جنتری نئے سال کی

جنتری نئے سال کی

اسپیشل فیچر

تحریر : ابن انشا


آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج
یعنی بلبل بولتا تھا یا بولتی تھی تو لوگ جان لیتے تھے کہ بہار آگئی ہے۔ ہم نئے سال کی آمد کی فال جنتریوں سے لیتے۔ ابھی سال کا آغاز دور ہوتا ہے کہ بڑی بڑی مشہور عالم، مفید عالم جنتریاں دکانوں پر آن موجود ہوتی ہیں۔ بعض لوگ جنتری نہیں خریدتے۔ خدا جانے سال کیسے گزارتے ہیں۔ اپنی قسمت کا حال، اپنے خوابوں کی تعبیر، اپنا ستارہ (چاند سورج وغیرہ بھی) کیسے معلوم کرتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ جنتری اپنی ذات سے قاموس ہوتی ہے۔
ایک جنتری خرید لو اور دنیا بھر کی کتابوں سے بے نیاز ہو جاؤ۔ فہرست تعطیلات اس میں، نماز عید اور نماز جنازہ پڑھنے کی تراکیب، جانوروں کی بولیاں، دائمی کیلنڈر، محبت کے تعویذ، انبیائے کرام کی عمریں، اولیائے کرام کی کرامتیں، لکڑی کی پیمائش کے طریقے، کون سادن کس کام کیلئے موزوں ہے۔ فہرست عرس ہائے بزرگان دین، صابن سازی کے گر، شیخ سعدی کے اقوال، چینی کے برتن توڑنے اور شیشے کے برتن جوڑنے کے نسخے، اعضاء پھڑکنے کے نتائج، کرہ ارض کی آبادی، تاریخ وفات نکالنے کے طریقے۔ یہ محض چند مضامین کا حال ہے۔ کوزے میں دریا بند ہوتا ہے اور دریا میں کوزہ۔ یوں تو سبھی جنتریاں مفید مضامین کی پوٹ ہوتی ہیں، جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے لیکن روشن ضمیر جنتری (جیبی) کو خاص شہرت حاصل ہے، اس وقت ہمارے سامنے اسی کا تازہ ترین ایڈیشن ہے۔ ایک باب اس میں ہے ''کون سا دن کون سے کام کیلئے موزوں ہے‘‘۔ہفتہ سفر کرنے، بچوں کو اسکول میں داخل کرانے کیلئے۔اتوار، شادی کرنے، افسروں سے ملاقات کرنے کیلئے۔بدھ،نیا لباس پہننے، غسل صحت کیلئے۔جمعرات، حجامت بنانے، دعوت احباب کیلئے۔جمعہ، غسل اور شادی وغیرہ کرنے کیلئے۔
ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ اندھا دھند جس دن جو کام چاہیں کردیتے ہیں۔ یہ جنتری سب کے پاس ہو تو زندگی میں انضباط آ جائے۔ ہفتے کا دن آیا اور سبھی لوگ سوٹ کیس اٹھاکر سفر پر نکل گئے۔ جو نہ جا سکے وہ بچوں کو اسکول میں داخل کرانے پہنچ گئے۔ اس سے غرض نہیں کہ اسکول کھلے ہیں یا نہیں یا کسی کے بچے ہیں بھی یا نہیں۔ جدھر دیکھو بھیڑ لگی ہے۔ اتوار کو ہر گھر کے سامنے چھولداریاں تنی ہیں اور ڈھولک بج رہی ہے۔ لوگ سہرے باندھنے کے بعد جنتری ہاتھ میں لیے افسروں سے ملاقات کرنے چلے جا رہے ہیں۔ بدھ کو سبھی حماموں میں پہنچ گئے اور جمعرات کو سبھی نے حجامت بنوائی، اور دوستوں کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں کہ ہمارے ہاں آکر دعوت کھا جائیو۔ جمعہ کو نکاح ثانی کا نمبر ہے۔ جو لوگ اس منزل سے گزر چکے ہیں وہ دن بھر نل کے نیچے بیٹھ کر نہائیں کہ ستاروں کا یہی حکم ہے۔
