صرف نام ہی نہیں، کام بھی ایک جیسا مقبولیت کے جھنڈے گاڑھنے والے پاکستان و بھارت کے ہم نام فنکار

صرف نام ہی نہیں، کام بھی ایک جیسا مقبولیت کے جھنڈے گاڑھنے والے پاکستان و بھارت کے ہم نام فنکار

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفرؔ


ہندوستان اور پاکستان کی فلمی صنعت میں کچھ فنکار ایسے بھی تھے جو ہم نام ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے اداکار بھی تھے۔ ویسے ایک مثال اداکارائوں کی بھی ہے جو ہم نام تھیں اور جنہوں نے اپنے اپنے ملک میں بہت مقبولیت حاصل کی۔
ہم نام اداکار تھے رحمان، ایک بھارتی رحمان اور دوسرے پاکستانی رحمان۔ بھارتی اداکار رحمان کے بارے میں سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ ان کے ایک سگے بھائی مسعود الرحمان پاکستان فلمی صنعت کے نامور کیمرہ مین تھے، اداکار فیصل رحمان ان ہی کے بیٹے ہیں۔ اس رشتے سے بھارتی اداکار رحمان پاکستانی اداکار فیصل رحمان کے سگے چچا تھے۔ بہت سے لوگ ماضی کی معروف بھارتی اداکارہ وحیدہ رحمان کو بھی رحمان خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں حالانکہ وحیدہ رحمان کا اداکار رحمان سے کوئی تعلق نہیں صرف لفظ رحمان کی وجہ سے کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ شاید یہ آپس میں رشتے دار تھے۔ بھارتی اداکار رحمان اس بات پر بہت نازاں تھے کہ ان کا بھائی اور بھتیجا پاکستانی فلمی صنعت میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔80ء کی دہائی میں وہ جب پاکستان آئے تو انہوں نے کئی پاکستانی فلمیں بھی دیکھیں اور دل کھول کر تعریف کی۔
بھارتی اداکار رحمان نے ہیرو کی حیثیت سے بھی کام کیا اور وہ ولن کے طور پر جلوہ گر ہوئے۔ پھر انہوں نے کریکٹر ایکٹر کی حیثیت سے اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ وہ ہر روپ میں فلم بینوں کی توقعات پر پورا اترے۔
رحمان نے ہیرو کی حیثیت سے کئی فلموں میں کام کیا۔ ان کی مشہور فلموں میں ''صاحب بی بی اور غلام، پیاسا، وقت، مجبور، آپ کی قسم، آندھی، دل دیا درد لیا‘‘ اور دیگر کئی فلمیں شامل ہیں۔ وہ جتنے خوش شکل تھے اتنے ہی اچھے اداکار تھے۔ ان کی کھنک دار آواز فلم بینوں کو فوری طور پر اپنی طرف متوجہ کر لیتی تھی۔ شیخ مختار کی فلم ''نور جہاں‘‘ میں انہوں نے شہنشاہ اکبر کا کردار ادا کیا۔ وہ 1990ء میں اس جہان رنگ و بو سے رخصت ہو گئے۔ بھارتی فلمی صنعت میں ہمیشہ ان کا احترام کیا جاتا رہا۔ ذاتی زندگی میں وہ ایک ملنسار اور وضع دار مخلص انسان تھے۔ انہیں شاعری سے بھی شغف تھا مطالعے کے بہت شوقین تھے۔ ان کے بارے میں ایک دفعہ مجروح سلطانپوری نے کہا تھا کہ رحمان وسیع القلب، وسیع النظر اور وسیع المطالعہ تھے۔ ذرا اندازا لگایئے کہ ایک شخصیت بیک وقت اتنی صفات کی حامل بھی ہو سکتی ہے؟۔
اب ذرا پاکستانی اداکار رحمان کی بھی بات ہو جائے۔ ان کا تعلق بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے تھا۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بنگالی فلموں کے علاوہ اردو فلموں میں بھی کام کرتے تھے۔ صرف اداکاری نہیں بلکہ انہوں نے فلمسازی بھی کی۔ ان کی مشہور فلموں میں ''تلاش‘‘، ''درشن‘‘، ''چندا‘‘، ''چاہت‘‘،'' دوستی‘‘ اور ''نادان‘‘ شامل ہیں۔ وہ اپنی فطری اداکاری کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ اداکارہ شبنم کے ساتھ ان کی جوڑی کو بہت پسند کیا جاتا تھا اور ان دونوں کی فلمیں باکس آفس پر بہت کامیاب ہوئیں۔ بدقسمتی سے ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران رحمان ایک حادثے کا شکار ہو گئے جس کے نتیجے میں وہ اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہو گئے لیکن انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور مصنوعی ٹانگ لگوا لی جس کے بعد انہوں نے اپنا فلمی سفر جاری رکھا۔
