آج کا دن
اسپیشل فیچر
جرمن ورکرز پارٹی کا قیام
5 جنوری 1919ء کو میونخ میں ''جرمن ورکرز پارٹی‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔پہلی جنگ عظیم کے بعد بحران زدہ جرمنی میں انتون ڈریکسلر نے اس جماعت کی بنیاد رکھی۔ابتدا میں یہ جماعت ایک محدود دائرے میں سرگرم تھی اور اس کا مقصد جرمن قوم پرستی کو فروغ دینا، سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کی مخالفت کرنا اور جرمن عوام کے معاشی مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔ اسی سال ایڈولف ہٹلر اس میں شامل ہوا اور اپنی خطیبانہ صلاحیتوں سے جلد نمایاں ہو گیا۔ بعد ازاں پارٹی کا نام ''نازی پارٹی‘‘ رکھا گیا، جو آگے چل کر جرمنی اور دنیا کی تاریخ پر گہرے اثرات چھوڑ گئی۔
ڈیوٹی ٹائم 8 گھنٹے
1914ء میں آج کے روز فورڈ موٹر کمپنی نے کام کرنے کے اوقات کو کم کرنے اور مزدوروں کی تنخواہیں بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت کمپنی کے بانی ہنری فورڈ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ کام کرنے کے اوقات 8 گھنٹے اور کم از کم یومیہ اجرت 5 ڈالر بمعہ بونسز ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد کارکنوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور ان کی زندگی کے معیار کو بلند کرنا تھا۔ یہ اقدام صنعتی انقلاب کے دوران مزدوروں کیلئے ایک بڑی تبدیلی ثابت ہوا، کیونکہ اس سے پہلے لوگ روزانہ 10 سے 16 گھنٹے تک کام کرتے تھے۔ فورڈ کا آٹھ گھنٹے کا ورک ڈے بعد میں ایک عالمی معیار بن گیا اور مزدوروں کے حقوق کی تحریک میں اہم سنگ میل ثابت ہوا۔
ڈیلی میل کا اعزاز
5جنوری 1944ء کو برطانوی اخبار ''ڈیلی میل‘‘ کو بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب شائع ہونے والے اخبار کا اعزاز حاصل ہوا۔ ڈیلی میل پہلا برطانوی اخبار تھا جس نے شمالی امریکہ کے قارئین کیلئے خصوصی ایڈیشن متعارف کرایا۔ اس اقدام نے اخبار کی بین الاقوامی مقبولیت کو بڑھایا اور جدید صحافت میں ایک نیا باب رقم کیا۔ ڈیلی میل نے اپنے اس ایڈیشن کے ذریعے یورپی خبروں اور تجزیات کو امریکی قارئین تک پہنچایا، جس سے دونوں خطوں کے درمیان معلومات کے تبادلے میں مدد ملی۔ یہ پیش رفت اس زمانے کی ٹیکنالوجی اور تیز رفتار پرنٹنگ کی مہارت کی وجہ سے ممکن ہوئی۔
چین: ٹونگھائی زلزلہ
1970ء میں آج کے روز 7.1 شدت کے زلزلے نے چین کے صوبہ ژونان کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات ایک بجے آیا اور بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بنا۔ اس زلزلے سے تقریباً 15ہزار افراد ہلاک ہوئے جبکہ 26ہزار افراد زخمی ہوئے۔ سیکڑوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ زلزلے نے خطے کی معیشت کو نقصان پہنچایا اور متاثرین کے لیے بحالی کا عمل کئی سالوں تک جاری رہا۔یہ چین کی تاریخ کے تباہ کن زلزلوں میں سے ایک تھا اور اس نے زلزلے سے بچاؤ کیلئے بہتر اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا۔