صرف نام ہی نہیں، کام بھی ایک جیسا مقبولیت کے جھنڈے گاڑھنے والے پاکستان و بھارت کے ہم نام فنکار

صرف نام ہی نہیں، کام بھی ایک جیسا مقبولیت کے جھنڈے گاڑھنے والے پاکستان و بھارت کے ہم نام فنکار

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفرؔ


ہندوستان اور پاکستان کی فلمی صنعت میں کچھ فنکار ایسے بھی تھے جو ہم نام ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے اداکار بھی تھے۔ ویسے ایک مثال اداکارائوں کی بھی ہے جو ہم نام تھیں اور جنہوں نے اپنے اپنے ملک میں بہت مقبولیت حاصل کی۔
ہم نام اداکار تھے رحمان، ایک بھارتی رحمان اور دوسرے پاکستانی رحمان۔ بھارتی اداکار رحمان کے بارے میں سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ ان کے ایک سگے بھائی مسعود الرحمان پاکستان فلمی صنعت کے نامور کیمرہ مین تھے، اداکار فیصل رحمان ان ہی کے بیٹے ہیں۔ اس رشتے سے بھارتی اداکار رحمان پاکستانی اداکار فیصل رحمان کے سگے چچا تھے۔ بہت سے لوگ ماضی کی معروف بھارتی اداکارہ وحیدہ رحمان کو بھی رحمان خاندان کا حصہ سمجھتے ہیں حالانکہ وحیدہ رحمان کا اداکار رحمان سے کوئی تعلق نہیں صرف لفظ رحمان کی وجہ سے کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ شاید یہ آپس میں رشتے دار تھے۔ بھارتی اداکار رحمان اس بات پر بہت نازاں تھے کہ ان کا بھائی اور بھتیجا پاکستانی فلمی صنعت میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔80ء کی دہائی میں وہ جب پاکستان آئے تو انہوں نے کئی پاکستانی فلمیں بھی دیکھیں اور دل کھول کر تعریف کی۔
بھارتی اداکار رحمان نے ہیرو کی حیثیت سے بھی کام کیا اور وہ ولن کے طور پر جلوہ گر ہوئے۔ پھر انہوں نے کریکٹر ایکٹر کی حیثیت سے اپنے فن کے جوہر دکھائے۔ وہ ہر روپ میں فلم بینوں کی توقعات پر پورا اترے۔
رحمان نے ہیرو کی حیثیت سے کئی فلموں میں کام کیا۔ ان کی مشہور فلموں میں ''صاحب بی بی اور غلام، پیاسا، وقت، مجبور، آپ کی قسم، آندھی، دل دیا درد لیا‘‘ اور دیگر کئی فلمیں شامل ہیں۔ وہ جتنے خوش شکل تھے اتنے ہی اچھے اداکار تھے۔ ان کی کھنک دار آواز فلم بینوں کو فوری طور پر اپنی طرف متوجہ کر لیتی تھی۔ شیخ مختار کی فلم ''نور جہاں‘‘ میں انہوں نے شہنشاہ اکبر کا کردار ادا کیا۔ وہ 1990ء میں اس جہان رنگ و بو سے رخصت ہو گئے۔ بھارتی فلمی صنعت میں ہمیشہ ان کا احترام کیا جاتا رہا۔ ذاتی زندگی میں وہ ایک ملنسار اور وضع دار مخلص انسان تھے۔ انہیں شاعری سے بھی شغف تھا مطالعے کے بہت شوقین تھے۔ ان کے بارے میں ایک دفعہ مجروح سلطانپوری نے کہا تھا کہ رحمان وسیع القلب، وسیع النظر اور وسیع المطالعہ تھے۔ ذرا اندازا لگایئے کہ ایک شخصیت بیک وقت اتنی صفات کی حامل بھی ہو سکتی ہے؟۔
اب ذرا پاکستانی اداکار رحمان کی بھی بات ہو جائے۔ ان کا تعلق بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے تھا۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بنگالی فلموں کے علاوہ اردو فلموں میں بھی کام کرتے تھے۔ صرف اداکاری نہیں بلکہ انہوں نے فلمسازی بھی کی۔ ان کی مشہور فلموں میں ''تلاش‘‘، ''درشن‘‘، ''چندا‘‘، ''چاہت‘‘،'' دوستی‘‘ اور ''نادان‘‘ شامل ہیں۔ وہ اپنی فطری اداکاری کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ اداکارہ شبنم کے ساتھ ان کی جوڑی کو بہت پسند کیا جاتا تھا اور ان دونوں کی فلمیں باکس آفس پر بہت کامیاب ہوئیں۔ بدقسمتی سے ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران رحمان ایک حادثے کا شکار ہو گئے جس کے نتیجے میں وہ اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہو گئے لیکن انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا اور مصنوعی ٹانگ لگوا لی جس کے بعد انہوں نے اپنا فلمی سفر جاری رکھا۔