ہم جو خواب دیکھتے ہیں وہ بالعموم عام قسم کے ہوتے ہیں اور صبح تک یاد بھی نہیں رہتے۔ جنتری سے معلوم ہوا کہ خوابوں میں بھی بڑے تنوع کی گنجائش ہے۔ خواب میں پھانسی پانے کا مطلب ہے بلند رتبہ حاصل ہونا۔ افسوس کہ ہم نے خواب تو کیا اصل زندگی میں بھی پھانسی کبھی نہ پائی۔ بلند مرتبہ نہ مل سکنے کی اصل وجہ اب معلوم ہوئی۔ من نہ کردم شما حذر بکنید۔ اسی طرح گھوڑا دیکھنے کا مطلب ہے دولت حاصل کرنا۔ قیاس کہتا ہے کہ مطلب وکٹوریہ کے گھوڑے سے نہیں، ریس کے گھوڑے سے ہے۔ خچر دیکھنے سے مراد ہے سفر پیش آنا۔ جو لوگ ہوائی جہاز سے سفر کرتے ہیں ان کو ہوائی جہاز دیکھنا چاہیے۔ بلی کا پنجہ مارنا بیماری کے آنے کی علامت ہے۔ سانپ کا گوشت کھانا دشمن کا مال حاصل ہونے کی۔ خواب میں کان میں چیونٹی گھس آئے تو سمجھیے موت قریب ہے۔ (خواب کے علاوہ گھس آئے تو چنداں حرج نہیں، سرسوں کا تیل ڈالیے نکل آئے گی۔) اپنے سر کو گدھے کا سر دیکھنے کا مطلب ہے عقل کا جاتے رہنا۔ یہ تعبیر ہم خود سوچ سکتے تھے۔ کوئی آدمی اپنے سر کو گدھے کا سر (خواب میں بھی) دیکھے گا، اس کے متعلق کیا کہا جا سکتا ہے؟ خواب میں مردے سے مصافحہ کرنے کی تعبیر ہے درازی عمر، خدا جانے یہاں عمرفانی سے مراد ہے یا عمر جاودانی سے۔
ایک باب اس میں جسم کے اعضا کے پھڑکنے اوران کے عواقب کے بارے میں بھی ہے۔ آنکھ پھڑکنا تو ایک عام بات ہے۔ رخسار، شانہ راست، گوش چپ، انگشت چہارم، زبان، گلہ، گردن بجانب چپ، ٹھوڑی، بغل راست وغیرہ۔ ان پچاسی اعضا میں سے ہیں جن کے پھڑکنے پر نظر رکھنی چاہیے۔ ان میں بعض کے نتائج ایسے ہیں کہ ہم نقل کردیں تو فحاشی کی زد میں آجائیں۔ ایک دو امور البتہ فاضل مرتبین نظر انداز کر گئے۔ نگہ انتخاب کی پسلی پھڑک اٹھنا استادوں کے کلام میں آیا ہے۔ اس کا نتیجہ نہیں دیا گیا۔
یہ نقائص رفع ہونے چاہئیں۔ یہ معلومات تو شائد کہیں اور بھی مل جائیں لیکن اس جنتری کا مغز محبت کے عملیات اور تعویذات ہیں جو حکمی تاثیر رکھتے ہیں۔ قیس میاں کی نظر سے کوئی ایسی جنتری گزری ہوتی تو جنگلوں میں مارے مارے نہ پھرتے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
اے آئی سلاپ مواد کی بہتات، معیار کی قلت

