معاشی حد سے زیادہ ہو جاتا ہے اور دیمک مارا ادویات کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے۔فصلوں والی زمینوں پر عمارات بنائی جاتی ہیں تو ان عمارات میں بھی دیمک کا حملہ ہو جاتا ہے۔ عمارات کی تعمیر سے قبل دنیا بھر کے انجینئرز، آرکٹیکٹس اور کنسلٹنٹس دیمک مار دوائی کا استعمال تعمیرات کی منصوبہ بندی کا ایک اہم جزو سمجھتے ہیں اور یہ طریقہ انتہائی آسان، کم خرچ اور موثر ترین ہے۔ عمارات میں دیمک مار دوائی کا استعمال قبل از تعمیر اور تعمیر کے بعد کیا جاتا ہے قبل از تعمیر پہلی دفعہ بنیادیں کھودنے کے بعد بنیادوں کے فرش پر سپرے کیا جاتا ہے۔ دوسری دفعہ فرش بندی کیلئے مٹی ڈال کر ہموار کرنے کے بعد پریشر پمپ کے ذریعے سپرے کیا جاتا ہے۔تعمیر شدہ عمارات جہاں دیمک کی مٹی کی سرنگیں موجود ہوں ماہر حشریات( انٹو مولوجسٹ) کی نگرانی میں کسی صحیح اور سفارش کردہ دیمک مار دوائی کا بذریعہ ڈرل اور انجیکشن کا طریقہ بہت ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں عمارت کی دیواروں کے اندر اور باہر ساتھ ساتھ 2فٹ کے فاصلہ پر بذریعہ ڈرل کچی مٹی تک سوراخ کرکے دوائی کا محلول تقریباً 4لیٹر فی سوراخ بذریعہ پریشر مشین زیر زمین پہنچانا ضروری ہے تاکہ دیواروں کے ساتھ ساتھ دوائی کی تہہ لگ جائے اور دیمک الماریوں اور دروازوں تک دوائی کی تہہ کو پار کرنے کی کوشش کرے تو مرجائے۔ ایک بات بہت ضروری ہے کہ آج کل عطائی ڈاکٹروں کی طرح دیمک کنٹرول کے پروفیشن میں بھی عطائی قسم کے لوگ داخل ہو گئے ہیں اور ظلم یہ ہے کہ ادویات بھی جعلی استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ دیمک کنٹرول کا کام صرف اور صرف انٹو مولوجیسٹ کی زیر نگرانی کروانا چاہئے اور اس سلسلہ میں دیمک مار دوائی بھی بااعتماد پارٹی سے خرید کرکے استعمال کروانی چاہئے۔ دیمک کنٹرول کے عمل کا خرچہ مقابلتاً گھر، عمارتوں میں موجود قیمتی اشیاء کے نقصان سے بہت کم ہوتا ہے۔ ایک اور ضروری بات یہ ہے کہ دروازوں، کھڑکیوں کو دیمک مار دوائی لگانے کا زیادہ فائدہ نہیں ہو گا جب تک عمارت کو دیمک سے صحیح طریقہ یعنی ڈرل اور پریشر مشین سے دوائی انجیکٹ نہ کی جائے تاہم فرنیچر وغیرہ دیمک مار دوائی لگانے کی وجہ سے دیمک اور گھن سے محفوظ رہتا ہے۔

فلاسفر!

فلاسفر!