1971ء میں جب مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تو شبنم کی طرح رحمان نے بھی پاکستان میں قیام کو ترجیح دی۔ مشرقی پاکستان کے ایک گلو کار بشیر احمد کی آواز ان پربہت جچتی تھی۔ بشیر احمد بہت خوبصورت آواز کے مالک تھے اور انہوں نے روبن گھوش کی موسیقی میں کئی شاندار فلمی گیت گائے۔
پاکستان میں رحمان نے دو فلمیں بنائیں۔ ایک تھی ''چاہت‘‘ اور دوسری تھی'' دو ساتھی‘‘۔ دونوں فلموں کی موسیقی روبن گھوش کی تھی اور ان فلموں کے نغمات نے پورے ملک میں دھوم مچا دی تھی۔1974ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''چاہت‘‘ میں مہدی حسن کا گایا ہوا یہ گانا‘‘ پیار بھرے دو شرمیلے نین‘‘ خان صاحب کے معرکہ آرا گیتوں میں سے ایک ہے۔ اسی طرح ''دو ساتھی‘‘ میں غلام عباس کا گیت'' ایسے وہ شرمائے‘‘ بھی اپنی مثال آپ ہے۔
رحمان بڑی صاف ستھری فلمیں بناتے تھے اور ان کا شعور موسیقی بھی انتہائی قابل تحسین تھا۔ روبن گھوش ان کے بارے میں اکثر کہا کرتے کہ یہ شخص موسیقی کے اسرار و رموز کو سمجھتا ہے۔
رحمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ذاتی زندگی میں وہ عاجزی اور انکساری کا مجسمہ تھے۔ انتہائی دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والے رحمان نے کسی سے ناراض ہونا سیکھا ہی نہیں تھا۔
وہ پاکستان میں اپنی تیسری فلم ''تین کبوتر‘‘ بنا رہے تھے لیکن چند نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ فلم مکمل نہ ہو سکی۔ اس سے وہ بہت مایوس ہوئے۔ غالباً 1980ء میں وہ بنگلہ دیش چلے گئے، چند برس پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔
ہم نام ہونے کا شرف ہندوستانی اداکارہ ممتاز اور پاکستانی ممتاز کو بھی حاصل ہے۔ دونوں اداکارائوں میں صرف نام کی مماثلت ہی نہیں بلکہ کچھ اور خوبیاں بھی ایک جیسی تھیں۔ دونوں کمال کی ڈانسرز تھیں انہوں نے شوخ اداکاری کی وجہ سے بہت مقبولیت حاصل کی۔ دونوں کو گانا پکچرائز کرانے میں بھی ملکہ حاصل تھا۔ اگر بھارتی ممتاز روک اینڈ رول پر یہ گانا پکچرائز کراتی ہے '' آجکل تیرے میرے پیار کے چرچے ہر زبان پر‘‘ تو پاکستانی اداکارہ ممتاز بھی ''تت ترو ترو تارا تارا‘‘ جیسا مسحور کن گیت انتہائی خوبصورت انداز میں پکچرائز کرا کے فلم بینوں سے بے پناہ داد وصول کرتی ہے۔بھارتی اداکارہ ممتاز کی مشہور فلموں میں ''دو راستے، آپ کی قسم، برہم چاری، رام اور شیام‘‘ اور ''میلہ‘‘ شامل ہیں۔
پاکستانی اداکارہ ممتاز نے بھی کئی فلموں میں اپنی اداکاری اور رقص کے ذریعے فلم بینوں کو متاثر کیا۔ ان کی قابل ذکر فلموں میں ''انتظار، شرارت، ان داتا، محبت زندگی ہے، نوکر ووہٹی دا، شریف بدمعاش‘‘ اور دیگر فلمیں شامل ہیں۔ یہ ہم نام فنکار تھے اور ان سب نے ناکامی کے کانٹے نہیں بلکہ کامیابی کے پھول سمیٹے۔ یہ سب ہندوستان اور پاکستان کی فلمی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اورروزنامہ ''دنیا‘‘
سے طویل عرصہ سے وابستہ ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
یقین اعلیٰ رکھیں!