اے آئی سلاپ مواد کی بہتات، معیار کی قلت

مصنوعی ذہانت نے انسانی تاریخ کے تخلیقی عمل میں ایک غیر معمولی مداخلت کی ہے۔ یہ مداخلت بیک وقت امکانات سے بھرپور بھی ہے اور خطرات سے لبریز بھی۔ ایک طرف اے آئی نے اظہار کے نئے ذرائع فراہم کیے ہیں، تو دوسری طرف اس نے ڈیجیٹل دنیا کو ایسے غیر معیاری، بے روح اور خودکار مواد سے بھر دیا ہے جسے ماہرین ''اے آئی سلاپ‘‘ (AI Slop) کا نام دیتے ہیں۔ Merriam-Webster ڈکشنری نے Slop کو 2025 ء کا Word of the Year قرار دیا ہے۔جس کا مطلب ہے مصنوعی ذہانت کے ذریعے عام طور پر بڑی مقدار میں تیار کردہ کم معیار کا ڈیجیٹل مواد۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسری کے حالیہ بیانات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔پی سی میگ (PC Mag) کو دیے گئے انٹرویو میں موسری نے کھلے الفاظ میں اعتراف کیا کہ سوشل میڈیا اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اصلی اور مصنوعی مواد کے درمیان حدِ فاصل تیزی سے مٹتی جا رہی ہے۔ ان کے بقول، اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اے آئی مواد تخلیق کر رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ یہ مواد انسانی تخلیق کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور یہی دھوکا پورے ڈیجیٹل ماحول کو کھوکھلا کر رہا ہے۔مواد کی بہتات،معیار کی قلتآج انسٹاگرام، فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز پر ایسی تصاویر، ویڈیوز اور تحریریں عام ہو چکی ہیں جو چند لمحوں میں الگورتھمز کے ذریعے تیار ہوتی ہیں۔ یہ مواد بظاہر دلکش، چمک دار اور متاثر کن ہوتا ہے مگر اس میں انسانی تجربے، احساس اور فکری گہرائی کا فقدان نمایاں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موسری اس دور کوAI Slop Era قرار دیتے ہیں،ایک ایسا دور کہ جس میں مواد کی کثرت نے معیار اور معنویت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان بلا روک ٹوک جاری رہا تو سوشل میڈیا انسانی اظہار کا پلیٹ فارم نہیں رہے گا بلکہ ایک خودکار مشین بن جائے گا جہاں تخلیق نہیں بلکہ محض پیداوار ہو گی۔ ایسے ماحول میں حقیقی تخلیق کار جو وقت، محنت اور مہارت سے اپنا کام کرتے ہیں آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے۔شناخت کا نیا زاویہایڈم موسری نے اس بحران کے حل کے لیے ایک نسبتاً حقیقت پسندانہ اور تکنیکی تجویز پیش کی ہے۔ ان کے مطابق اے آئی مواد کو پہچاننے اور روکنے سے زیادہ مؤثر راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ انسانی تخلیق کی تصدیق کی جائے۔ یعنی یہ ثابت کیا جائے کہ کوئی تصویر، ویڈیو یا پوسٹ واقعی کسی انسان نے تخلیق کی ہے نہ کہ کسی خودکار سسٹم نے۔یہ تصور ڈیجیٹل دنیا میں ایک بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب تک کوشش یہ رہی ہے کہ جعلی یا مصنوعی مواد کو شناخت کر کے ہٹایا جائے مگر موسری کا خیال ہے کہ مستقبل میں توجہ ''اصلی‘‘ مواد کی فنگر پرنٹنگ پر ہونی چاہیے۔ اگر انسانی تخلیق کو کسی مستند تکنیکی نشان کے ذریعے ممتاز کر دیا جائے تو صارف خود یہ فیصلہ کر سکے گا کہ وہ کس مواد پر اعتماد کرے۔انسانی تخلیق کاروں کے لیے نئے ٹولزانسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسری یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ صرف لیبلنگ یا تصدیق کافی نہیں ہو گی، اسی لیے انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ پلیٹ فارم پر ایسے نئے تخلیقی ٹولز متعارف کرائے جائیں گے جو انسانی تخلیق کاروں کو اے آئی کے مقابل کھڑا کر سکیں، نہ کہ انہیں مکمل طور پر بے دخل کر دیں۔اُن کے مطابق مستقبل کا ماڈل یہ نہیں ہو گا کہ اے آئی انسان کی جگہ لے لے بلکہ یہ ہو گا کہ اے آئی انسان کی معاون بنے۔ ویڈیو ایڈیٹنگ، مواد کی پیشکش اور سٹوری ٹیلنگ میں ایسے ٹولز فراہم کیے جائیں گے جن میں کنٹرول انسان کے ہاتھ میں رہے، تاکہ تخلیق کا مرکزی کردار برقرار رہے۔اخلاقی اور سماجی مضمراتیہ معاملہ محض ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی سوال کا بھی ہے۔ اگر ہر خوبصورت تصویر، ہر متاثر کن ویڈیو اور ہر جذباتی تحریر کے پیچھے الگورتھم ہو تو پھر انسانی محنت کی قدر کہاں باقی رہے گی؟ نوجوان تخلیق کار جو برسوں مشق کر کے اپنی شناخت بناتے ہیں وہ کیسے ان مشینوں کا مقابلہ کرسکیں گے جو سیکنڈوں میں ہزاروں پوسٹس تیار کر سکتی ہیں؟پاکستان جیسے ممالک میں جہاں سوشل میڈیا صحافیوں، فوٹوگرافروں، فنکاروں ، وی لاگرز اور دیگر حلقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے اظہار کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے، یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ اگر پلیٹ فارمز نے انسانی تخلیق کو تحفظ نہ دیا تو ڈیجیٹل معیشت چند بڑی اے آئی کمپنیوں کے ہاتھ میں مرکوز ہو کر رہ جائے گی۔ایڈم موسری کے بیانات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا انڈسٹری اب خطرے کو سنجیدگی سے محسوس کرنے لگی ہے۔ ''اے آئی سلاپ‘‘ کے خلاف یہ پہلا واضح اعتراف ہے کہ بے قابو مصنوعی مواد نہ صرف صارف کے تجربے کو متاثر کر رہا ہے بلکہ پلیٹ فارمز کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا انسٹاگرام اپنے وعدوں کو عملی شکل دے پائے گا؟ کیا واقعی انسانی تخلیق کو تکنیکی طور پر محفوظ اور ممتاز کیا جا سکے گا؟ یا پھر 'ویری فیکیشن‘ کا دعویٰ بھی ماضی کی طرح محض ایک پالیسی بیان بن کر رہ جائے گا؟فی الحال ایک بات طے ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کو انسانی اظہار کا بامعنی اور زندہ پلیٹ فارم بنانا ہے تو ''اصلیت‘‘ کو محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی اصول بنانا ہو گا۔ یہی وہ امتحان ہے جس کا سامنا اب انسٹاگرام سمیت تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہے اور اسی کے نتائج آنے والے ڈیجیٹل عہد کا تعین کریں گے۔