1971ء میں جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تو شبنم کی طرح رحمان نے بھی پاکستان میں قیام کو ترجیح دی۔ مشرقی پاکستان کے ایک گلو کار بشیر احمد کی آواز ان پربہت جچتی تھی۔ بشیر احمد بہت خوبصورت آواز کے مالک تھے اور انہوں نے روبن گھوش کی موسیقی میں کئی شاندار فلمی گیت گائے۔
پاکستان میں رحمان نے دو فلمیں بنائیں۔ ایک تھی ''چاہت‘‘ اور دوسری تھی'' دو ساتھی‘‘۔ دونوں فلموں کی موسیقی روبن گھوش کی تھی اور ان فلموں کے نغمات نے پورے ملک میں دھوم مچا دی تھی۔1974ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''چاہت‘‘ میں مہدی حسن کا گایا ہوا یہ گانا‘‘ پیار بھرے دو شرمیلے نین‘‘ خان صاحب کے معرکہ آرا گیتوں میں سے ایک ہے۔ اسی طرح ''دو ساتھی‘‘ میں غلام عباس کا گیت'' ایسے وہ شرمائے‘‘ بھی اپنی مثال آپ ہے۔
رحمان بڑی صاف ستھری فلمیں بناتے تھے اور ان کا شعور موسیقی بھی انتہائی قابل تحسین تھا۔ روبن گھوش ان کے بارے میں اکثر کہا کرتے کہ یہ شخص موسیقی کے اسرار و رموز کو سمجھتا ہے۔
رحمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ذاتی زندگی میں وہ عاجزی اور انکساری کا مجسمہ تھے۔ انتہائی دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والے رحمان نے کسی سے ناراض ہونا سیکھا ہی نہیں تھا۔
وہ پاکستان میں اپنی تیسری فلم ''تین کبوتر‘‘ بنا رہے تھے لیکن چند نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ فلم مکمل نہ ہو سکی۔ اس سے وہ بہت مایوس ہوئے۔ غالباً 1980ء میں وہ بنگلہ دیش چلے گئے، چند برس پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔
ہم نام ہونے کا شرف ہندوستانی اداکارہ ممتاز اور پاکستانی ممتاز کو بھی حاصل ہے۔ دونوں اداکارائوں میں صرف نام کی مماثلت ہی نہیں بلکہ کچھ اور خوبیاں بھی ایک جیسی تھیں۔ دونوں کمال کی ڈانسرز تھیں انہوں نے شوخ اداکاری کی وجہ سے بہت مقبولیت حاصل کی۔ دونوں کو گانا پکچرائز کرانے میں بھی ملکہ حاصل تھا۔ اگر بھارتی ممتاز روک اینڈ رول پر یہ گانا پکچرائز کراتی ہے '' آجکل تیرے میرے پیار کے چرچے ہر زبان پر‘‘ تو پاکستانی اداکارہ ممتاز بھی ''تت ترو ترو تارا تارا‘‘ جیسا مسحور کن گیت انتہائی خوبصورت انداز میں پکچرائز کرا کے فلم بینوں سے بے پناہ داد وصول کرتی ہے۔بھارتی اداکارہ ممتاز کی مشہور فلموں میں ''دو راستے، آپ کی قسم، برہم چاری، رام اور شیام‘‘ اور ''میلہ‘‘ شامل ہیں۔
پاکستانی اداکارہ ممتاز نے بھی کئی فلموں میں اپنی اداکاری اور رقص کے ذریعے فلم بینوں کو متاثر کیا۔ ان کی قابل ذکر فلموں میں ''انتظار، شرارت، ان داتا، محبت زندگی ہے، نوکر ووہٹی دا، شریف بدمعاش‘‘ اور دیگر فلمیں شامل ہیں۔ یہ ہم نام فنکار تھے اور ان سب نے ناکامی کے کانٹے نہیں بلکہ کامیابی کے پھول سمیٹے۔ یہ سب ہندوستان اور پاکستان کی فلمی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اورروزنامہ ''دنیا‘‘
سے طویل عرصہ سے وابستہ ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 سنہری مسجد

