صرف نام ہی نہیں، کام بھی ایک جیسا مقبولیت کے جھنڈے گاڑھنے والے پاکستان و بھارت کے ہم نام فنکار

صرف نام ہی نہیں، کام بھی ایک جیسا مقبولیت کے جھنڈے گاڑھنے والے پاکستان و بھارت کے ہم نام فنکار

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفرؔ


ہندوستان اور پاکستان کی فلمی صنعت میں کچھ فنکار ایسے بھی تھے جو ہم نام ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے اداکار بھی تھے۔ ویسے ایک مثال اداکارائوں کی بھی ہے جو ہم نام تھیں اور جنہوں نے اپنے اپنے ملک میں بہت مقبولیت حاصل کی۔
ہم نام اداکار تھے رحمان، ایک بھارتی رحمان اور دوسرے پاکستانی رحمان۔ بھارتی اداکار رحمان کے بارے میں سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ ان کے ایک سگے بھائی مسعود الرحمان پاکستان فلمی صنعت کے نامور کیمرہ مین تھے، اداکار فیصل رحمان ان ہی کے بیٹے ہیں۔ اس رشتے سے بھارتی اداکار رحمان پاکستانی اداکار فیصل رحمان کے سگے چچا تھے۔ بہت سے لوگ ماضی کی معروف بھارتی اداکارہ وحیدہ رحمان کو بھی رحمان خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں حالانکہ وحیدہ رحمان کا اداکار رحمان سے کوئی تعلق نہیں صرف لفظ رحمان کی وجہ سے کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ شاید یہ آپس میں رشتے دار تھے۔ بھارتی اداکار رحمان اس بات پر بہت نازاں تھے کہ ان کا بھائی اور بھتیجا پاکستانی فلمی صنعت میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔80ء کی دہائی میں وہ جب پاکستان آئے تو انہوں نے کئی پاکستانی فلمیں بھی دیکھیں اور دل کھول کر تعریف کی۔
بھارتی اداکار رحمان نے ہیرو کی حیثیت سے بھی کام کیا اور وہ ولن کے طور پر جلوہ گر ہوئے۔ پھر انہوں نے کریکٹر ایکٹر کی حیثیت سے اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ وہ ہر روپ میں فلم بینوں کی توقعات پر پورا اترے۔
رحمان نے ہیرو کی حیثیت سے کئی فلموں میں کام کیا۔ ان کی مشہور فلموں میں ''صاحب بی بی اور غلام، پیاسا، وقت، مجبور، آپ کی قسم، آندھی، دل دیا درد لیا‘‘ اور دیگر کئی فلمیں شامل ہیں۔ وہ جتنے خوش شکل تھے اتنے ہی اچھے اداکار تھے۔ ان کی کھنک دار آواز فلم بینوں کو فوری طور پر اپنی طرف متوجہ کر لیتی تھی۔ شیخ مختار کی فلم ''نور جہاں‘‘ میں انہوں نے شہنشاہ اکبر کا کردار ادا کیا۔ وہ 1990ء میں اس جہان رنگ و بو سے رخصت ہو گئے۔ بھارتی فلمی صنعت میں ہمیشہ ان کا احترام کیا جاتا رہا۔ ذاتی زندگی میں وہ ایک ملنسار اور وضع دار مخلص انسان تھے۔ انہیں شاعری سے بھی شغف تھا مطالعے کے بہت شوقین تھے۔ ان کے بارے میں ایک دفعہ مجروح سلطانپوری نے کہا تھا کہ رحمان وسیع القلب، وسیع النظر اور وسیع المطالعہ تھے۔ ذرا اندازا لگایئے کہ ایک شخصیت بیک وقت اتنی صفات کی حامل بھی ہو سکتی ہے؟۔
اب ذرا پاکستانی اداکار رحمان کی بھی بات ہو جائے۔ ان کا تعلق بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے تھا۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بنگالی فلموں کے علاوہ اردو فلموں میں بھی کام کرتے تھے۔ صرف اداکاری نہیں بلکہ انہوں نے فلمسازی بھی کی۔ ان کی مشہور فلموں میں ''تلاش‘‘، ''درشن‘‘، ''چندا‘‘، ''چاہت‘‘،'' دوستی‘‘ اور ''نادان‘‘ شامل ہیں۔ وہ اپنی فطری اداکاری کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ اداکارہ شبنم کے ساتھ ان کی جوڑی کو بہت پسند کیا جاتا تھا اور ان دونوں کی فلمیں باکس آفس پر بہت کامیاب ہوئیں۔ بدقسمتی سے ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران رحمان ایک حادثے کا شکار ہو گئے جس کے نتیجے میں وہ اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہو گئے لیکن انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور مصنوعی ٹانگ لگوا لی جس کے بعد انہوں نے اپنا فلمی سفر جاری رکھا۔
