پاکستان کے کرنسی نوٹ
اسپیشل فیچر
کاغذی کرنسی پہلی بار ساتویں صدی کے دوران تانگ خاندان چین میں تیار ہوئی، جہاں اسے ''فلائنگ منی‘‘ کہا جاتا تھا، مگر یہ دیگر خطوں میں مقبول نہ ہوئی اور محدود علاقوں میں ہی اس کا استعمال کیا جاتا رہا ۔اگر تاریخی اوارق کو پلٹا جائے تو کاغذی کرنسی کا استعمال گیارہویں صدی عیسوی جب تک چائنہ میں سونگ خاندان حکمران رہا اس وقت تک مقبول عام نہ ہوئی ۔گیارہویں صدی عیسوی میںچائنہ پر منگول یا یوآن خاندان کا مکمل تسلط تھا اسی سلطنت میںکاغذی کرنسی کا استعمال پورے چین میں پھیل چکا تھا جبکہ دوسری جانب مارکو پولو نے 13 صدی عیسوی کے آغاز میں ہی کاغذی کرنسی کو یورپ میں متعارف کروایا اور نپولین نے18 ویں صدی عیسوی کے اوائل میں کاغذی نوٹ جاری کئے۔اس کے بعد سے دنیا بھر کے ممالک میں کاغذی کرنسی کااستعمال عام ہوگیااوراس وقت ہر ملک کے پاس اپنے کرنسی نوٹ موجود ہیں۔
ہم یہاں بات کریں گے مملکت خدادا پاکستان کی ۔ 14 اگست 1947ء کو ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔قیام پاکستان کے فوراً بعدپاکستان (مانیٹری سسٹم اور ریزرو بینک) آرڈر، 1947ء نے ہندوستانی نوٹوں میں ترمیم اور گردش کی اجازت دی۔ یہ ترمیم شدہ نوٹ جاری کیے۔ پاکستان کے قیام کے بعد حکومت نے یکم اکتوبر 1948ء کو 5، 10 اور 100 روپے کے بینک نوٹوں کی ہنگامی سیریز جاری کی۔ اسے برطانیہ کے تھامس ڈی لا رو اینڈ کمپنی نے تیار کیا تھا۔
سٹیٹ بنک آف پاکستان کے قیام کے بعد، حکومت پاکستان نے یکم اکتوبر 1948ء کو پاکستان کرنسی نوٹ کی پہلی جنریشن کے ایک ، 5 ،10 اور 100 روپے کے نوٹ شائع کئے۔ پہلی جنریشن کے شائع کردہ نوٹوں پر پاکستان کے پہلے وزیر خزانہ غلام محمد کے دستخط کے علاوہ و واٹر مارک اورنہ ہی حفاظتی دھاگہ تھا ۔سٹیٹ بنک آف پاکستان نے یکم مارچ 1949ء کو پہلی جنریشن کے نوٹوں کو دوبارہ بریڈبری ولکنسن اینڈ کمپنی نے پرنٹ کیا اور یہ نوٹ سیکرٹری خزانہ مسٹر وی اے ٹرنرکے دستخطوں کے ساتھ شائع کئے گئے۔یہ نوٹ تین زبانوں یعنی انگریزی، اردو اور بنگالی میں پرنٹ کیے گئے اور ان میں حفاظتی خصوصیات یعنی ہلال چاند کا واٹر مارک اور سیکیورٹی تھریڈ شامل کیا گیا تھا۔
سٹیٹ بنک کی طرف سے پاکستان کے کرنسی نوٹوں کی دوسری جنریشن 1956ء میں جاری کی گئی۔ اس مرتبہ کرنسی نوٹوں میں پہلے سے زیادہ جدید ترین حفاظتی خصوصیات شامل کی گئیں۔
دوسری جنریشن میں پہلی مرتبہ 100 روپے کے نوٹ پر قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تصویر شائع کی گئی اس نوٹ میں حفاظتی دھاگہ بھی شامل کیا گیا۔یہ نوٹ 24 دسمبر1957ء کو متعارف کروایا گیاجبکہ 12 جون 1964ء میں 50 روپے کا نوٹ اور بعد ازاں دوسری جنریشن کے تمام نوٹوں پر حفاظتی خصوصیات شامل کر کے دوبارہ شائع کیا گیا۔