سنہری مسجد

مغلیہ عہدِ زوال میں تعمیر ہونے والا شاہکارلاہور کے قدیم فصیل بند شہر کی گلیوں اور بازاروں میں جا بجا تاریخی عمارتیں ملتی ہیں مگر سنہری مسجد اپنی منفرد شناخت اور دلکش طرزِ تعمیر کے باعث خاص مقام رکھتی ہے۔ کشمیری بازار کے چوک میں واقع یہ مسجد مغلیہ عہد کے آخری دور کے فنِ تعمیر کا ایک اہم نمونہ سمجھی جاتی ہے۔ سنہری مسجد کی تعمیر اس وقت ہوئی جب مغلیہ سلطنت اپنے زوال کی جانب گامزن تھی، اسی لیے اس کی ساخت اور انداز میں روایتی مغل طرزِ تعمیر کے ساتھ ایک مختلف جمالیاتی رجحان بھی نظر آتا ہے۔تعمیر کا پس منظرسنہری مسجد کی تعمیر 1753ء میں نواب بھکاری خان نے کروائی جو اُس زمانے میں لاہور کے ایک سرکاری عہدیدار تھے اور گورنر میر معین الملک المعروف میر منوں کے دورِ حکومت میں خدمات انجام دیتے رہے تھے۔ یہ مسجد ایسے مقام پر تعمیر کی گئی جہاں ایک سڑک دو حصوں میں تقسیم ہوتی تھی اور اس وقت یہ جگہ کشمیری بازار کے چوک میں ایک خالی قطعہ زمین تھی۔اس مقام کی اہمیت اور مصروفیت کے باعث مسجد کی تعمیر کے حوالے سے مقامی حکام کو خدشہ تھا کہ چوک میں عمارت کی تعمیر سے آمدورفت میں خلل پیدا ہوگا۔ اسی وجہ سے نواب بھکاری خان کو علماسے خصوصی فتویٰ حاصل کرنا پڑا تاکہ اس جگہ مسجد کی تعمیر کو مذہبی اور سماجی جواز فراہم کیا جا سکے۔ اس واقعے سے اس دور کے شہری نظم و نسق اور مذہبی حساسیت کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔سنہری مسجد لاہور کے تاریخی بازاروں کے مرکز میں واقع ہے، جو اسے ایک منفرد شہری شناخت عطا کرتی ہے۔ عام طور پر مساجد کھلے اور وسیع مقامات پر تعمیر کی جاتی تھیں مگر یہ مسجد ایک مصروف تجارتی مرکز میں واقع ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔فصیل بند شہر کے ہنگامہ خیز ماحول، تنگ گلیوں اور قدیم بازاروں کے درمیان اس مسجد کا وجود اس بات کی علامت ہے کہ مذہبی اور سماجی زندگی شہر کے قلب میں ہی پروان چڑھتی تھی۔ مسجد کا محلِ وقوع اسے صرف عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ ایک تاریخی و ثقافتی نشانی کی اہمیت بھی دلاتا ہے۔طرزِ تعمیر اور فنی خصوصیاتسنہری مسجد کا طرزِ تعمیر مغلیہ فنِ تعمیر سے متاثر ضرور ہے مگر اس میں روایتی مغل ڈیزائن کی کلاسیکی ہم آہنگی نسبتاً کم اور تزئین و آرائش کا ایک منفرد انداز زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔ مسجد کے گنبد سنہری رنگ کے باعث خاص توجہ حاصل کرتے ہیں جن کی وجہ سے اسے سنہری مسجد کہا جاتا ہے۔