1971ء میں جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تو شبنم کی طرح رحمان نے بھی پاکستان میں قیام کو ترجیح دی۔ مشرقی پاکستان کے ایک گلو کار بشیر احمد کی آواز ان پربہت جچتی تھی۔ بشیر احمد بہت خوبصورت آواز کے مالک تھے اور انہوں نے روبن گھوش کی موسیقی میں کئی شاندار فلمی گیت گائے۔
پاکستان میں رحمان نے دو فلمیں بنائیں۔ ایک تھی ''چاہت‘‘ اور دوسری تھی'' دو ساتھی‘‘۔ دونوں فلموں کی موسیقی روبن گھوش کی تھی اور ان فلموں کے نغمات نے پورے ملک میں دھوم مچا دی تھی۔1974ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''چاہت‘‘ میں مہدی حسن کا گایا ہوا یہ گانا‘‘ پیار بھرے دو شرمیلے نین‘‘ خان صاحب کے معرکہ آرا گیتوں میں سے ایک ہے۔ اسی طرح ''دو ساتھی‘‘ میں غلام عباس کا گیت'' ایسے وہ شرمائے‘‘ بھی اپنی مثال آپ ہے۔
رحمان بڑی صاف ستھری فلمیں بناتے تھے اور ان کا شعور موسیقی بھی انتہائی قابل تحسین تھا۔ روبن گھوش ان کے بارے میں اکثر کہا کرتے کہ یہ شخص موسیقی کے اسرار و رموز کو سمجھتا ہے۔
رحمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ذاتی زندگی میں وہ عاجزی اور انکساری کا مجسمہ تھے۔ انتہائی دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والے رحمان نے کسی سے ناراض ہونا سیکھا ہی نہیں تھا۔
وہ پاکستان میں اپنی تیسری فلم ''تین کبوتر‘‘ بنا رہے تھے لیکن چند نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ فلم مکمل نہ ہو سکی۔ اس سے وہ بہت مایوس ہوئے۔ غالباً 1980ء میں وہ بنگلہ دیش چلے گئے، چند برس پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔
ہم نام ہونے کا شرف ہندوستانی اداکارہ ممتاز اور پاکستانی ممتاز کو بھی حاصل ہے۔ دونوں اداکارائوں میں صرف نام کی مماثلت ہی نہیں بلکہ کچھ اور خوبیاں بھی ایک جیسی تھیں۔ دونوں کمال کی ڈانسرز تھیں انہوں نے شوخ اداکاری کی وجہ سے بہت مقبولیت حاصل کی۔ دونوں کو گانا پکچرائز کرانے میں بھی ملکہ حاصل تھا۔ اگر بھارتی ممتاز روک اینڈ رول پر یہ گانا پکچرائز کراتی ہے '' آجکل تیرے میرے پیار کے چرچے ہر زبان پر‘‘ تو پاکستانی اداکارہ ممتاز بھی ''تت ترو ترو تارا تارا‘‘ جیسا مسحور کن گیت انتہائی خوبصورت انداز میں پکچرائز کرا کے فلم بینوں سے بے پناہ داد وصول کرتی ہے۔بھارتی اداکارہ ممتاز کی مشہور فلموں میں ''دو راستے، آپ کی قسم، برہم چاری، رام اور شیام‘‘ اور ''میلہ‘‘ شامل ہیں۔
پاکستانی اداکارہ ممتاز نے بھی کئی فلموں میں اپنی اداکاری اور رقص کے ذریعے فلم بینوں کو متاثر کیا۔ ان کی قابل ذکر فلموں میں ''انتظار، شرارت، ان داتا، محبت زندگی ہے، نوکر ووہٹی دا، شریف بدمعاش‘‘ اور دیگر فلمیں شامل ہیں۔ یہ ہم نام فنکار تھے اور ان سب نے ناکامی کے کانٹے نہیں بلکہ کامیابی کے پھول سمیٹے۔ یہ سب ہندوستان اور پاکستان کی فلمی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اورروزنامہ ''دنیا‘‘
سے طویل عرصہ سے وابستہ ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 موبائل لائف پوڈ: مستقبل کی محفوظ پناہ گاہ