یقین اعلیٰ رکھیں!

آپ کی کامیابی کا دائرہ اُتنا ہی وسیع ہو گا جتنا آپ کا یقین وسیع ہو گا۔ جتنی آپ کی سوچ محدود ہو گی اتنے ہی آپ کی کامیابی کے امکانات کم ہوں گے۔ بڑے منصوبوں کے بارے میں یقین رکھیں اور بڑی کامیابی حاصل کریں۔یاد رکھیں بڑے آئیڈیاز اور بڑے منصوبے اکثر آسان ہوتے ہیں، یقینی طور پر ایسے منصوبے زیادہ مشکل نہیں ہوتے جتنے کہ چھوٹے منصوبے مشکل ہوتے ہیں۔ جنرل الیکٹریکل کمپنی کے بورڈ کے چیئرمین مسٹر الف جے کورڈینر نے ایک کانفرنس میں کہاتھا کہ ''ہمیں ہر اس شخص کی ضرورت ہے جس میں قائدانہ صلاحیتیں ہوں، وہ ان صلاحیتوں کو خود اپنے لیے اور اپنی کمپنی کیلئے استعمال کرے گا تو اس کی ذات بھی ترقی کرے گی۔کوئی شخص کسی دوسرے کو حکم نہیں دے سکتا کہ وہ اپنے اندر بہتری پیدا کرے۔ یہ اس شخص کی مرضی پر منحصر ہے کہ خود اپنے مسئلے کے حل کیلئے کوشش کرے۔ اس میں کچھ وقت لگتا ہے کام کرنے کے علاوہ کچھ قربانی بھی دینا پڑتی ہے۔ یہ سب کچھ کوئی دوسرا کسی اور کیلئے نہیں کر سکتا‘‘۔مسٹر کورڈینر کی نصیحت بہت ٹھوس اور عملی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو لوگ کاروبار، مینجمنٹ، خرید وفروخت، انجینئرنگ، مذہبی کام، لکھنے پڑھنے وغیرہ میں اعلیٰ سطح تک پہنچ جاتے ہیں، وہ توجہ اور مسلسل کوشش سے منصوبہ بندی کر کے اپنی ذات کی نشوؤنما کر لیتے ہیں۔کوئی بھی تربیتی پروگرام جیسا کہ یہ کتاب اس نے بھی تین ہی چیزوں پر زور دیاہے۔ یہ آپ کو بتاتی ہے کہ کیا کرنا چاہیے؟ دوسرا یہ طریقہ کار بتاتی ہے کہ کیسے کرنا چاہیے اور تیسرا یہ کہ مقصد تک کیسے پہنچا جائے؟ اس سے مثبت نتائج پیدا ہوتے ہیں۔آپ کی ذات کی تربیت کا پروگرام کہ کامیابی کیونکر حاصل کی جائے، یہ بتاتا ہے کہ رویوں اور تکنیک سے لوگ کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔وہ اپنے یقین کو کس طرح مستحکم کرتے ہیں؟ وہ عام لوگوں سے کس طرح مختلف ہوتے ہیں؟ وہ کیسے سوچتے ہیں؟پھر دیکھیں آپ کی ترقی کا منصوبہ مسلسل حقیقی عمل کے تحت کیسے آگے بڑھتا ہے۔ ایسی رہنمائی آپ کو اس کتاب کے ہر باب میں ملے گی۔ اس رہنمائی دینے والے کام کو استعمال میں لائیں او رپھر اپنے آپ میں تبدیلی محسوس کریں۔تربیت کا سب سے اہم حصہ کیا نتائج پیدا ہوئے؟اس پروگرام کو اگر حقیقی طور پر استعمال میں لایا جائے تو یہ آپ کو کامیابی کی منزل کی طرف لے جائے گا۔ وہ کام جو آپ کو اب ناممکن لگتا ہے وہ آپ کیلئے بہت آسان ہو جائے گا۔ ا س کے اجزائے ترکیبی کو استعمال میں لائیں تو آپ کی ذات کی تربیت کا یہ پروگرام آپ کیلئے انعامات کا ایک سلسلہ لائے گا۔ خاندان میں آپ کی عزت بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ آپ کے دوست اور ساتھی آپ کی تعریف کریں گے۔ آپ کے خیالات بہت مفید ہو جائیں گے۔ معاشرے میں آپ کا وقار بڑھ جائے گا۔ آپ کی آمدنی میں اضافہ ہو جائے گا۔ آپ کا معیار زندگی بہت بلند ہو جائے گا۔آپ اپنی تربیت خود کریں گے کوئی آپ کے کندھوں پر سوار ہو کر نہیں بتائے گا کہ آپ کو کیا اور کیسے کرنا ہے؟ یہ کتاب ہی آپ کی رہنما ہو گی آپ کو صرف اپنے آپ کو سمجھنا ہے۔ آپ کو اپنی رہنمائی خود کرنی ہے اور اس تربیت کو عمل میں لانا ہے۔ آپ خود ہی اپنی ترقی کے ذمہ دا رہوں گے۔ آپ خود ہی صحیح عمل کا انتخاب کریں گے۔مختصراً یہ کہ آپ اپنی ذات کی تربیت کرنے جا رہے ہیں تاکہ بڑی سے بڑی کامیابی حاصل ہو سکے۔