آخر اس گرم سی شام کو میں نے گھر میں کہہ دیا کہ مجھ سے ایسی تپش میں نہیں پڑھا جاتا۔ ابھی کچھ اتنی زیادہ گرمیاں بھی نہیں شروع ہوئی تھیں۔ بات دراصل یہ تھی کہ امتحان نزدیک تھا اور تیاری اچھی طرح نہیں ہوئی تھی۔ یہ ایک قسم کا بہانہ تھا۔ گھر بھر میں صرف مجھے امتحان دینا تھا۔ حامد میاں امتحان سے فرنٹ ہوچکے تھے کہ اگلے سال دیں گے۔ ننھی عفت کو خواہ مخواہ اگلی جماعت میں شامل کردیا گیا تھا۔ باقی جو تھے وہ سب کے سب پاس یا فیل ہوچکے تھے۔لازمی طور پر میری ناز برداریاں سب سے زیادہ ہوتیں۔ طرح طرح کے ناشتے، ذرا ذرا دیر کے بعد پینے کی سرد چیزیں، اور ادھر ادھر کے کمروں میں مکمل خاموشی! بچوں کو ڈرایا جاتا کہ خبردار جوان سے بات کی تو، خبردار جوان کے کمرے کے نزدیک سے گزرے، خبردار جو یہ کیا جو وہ کیا، یہ امتحان دے رہے ہیں!ادھر امتحان کم بخت ایسا زبردست تھا کہ کسی طرح کتابیں قابو میں نہ آتی تھیں۔ آخر تنگ آکر میں نے کہہ ہی دیا کہ مجھ سے یہاں نہیں پڑھا جاتا۔ مطلب صاف ظاہر تھا کہ پہاڑ پر جاؤں گا۔ کئی دنوں تک گھر میں یہی ذکر ہوتا رہا۔ آخر ایک دن مجھ سے کہا گیا کہ تیار ہو جاؤں۔ ابا کے کوئی خاں صاحب یا خان بہادر کی قسم کے عزیز دوست ایک مہینے سے پہاڑ پر جا چکے تھے۔ وہاں تار بھیجا گیا اور انہوں نے مجھے بلا لیا۔ گھر میں دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہاں میری ہم عمر ایک لڑکی بھی ہے۔ اس پر میرے کان کھڑے ہوئے، چنانچہ تقریباً سارے گرم سوٹ ڈرائی کلین کرانے کیلئے دے دیے گئے۔ لیکن پھر پتہ چلا کہ وہ فلسفہ پڑھتی ہے اور عینک لگاتی ہے۔ لا حول ولا قوۃ! چلو اس کا بھی فیصلہ ہو گیا۔ اب مزے سے پڑھیں گے۔ لیکن عجیب الجھن سی پیدا ہوگئی۔ فلسفی لڑکی! اس پر طرہ یہ کہ عینک لگاتی ہے۔میں وہاں پہنچا۔ ایک صاحب مجھے لینے آئے۔ میری عمر کے ہوں گے۔ بولے ''میں ہوں تو رفیق، لیکن مجھے رفو کہا جاتا ہے‘‘۔ ان کے مکان تک آٹھ دس میل کی چڑھائی تھی۔ وہ کار میں آئے تھے، لیکن ہم نے کار واپس بھیج دی کہ مزے مزے سے پیدل چلیں گے۔ راستے میں خوب باتیں ہوئیں۔ پتہ چلا کہ وہ بھی کسی امتحان کے پھیر میں ہیں۔ وہ خان صاحب (یا خان بہادر) کے کچھ چچا کے ماموں کی بھتیجی کی خالہ کے پوتے کے چچازاد بھائی کی قسم کے عزیز تھے۔ کافی دیر حساب لگانے کے پتہ چلا کہ وہ تقریباً ان کے بھتیجے تھے۔ پھر ان فلاسفر صاحبہ کا ذکر ہوا۔ شکیلہ نام تھا۔ ہم دونوں سے عمر میں دوتین سال بڑی تھیں اور فلسفے کی کوئی بڑی ساری ڈگری لینے کی فکر میں تھیں۔ چلتے چلتے کافی دیر ہوگئی تھی۔ رفو ہاتھ سے اشارہ کر کے بولے ''بس یہ موڑ اور رہ گیا ہے‘‘۔سامنے بادل ہی بادل چھائے ہوئے تھے۔ آگے راستہ نظر نہ آتا تھا۔ رفو بولے ''ایک عجیب بات ہے۔ اس موڑ پر ہمیشہ یا تو بادل ہوتے ہیں یا دھند‘‘، اب ہم دھند میں سے گزر رہے تھے۔ آہستہ آہستہ دھند صاف ہوئی تو موڑ کے بعد ان کی کوٹھی یکلخت سامنے نظر آنے لگی۔ بس ایک گہرا سا کھڈ تھا بیچ میں۔ لیکن ابھی آدھ میل کا چکر اور تھا۔ ہم نے دیکھا کہ کوٹھی کے قریب درختوں کے جھنڈ میں ایک پتھر پر کوئی خاتون کھڑی تھیں۔ چھریرا قد، لہراتے ہوئے پریشان بال، ہلکا گلابی چہرہ اور ناک پر کالے فریم کی ایک عینک۔''