موبائل لائف پوڈ: مستقبل کی محفوظ پناہ گاہ

جدید دنیا میں جہاں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی برق رفتاری سے ترقی کر رہی ہے، وہیں قدرتی آفات، جنگوں، دہشت گردی اور عالمی عدم استحکام کے خدشات نے انسان کو اپنی بقا کے نئے طریقے تلاش کرنے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں ایک ایسا جدید اور مستقبل کا تصور پیش کرنے والا ''موبائل لائف پوڈ‘‘ متعارف کرایا گیا ہے جو ہنگامی حالات میں ایک محفوظ پناہ گاہ کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ تقریباً 35 ہزار پاؤنڈ مالیت کا یہ جدید حفاظتی کیپسول گولیوں، دھماکوں اور دیگر جان لیوا خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک عارضی پناہ گاہ نہیں بلکہ ایسی ٹیکنالوجی کی مثال ہے جو مستقبل میں شہری دفاع، ہنگامی امداد اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے نظام کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔ اگرچہ اس کی افادیت اور قیمت پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، تاہم اس ایجاد نے یہ سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ کیا آنے والے دور میں ذاتی حفاظتی پناہ گاہیں بھی روزمرہ زندگی کی ضرورت بن جائیں گی؟فرانس میں قائم ٹیکنالوجی کمپنی مومنٹم ٹیکنالوجیز نے ایک ایسا جدید حفاظتی شیلٹر متعارف کرایا ہے جو گولیوں سے لے کر بم دھماکوں تک مختلف خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ''لائف پوڈ‘‘ نامی یہ کیپسول انتہائی مضبوط اور جدید تکنیکی فولاد (ہائی اسٹرینتھ ٹیکنیکل اسٹیل) سے تیار کیا گیا ہے، تاہم اسے مکمل طور پر متحرک (موبائل) رکھنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے۔کمپنی کے مطابق ''روایتی حفاظتی ڈھانچوں کے برعکس، جو عموماً ایک ہی مقام پر مستقل نصب ہوتے ہیں اور صرف ایک مخصوص خطرے سے تحفظ فراہم کرتے ہیں، لائف پوڈ کیپسولز کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ انہیں آسانی سے منتقل، صنعتی پیمانے پر تیار، فوری طور پر نصب اور مختلف عملی حالات کے مطابق استعمال کیا جا سکے۔ان کیپسولز کو کنٹینرز کے ذریعے منتقل کیا جا سکتا ہے، ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جا سکتا ہے، انہیں ایک دوسرے کے اوپر رکھا جا سکتا ہے، اور شہری علاقوں، صنعتی تنصیبات یا دور دراز مقامات پر بھی باآسانی نصب کیا جا سکتا ہے۔البتہ اس جدید حفاظتی ٹیکنالوجی کی قیمت بھی خاصی زیادہ ہے۔لائف پوڈ کے بنیادی کیپسول کی قیمت 25,404 سے 34,904 برطانوی پاؤنڈ (تقریباً 96 لاکھ سے ایک کروڑ 32 لاکھ پاکستانی روپے) کے درمیان رکھی گئی ہے، جبکہ یہ قیمت صرف کیپسول کی ہے اور اس میں اضافی سہولیات شامل نہیں ہیں۔لائف پوڈ تین مختلف ماڈلز میں دستیاب ہے، جنہیں کیپسول W01، کیپسول B01 اور کیپسول Q01 کا نام دیا گیا ہے۔کیپسول W01 ایک تیرنے والا (Floating) حفاظتی کیپسول ہے، جسے دو سے چار افراد کیلئے خاص طور پر سونامی، اچانک آنے والے سیلاب، ساحلی علاقوں میں طغیانی، ڈیم یا پشتوں کے ٹوٹنے جیسے شدید قدرتی حالات میں استعمال کیلئے تیار کیا گیا ہے۔کمپنی کے مطابق ''اس کا 5083 میرین گریڈ ایلومینیم سے تیار کردہ ڈھانچہ، تیرنے کا نظام، مربوط بیلسٹ (وزن متوازن رکھنے کا نظام) اور اندرونی حفاظتی سہولیات کسی خاندان یا چھوٹے گروہ کو عارضی طور پر محفوظ پناہ فراہم کرتی ہیں۔یہ کیپسول پانی پر تیرنے، بہتے ہوئے ملبے کے ٹکراؤ کو برداشت کرنے اور اپنے اندر موجود افراد کو اس وقت تک محفوظ رکھنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے جب تک امدادی ٹیمیں نہ پہنچ جائیں۔ اس کے ڈیزائنرز کا کہنا ہے کہ W01 پر کیے گئے ابتدائی تجربات کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا رہے ہیں، تاہم اسے مارکیٹ میں کب متعارف کرایا جائے گا، اس بارے میں ابھی کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔کیپسول B01 ایک سے دو افراد کیلئے تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد جنگی یا انتہائی خطرناک ماحول میں محفوظ پناہ فراہم کرنا ہے۔ مومنٹم ٹیکنالوجیز کے مطابق ''B01‘‘ کو گولیوں، دھاتی ریزوں (شریپنل)، مسلح حملوں اور شدید خطرناک ماحول سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔یہ ماڈل حساس مقامات، اہم قومی تنصیبات، سکیورٹی فورسز، صنعتی اداروں اور ایسی تنظیموں کیلئے موزوں ہے جنہیں فوری، مختصر حجم اور پہلے سے تعینات کیے جا سکنے والے حفاظتی حل کی ضرورت ہو۔کمپنی کے مطابق اس کیپسول میں موجود افراد چند ہی سیکنڈز میں اس کے اندر پناہ لے کر حفاظتی نظام کو لاک کر سکتے ہیں، جس سے ہنگامی حالات میں فوری تحفظ ممکن ہو جاتا ہے۔ کیپسول B01 اس وقت تیاری کے مرحلے میں ہے، جبکہ اس کی حتمی جانچ اور منظوری اسی ماہ مکمل ہونے کی توقع ہے۔ کیپسول Q01 کو خاص طور پر زلزلوں، عمارتوں کے منہدم ہونے اور تعمیراتی عدم استحکام سے پیدا ہونے والی آفات کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔مومنٹم ٹیکنالوجیز کے مطابق ''Q01‘‘ ایسے علاقوں کیلئے تیار کیا گیا ہے جہاں زلزلوں اور اچانک عمارتیں گرنے کے خطرات زیادہ ہوں۔اس کا بنیادی مقصد ایک ایسی مختصر، آسانی سے قابلِ رسائی اور مضبوط محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا ہے، جو اس وقت زندہ بچنے کے امکانات میں اضافہ کرے جب کسی عمارت سے فوری انخلا ممکن نہ رہے۔یہ جدید حفاظتی لائف پوڈز پیرس میں منعقد ہونے والی معروف ٹیکنالوجی نمائش ویوا ٹیک میں متعارف کرائے گئے، جہاں مومنٹم ٹیکنالوجیز کے بانی سیڈرک شوفا نے مستقبل کے تحفظ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے حوالے سے اپنے وژن سے بھی آگاہ کیا۔