آپ کے پاس پہلے سے ہی آلات سے بھری ہوئی تجربہ گاہ موجود ہے، جس میں آپ کام اور مطالعہ کر سکتے ہیں۔ آپ کی تجربہ گاہ آپ کے اردگرد ہے۔ آپ کی تجربہ گاہ انسانوں پر مشتمل ہے۔ یہ لیبارٹری آپ کو انسانوں کے ہر عمل کی مثال مہیا کرے گی۔اگر آپ نے اپنی اس لیبارٹری میں ایک سائنسدان کی حیثیت سے اپنے آپ کو شناخت کر لیا تو پھر آپ کے سیکھنے کی کوئی حد نہ ہو گی۔ یہاں خریدنے کو کچھ بھی نہیں۔ اس لیبارٹری کا کوئی کرایہ وغیرہ بھی ادا نہیں کرنا پڑتا۔ اس لیبارٹری میں کوئی فیس بھی نہیں اداکرنا پڑتی۔ آپ اس لیبارٹری کو اپنی مرضی کے مطابق مفت استعمال کر سکتے ہیں۔آپ اس لیبارٹری کے خود ہی ڈائریکٹر ہیں۔ آپ کو اس لیبارٹری میں وہی کچھ کرنا ہو گا جو ایک سائنسدان کرتا ہے، مشاہدہ اور تجربہ۔کیا یہ حیرانی کی بات نہیں کہ زیادہ ترلوگ اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں کے عمل سے متعلق بہت تھوڑا جانتے ہیں۔زیادہ تر لوگوں کی مشاہدہ کرنے کی تربیت نہیں ہوتی۔ اس کتاب کا ایک اہم مقصد آپ کو مشاہدے کی تربیت میں مدد دینا بھی ہے۔ اس کے علاوہ آپ میں انسان کے عمل کو پرکھنے کی بصیرت پیدا کرنا بھی ہے۔زید کامیاب انسان کیوں ہے؟ اور بکر کیوں نہیں؟کچھ لوگوں کے بہت زیادہ دوست ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں کے بہت کم دوست کیوں ہیں؟۔ایک شخص جب کوئی بات کسی دوسرے کو بتاتا ہے تو لوگ ا س پر یقین کر لیتے ہیں لیکن جب یہی بات کوئی دوسرا شخص کہتا ہے تو لوگ ا س پر اعتبار ہی نہیں کرتے؟جب آپ نے ایک دفعہ تربیت حاصل کر لی، تو پھر آپ مشاہدے کے بہت ہی سادہ طریقہ کے اسباق کی اہمیت کو سمجھ جائیں گے۔یہاں خاص کر دو تجاویز آپ کو مشاہدے کی تربیت میں مدد دیں گی۔ آپ اپنے جاننے والوں میں دو ایسے افراد کا انتخاب کریں جو بہت زیادہ کامیاب شخص ہیں اور دو ایسے آدمیوں کا انتخاب کریں جو بہت ہی ناکام ہیں۔ تب مشاہدہ کریں کہ آپ کے کامیاب دوستوں نے کامیابی کے کون سے اصولوں کو اپنایا تھا اور ناکام دوستوں نے کن اصولوں کو اپنایا تھا اور ان باتوں کو ایک کاغذ میں لکھتے جائیں۔ تب ان نوٹس کا مشاہدہ کریں تو سچ سامنے آ جائے گا۔ہر دوسرے شخص سے آپ کا رابطہ آپ کو موقع فراہم کرتا ہے کہ کام کے دوران آپ کامیابی کے اصول کی ترقی کا جائزہ لے سکتے ہیں؟آپ کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ کامیابی کے عمل کو اپنی عادت بنا لیں۔ جب ہم کسی بات کو بار بار دوہراتے ہیں تو جلد ہی وہ ہماری عادت ثانیہ اور ہمارے ذہن کا حصہ بن کر عمل میں آ جاتی ہے۔ ہمارے دوستوں میں سے کچھ لوگ باغبانی کا مشغلہ رکھتے ہیں۔ ہم انہیں یہ کہتے ہوئے اکثر سنتے ہیں کہ پودوں کو اگتے دیکھنا بہت ہی اچھا لگتا ہے۔ پھر وہ پودوں کو پانی اور کھاد بھی دیتے ہیں۔ اب پودے پچھلے ہفتے کی نسبت بہت بڑے ہو چکے ہیں۔یقین کیجیے، جب انسان احتیاط کے ساتھ فطرت کے ساتھ تعاون کرتا ہے تو اس وقت بھی بہت ہی شاندار واقعات پید اہوتے ہیں۔لیکن یہ تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں جو کچھ آپ اپنی ذات میں دیکھیں گے جب آپ نے منظم طور پر اس پروگرام کو اپنی ذات کا حصہ بنا لیا۔ آپ محسوس کریں گے کہ آپ کے اعتماد کی نشوؤنما ہو رہی، یہ مزید فعال ہو رہا ہے، دن بدن زیادہ کامیاب اور ماہ بہ ماہ اس سے بھی زیادہ۔ یہ تو کچھ بھی نہیں۔ جب آپ کامیابی کی شاہراہ پر آ جائیں گے تو یہ زندگی میں آپ کو زیادہ مطمئن رکھے گا، پھر آپ کے سامنے کوئی چیلنج ناممکن نہ رہے گا۔