مسجد کے تین گنبد اور بلند مینار اس کی بیرونی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں جبکہ داخلی حصے میں محرابوں اور نقش و نگار کی سادہ مگر دلکش آرائش دکھائی دیتی ہے۔ یہ مسجد اگرچہ بادشاہی مسجد جیسی عظیم الشان نہیں مگر اپنی نفاست اور مقامی شہری انداز کے باعث ایک منفرد تعمیراتی شناخت رکھتی ہے۔تاہم معروف ماہرِ تعمیرات کامل خان ممتازنے سنہری مسجد کے طرزِ تعمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے مغلیہ فنِ تعمیر کی اصل روح سے انحراف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق قریب سے جائزہ لینے پر اس مسجد میں مغلیہ طرز کے عناصر میں بگاڑ واضح نظر آتا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ گنبدوں کی ساخت روایتی مغل گنبدوں کے بجائے غیر معمولی حد تک ابھری ہوئی ہے، جبکہ دیگر تزئینی عناصر میں بھی ایک غیر روایتی انداز جھلکتا ہے۔ ان کے مطابق دیواروں کی کنگریاں(merlons) سانپ کے پھنے جیسی شکل اختیار کر چکی ہیں اور ستونوں کے ڈیزائن میں نباتاتی اشکال کا غلبہ نظر آتا ہے۔یہ تنقید اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مغلیہ سلطنت کے آخری دور میں فنِ تعمیر کی کلاسیکی سادگی اور توازن کمزور پڑنے لگا اور اس کی جگہ نمائشی انداز نے لے لی۔مغلیہ عہد کے زوال کی عکاسیسنہری مسجد کی تعمیر کا زمانہ مغلیہ سلطنت کے زوال کا دور تھا جس کا اثر فنِ تعمیر پر بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اس کا موازنہ بادشاہی مسجد سے کر یں تو فرق نمایاں نظر آتا ہے۔ بادشاہی مسجد میں جہاں تناسب، وسعت اور شاہانہ وقار نمایاں ہے وہیں سنہری مسجد میں محدود جگہ، نسبتاً چھوٹے پیمانے اور تزئینی عناصر کی کثرت دکھائی دیتی ہے۔یہ فرق اس بات کی علامت ہے کہ مغلیہ دور کے آخری مرحلے میں وسائل، سیاسی استحکام اور تعمیراتی معیار میں نمایاں تبدیلی آ چکی تھی۔ثقافتی اور مذہبی اہمیتسنہری مسجد محض ایک تاریخی عمارت نہیں بلکہ آج بھی ایک فعال عبادت گاہ ہے جہاں نمازی بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ کشمیری بازار اور اندرونِ لاہور کے تاجر اور مقامی افراد اس مسجد سے گہرا روحانی تعلق رکھتے ہیں۔رمضان المبارک اور جمعہ کے اجتماعات کے دوران اس مسجد کا ماحول روح پرور ہو جاتا ہے۔ ہے۔آج کے دور میں سنہری مسجد لاہور کے اہم تاریخی ورثے کا حصہ ہے اور سیاحوں، محققین اور فوٹو گرافروں‘ ویڈیو گرافروں کے لیے خاص کشش رکھتی ہے۔ چونکہ محققین اور فوٹوگرافروں (خصوصاً تاریخی فنِ تعمیر میں دلچسپی رکھنے والوں) کے لیے یہ مسجد ایک اہم موضوع ہے اس لیے اس کی دستاویزی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔

الٹرا پروسیسڈ غذائیں : دل کی بیماریوں کا خطرہ 47 فیصد زیادہ

الٹرا پروسیسڈ غذائیں : دل کی بیماریوں کا خطرہ 47 فیصد زیادہ

جدید سائنسی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں (Ultra-processed foods) کا زیادہ استعمال دل کی بیماریوں کے خطرے میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ ایک حالیہ مطالعے کے مطابق ایسی غذائیں زیادہ کھانے والوں میں ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے امراض کا خطرہ تقریباً 47 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔الٹرا پروسیسڈ غذائیں کیا ہیں؟الٹرا پروسیسڈ غذائیں وہ صنعتی مصنوعات ہیں جو فیکٹریوں میں تیار کی جاتی ہیں اور جن میں چینی، نمک، غیر صحت بخش چکنائی، مصنوعی ذائقے، رنگ اور کیمیائی اجزاشامل کیے جاتے ہیں۔ سافٹ ڈرنکس، پیک شدہ سنیکس، پراسیسڈ گوشت، انسٹنٹ نوڈلز اور تیار شدہ فاسٹ فوڈ اس کی عام مثالیں ہیں۔ان غذاؤں کی تیاری کے دوران قدرتی غذائی اجزاکم ہو جاتے ہیں جبکہ مصنوعی اجزا کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے ان کی غذائی افادیت متاثر ہوتی ہے۔ایک تحقیق جس میں امریکی قومی سروے کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جس میں ہزاروں بالغ افراد شامل تھے۔ محققین نے شرکاکی روزمرہ خوراک کا جائزہ لیا اور معلوم کیا کہ ان کی کل کیلوریز میں الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا کتنا حصہ ہے۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ جو افراد زیادہ تر الٹرا پروسیسڈ خوراک کھاتے تھے ان میں دل کی بیماریوں کا خطرہ 47 فیصد زیادہ تھا۔ یہ اضافہ عمر، جنس، تمباکو نوشی اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھنے کے باوجود برقرار رہا۔سوزش اور میٹابولک مسائل کا کردارماہرین کے مطابق الٹرا پروسیسڈ غذائیں جسم میں سوزش (Inflammation) بڑھا سکتی ہیں۔ جسم میں سوزش کی زیادہ مقدار دل کی شریانوں کو متاثر کرتی ہے اور ہارٹ اٹیک کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے۔اسی طرح یہ غذائیں میٹابولک سنڈروم کا خطرہ بھی بڑھاتی ہیں جس میں موٹاپا، انسولین مزاحمت، ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی خرابی شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر دل کی بیماریوں کی بنیاد بنتے ہیں۔عالمی سطح پر بڑھتا ہوا رجحانتحقیق کے مطابق بعض ترقی یافتہ ممالک میں بالغ افراد کی روزمرہ خوراک کا تقریباً 60 فیصد اور بچوں کی خوراک کا 70 فیصد حصہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں پر مشتمل ہے۔ یہ شرح تشویشناک ہے کیونکہ ان غذاؤں کا تعلق پہلے ہی موٹاپے، ذیابیطس اور دیگر دائمی بیماریوں سے جوڑا جا چکا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سہولت، کم قیمت اور جارحانہ مارکیٹنگ نے ان مصنوعات کو عام زندگی کا حصہ بنا دیا ہے۔ بعض ماہرین اس مسئلے کو ماضی میں تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے رجحان سے تشبیہ دیتے ہیں۔ جس طرح سگریٹ کے نقصانات کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے میں دہائیاں لگیں اسی طرح الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کے مضر اثرات سے متعلق آگاہی بھی وقت لے سکتی ہے۔غذائی صنعت کی بڑی کمپنیاں ان مصنوعات کی تیاری اور تشہیر میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں جس سے صحت عامہ کے اقدامات کو چیلنج درپیش ہے۔مختلف مطالعات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال ذیابیطس، بعض اقسام کے کینسر، ذہنی دباؤ اور قبل از وقت موت کے خطرے سے بھی منسلک ہو سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان غذاؤں کے اثرات صرف دل تک محدود نہیں بلکہ مجموعی صحت پر پڑتے ہیں۔حل کیا ہے؟ماہرین صحت کے مطابق مسئلے کا حل صرف انفرادی سطح پر نہیں بلکہ پالیسی سطح پر بھی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ صحت بخش غذاؤں کی دستیابی کو آسان اور سستا بنانا، غذائی تعلیم کو فروغ دینا اور فوڈ لیبلنگ کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تازہ سبزیاں، پھل، دالیں اور کم پراسیسڈ غذائیں اپنی خوراک کا حصہ بنائیں اور پیک شدہ، میٹھی اور زیادہ نمک والی مصنوعات کا استعمال محدود کریں۔