سڑک بند ہے!

سڑک بند ہے!

سڑک کی مرمت ہو رہی ہو تو سڑک کے درمیان میں ایک بورڈ لگا دیا جاتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے ''سڑک بند ہے‘‘ ۔ اس کا مطلب کبھی یہ نہیں ہوتا کہ سرے سے راستہ بند ہو گیا ہے اور اب آنے جانے والے اپنی گاڑی روک کر کھڑے ہو جائیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ ''یہ سامنے کی سڑک بند ہے‘‘۔ ہر شخص کو اس قسم کے بورڈ کے معنی معلوم ہیں چنانچہ سواریاں جب وہاں پہنچ کر بورڈ کو دیکھتی ہیں تو وہ ایک لمحہ کیلئے بھی نہیں رکتیں۔ وہ دائیں بائیں گھوم کر اپنا راستہ نکال لیتی ہیں اور آگے جا کر دوبارہ سڑک پکڑ لیتی ہیں۔ اور اگر کسی وجہ سے دائیں بائیں راستہ نہ ہو تب بھی سواریوں کیلئے کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ اطراف کی سڑکوں سے اپنا سفر جاری رکھتی ہیں۔ کچھ دور آگے جا کر دوبارہ انہیں اصل سڑک مل جاتی ہے اور اس پر اپنا سفر جاری کھتی ہیں اور وہ منزل پر پہنچ جاتی ہیں۔ اس طرح کچھ منٹوں کی تاخیر تو ضرور ہو سکتی ہے۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ان کا سفر رک جائے یا وہ منزل پر پہنچنے میں نا کام رہیں۔یہی صورت زندگی کے سفر کی بھی ہے۔ زندگی کی جدوجہد میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی محسوس کرتاہے کہ اس کا راستہ بند ہے۔ مگر اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ سامنے کا راستہ بند ہے نہ کہ ہر طرف کا۔ جب بھی ایک راستہ بند ہو تو دوسرے بہت سے راستے کھلے ہوئے ہوں گے۔ عقل مند شخص وہ ہے جو اپنے سامنے ''سڑک بند ہے‘‘ کا بورڈ دیکھ کر رک نہ جائے بلکہ دوسرے راستے تلاش کرکے اپنا سفر جاری رکھے۔ایک میدان میں مواقع نہ ہوں تو دوسرے میدان میں اپنے لئے مواقع کار تلاش کر لیجئے۔ حریف سے براہِ راست مقابلہ ممکن نہ ہو تو بالواسطہ مقابلہ کا طریقہ اختیار کیجئے۔ آگے کی صف میں آپ کو جگہ نہ مل رہی تو پیچھے کی صف میں اپنے لئے جگہ حاصل کر لیجئے۔ ٹکراؤ کے ذریعہ مسئلہ حل ہوتا نظر نہ آتا ہو تو مصالحت کے ذریعہ مسئلہ کے حل کی صورت نکال لیجئے۔ دوسروں کا ساتھ حاصل نہ ہو رہا ہو تو تنہا اپنے کام کا آغاز کر دیجئے۔ چھت کی تعمیر کا سامان نہ ہو تو بنیاد کی تعمیر میں اپنا وقت صرف کریں۔ بندوں سے ملتا ہوا نظر نہ آتا ہو تو خدا سے پانے کی کوشش کیجئے... ہر بند سڑک کے پاس ایک کھلی سڑک بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کو وہی لوگ پاتے ہیں جو آنکھ والے ہوں۔