گائے پالنے کے ماحولیاتی اثرات!

گائے پالنے کے ماحولیاتی اثرات!

دودھ اور گوشت کی بڑھتی طلب، ماحول کیلئے نیا چیلنجگائے صدیوں سے انسانی زندگی کا اہم حصہ رہی ہے۔ دودھ، گوشت، چمڑا اور زرعی ضروریات پوری کرنے میں اس جانور کا کردار ناقابلِ انکار ہے۔ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ دودھ اور گوشت کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں مویشی پالنے کی صنعت بھی تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں سائنس دانوں نے اس صنعت کے ایک ایسے پہلو کی نشاندہی کی ہے جس نے ماحولیاتی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق گائے پالنا موسمیاتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرنے والے عوامل میں شامل ہے، کیونکہ اس سے بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوتی ہیں۔ماہرین کے مطابق عالمی غذائی نظام دنیا بھر میں پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے تقریباً ایک تہائی اخراج کا ذمہ دار ہے، جس میں مویشی پالنے کا حصہ نمایاں ہے۔ گائے اپنے نظامِ ہاضمہ کے دوران میتھین نامی گیس خارج کرتی ہے، جو ماحول کیلئے انتہائی نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔ سائنسی مطالعات کے مطابق میتھین، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں تقریباً 30 گنا زیادہ حرارت فضا میں پیدا کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے عالمی حدت میں اضافے کا ایک اہم سبب قرار دیا جاتا ہے۔تحقیقی اندازوں کے مطابق ایک فارم کی گائے سالانہ اوسطاً اتنی گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتی ہے جو تقریباً تین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی ہوتی ہیں۔ چونکہ دنیا کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، اس لیے دودھ اور گوشت کی طلب بھی بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں مویشیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر ماحول پر پڑتا ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔گائے پالنے کے ماحولیاتی اثرات صرف میتھین تک محدود نہیں۔ مویشیوں کیلئے چارہ اگانے کی خاطر وسیع رقبوں پر جنگلات کا صفایا کیا جاتا ہے، جس سے حیاتیاتی تنوع متاثر ہوتا ہے اور درختوں کی وہ قدرتی صلاحیت کم ہو جاتی ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی کھادوں کا استعمال، مویشیوں کے فضلے سے پیدا ہونے والی گیسیں، اور دودھ و گوشت کو مختلف ممالک تک پہنچانے کیلئے استعمال ہونے والا ایندھن بھی ماحول پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ان خدشات کے باوجود سائنسدان اس مسئلے کا حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ حالیہ تحقیقات میں گایوں کی خوراک میں سمندری کائی (سی ویڈ) شامل کرنے کے تجربات کیے گئے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ سمندری کائی کھانے والی گایوں سے خارج ہونے والی میتھین میں 30 فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سمندری کائی کی معمولی مقدار مویشیوں کے چارے میں شامل کی گئی اور اس کے نمکین ذائقے کو چھپانے کیلئے شیرہ (مولاسس) ملایا گیا۔ اس تجربے کے بعد میتھین کے اخراج میں تقریباً ایک تہائی کمی ریکارڈ کی گئی، جسے ماہرین نے حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا۔تحقیق کی قیادت کرنے والے حیوانی سائنس دان پروفیسر ارمیاس کیبریاب کے مطابق انہیں توقع نہیں تھی کہ سمندری کائی کی اتنی کم مقدار بھی اتنے نمایاں نتائج دے گی۔ اب محققین گوشت کیلئے پالے جانے والے مویشیوں پر بھی اسی طرز کی خوراک کے اثرات جانچنے کیلئے مزید مطالعات کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جڑی بوٹیوں پر مشتمل خصوصی چاروں اور بہتر مویشی پالنے کے طریقوں پر بھی تحقیق جاری ہے تاکہ ماحول دوست فارمنگ کو فروغ دیا جا سکے۔ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ مویشی پالنے کو مکمل طور پر ختم کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی ضروری، کیونکہ دنیا کے کروڑوں افراد کی خوراک، روزگار اور معیشت اس شعبے سے وابستہ ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ جدید سائنسی تحقیق کی مدد سے ایسے طریقے اپنائے جائیں جن سے دودھ اور گوشت کی پیداوار برقرار رہے، مگر ماحول پر اس کے منفی اثرات کم سے کم ہوں۔ بہتر چارہ، جدید فارمنگ، جنگلات کا تحفظ اور خوراک کے ضیاع میں کمی جیسے اقدامات اس سلسلے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اب وقت آ گیا ہے کہ زرعی شعبہ، سائنس دان، حکومتیں اور صارفین مل کر ایسے پائیدار حل تلاش کریں جو غذائی ضروریات بھی پوری کریں اور زمین کے ماحول کو بھی محفوظ رکھیں۔ اگر بروقت اقدامات کیے گئے تو مویشی پالنے کے شعبے کو زیادہ ماحول دوست بنا کر آنے والی نسلوں کیلئے ایک متوازن اور محفوظ مستقبل یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