2026 میں بہتر زندگی کیلئے8مشورے

2026 میں بہتر زندگی کیلئے8مشورے

نئے سال کا آغاز عموماً نئی امیدوں، تازہ ارادوں اور بہتر زندگی کے خوابوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ آنے والا سال گزشتہ مشکلات، ذہنی دباؤ اور بے چینی کو پیچھے چھوڑ دے۔ تاہم تجربہ بتاتا ہے کہ مثبت تبدیلیوں کا ارادہ کرنا تو آسان ہے مگر ان پر مستقل عمل کرنا ایک کٹھن مرحلہ ثابت ہوتا ہے۔ خوش آئند پہلو یہ ہے کہ جدید سائنسی تحقیق ہمیں ایسے عملی اور مؤثر طریقے فراہم کرتی ہے جو واقعی ہماری ذہنی کیفیت، جذباتی توازن اور مجموعی صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔کمال پسندی کی زنجیر توڑیںکامل دکھائی دینے کی خواہش بظاہر ایک خوبی محسوس ہوتی ہے مگر نفسیاتی تحقیق کے مطابق یہ رویہ ذہنی دباؤ، اضطراب اور افسردگی کو جنم دیتا ہے۔ کمال پسند افراد اپنے لیے ناقابلِ حصول معیار مقرر کر لیتے ہیں اور معمولی لغزش پر خود کو سخت ملامت کا نشانہ بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس خودساختہ اذیت سے بچنے کا مؤثر طریقہ خود سے نرمی اور شفقت کا رویہ اپنانا ہے۔ غلطیوں کو انسانی فطرت کا حصہ سمجھا جائے اور یہ تسلیم کیا جائے کہ نامکمل ہونا ہی انسان ہونے کی اصل پہچان ہے۔دوستی میں خلوص اور استحکام سائنس یہ کہتی ہے کہ مضبوط سماجی رشتے نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی صحت کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔ مخلص دوستیاں مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی اور دل کے امراض کے خطرات کو کم کرتی ہیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم خود بھی دوسروں کے لیے سہارا بنیں۔ دوسروں کی کامیابی پر خلوص دل سے خوش ہونا ان کی بات غور سے سننا اور مثبت ردعمل دینا تعلقات میں گرمجوشی اور اعتماد کو فروغ دیتا ہے۔سماجی مشاغل اپنائیںنیا شوق یا سرگرمی اختیار کرنا محض وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ذہنی سکون کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ مصوری، موسیقی، کھیل یا کوئی سماجی سرگرمی انسان کو تنہائی کے خول سے نکال کر سماج سے جوڑ دیتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ مشترکہ مقصد کے تحت کی جانے والی سرگرمیاں انسانوں کے درمیان قربت پیدا کرتی ہیں اور جسمانی مشقت کو بھی خوشگوار بنا دیتی ہیں۔غصے کو تعمیری قوت میں بدلیںغصہ بلاشبہ ایک شدید اور خطرناک جذبہ ہو سکتا ہے لیکن اگر اسے بروقت پہچان لیا جائے تو یہی جذبہ تعمیری طاقت میں ڈھل سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق غصے کو دبانے کے بجائے اسے مثبت سرگرمیوں جیسے ورزش، تخلیقی کام یا کسی بامقصد جدوجہد میں صرف کرنا زیادہ مفید ہے۔ شرط یہ ہے کہ جذبات کے اظہار میں ضبط اور حکمت کو ملحوظ رکھا جائے۔شکرگزاری کو معمول بنائیںروزانہ چند لمحے نکال کر زندگی کی اچھی باتوں پر غور کرنا ذہنی صحت پر حیرت انگیز اثرات مرتب کرتا ہے۔ سائنسی مطالعات کے مطابق روزانہ تین نعمتوں یا خوشگوار لمحات کو قلم بند کرنے سے خوشی میں اضافہ اور افسردگی میں نمایاں کمی آتی ہے۔ یہ عادت انسان کی توجہ محرومیوں سے ہٹا کر موجود نعمتوں کی طرف مبذول کرتی ہے۔موبائل فون سے فائدہ اٹھائیںجدید دور میں سمارٹ فون ذہنی انتشار کی بڑی وجہ بن چکا ہے تاہم درست اور شعوری استعمال سے یہی آلہ کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ غیر ضروری اطلاعات کو محدود کرنا، یادداشت محفوظ کرنے کے لیے نوٹس کا استعمال اور سکرین کے استعمال کو نظم و ضبط میں لانا توجہ، یادداشت اور ذہنی سکون میں بہتری لا سکتا ہے۔ کبھی کبھار فون سے مکمل لاتعلقی بھی ذہن کو تازگی بخشتی ہے۔سردیوں سے ہم آہنگی پیدا کریںسردیوں کے چھوٹے دن اور طویل راتیں کئی افراد کو اداسی اور سستی میں مبتلا کر دیتی ہیں مگر تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر موسمِ سرما کے حسن ،قدرتی مناظر، گھریلو محفلوں اور سکون بھرے لمحات کو مثبت نظر سے دیکھا جائے تو ذہنی کیفیت بہتر ہو سکتی ہے۔ یوں سردی کو بوجھ کے بجائے موقع سمجھا جا سکتا ہے۔مختصر قیلولہ، بڑی توانائیدن کے اوقات میں مختصر نیند ذہنی کارکردگی کو فوری طور پر بہتر بنا سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق 10 سے 20 منٹ کا قیلولہ دماغی تازگی اور توجہ میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔ البتہ اس کا درست وقت اور دورانیہ اہم ہے تاکہ رات کی نیند متاثر نہ ہو۔یاد رکھیں کہ خوشی کوئی اتفاقی لمحہ نہیں بلکہ شعوری طرزِ زندگی کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم سائنسی تحقیقات کی روشنی میں ان سادہ مگر مؤثر عادات کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو نیا سال نہ صرف ذہنی سکون بلکہ ایک متوازن اور بامقصد زندگی کی نوید بن سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