موسمیاتی تبدیلی اور خواتین کا معاشی بحران

موسمیاتی تبدیلی اور خواتین کا معاشی بحران

جعفرآباد، بلوچستان کی ایک شام، سورج غروب ہو رہا تھا اور بینظیر اپنی اس زمین کو خاموشی سے دیکھ رہی تھی جو کبھی اس کے خاندان کی روزی روٹی کا ذریعہ تھی۔ آج وہاں دور دور تک صرف پانی ہی پانی تھا۔ 2022ء کے تباہ کن سیلاب نے اس کی فصلیں، جمع پونجی اور برسوں کی محنت پل بھر میں بہا دی۔ اس کی زبان پر صرف ایک جملہ تھا: ''سیلاب نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا‘‘۔یہ صرف ایک عورت کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کی لاکھوں خواتین کی مشترکہ حقیقت ہے۔ 2022ء کے سیلاب نے ملک کے تقریباً ایک تہائی حصے کو متاثر کیاتھا، مگر سب سے زیادہ نقصان خواتین، بچوں اور دیہی آبادی نے اٹھایا تھا۔ آج جب حالیہ مون سون کے دوران مختلف علاقوں میں بارشوں اور سیلابی صورتحال کا خطرہ ایک بار پھر موجود ہے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو گئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ صرف امدادی سرگرمیوں سے نہیں بلکہ پیشگی منصوبہ بندی، پانی کے دانشمندانہ استعمال اور خواتین کی شمولیت سے ہی ممکن ہے۔پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر ان خواتین پر پڑتا ہے جو دیہی معیشت، زراعت، مویشی پالنے اور خوراک کی پیداوار میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، مگر زمین کی ملکیت، مالی وسائل اور سماجی تحفظ سے محروم رہتی ہیں۔زرعی شعبے میں کام کرنے والی خواتین بے ترتیب بارشوں، شدید گرمی، خشک سالی اور فصلوں کی تباہی کا براہِ راست سامنا کر رہی ہیں۔ جب سیلاب آتا ہے تو صرف کھیت ہی نہیں ڈوبتے بلکہ روزگار، تعلیم، صحت اور خاندان کا معاشی استحکام بھی متاثر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسمیاتی پالیسیوں میں خواتین کو مرکزی حیثیت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔خوش آئند امر یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں وفاقی اور صوبائی اداروں نے مون سون سے قبل حفاظتی انتظامات پر نسبتاً زیادہ توجہ دی ہے۔ دریائوں اور ندی نالوں کی نگرانی، فلڈ وارننگ سسٹم، بندوں کی مضبوطی، حساس مقامات پر حفاظتی پشتوں کی تعمیر، ریسکیو اداروں کی پیشگی تعیناتی اور ممکنہ انخلاء کے منصوبے ایسے اقدامات ہیں جو جانی و مالی نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔ تاہم ان اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کیلئے مقامی آبادی خصوصاً خواتین، کسانوں اور کمیونٹی تنظیموں کو بھی اس عمل کا حصہ بنانا ضروری ہے۔پاکستان کیلئے اب وقت آ گیا ہے کہ سیلابی پانی کو صرف ایک آفت نہیں بلکہ ایک قیمتی قدرتی وسیلہ سمجھا جائے۔ ہر سال اربوں مکعب فٹ میٹھا پانی سمندر میں بہہ جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف ملک پانی کی قلت اور زیرزمین پانی کی تیزی سے گرتی سطح کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر مناسب منصوبہ بندی کی جائے تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیم، ریٹینشن بیسن، حفاظتی جھیلیں اور سیلابی پانی ذخیرہ کرنے کے تالاب نہ صرف سیلاب کی شدت کم کر سکتے ہیں بلکہ زرعی ضروریات بھی پوری کر سکتے ہیں۔اسی طرح بارش کے پانی سے زیرزمین آبی ذخائر کو دوبارہ بھرنے (Groundwater Recharge) کے لیے قومی سطح پر مؤثر نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ شہری علاقوں میں ری چارج ویلز، پرکولیشن ٹینک، بارشی پانی جمع کرنے کے ذخائر اور نئی تعمیرات میں رین واٹر ہارویسٹنگ کو لازمی قرار دیا جائے۔ دیہی علاقوں میں کھیتوں کے کنارے چھوٹے ذخیرہ آب، قدرتی آبی گزرگاہوں کی بحالی اور بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے والے منصوبے زیرزمین پانی کی سطح بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہ اقدامات خواتین کیلئے بھی معاشی تحفظ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ جب پانی دستیاب ہوگا تو زرعی پیداوار بڑھے گی، مویشی پالنے میں آسانی ہوگی اور دیہی خواتین کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ اگر انہیں جدید زرعی ٹیکنالوجی، موسمی معلومات، آسان قرضوں، فصلوں کے بیمہ، مالی معاونت اور تربیت تک رسائی دی جائے تو وہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔قدرتی آفات کے بعد خواتین کو صرف امداد کی مستحق نہیں بلکہ بحالی اور منصوبہ بندی کی شراکت دار سمجھنا ہوگا۔ مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیوں، واٹر مینجمنٹ پروگراموں اور موسمیاتی منصوبوں میں خواتین کی مؤثر نمائندگی نہ صرف بہتر فیصلوں کا باعث بنے گی بلکہ وسائل کے زیادہ منصفانہ استعمال کو بھی یقینی بنائے گی۔حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی انصاف، سماجی مساوات اور قومی سلامتی کا بھی اہم چیلنج ہے۔ اگر پاکستان سیلاب سے بچائو کیلئے مضبوط بند، جدید وارننگ سسٹم، بارش کے پانی کے ذخیرے، زیرزمین آبی ذخائر کی ری فلنگ اور مربوط واٹر مینجمنٹ کو قومی ترجیح بنا دے اور اس پورے عمل میں خواتین کو فیصلہ سازی اور معاشی سرگرمیوں کا مرکزی کردار دے تو نہ صرف سیلابی نقصانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ پانی کی قلت، زرعی بحران اور دیہی غربت جیسے دیرینہ مسائل پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ پائیدار مستقبل کا راستہ پانی کے بہتر انتظام اور خواتین کو بااختیار بنانے سے ہو کر گزرتا ہے اور یہی پاکستان کی حقیقی موسمیاتی حکمت عملی ہونی چاہیے۔