افغانستان سے امریکی انخلاء افغانستان میں تقریباً دو دہائیوں پر محیط جنگ کے بعد 30 اگست 2021ء کو امریکہ کے آخری فوجی دستے بھی افغانستان سے روانہ ہوگئے۔ اس انخلا کے ساتھ ہی افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت اور جنگی کارروائیوں کا باضابطہ اختتام ہوگیا۔ یوں 2001ء میں شروع ہونے والی جنگ، جس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے طالبان کے خلاف طویل عرصے تک فوجی کارروائیاں کیں، اپنے انجام کو پہنچی۔ میلبورن کی بنیاد رکھی گئی1835ء میں آج کے روز آسٹریلیا کے شہر میلبورن کی بنیاد رکھی گئی۔اس شہر کو آزاد کئے گئے قیدیوں نے آباد کیا۔ 1850ء کی دہائی میں سونے کی دریافت کے باعث یہ ایک ابھرتا ہوا شہر بن گیا۔ 1865ء میں یہ آسٹریلیا کا سب سے بڑا اور اہم شہر تھا۔1927ء میں کینبرا کے قیام تک یہ آسٹریلیا کا دارالحکومت بھی رہا۔ جاپان بم دھماکہ30 اگست 1974ء کو جاپان کے شہر ٹوکیو میں مٹسوبشی ہیوی انڈسٹری کے ہیڈ کوارٹر پر دہشت گرد حملہ ہوا۔ جس میں 8 افراد جان بحق اور 376زخمی ہوئے۔ حملہ بائیں بازو کی جاپان مخالف تنظیم ''ایسٹ ایشیا اینٹی جاپان آرمڈ فرنٹ‘‘ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ مٹسوبشی ہیوی انڈسٹریز پر ویتنام جنگ کے دوران شمالی ویتنام کے خلاف امریکہ کو مدد فراہم کرنے کا الزام تھا۔ اسے جاپان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں دوسرا سب سے زیادہ تباہ کن سمجھا جاتا ہے۔ دوسرا ویانا ایوارڈ دوسرے ویانا ایوارڈ نازی جرمنی اور فاشسٹ اٹلی کے درمیان ثالثی کا باعث بنا تھا۔ 30 اگست 1940ء کو انہوں نے رومانیہ سے ہنگری تک شمالی ٹرانسلوینیا کا علاقہ تفویض کیا، پہلی جنگ عظیم کے بعد، ہنگری کی کثیر الثانی بادشاہی کو 1920ء کے معاہدے ٹریانون کے ذریعے تقسیم کر کے کئی نئی ریاستیں تشکیل دی گئیں، لیکن ہنگری نے نوٹ کیا کہ ریاست کی نئی سرحدیں نسلی حدود کی پیروی نہیں کرتیں۔ اہم خلائی شٹل پروگرام 1983ء میں آج کے روز خلائی شٹل پروگرام کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل اس وقت قائم ہوا جب خلائی شٹل چیلنجر نے مشن ایس ٹی ایس8 کیلئے پرواز بھری۔ یہ خلائی شٹل پروگرام کا پہلا رات کے وقت انجام دیا جانے والا لانچ تھا۔ اسی تاریخی مشن کے دوران گیون بلفورڈ خلا میں جانے والے پہلے افریقی نژاد امریکی بن گئے۔ ان کی یہ کامیابی امریکی خلائی تاریخ میں ایک نمایاں اور یادگار واقعے کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ایرو فلوٹ حادثہچیلیا بنسک سے الماتی جانے والی سوویت ڈومیسٹک فلائٹ ''ایرو فلوٹ فلائٹ 5463‘‘ 30 اگست 1983ء کو الماتی کے قریب گر کر تباہ ہو گئی۔ حادثہ ڈولان پہاڑ کی مغربی ڈھلوان سے جہازکے ٹکرا نے کے باعث پیش آیا ۔ جہاز میں سوار90افراد میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے اس حادثے کی تحقیقات کی گئیں اور مشترکہ طور پر یہ فیصلہ سامنے آیا کہ جہاز کو عملہ کنٹرول نہیں کر پایا اور جہاز میں موجود عملے کو ہی حادثے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