گیلیلیو کی دریافت7 جنوری 1610ء کو اطالوی سائنسدان گیلیلیو گیلیلی نے فلکیات کی تاریخ میں ایک انقلابی دریافت کی۔ انہوں نے اپنی ایجاد کردہ طاقتور دوربین کے ذریعے سیارہ مشتری (Jupiter) کے گرد گردش کرنے والے چار بڑے چاندوں کا مشاہدہ کیا۔ یہ دریافت اس لحاظ سے نہایت اہم تھی کہ اس نے اس قدیم نظریے کو چیلنج کیا جس کے مطابق تمام اجرامِ فلکی زمین کے گرد گردش کرتے ہیں۔ اس وقت چرچ اور ارسطو کے نظریات کے مطابق زمین کو کائنات کا مرکز سمجھا جاتا تھامگرگیلیلیو کی یہ دریافت اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ ہر چیز زمین کے گرد نہیں گھومتی۔ ان کو نظر بندی کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ ان کا مشاہدہ درست تھا۔ امریکہ میں پہلا صدارتی انتخاب 7 جنوری 1789ء کو ریاستہائے متحدہ امریکہ میں پہلا صدارتی انتخابی عمل باضابطہ طور پر شروع ہوا۔ اس دن مختلف ریاستوں نے اپنے الیکٹورل کالج کے ارکان کا انتخاب شروع کیا جو بعد ازاں ملک کے پہلے صدر کا فیصلہ کرنے والے تھے۔ یہ انتخابی عمل کئی ہفتوں تک جاری رہا اور بالآخر جارج واشنگٹن کو متفقہ طور پر امریکہ کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔جارج واشنگٹن کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں تھے اور انہیں قومی اتحاد کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ پہلی ٹرانس اٹلانٹک کال7 جنوری 1927ء کو دنیا میں مواصلاتی انقلاب کا ایک اور باب رقم ہوا جب پہلی ٹرانس اٹلانٹک ٹیلی فون کال امریکہ اور برطانیہ کے درمیان کی گئی۔ یہ کال نیویارک اور لندن کے درمیان ہوئی اور اس میں امریکی اور برطانوی حکام نے شرکت کی۔اس سے قبل بحرِ اوقیانوس کے آرپار رابطہ صرف ٹیلی گراف کے ذریعے ممکن تھا، مگر اس فون کال نے ثابت کر دیا کہ انسانی آواز کو ہزاروں میل دور تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ تکنیکی کامیابی جدید عالمی مواصلاتی نظام کی بنیاد بنی۔ ہائیڈروجن بم بنانے کا اعلان7 جنوری 1953ء کو امریکی صدر ہیری ایس ٹرومین نے اعلان کیا کہ امریکہ نے ہائیڈروجن بم تیار کر لیا ہے۔ یہ اعلان سرد جنگ کے دور میں سامنے آیا جب امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان ایٹمی برتری کی دوڑ عروج پر تھی۔ اس اعلان نے دنیا بھر میں خوف اور تشویش کی لہر دوڑا دی کیونکہ اب انسان کے پاس خود کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ مزید تیز ہو گئی۔ بعد ازاں ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) اور دیگر عالمی معاہدے سامنے آئے۔ شہنشاہ ہیروہیتو کا انتقال7 جنوری 1989ء کو جاپان کے شہنشاہ ہیروہیتو کا انتقال ہوا، جس کے ساتھ ہی جاپانی تاریخ کے ایک طویل اور متنازع دور کا خاتمہ ہوا۔ ہیروہیتو 1926ء سے 1989ء تک تخت پر فائز رہے اور ان کا دور شووا دور کہلاتا ہے۔ہیروہیتو کے عہد میں جاپان نے دوسری جنگِ عظیم میں شرکت کی جس کے نتیجے میں ایٹمی حملے، شکست اور بعد ازاں تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوا۔