کھپرا اور سسری اناج کے دشمن

کھپرا اور سسری اناج کے دشمن

گندم کی فصل سردیوں میں یعنی اکتوبر نومبر میں کاشت کی جاتی ہے اور گرمیوں میں یعنی اپریل مئی میں پک کر تیار ہونے کے بعد کاٹی جاتی ہے۔ گندم کی فصل کو تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ زمین کی تیاری، خالص بیج کا حاصل کرنا، کاشت کرنا، مہنگی کھادیں، جڑی بوٹی مار ادویات، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، کٹائی، تھریشنگ اور سب سے زیادہ محنت طلب کام پانی لگانا ہے۔ شدید سردی میں گندم کو رات کے وقت جنگلی جانوروں کی موجودگی میں پانی لگانا سخت جان کاشتکار ہی کر سکتا ہے۔یہ کسان کی خوراک کی فصل ہے۔ پرانی کہاوت ہے کہ ''جس کے گھر میں دانے اس کے کملے بھی سیانے‘‘ ورنہ اس میں کاشتکار کو منافع نہیں ہوتا ہے۔ کاشتکار کی فصل پک جانے اور گھر میں دانے آ جانے کے بعد بھی مصیبت پیچھا نہیں چھوڑتی ہے۔ گندم کے دانے گھر آ جانے کے بعد گھر والوں کیلئے 1/2یا 1من تک گندم پسوائی جاتی ہے جس سے روٹی پکا کر گھر والوں کیلئے خوراک کا حصہ بنتی ہے اور باقی گندم کے دانے بوریوں اور بڑھولوں میں سنبھال دی جاتی ہے۔ دوسری وجہ سنبھالنے کی یہ بنتی ہے کہ فصل تیار ہو کر گھر آ جانے کے بعد نرخ کم لگتا ہے اس لئے گندم کے دانوں کو محفوظ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔یہ گندم کے دانے کیڑوں سے صاف بوریوں یا بڑھولوں میں بھرنے چاہئے ورنہ ان بوریوں یا بڑھولوں میں محفوظ شدہ دانوں پر کھپرا اور سسری جیسے کیڑے حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ ان کیڑوں کی چار حالتیں ہوتی ہے مثلاً انڈہ، لاروا( گرب)، پیو پا اور کھپرا یا سسری۔ یہ کیڑے یعنی کھپرا یا سسری اور لاروا( گرب) کی حالت میں دانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ یہ کیڑے نمی والے مہینوں مثلاً جون، جولائی اور اگست میں زیادہ پھیلتے ہیں اس لئے ان کی روک تھام کیلئے جون، جولائی بہترین مہینے ہیں۔ گندم کے دانوں کی جلد سخت ہوتی ہے۔ کیڑوں کو اس طرح دانوں کو کھانا مشکل ہوتا ہے۔ کیڑا دو وجوہات سے گندم کے دانوں کو خراب کرتا ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ سٹور کرتے وقت ٹوٹے ہوئے دانوں کی موجودگی جو کہ عموماً تھریشر کی وجہ سے شامل ہو جاتے ہیں اور دوسری وجہ نمی کی ہے جس سے گندم کا دانہ نرم ہو جاتا ہے۔ گندم کے دانہ کو اگر دانت سے توڑیں تو ''کڑک‘‘ کی آواز آنی چاہئے۔ ایسے دانوں میں نمی کا تناسب صحیح ہوتا ہے اور یہ سٹور کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ ٹونے ٹوٹکوں پر عمل نہیں کرنا چاہئے اور صرف اینٹو مولوجسٹ کے مشوروں پر عمل کریں۔سب سے بہترین دوائی المونیم فاسفائیڈ ہے۔ یہ گولیوں کی شکل میں ہر زرعی ادویات کے ڈیلروں کے پاس موجود ہیں۔ پیکنگ 10 گولیوں سے لے کر 150گولیوں تک ہوتی ہے۔ 2.5من دانوں میں ایک گولی کے حساب سے خرید کریں یا اتنی خریدیں جتنی ضرورت ہے۔ ورنہ اس کو گھر میں اگلے سال تک کیلئے رکھنا نقصان دہ ہے۔ اگر پچھلے سال بوریوں یا بھڑولوں میں کھپرا اور سسری کا حملہ ہو چکا تھا تو ضروری ہے کہ استعمال شدہ بوریوں اور بھڑولوں کو گندم کے دانے ڈالنے سے پہلے ڈیلٹا میتھرین ایک حصہ دوائی اور 50 حصہ پانی میں ملا کر بھڑولہ کے اندر یا بوریوں پر سپرے کریں۔ ایک یا دو دن کے بعد گندم کے دانے ڈالیں اور ان کے اندر پلیٹ یا پیالے میں 2.5من دانوں کیلئے ایک گولی کے حساب سے استعمال کریں۔ ان گولیوں کو کپڑے میں باندھ کر نہ رکھیں اس طریقہ سے گولیوں سے صحیح طریقہ سے گیس خارج نہیں ہوتی ہے۔ گولیوں کی گیس 15فٹ تک نیچے، اوپر اور دائیں بائیں اثر کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ پیالہ یا پلیٹ اس لئے بھی بہتر ہے کہ بعد میں گولیوں کی راکھ گندم کے دانوں میں مکس نہیں ہونی چاہیے۔گولیاں رکھنے کے بعد بھڑولہ میں گندم ڈالنے والی اور نکالنے والی جگہوں کو صحیح طور پر بند(سیل) کرنا ضروری ہے۔ بھڑولہ کا اوپر والا حصہ اور دانے نکالنے والے حصہ کو اچھی طرح آٹا کو گیلا کرکے یا گارا سے لیپ دینا چاہئے تاکہ گیس باہر نہ نکل سکے اور اس طرح دانوں کو دو ہفتہ (15دن)تک سیل بند رہنا چاہئے اور سیل کھولنے کے 2دن بعد تک گندم کے دانوں کو ہرگز استعمال نہ کریں۔ گولیوں کی راکھ کو شاپر میں ڈال کر دانوں کے باہر زمین میں دبا دیں یا کوڑا کرکٹ میں ڈال دیں۔

