عظیم مسلم سائنسدان ابو القاسم ابن عباس زہراوی سرجری کے فن کا ابو الآباء
اسپیشل فیچر
ابوالقاسم زہراوی نے فن طب میں آپریشن کا طریقہ جاری کیا اور فن جراحت میں کمال پیدا کیا۔ زہراوی سے پہلے صرف علاج بالدوا کا طریقہ جاری تھا۔انہوں نے موتیا بند کا آپریشن کیا۔ حلق میں غدود کا بڑھ جانا(ٹونسل) ہڈیوں کا جوڑنا کاٹنا آپریشن کے ذریعے ان کا علاج معلوم کیا۔ کینسر کے علاج کا طریقہ کیا ہے؟ زہراوی کا نظریہ یہ ہے کہ کینسر کے پھوڑے کو چھیڑنا نہیں چاہئے، دوائوں کے ذریعہ علاج کرنا چاہئے۔ انہوں نے آپریشن کے اصول اور قاعدے مقرر کئے۔ آپریشن کرنے کے آلات سو سے زیادہ ایجاد کئے اور اپنی کتاب تصریف میں اپنے تجربات اور نظریات کو رفاہ عام کے خیال سے جمع کر دیا۔زہراوی دنیا کا پہلا سرجن تھا۔
عالی دماغ ابوالقاسم زہراوی کو سرجری کے فن کا ابو الآباء کہا جاتا ہے۔ بہت سے امراض کا علاج اس نے دوائوں کے بجائے آپریشن سے کیا، اور مرض کو ختم کر دیا۔ اس نئے ڈھنگ سے انہوں نے خلق اللہ کو بہت فائدہ پہنچایا۔ ابو القاسم زہراوی ابتدائی تعلیم ختم کرنے کے بعد قرطبہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے، اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے علم طب کے شعبہ فن جراحت کی طرف توجہ کی اور اس فن میں کمال پیدا کیا۔ خلق اللہ کو اس سے بہت فائدہ پہنچایا۔ اندلس کا مشہور حکمران عبدالرحمن الناصر بڑا ہوش مند اور علم کا قدر دان تھا۔ اسے فن تعمیر سے خصوصی دلچسپی تھی۔ عبدالرحمن الناصر نے دارالسلطنت قرطبہ سے چار میل دور ایک عظیم الشان محل تعمیر کرایا۔ اس کا نام اس نے ''قصر الزہراء‘‘ تجویز کیا۔ یہ شاندار محل نصر الزہراء اس کے پاکیزہ مذاق کا آئینہ دار تھا، رفتہ رفتہ یہاں بھی آبادی ہو گئی۔ ابو القاسم اسی مقام پر پیدا ہوئے۔
تعلیم ختم کرنے کے بعد زہراوی نے مطالعے سے اپنی قابلیت بڑھائی۔ فن طب میں تجربے حاصل کئے اور شہرت کے بعد شاہی شفاخانہ میں انہیں مقرر کیا گیا۔زہراوی کو شفاخانے یعنی ہسپتال میں اچھا موقع ملا اور بڑی مستعدی اور توجہ سے انہوں نے یہاں کام کیا اور اسے وسیع تجربہ ہو گیا۔
علمی خدمات اور کارنامے
ابو القاسم زہراوی نے غور و فکر اور تجربے کے بعد علاج کے دو طریقے مستقل ایجاد کئے۔ علاج دوا کے ذریعے اور علاج آپریشن کے ذریعے۔ ابوالقاسم نے سرجری (آپریشن) کے ذریعے علاج کے طریقے کو مرتب کیا اور اسے ایک مستقل فن بنا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کون کون سے امراض میں آپریشن ضروری ہے۔مثلاً حلق میں غدود بڑھ جانا( ٹونسل) بد گوشت، آنکھ میں موتیا بند کا مرض، پھوڑے پھنسیاں وغیرہ وغیرہ۔
زہراوی نے آپریشن کے ذریعے علاج کے طریقے کو بہت ترقی دی۔ انہوں نے آپریشن کے تجربے کو ہر طرح کامیاب بنانے کی کوشش کی، بوقت ضرورت اصلاح کرتا رہا اور پھر اپنے تجربات کی بنیاد پر آپریشن کے اصول اور باقاعدے مرتب کئے۔