خلاء سے گرایا گیا موبائل فون محفوظ

خلاء سے گرایا گیا موبائل فون محفوظ

جدید ٹیکنالوجی کے حامل موبائل کورکی بدولتموبائل فون ہماری روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، مگر معمولی سی بلندی سے گرنے پر بھی اس کے ٹوٹنے کا خدشہ رہتا ہے۔ تاہم جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط حفاظتی کیس کی تیاری نے اس تصور کو حیرت انگیز انداز میں بدل دیا ہے۔ ایک منفرد تجربے میں موبائل فون کو خلا کی انتہائی بلندی سے زمین کی جانب گرایا گیا، لیکن حفاظتی کیس کی بدولت یہ فون محفوظ رہا، اس کارنامے کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف جدید حفاظتی ٹیکنالوجی کی شاندار مثال ہے بلکہ سائنس اور انجینئرنگ کی ترقی کا بھی ایک دلچسپ ثبوت ہے۔موبائل فون کے حفاظتی کیس بنانے والی ایک کمپنی نے اپنے ڈیزائن کی مضبوطی کا انتہائی منفرد اور حیرت انگیز امتحان لیا۔ کمپنی نے ایک موبائل فون کو حفاظتی کیس میں رکھ کر خلا کی انتہائی بلندی سے زمین کی جانب گرایا، جسے بعد میں مکمل طور پر محفوظ اور بغیر کسی نقصان کے بازیاب کر لیا گیا۔راہینو شیلڈ اور ''سینٹ ان ٹو سپیس‘‘نے اس شاندار عالمی ریکارڈ کیلئے مشترکہ طور پر کام کیا۔ دونوں کمپنیوں نے زمینی سطح پر موبائل فون کو کیس سمیت سب سے زیادہ بلندی سے گرانے کا متاثر کن ریکارڈ قائم کیا۔24 جون کو سویڈن کے شہر کیرونا میں موبائل فون کو بازیاب کیا گیا اور حیرت انگیز طور پر 30,607 میٹر (ایک لاکھ 418 فٹ 8 انچ) کی بلندی سے گرنے کے باوجود اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔ موازنے کے طور پر یہ بلندی تجارتی مسافر طیاروں کی معمول کی پرواز کی بلندی، یعنی تقریباً 9ہزار میٹر (30ہزار فٹ)، سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔ یہ دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کی 8,848 میٹر (29,031 فٹ) بلندی سے بھی تین گنا سے زیادہ ہے۔''راہینو شیلڈ‘‘ کے برانڈ ایکسپیرینس منیجر موجو ہسیاؤ کے مطابق، اس حیرت انگیز تجربے کا آغاز کمپنی کے بانی ایرک وانگ کے ایک ''دیوانہ وار مگر منفرد خیال‘‘ سے ہوا تھا۔یہ واقعہ گزشتہ برس کمپنی کی ''ایئر ایکس‘‘ (AirX) مصنوعات کی نئی لائن متعارف کرانے کے فوراً بعد پیش آیا۔ کمپنی ہمیشہ سے فضلہ کم سے کم کرنے کو اپنی بنیادی اقدار میں شامل رکھتی ہے اور 2017ء سے یکساں مواد پر مبنی ڈیزائن کے اصول کو اپنائے ہوئے ہے، جس کے تحت اس کے موبائل فون کیسز 100 فیصد قابلِ ری سائیکل بنائے جاتے ہیں۔ موجو نے بتایا کہ ایئر ایکس ایک انقلابی پیش رفت تھی، جسے کمپنی کی ڈیزائن اور تحقیق و ترقی کی لیبارٹریوں نے ایک سال سے زائد عرصے کی محنت کے بعد مکمل کیا۔ پائیداری پر سمجھوتا کیے بغیر صرف ایک ہی قسم کے مواد سے اعلیٰ معیار کا حفاظتی کیس تیار کرنا غیر معمولی تخلیقی انجینئرنگ کا تقاضا کرتا تھا۔ جب کمپنی کے بانی ایرک وانگ نے ٹیم کی تیار کردہ مصنوعات دیکھی تو انہوں نے سوال کیا: ''کیوں نہ گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کرکے اس کی حدود آزمائی جائیں؟‘‘انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں اس تجربے کیلئے مختلف خیالات پیش کیے گئے، جن میں موبائل فون کو 15 میٹر کی بلندی سے مسلسل 50 مرتبہ گرانا یا سب سے زیادہ پائیدار یکساں مواد سے تیار کردہ موبائل کیس کا ریکارڈ قائم کرنا شامل تھا۔ تاہم کمپنی کی خواہش تھی کہ موبائل فون کی حفاظت کو لفظی طور پر نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے، اس لیے گرم ہوا کے غباروں، اسکائی ڈائیونگ اور موسمی غباروں کے ذریعے تجربات کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ بالآخر ایرک وانگ نے کہا کہ اگر ہمیں بلندی تک جانا ہی ہے تو کیوں نہ انسانی طور پر ممکنہ حد تک بلند جائیں۔ یہی سوچ آگے چل کر اسٹریٹوسفیر سے موبائل فون گرانے کے منفرد تجربے کی بنیاد بنی۔کیس کی تیاری کیلئے گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایئر بیگز اور کھیلوں کے جوتوں میں جھٹکا جذب کرنے کیلئے استعمال ہونے والے ہوائی کشنز سے تحریک حاصل کی گئی۔ اس ڈیزائن کا مقصد موبائل فون کو شدید ضرب اور اچانک جھٹکوں سے مؤثر انداز میں محفوظ رکھنا تھا۔ اس تجربے کے دوران موبائل فون کو ایک غبارے کے ذریعے خلا کی بلندی تک پہنچایا گیا اور وہاں سے آزاد چھوڑ دیا گیا۔ فون جیسے ہی تیزی سے زمین کی جانب گرنے لگا، تجربے میں شامل تمام افراد بے چینی اور حیرت کے ساتھ اس کی واپسی کا انتظار کرتے رہے۔ سب کی نظریں اس بات پر مرکوز تھیں کہ آیا جدید حفاظتی کیس موبائل فون کو اس انتہائی خطرناک سفر کے بعد محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔موجو نے کہا کہ اگر میں یہ کہوں کہ ہمیں ذرا بھی گھبراہٹ نہیں ہوئی تو یہ جھوٹ ہوگا! عام لیبارٹری میں موبائل فون کو تقریباً 1.2 میٹر کی بلندی سے گرا کر اس کی مضبوطی جانچی جاتی ہے۔ انتہائی نوعیت کے تجربات کیلئے ہم اپنے چھٹی منزل پر واقع دفتر سے بھی موبائل فونز کو تقریباً 23 میٹر کی بلندی سے گراتے رہتے ہیں۔ لیکن اسٹریٹوسفیر کی بلندی 26ہزار سے 36ہزار میٹر تک ہوتی ہے، جو ہمارے دفتر کی عمارت سے ایک ہزار گنا سے بھی زیادہ بلند ہے۔اس کارنامے کو مزید مشکل بنانے کیلئے گنیز ورلڈ ریکارڈز کی ہدایات کے تحت پیراشوٹ کے استعمال پر سخت پابندی عائد تھی اور یہ لازمی قرار دیا گیا تھا کہ فون کا کیس سب سے پہلے براہِ راست زمین سے ٹکرائے۔ تیاری کے دوران ہماری ٹیم نے بالائی فضائی تہوں جیسے انتہائی سرد حالات کی نقل کرنے کیلئے نقط انجماد سے کم درجہ حرارت پر تجربات کیے، جبکہ فضائی دباؤ کے ٹیسٹ بھی کیے گئے۔ ہم نے بدترین ممکنہ صورتحال کیلئے مکمل تیاری کی اور بہترین نتائج کی امید رکھی۔فون کو اتنی بلندی سے گرائے جانے کے بعد اسے تلاش کرنے اور واپس حاصل کرنے میں ٹیم کو سینٹ اِنٹو اسپیس کی مدد حاصل ہوئی۔کمپنی نے لانچ کیلئے سویڈن میں واقع ایسرینج اسپیس سینٹرکو استعمال کیا۔ یہ ایک محدود علاقہ ہے جس کا رقبہ تقریباً 5,200 سے 5,600 مربع کلومیٹر ہے، یعنی تقریباً لکسمبرگ کے رقبے سے دو گنا بڑا۔