آج تم یاد بے حساب آئے!بروس لی :مارشل آرٹ کا شہنشاہ (1973-1940ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!بروس لی :مارشل آرٹ کا شہنشاہ (1973-1940ء)

٭...27 نومبر 1940ء کو سان فرانسسکو( امریکہ) میں پیدا ہوئے۔اصل نام لی جون فین تھا۔٭...ان کے والد ایک اوپیرا سنگر اور اداکار تھے، اسی لیے بروس لی بھی بچپن میں ہی فنونِ لطیفہ سے وابستہ ہوگئے۔٭... بچپن ہانگ کانگ میں گزرا، جہاں بطور چائلڈ سٹار فلموں میں کام کیا۔٭...ہالی وڈ کی متعدد فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے اور فلمی دنیا میں ہانگ کانگ کا مارشل آرٹس متعارف کروایا۔ ٭...ہدایت کاری، اداکاری اور مارشل آرٹ میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔٭...وہ روزانہ پانچ ہزار پنج (مکے)، ایک ہزار ککس، آٹھ کلو میٹر رننگ اور پندرہ کلو میٹر سائیکلنگ کیا کرتے تھے۔ ٭...وہ نن چاقو کے اتنے ماہر تھے کہ نن چاقو سے ٹیبل ٹینس کھیلا کرتے تھے۔٭... 1973ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''انٹر دی ڈریگن‘‘ میں کنگ فو لیجنڈ بروس لی کو آخر بار دیکھا گیا تھا۔ فلم نے زبردست بزنس کیا تھا۔ اس فلم کا کُل بجٹ ساڑھے 8 لاکھ ڈالر تھا لیکن اس نے حیران کن طور پر 400 ملین ڈالر کمائے۔ اسے اب بھی سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ٭...1960ء کی دہائی میں مارشل آرٹ کی پرائیویٹ کلاس یا کوچنگ دینے کا بروس لی ایک گھنٹے کا دو سو پچھتر ڈالر (آج کے اڑھائی ہزار ڈالر) لیتے تھے۔٭... وہ مطالعے کے شوقین اور اس کی لائبریری میں دو ہزار سے زائد کتب تھیں‘ وہ شاعری کا بھی شوق رکھتے تھے۔٭... ہاتھ پاوں چلانے والا یہ انسان ایک بہترین سینس آف ہیومر بھی رکھتا تھا۔اس کے قریبی دوست کہتے ہیں یہ جب موڈ میں ہوتا تو دوستوں کو ہنسانے میں ید طولی رکھتا تھا۔ ٭... فلمی دنیا کے عظیم ترین مارشل آرٹ آرٹسٹ بروس لی کا انتقال 20 جولائی 1973ء کو 32 سال کی عمر میں ہوا۔٭... موت کی وجہ ایک دماغی سوجن (Cerebral edema)بتائی گئی، جو ایک دوا کے ری ایکشن کی وجہ سے ہوئی۔فلموگرافی٭...گولڈن گیٹ گرل (1941ء)،٭... دی برتھ آف مینکائنڈ(1946ء)٭...ویلتھ از لائیک اے ڈریم(1948ء)٭...دی سٹوری آف فین لی فا(1949ء)٭...دی کڈ، بلومز اینڈ بٹر فلائی(1950ء)٭...انفنسی، بلیم اٹ آن فادر(1951ء)٭...دی گائیڈنگ لائٹ، ان دی فیس آف ڈیمولیشن٭...لو، دی فیتھ فل وائف(1955ء)٭...دی وائز گائیز ،ہو فول ارائونڈ(56ء)٭...دی تھنڈر سٹورم (1957ء)، دی اورفن (1960ء)٭...دی ریکنگ کریو(68ء)، مارلوئے(1969ء)٭...اے واک ان دی سپرنگ رین (1970ء)٭...فسٹ آف فیوری، دی بگ بوس(1971ء)٭...دی گیم آف دیتھ، دی وے آف دی ڈریگن