رمضان کے مشروب وپکوان:ڈیٹ ڈیلائٹ

رمضان کے مشروب وپکوان:ڈیٹ ڈیلائٹ

اجزاء: کھجوریں دو پیالی( درمیان میں سے گھٹلی نکال کر گودا بنالیں )،میری بسکٹ ایک پیکٹ،ناریل آدھی پیالی ،چینی آدھی پیالی ،فریش کریم ایک پیالی،مارجرین چارکھانے کے چمچ(چاہیں توگھی بھی استعمال کرسکتے ہیں) ترکیب : سب سے پہلے ایک دیگچی میں مارجرین کو ہلکا سا گرم کریں، پھر اس میں کھجوروں کا گودا ڈال کر ہلکا سا بھون لیں۔ تاکہ اچھاسا پیسٹ بن جائے پھر شکر اور ناریل کی گری ڈال کر پانچ سے دس منٹ تک بھونیں بسکٹ کو توڑ کر چورا کرلیں پھر سب چیزوں کے ساتھ بسکٹ بھی ڈال دیں، دوتین منٹ بھون کر ایک تھالی میں ذرا سی چکنائی لگاکر کھجور اور بسٹ کے آمیزے کو پھیلا کر رکھ دیں۔ ٹھنڈا ہونے دیں فریش کریم کو خوب پھینٹیں، جب وہ گاڑھا ہوجائے تو اس کے اوپر ڈال دیں، چوکور ٹکڑے کاٹ کر پیش کریں۔ یہ ڈش چار سے چھ افراد کے لیے کافی ہے۔ پودینہ لیمونیڈپودینہ لیمونیڈ، لیموں، پانی اور پودینے کے پتوں سے تیار کیا جاتا ہے۔ یہ مشروب وٹامن سی اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم کو تازگی اور توانائی فراہم کرتا ہے۔ اس میں تھوڑا سا شہد شامل کر کے اسے مزید مفید بنایا جا سکتا ہے۔ یہ مشروب افطار کے دوران پینے کے لیے بہترین ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!حبیب ورسٹائل اداکار (2016-1931ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!حبیب ورسٹائل اداکار (2016-1931ء)

٭...1931ء میں بھارتی ریاست پٹیالہ میں پیدا ہوئے،اصل نام حبیب الرحمان تھا۔ تقسیم ہند کے وقت بھارت سے ہجرت کر کے گوجرانوالہ آئے۔٭...فلمی کریئر کا آغاز 1956ء میں فلم ''لخت جگر ‘‘ سے ہوا۔٭...1958ء میں ان کی فلم ''آدمی‘‘ ریلیز ہوئی، جسے ان کی بہترین فلم کہا جاتا ہے۔٭...50ء کی دہائی میں وہ اردو اور پنجابی فلموں کے یکساں مقبول اداکار تھے، ٭... وہ پاکستان کے پہلے ہیرو تھے جنہوں نے سب سے پہلے اپنی فلموں کی سنچری مکمل کی ۔٭... 60ء کی دہائی میں جب وہ اپنے کریئر کے ٹاپ پر تھے انہوں کریکٹر رول کرنا شروع کر دیئے تھے۔٭... مجموعی طور پر 203فلموں میں جلوہ گر ہوئے۔متعدد پنجابی فلموں میں بھی کام کیا۔٭... حبیب نے بطورپروڈیوسر اور ڈائریکٹر بھی فلمیں بنائیں۔ ٭... سیاست میں بھی حصہ لیا۔ وہ 1977ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے رہے لیکن بعد میں سیاست سے تائب ہو گئے۔ ٭...25فروری 2016ء کو 80برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے۔

آج کا دن

آج کا دن

ریوالور کا پیٹنٹ 25 فروری 1836ء کو امریکی موجد کولٹ سیموئیل کو اپنے مشہور ریوالور ڈیزائن کا پیٹنٹ حاصل ہوا۔ کولٹ کے ریوالور میں گھومنے والا سلنڈر تھا جس میں متعدد گولیاں موجود رہتی تھیں جس سے تیزی سے فائر کرنا ممکن ہو گیا۔ اس ٹیکنالوجی نے فوجی حکمت عملی، ذاتی دفاع اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے طریقہ کار پر گہرا اثر ڈالا۔ امریکہ کی توسیع، مغربی سرحدوں کی آبادکاری اور جنگی تاریخ میں کولٹ ریوالور ایک علامتی ہتھیار بن گیا۔خلائی کیمرہ ٹیکنالوجی 25 فروری 1964ء کو خلا میں جدید فوٹوگرافی کے تجربات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی جب خلائی مشنز میں استعمال ہونے والی خودکار کیمرہ ٹیکنالوجی کو مزید بہتر بنایا گیا۔ اس دور میں خلائی تحقیق تیزی سے ترقی کر رہی تھی اور تصاویر کی مدد سے زمین اور خلا کے مشاہدات کو محفوظ کرنا سائنسی تحقیق کے لیے نہایت اہم تھا۔ خودکار کیمروں نے ایسے ماحول میں کام کرنا ممکن بنایا جہاں انسان کی موجودگی محدود تھی۔ ان ٹیکنالوجیز نے موسمیاتی تبدیلیوں، زمین کی جغرافیائی ساخت اور خلائی مظاہر کے مطالعے میں انقلاب برپا کیا۔ نیپولین کی ایلبا سے واپسی25 فروری 1815ء کو فرانسیسی فوجی رہنما اور شہنشاہ نپولین بوناپارٹ جلاوطنی کے بعد جزیرہ ایلبا سے فرار ہو کر فرانس کی طرف روانہ ہوا۔ اس کی یہ واپسی یورپی سیاست میں تہلکہ خیز ثابت ہوئی۔ 1814ء میں شکست کے بعد نپولین کو ایلبا جلاوطن کر دیا گیا تھا مگر وہ دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے فرانس پہنچا اور عوام اور فوج کی بڑی تعداد نے ان کا ساتھ دیا۔ اس واقعے نے ''سو دن‘‘ (Hundred Days ) کے نام سے مشہور دور کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں یورپ کی بڑی طاقتیں ایک بار پھر متحد ہو گئیں۔ ویانا سٹیٹ اوپیرا کی دوبارہ تعمیر25 فروری 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم کے دوران تباہ ہونے والی ویانا سٹیٹ اوپیرا کی بحالی کے منصوبے پر عملی پیش رفت شروع ہوئی۔ آسٹریا کا یہ ثقافتی ادارہ یورپی موسیقی کی روایت کا ایک عظیم مرکز رہا ہے۔ جنگ کے دوران بمباری نے اس تاریخی عمارت کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے بعد اس کی بحالی ایک قومی ثقافتی مشن بن گئی۔ تعمیرِ نو کے اس عمل میں نہ صرف فنِ تعمیر کے ماہرین بلکہ موسیقاروں اور ثقافتی شخصیات نے بھی بھرپور کردار ادا کیا۔