سٹیٹ بینک نے مستقل طور پرکرنسی نوٹ کی حفاظتی اقدامات کے مزید اقدامات اٹھائے اور 8 جون 1971ء کو ملک میںگردش کرنے والی تمام کرنسی کوبند کرنے کا اعلان کیا اور سٹیٹ بنک نے پاکستان کے کرنسی نوٹوں کی تیسری جنریشن کو متعارف کروایا۔کرنسی نوٹوں کی نئی سیریز میں نوٹوں کے ڈیزائن کووہی رکھا گیا صرف اس ڈیزائن میں نیلے رنگ کا اضافہ کردیا گیا جبکہ تیسری جنریشن میں ایک روپے کا نوٹ بالکل نئے ڈیزائن کے ساتھ پرنٹ کیاگیا۔
سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ ہر نئی سیریز میں یہی کوشش کی گئی کہ کرنسی نوٹ پورے معاشرے کی نمائندگی کریں۔ چوتھی جنریشن کی سیریز میں اردو اور انگریزی زبان کو شامل کیا گیا جبکہ بنگالی ختم کردی گئی 15 اپریل 1975ء کوچوتھی جنریشن کے کرنسی نوٹ متعارف کروائے گئے۔ 1982ء میںچوتھی جنریشن کے کرنسی نوٹوںپر ''رزق حلال عبادت ہے‘‘ کے فقرے کااضافہ کر کے نئے سرے سے پرنٹ کروایا گیا۔7 فروری 1984ء کوکرنسی نوٹوں میں ''حصول رزق حلال عین عبادت ہے‘‘ کی ترمیم کرکے دوبارہ پرنٹ کروایا۔ 24 اگست 1986 ، یکم اپریل 1986ء اور 18 جولائی 1987ء کو چوتھی جنریشن کو پرنٹ کروایا گیا۔
کرنسی نوٹوں میں جعل سازی کو روکنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے وفاقی حکومت کی منظوری سے ہائی ٹیک سکیورٹی فیچرز پر مشتمل نئے ڈیزائن کے بینک نوٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیااور 13 اگست 2005 ء کو پانچویں جنریشن کے بینک نوٹوںکو متعارف کرایا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اضافی سکیورٹی خصوصیات کے ساتھ 20 روپے نوٹ جاری کیا گیا ۔11 نومبر 2006ء کو پانچویں جنریشن کے کرنسی نوٹوں میں 5000 روپے کا نوٹ بھی شامل کیاگیا۔ بعد ازاں 22 مارچ 2008ء کو پانچویں جنریشن کے نوٹوں میں نئی کلر سکیم شامل کر کے دوبارہ پرنٹ کئے گئے۔ 8جولائی 2008ء میں پانچویں جنریشن کے کچھ نوٹوں میں تبدیل کر کے دوبارہ پرنٹ کئے گئے جبکہ25 جنوری 2010ء کو ایک 500 روپے کے نوٹ میں آپٹیکل ویری ایبل انک (OVI) کو 500 روپے کے بنک نوٹ میں شامل کیا گیاتا کہ عام لوگوں کیلئے بینک نوٹ کی اصلیت کو پہچاننا آسان ہو۔
2024ء میں سٹیٹ بنک آف پاکستان نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کرنسی نوٹوں کی چھٹی جنریشن متعارف کروانے کا اعلان کیاہے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی طرف سے اعلان میں کہا گیا کہ مارچ 2024 ء تک کرنسی نوٹوں کی چھٹی جنریشن جوکہ جدید ترین فیچر کے ساتھ تیار کی جارہی ہے اور سکیورٹی کے حوالے سے بھی چھٹی جنریشن منفرد ہوگی اور انٹرنیشنل معیار کے مطابق اس کرنسی کو دیدہ زیب ڈیزائن اور رنگوں کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