یہی ہیں شکیلہ‘‘ رفو بولے۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا۔ انہوں نے سر کی جنبش سے جواب دیا۔ اتنی بری نہیں تھیں جتنا میں سمجھے بیٹھا تھا۔ اگر وہ موٹی سی عینک نہ ہوتی تو شاید حسین کہہ سکتے تھے۔ یا کم از کم وہ بھدا سا سیاہ فریم نہ ہوتا۔ میں کنبے میں بہت جلد گھل مل گیا۔ رفو اور میں تو بالکل بے تکلف ہوگئے، لیکن شکیلہ تھیں کہ لی ہی نہیں پڑتی تھیں۔ نہ کبھی ہماری باتوں میں دلچسپی لیتیں نہ کبھی گفتگو میں شریک ہوتیں۔ ہم دونوں ان کے سامنے بہیترے ٹامک ٹوئیے مارتے، اول جلول باتیں کرتے، خوشامدیں کرتے، لیکن ان کی ناک ہمیشہ چڑھی رہتی۔ اور ان کا کام کیا تھا؟ صبح سے شام تک دس دس سیر وزنی کتابیں پڑھنا۔رات کو انگیٹھی کے سامنے بیٹھی سوچ رہی ہیں۔ اتنی سنجیدگی سے جیسے دنیا کے نظام کا دارومدار ان ہی کی سوچ بچار پر تو ہے۔ کبھی انگلی سے ہوا میں لکھنے لگتی ہیں۔ کبھی کرسی پر طبلہ بجنے لگتا ہے۔ کبھی جھنجھلا جھنجھلا پڑتی ہیں۔ پھر یکلخت ایک مسکراہٹ لبوں پر دوڑ جاتی ہے اور سرہلنے لگتا ہے، جیسے سب کچھ سمجھ میں آگیا۔ دفعتاً مٹھیاں بھینچ لی جاتی ہیں اور غریب صوفے کے دوتین مکے رسید کیے جاتے ہیں۔ ادھر ہم انہیں دیکھ کر جھنجھلا اٹھتے۔ یہ تو نیم پاگل ہیں بالکل۔خان صاحب (یا خان بہادر) اور بیگم صاحبہ کا معاملہ ہی اور تھا۔ وہ ہمیشہ باتیں سیاسیات، معاشیات، فسادیات وغیرہ کی کرتے جن میں ہمیں ذرہ بھر دلچسپی نہ ہوتی۔ باقی تھے بچے وہ پہلے ہی سے احمق تھے، یا خاص طور پر احمق بنا دیے گئے تھے۔ اب بھلاہم کس سے باتیں کرتے؟ لے دے کے یہی ایک ہم عمر تھیں۔ یہی بے حد تنہائی پسند اور خشک مزاج واقع ہوئی تھیں اور ماشاء اللہ اپنی ہی دنیا میں بستی تھیں۔ کبھی منت سے کہا، ''ہمارے ساتھ بیڈ منٹن کھیل لیجیے‘‘، جواب ملا ''عینک ہے! عینک پر چڑیا لگے گی‘‘۔ کہا ''نہیں! ہم نہیں لگنے دیں گے، شاٹ نہیں ماریں گے۔ بس اچھال اچھال کر کھیلیں گے‘‘۔ کہنے لگیں، ''تو پھر وہ کھیل ہی کیا ہوا جو بے دلی سے کھیلا جائے۔ ویسے آپ دونوں تو سنگلز بھی کھیل سکتے، بھلا میں تیسری کیا کروں گی؟‘‘پھر کسی دن کہا، ''ہمارے ساتھ سیر کو چلیے‘‘، بولیں ''ابھی تو مجھے فرصت نہیں۔ بالکل فرصت نہیں۔ جب تک میں یہ تھیوری سمجھ نہیں لیتی‘‘۔ پوچھا ''تو کب تک سمجھ لیں گی آپ یہ تھیوری؟‘‘ جواب ملا ''کیا پتہ۔ شاید پانچ منٹ میں سمجھ لوں۔ اور سمجھ میں نہ آئے تو مہینے تک نہ آئے‘‘ اور جو کسی دن بہت خوش ہوئیں تو کہتیں، ''بس ابھی چلتے ہیں سیر کو، ذرا بچوں سے کہہ دیجیے کہ تیار ہوجائیں‘‘۔ بچوں کے نام پر ہمارے رونگٹے کھڑے ہوجاتے، اور بات وہیں ختم ہوجاتی۔ عموماً میں اور رفو دونوں سیر کو جایا کرتے۔ کچھ دنوں تک تو یونہی ہوتا رہا۔ پھر ایک دن ہم نے تنگ آکر بغاوت کردی۔ آخر کیوں نہیں شریک ہوتیں یہ ہمارے ساتھ۔ جب ایک ہم عمر موجود ہے تو پھر ہم اس کی رفاقت سے کیوں محروم ہیں؟پہلے تو طے ہوا کہ ایک رات چپکے سے ان کی ساری کتابیں جلادی جائیں یا کسی ندی میں پھینک دی جائیں۔ پھر سوچا کہ ایک دوہفتے تک اور کتابیں آجائیں گی۔ کافی سوچ بچار کے بعد ایک تجویز رفو کے دماغ میں آئی۔ بولے، ''تو تمہیں سزا ہی دینی ہے نا انہیں؟‘‘۔ ''یقیناً!‘‘ میں نے سر ہلا کر کہا۔''تو کیوں نہ ان سے محبت کی جائے؟‘‘ وہ میرے کان میں بولے۔