زہراوی نے آپریشن کرنے کے بہت سے آلات ایجاد کئے، یہ آلات مختلف مواقع پر استعمال کئے جا سکتے ہیں، اس ہوشیار طبیب نے سر سے پائوں تک ایسے امراض کیلئے جن میں آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے، اس موقع کے مطابق آلات بنائے، اس طرح اس عظیم طبیب نے جو آلات ایجاد کئے ہیں ان کی تعداد سو سے اوپر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زہراوی نے آپریشن کے ذریعے علاج کا طریقہ دریافت کیا اور ضرورت کے مطابق آلات بھی اس نے ایجاد کئے۔ مسلم اطباء سرجری میں بہت آگے تھے۔
زہراوی نے آپریشن کے آلات میں صفائی پیدا کی اور ان کو سبک بنانے کی کوشش کی، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ کارآمد ثابت ہوں۔ اس نے پہلے کاغذ پر آلات کی تصویریں بنائیں اور پھر ہوشیار کاریگروں سے ویسے ہی آلات تیار کرائے۔ فولاد بھی اعلیٰ قسم کا استعمال کیا۔ اس نے اپنی کتاب میں سو سے اوپر آلات کی تصویریں دی ہیں۔ یہ آلات نہایت سبک و خوبصورت ہیں۔ زہراوی کے ایجاد کئے ہوئے آلات آج بھی مستعمل ہیں اور مفید صفائی سے کام کرتے ہیں۔
زہراوی نے اندرون جسم آپریشن کرنے کے نہایت نازک طریقے دریافت کئے، حلق، دماغ، سر، گردے کا آپریشن، پیٹ کا آپریشن، آنتوں کا آپریشن ان سب کے طریقے اور اصول اس نے بتائے۔
مرض کینسر(سرطان) پر بھی انہوں نے تحقیق کی ، انہوں نے آگاہ کیا کہ مرض کینسر کے پھوڑے یا زخم کو ہرگز چھیڑنا نہیں چاہئے۔ وہ خطرناک بن جاتا ہے۔
زہراوی نے آپریشن کے اصول اور باقاعدے بتائے اور خطرات سے آگاہ کیا۔ بہتر وقت کا تعین کیا۔
نازک ترین آپریشن آنکھ کا ہوتا ہے، اس نے آنکھ کے آپریشن کے اصول طریقے اور خطرات سے آگاہ کیا۔
اس نے ہڈیوں کے کاٹنے کا طریقہ بھی بتایا۔ ہڈیوں کو کب اور کیسے کاٹنا چاہئے، اس کے آلات کیا ہیں اس کے لئے احتیاط کیا کرنی چاہئے۔
زہراوی نے آپریشن کی جگہ اور وہاں ضروری آلات کا بھی تذکرہ کیا، اس نے بتایا کہ مریض کو آپریشن کے لئے کس طرح تیار کرنا چاہئے، مریض کو بے ہوش کس طرح کرنا چاہئے، کون سی دوائیں مناسب ہیں، احتیاط کیا کرنی چاہئے، زہراوی نے اپنے تمام تجربات اور نظریات اپنی مشہور کتاب ''تصریف‘‘ میں بیان کردیئے ہیں۔
تصریف: زہراوی کی یہ نہایت مستند مکمل کتاب ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہوشیار ڈاکٹر کو کیا کیا کرنا چاہئے۔ کیا کیا اندیشے اور خطرات آئندہ پیش آ سکتے ہیں اس جامع کتاب میں نوے فی صدی وہ سب باتیں موجود ہیں جن کو کرنا چاہئے یا جن کا اندیشہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابوالقاسم زہراوی سرجری کے ذریعے علاج کرنے والا نئے نئے آلات کا موجد اور اس کے بنیادی اصول مرتب کرنے والا ماہر طبیب ہے۔