صحت بخش سبزیاں بھی سرطان کا باعث؟

صحت بخش سبزیاں بھی سرطان کا باعث؟

صحت مند زندگی کیلئے سبزیوں کا استعمال ہمیشہ مفید اور ضروری سمجھا جاتا ہے، تاہم حالیہ تحقیق نے سبزیوں میں استعمال ہونے والے بعض پریزرویٹوز (Preservative) کے حوالے سے ایک تشویشناک پہلو اجاگر کیا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق ان کیمیکلز کا استعمال مردوں میں آنتوں کے سرطان کے خطرے میں 50 فیصد تک اضافے سے منسلک ہو سکتا ہے۔ یہ انکشاف خوراک کے معیار، سبزیوں کی کاشت اور محفوظ غذائی عادات کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، بعض اقسام کی پتوں والی سبزیاں کھانے سے آنتوں کے کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ سوئس چارڈ جیسی سبز سبزیوں میں پائے جانے والے ایک مرکب، جسے نائٹرائٹس کہا جاتا ہے، کی زیادہ مقدار استعمال کرنے سے اس مہلک بیماری کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ یہ بات پہلے ہی معلوم ہے کہ نائٹرائٹس نامی مرکبات آنتوں کے سرطان کی نشوؤنما میں کردار ادا کرتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے نائٹرائٹس کو گروپ 1 سرطان کا مادہ قرار دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ انہیں تمباکوکی طرح خطرناک سمجھا جاتا ہے۔اب تک خدشات کا مرکز زیادہ تر وہ نائٹرائٹس رہے ہیں جو پراسیس شدہ گوشت میں شامل کیے جاتے ہیں۔ ان کا استعمال گوشت کی مدتِ استعمال بڑھانے اور اس کا گلابی رنگ برقرار رکھنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اضافی مادے گوشت میں موجود پروٹین کے ساتھ تعامل کر کے نائٹروسامینز (nitrosamines) تشکیل دیتے ہیں، جو آنتوں کے صحت مند خلیات کو سرطان زدہ بنا سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں آنتوں کے سرطان کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ میں ہر سال 48 ہزار سے زائد افراد میں اس بیماری کی تشخیص ہوتی ہے۔ یہ بیماری اب 50 سال سے کم عمر افراد میں موت کی بڑی وجوہات میں سے ایک بن چکی ہے۔ تحقیق، جو جرنل آف دی نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ میں شائع ہوئی، میں سویڈن سے تعلق رکھنے والے 82 ہزار درمیانی عمر کے افراد کی غذائی عادات کا تجزیہ کیا گیا۔ ان افراد نے 1997ء ، 2009ء اور 2019ء میں خوراک سے متعلق سوال نامے مکمل کیے تھے۔ایسے افراد کو تحقیق میں شامل نہیں کیا گیا جنہیں پہلے کسی قسم کے سرطان کی تشخیص ہو چکی تھی۔محققین نے شرکا کی روزانہ اوسط نائٹرائٹ مقدار کا اندازہ لگانے کیلئے فوڈ ایجنسی کے دستیاب اعداد و شمار کے علاوہ سینکڑوں غذائی اشیا میں نائٹرائٹس کی مقدار سے متعلق اپنی پیمائشوں کو بھی استعمال کیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ مردوں میں نائٹرائٹس کی مجموعی مقدار کا نصف سے کچھ زیادہ حصہ گوشت کی مصنوعات سے حاصل ہوتا تھا، جبکہ پراسیس شدہ گوشت کا حصہ تقریباً ایک چوتھائی تھا۔تقریباً 20 فیصد نائٹرائٹس سبزیوں، پنیر اور دیگر دودھ سے بنی اشیا سے حاصل ہوتے تھے۔20 سالہ مشاہداتی عرصے کے دوران 3 ہزار 170 شرکا میں کولوریکٹل یا بڑی آنت کے سرطان کی تشخیص ہوئی۔مردوں میں اس بیماری کے زیادہ کیسز سامنے آئے اور جن مردوں کی خوراک میں نائٹرائٹس کی مقدار سب سے زیادہ تھی، ان میں سب سے کم مقدار استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں آنتوں کے سرطان کی تشخیص کا امکان 23 فیصد زیادہ پایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین میں نائٹرائٹس کے استعمال اور آنتوں کے سرطان کے درمیان کوئی نمایاں تعلق سامنے نہیں آیا۔محققین نے خوراک میں فائبر کی مقدار، جو آنتوں کے سرطان سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے معروف ہے، کے علاوہ عمر، خاندانی طبی تاریخ، وزن اور تمباکو نوشی کی عادت جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا۔ ان عوامل کے تجزیے کے بعد محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ نائٹرائٹس سے بھرپور غذا مردوں میں آنتوں کے سرطان کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے، خواہ نائٹرائٹس کسی بھی غذائی ذریعے سے حاصل ہوں۔یہ تعلق آنتوں کے نچلے حصے کو متاثر کرنے والے سرطان کے حوالے سے سب سے زیادہ مضبوط نظر آیا۔ سب سے زیادہ نائٹرائٹس استعمال کرنے والے مردوں میں اس قسم کے سرطان کا خطرہ 50 فیصد زیادہ پایا گیا۔

آج تم یاد بے حساب آئے!پرویز مہدی غزلوں اور گیتوں کونئی رمق بخشنے والا گلوکار

آج تم یاد بے حساب آئے!پرویز مہدی غزلوں اور گیتوں کونئی رمق بخشنے والا گلوکار

٭...غزل اور گیت گائیکی میں منفرد مقام رکھنے والے گلوکار پرویز مہدی 14 اگست 1947ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔٭...ان کے والد بشیر حسین راہی ریڈیو پاکستان کے ایک مقبول گلوکار تھے۔٭...گانے کا شوق انہیں بچپن سے ہی تھا۔ والد نے اپنے بیٹے کی لگن اور شوق کو دیکھتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کی۔٭... گائیکی میں پختگی لانے کیلئے پہلے انہوں نے جے اے فاروق سے موسیقی کی تربیت حاصل کی اور بعد میں مہدی حسن کے پہلے علانیہ شاگرد بنے۔٭... ان کا اصل نام پرویز حسن تھا، شہنشاہ غزل مہدی حسن کی شاگردی اختیار کرنے کے بعد اپنا نام پرویز مہدی رکھ لیا۔٭...پرویز مہدی نے 70ء کی دہائی میں اپنے فنی سفرکا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے موسیقی کے افق پر چھا گئے۔٭...70ء کی دہائی میں ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے گیت ''میں جانا پردیس‘‘ نے انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ٭... وہ بنیادی طورپر غزل گائیک تھے، گیت اور فوک گیت گانے میں بھی خاص کمال اور مہارت رکھتے تھے۔٭... انہوں نے 30سال تک گلوکاری کے اپنے سفر میں کئی شعرا کا کلام گایا اور ان کی شاعری کو مقبول و عام کیا۔٭... پرویز مہدی نے جہاں غزل گائیکی کو نیا اور دلکش انداز دیا، وہیں ان کے پنجابی گیتوں نے بھی خوب مقبولیت حاصل کی۔٭... پرویز مہدی نے ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ یادگار گانا ''تک چن پیا جاندا ای‘‘ گایا، جو بہت پسند کیا گیا۔٭... ان کا ریشماں کے ساتھ گایا ہوا گیت ''گوریے میں جانا پردیس‘‘ بھی بے پناہ مقبول ہوا۔٭... پرویز مہدی نے امریکہ، انگلینڈ سمیت تمام یورپی ممالک کے کامیاب دورے کیے۔٭... ان کی شاندار فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں ''ستارہ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔٭... 29 اگست 2005ء کو مختصر علالت کے بعد وہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے، انہوں نے 57برس عمر پائی۔مقبول گیت٭...گوریے میں جانا پردیس٭...ٹوٹ جائے نہ بھرم٭...چار دناں دا پیار٭...سات سروں کا بہتا دریا٭...اے دل تو میرا٭...بے درداں نال پیار٭...دل دکھانے کی بات٭... ہم تیرا اعتبار٭...تیری نفرتیں جہاں٭...راتاں نو تو وی