حیرہ زمانہ جاہلیت کا تہزیب و تمدن کا مرکز
اسپیشل فیچر
خلفائے راشدین کے زمانے میں کبھی کبھی اجتماعی غورو فکر بھی ہوتا تھا۔ لوگ آپس میں بحث کرتے کہ اس بارے میں کیا کرنا چاہیے؟ ایک صاحب اگر ایک چیز بیان کرتے تو دوسرے صاحب اس پر اعتراض کرتے، نہیں صاحب! یہ نہیں ہو سکتا۔ اس میں فلاں خامی ہے، یوں کرنا چاہیے۔ اور اس آپس کے بحث مباحثے سے لوگ کسی نتیجے پر پہنچ جاتے۔ اس زمانے میں خاص کر یہ چیز مفید ثابت ہوئی کیونکہ رسول اکرم ﷺ کے فرمودہ احکام و اقوال ابھی تک جمع نہیں ہوئے تھے۔ بخاری، مسلم اور صحاح ستہ کی کتابیں ابھی لکھی نہیں گئی تھیں بلکہ لوگوں کے علم اور حافظے میں تھیں۔ جب آپس میں مل کر مشورہ کرتے تو اس وقت بعض بھولی بسری باتیں یاد آ جاتیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک دن یونہی فرمایا تھا۔ اس طرح اسلامی قانون کے متعلق جو معلومات حدیث میں تھیں ان کو جمع کرکے قانونی احکام استنباط کرنے کا آغاز ہو گیا۔
ان علمی مراکز میں جہاں نسل ہا نسل تک فقہ کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا، قانون کی تدوین کے کام میں بڑی ترقی ہوئی۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ ممتاز مدرسہ کوفہ کا تھا، جہاں اسلامی قانون کی تعلیم دی جاتی رہی۔ شہر کوفہ آج بھی عراق میں موجود ہے اور اگرچہ ایک چھوٹا سا شہر ہے لیکن اس کی تاریخی اہمیت بڑی رہی ہے۔ اس علاقے کو کچھ خصوصیات حاصل ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان خصوصیات کے باعث یہ امتیاز اسے حاصل ہے یا یہ محض اتفاقی بات ہے۔ وہ خصوصیات یہ ہیں کہ جس مقام پر آج شہر کوفہ آباد ہے۔پرانے زمانے میں اس کے نواح میں ''حیرہ‘‘ نامی شہر آباد تھا، جس کے کھنڈرات اب بھی ملتے ہیں۔ حیرہ وہ شہر ہے جو زمانہ جاہلیت میں تہذیب و تمدن کا بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ یہ شہر اگرچہ ایرانیوں کے قبضے میں تھا،یہاں یمنی عرب آکر آباد ہو گئے تھے۔ جزیرہ نمائے عرب میں یمن کا علاقہ سب سے زیادہ سر سبز و شاداب تھا اور قدیم زمانے میں تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا تھا۔ جب وہاں کے لوگ حیرہ میں آباد ہوئے تو ان کی تہذیب نے آس پاس کے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ ہے کہ ایران کے شہنشاہ نے اپنے ولی عہد کو بچپن میں تعلیم و تربیت کیلئے حیرہ بھیجا۔ اسے پورا اعتماد تھا کہ عرب حکمران کی نگرانی میں تربیت پا کر اس کے بیٹے کا کردار سنور جائے گا۔ اس کا خیال صحیح ثابت ہوا اور بچہ جو بہرام گور کے نام سے مشہور بادشاہ گزرا ہے اس کا شکر گزار رہا، چنانچہ اس بادشاہ کی جو تصویریں ملتی ہیں ان میں اسے بدوی لباس میں دکھایا گیا ہے۔
بہر حال حیرہ وہ مقام تھا جہاں پرانے زمانے میں ایک بہت ہی ممتاز عربی سلطنت گزر چکی ہے اور عربی یعنی یمنی اور ایرانی روایات کا سنگم ہو کر ایک نئی شکل کا تمدن اس مقام پر نظر آتا ہے۔ یہ اور علاقوں سے ممتاز اور برتر تھا۔ جب حضرت عمر ؓ کے زمانے میں عراق فتح ہوا تو انہوں نے اپنی سیاسی فراست کی بناء پر فوراً فوجی چھائونیاں قائم کیں۔ عربوں کو عرب سے بھیجا کہ جا کر اس مفتوحہ علاقے کے اندر کسی ایسے مقام پر آباد ہو جائو جو فوجی نقطہ نظر سے اہم ہوتا کہ بوقت ضرورت تمہیں کمک پہنچائی جا سکے اور تم بوقت ضرورت فوراً فساد اور فتنے کے مقام پر جا کر دشمن کی سرکوبی کر سکو۔ انہوں نے حیرہ کا اسلامی چھائونی بنانے کیلئے بھی انتخاب کیا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی فراست سے یہ بھی معلوم کر لیا کہ پرانے شہر کے اندر مسلمانوں کو بسانا مناسب نہیں۔ اس مقام کو تو انہوں نے چن لیا لیکن شہر کو نہ چنا۔ چنانچہ حکم دیا کہ اس شہر کے مضافات میں ایک نیا شہر بسا لو۔ تمہارے علاقے میں اجنبی نہ رہیں اور ان کے علاقے میں تم نہ رہو۔ یہ خالص اسلامی شہر ہو۔
ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی کتاب
''خطبات بہاولپور‘‘ سے اقتباس