آج کا دن

آج کا دن

سپیشل اولمپکس کا آغاز20جولائی 1968ء کو شکاگو میں پہلی انٹرنیشنل اسپیشل اولمپکس سمر گیمز کا انعقاد کیا گیا، جس میں ذہنی معذوری رکھنے والے ایک ہزار ایتھلیٹس نے شرکت کی۔ اس تاریخی ایونٹ کا مقصد ایسے افراد کو کھیلوں کے ذریعے اپنی صلاحیتیں دکھانے، اعتماد حاصل کرنے اور معاشرے میں مساوی مقام دلانے کا موقع فراہم کرنا تھا۔ آج اسپیشل اولمپکس لاکھوں کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر یکجا کرنے والی ایک اہم تنظیم بن چکی ہے۔ہٹلر پرقاتلانہ حملہ20 جولائی 1944ء کو جرمن فوجی افسرکرنل اسٹاؤفن برگ نے جرمن آمرایڈولف ہٹلر کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ اس منصوبے کے تحت ہیڈ کوارٹر میں بم نصب کیا گیا، تاہم دھماکے میں ہٹلر معمولی زخمی ہوا۔ قاتلانہ حملے کا بظاہر مقصد جرمنی اور اس کی مسلح افواج کا سیاسی کنٹرول نازی پارٹی سے چھیننا تھا۔ ناکام حملے کے بعد 7ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا اور 4980افراد کو پھانسی دی گئی۔خلائی سیاحت میں اہم سنگِ میل20 جولائی 2021ء کو امریکی کاروباری شخصیت جیف بیزوس اپنی نجی خلائی کمپنی بلیو اوریجن کے نیو شیپرڈ این ایس16 مشن کے ذریعے کامیابی سے خلا میں گئے۔ یہ مختصر مگر تاریخی پرواز خلائی سیاحت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوئی۔ اس مشن نے نجی شعبے کی خلائی صلاحیتوں کو اجاگر کیا ۔امریکہ اور کیوبا کے تعلقات کی بحالی20 جولائی 2015ء کو تقریباً پچاس برس بعد امریکہ اور کیوبا نے مکمل سفارتی تعلقات بحال کر لیے۔ دونوں ممالک نے اپنے اپنے سفارتخانے دوبارہ کھولے، جس سے سرد جنگ کے دور سے جاری کشیدگی میں نمایاں کمی آئی۔ اس تاریخی پیش رفت نے باہمی مذاکرات، تجارت، سفر اور تعاون کے نئے امکانات پیدا کیے۔ قبرص پر ترکی کا حملہ1974 ء میں آج کے روز ترکی نے فوجی کارروائی کرتے ہوئے قبرص کے شمالی حصے پر قبضہ کر لیا، جس کے بعد آج تک جزیرہ دو حصوں میں منقسم ہے۔ترکی نے دعویٰ کیا کہ وہ ترک نسل کے قبرصی باشندوں کے تحفظ کیلئے مداخلت کر رہا ہے۔ 2لاکھ یونانی قبرصی بے گھر ہوئے جبکہ تقریباً 3ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں لاپتہ ہوئے۔