مریم زمانی مسجد

مریم زمانی مسجد

تاریخی،ثقافتی اور جمالیاتی ورثہمریم زمانی مسجد جسے بیگم شاہی مسجد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے لاہور میں مغل دور کی اہم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے اور برصغیر کی اسلامی تعمیراتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔لاہور قلعہ کے بالمقابل اکبری دروازے کے باہر 1614ء میں تعمیرکی گئی یہ مسجد مغل شہنشاہ اکبر کی اہلیہ ملکہ مریم الزمانی سے منسوب ہے۔یہ مسجد نہ صرف اپنی تاریخی اہمیت کے باعث ممتاز ہے بلکہ اپنے منفرد فنِ تعمیر، تزئین و آرائش اور محلِ وقوع کے اعتبار سے بھی ایک نمایاں ثقافتی ورثہ ہے۔ شاہی قلعے کے دروازے کے بالکل سامنے واقع ہونے سے قلعے اور اس مسجد کے تعلق کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔یہ قربت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مسجد شاہی خاندان اور درباری افراد کے لیے بہت اہم رہی ہو گی۔فنِ تعمیرفنِ تعمیر کے لحاظ سے مریم زمانی مسجد مغل طرزِ تعمیر کے ابتدائی ارتقائی دور کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً پچاس میٹر مشرق تا مغرب اور پچاس میٹر شمال تا جنوب ہے، جس سے یہ ایک نسبتاً چھوٹی مگر متوازن اور منظم عمارت دکھائی دیتی ہے۔ اس مسجد کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا پانچ محرابی داخلی حصہ ہے جو بعد کے مغل دور میں تعمیر ہونے والی مساجد کا ایک مخصوص اور معیاری عنصر بن گیا۔ یوں یہ مسجد اس طرزِ تعمیر کی اولین مثالوں میں شمار ہوتی ہے جس نے بعد میں مغل مساجد کے ڈیزائن کو متاثر کیا۔تاریخی ماہرین کے مطابق یہ مسجد لودھی اور مغل طرزِ تعمیر کے درمیان ایک عبوری کیفیت کی عکاسی کرتی ہے‘ تاہم اس کی تعمیر چونکہ اس وقت ہوئی جب مغل سلطنت کو قائم ہوئے تقریباً نوے سال ہو چکے تھے اس لیے اسے مغل معماروں کی جانب سے روایتی افغان اور سلطنت دور کے طرزِ تعمیر کی ایک نئی تشریح قرار دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس کا مرکزی پیش طاق (پشتہ نما محراب)، گنبدی ساخت اور کشادہ صحن اس بات کی دلیل ہے کہ مغل معماروں نے سابقہ اسلامی تعمیراتی روایات کو اپناتے ہوئے انہیں اپنے جمالیاتی معیار کے مطابق ڈھالا۔اس مسجد کا تقابلی جائزہ دہلی کی قلعہ کہنہ مسجد سے لیا جائے تو دونوں عمارتوں کے خدوخال میں نمایاں مماثلت نظر آتی ہے۔ قلعہ کہنہ مسجد بھی ایک گنبد دار، پانچ محرابی عمارت ہے جس کے سامنے وسیع صحن موجود ہے۔ یہی خصوصیات مریم زمانی مسجد میں بھی نظر آتی ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ مغل فنِ تعمیر نے سابقہ افغان اور سلطنتی روایت کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا مگر اس میں اپنے مخصوص جمالیاتی عناصر شامل کیے۔تزئین و آرائش تزئین و آرائش کے اعتبار سے مریم زمانی مسجد اپنی نوعیت کی ایک شاندار مثال ہے۔ اس کے اندرونی حصے میں پلاسٹر پر بنے ہوئے مقرنس طرز کے طاق، کثیر رنگی فریسکو پینٹنگ اور باریک نقش و نگار پائے جاتے ہیں۔ جیومیٹریائی ڈیزائن، بیل بوٹے، درختوں کی مثالی تصاویر، گلدان اور پرندوں کی مصوری اس کے داخلی حسن کو مزید نکھارتی ہے۔ اگرچہ بیرونی حصے کی آرائش صدیوں کے موسمی اثرات اور آلودگی کے باعث خاصی متاثر ہو چکی ہے لیکن مرکزی پیش طاق کے اندر موجود مقرنس طاق اور اندرونی فریسکو آج بھی اپنی اصل شان کی جھلک پیش کرتے ہیں۔تاریخی روایات کے مطابق اس مسجد کی فریسکو آرائش اتنی مشہور تھی کہ لاہور قلعہ کے مشرقی دروازے کو ''مسجدی یا مسیتی دروازہ‘‘ کہا جانے لگا۔ یہ امر اس مسجد کی فنی عظمت اور اس کے ثقافتی اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔ اندرونی سجاوٹ کا انداز جہانگیر اور ابتدائی شاہجہانی دور کی عمارات سے مماثلت رکھتا ہے، جس میں سنجیدگی، توازن اور باوقار رنگوں کا استعمال نمایاں ہے۔ اس اسلوب میں وہی رسمی اور شائستہ جمالیات نظر آتی ہیں جو مغل دربار کے ذوقِ فن کی نمائندگی کرتی ہیں۔تعمیراتی خصوصیاتتعمیراتی نقطہ نظر سے یہ مسجد مغل دور کے اس مرحلے کی نمائندگی کرتی ہے جب سلطنت اپنی شناخت مستحکم کر رہی تھی اور فنِ تعمیر میں تجرباتی رجحانات موجود تھے۔ اکبر اعظم کے عہد میں شروع ہونے والی مذہبی اور ثقافتی وسعت نے ایسے منصوبوں کو فروغ دیا جن میں روایت اور جدت کا امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ اسی فکری تسلسل کے تحت مریم زمانی مسجد جیسی عمارات وجود میں آئیں جو نہ صرف عبادت گاہیں تھیں بلکہ ثقافتی علامت بھی بن گئیں۔اگرچہ بعد کے ادوار میں مغل فنِ تعمیر نے عظیم الشان مساجد کی صورت میں اپنی معراج حاصل کی جیسے بادشاہی مسجد لاہور، تاہم مریم زمانی مسجد کو ایک بنیادی اور ابتدائی نمونے کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی سادگی، تناسب اور تاریخی اہمیت اسے مغل فنِ تعمیر کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے ایک کلیدی مثال بناتی ہے۔آج کے دور میں مریم زمانی مسجد لاہور کے تاریخی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے اور محققین، سیاحوں اور فوٹو گرافروں کے لیے خصوصی دلچسپی کا مرکز ہے۔ یہ مسجد اس حقیقت کی علامت ہے کہ مغل عہد میں تعمیراتی فن صرف عظمت اور شان و شوکت تک محدود نہیں تھا بلکہ جمالیاتی توازن، روحانیت اور فنی باریکیوں پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی تھی۔ صدیوں پر محیط موسمی اثرات کے باوجود اس مسجد کی اصل شناخت بڑی حد تک محفوظ ہے، جو اس کی مضبوط تعمیر اور فنی مہارت کا ثبوت ہے۔