2050 کی دنیا سائنس فکشن سے حقیقت تک

2050 کی دنیا سائنس فکشن سے حقیقت تک

رواں صدی کے پہلے پچیس برس میں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو جس تیزی سے بدلا ہے اس کی مثال ماضی میں مشکل سے ملتی ہے۔ اکیسویں صدی کے آغاز پر انٹرنیٹ ڈائل اَپ کنکشن کے ذریعے استعمال ہوتا تھا، موبائل فون محض کال اور میسج تک محدود تھے اور مصنوعی ذہانت ایک تصوراتی اور خیالی چیز سمجھی جاتی تھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور نینو ٹیکنالوجی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو 2050ء تک دنیا یکسر مختلف ہو گی۔انسان اور مشین کا ملاپ2050ء کی دنیا میں انسان اور مشین کے درمیان فرق خاصا دھندلا ہو سکتا ہے۔ نینو ٹیکنالوجی جو انتہائی باریک سطح پر انجینئرنگ کا نام ہے، پہلے ہی ہماری جیب میں موجود سمارٹ فون کے اندر کام کر رہی ہے۔ مستقبل میں یہی ٹیکنالوجی انسانی جسم کے اندر استعمال ہونے لگے گی۔ ماہرین کے مطابق نینو امپلانٹس کے ذریعے نہ صرف انسانی صحت کی مسلسل نگرانی ممکن ہو گی بلکہ ادویات کو براہ راست متاثرہ عضو تک پہنچایا جا سکے گا۔سائبرنیٹکس کے ماہرین کا خیال ہے کہ دماغ میں لگائے جانے والے الیکٹرانک امپلانٹس دماغی بیماریوں جیسے شیزوفرینیا کے علاج میں اہم کردار ادا کریں گے۔ مستقبل میں صرف دواؤں پر انحصار کم ہو سکتا ہے اور براہِ راست دماغی تحریک (Deep Brain Stimulation) ایک متبادل علاج بن سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے تجربات بھی ممکن ہوں گے جن میں انسان اپنے دماغ کے ذریعے دور مشینوں یا روبوٹس کو کنٹرول کر سکے گا۔ڈیجیٹل ٹوئنز 2050ء کی ایک حیران کن پیش رفت ڈیجیٹل ٹوئن( Twins) کا تصور ہے۔ اس سے مراد کسی انسان کا ڈیجیٹل یا ورچوئل نمونہ ہے جو رئیل ٹائم ڈیٹا سے مسلسل اَپ ڈیٹ ہوتا رہے گا۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں ہر انسان کے کئی ڈیجیٹل ٹوئنز ہوں گے، جن پر مختلف ادویات، غذائی منصوبے یا طرزِ زندگی آزما کر یہ دیکھا جا سکے گا کہ ان کا اصل جسم پر کیا اثر پڑے گا۔ اس طرح علاج سے پہلے اثرات کا اندازہ ممکن ہو سکے گا۔مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگمصنوعی ذہانت آنے والے وقت میں انسانی معاشرے کا مرکزی ستون بن سکتی ہے۔ تاہم AI کی اگلی بڑی جست کوانٹم کمپیوٹنگ کے ذریعے متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اگلے بیس برسوں میں کوانٹم کمپیوٹنگ عملی طور پر مفید شکل اختیار کر سکتی ہے جس سے ادویات کی تیاری، موسمیاتی ماڈلز اور سائنسی تحقیق میں انقلاب آ جائے گا۔تعلیم کا نیا تصور2050 ء میں تعلیم کا نظام موجودہ نصابی ڈھانچے سے یکسر مختلف ہو گا۔ ماہرین کے مطابق کتابوں کی جگہ مصنوعی ذہانت پر مبنی اساتذہ لیں گے جو ہر طالب علم کی ذہنی صلاحیت، حیاتیاتی ساخت اور سیکھنے کے انداز کے مطابق مواد فراہم کریں گے۔ تعلیم ورچوئل اور حقیقی دنیا کے امتزاج سے حاصل کی جائے گی جہاں طلبہ محض پڑھیں گے نہیں بلکہ عملی طور پر تجربات کا حصہ بنیں گے۔ اس طرح تعلیم زیادہ ذاتی، لچکدار اور مؤثر ہو گی۔ خودکار گاڑیاںٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ خودکار یا ڈرائیور لیس گاڑیاں عام ہو جائیں گی جس سے ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔ یہ گاڑیاں آپس میں رابطے کے ذریعے نہایت کم فاصلے پر تیز رفتاری سے سفر کر سکیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مخصوص شاہراہوں پر 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار بھی محفوظ ہو سکتی ہے، کیونکہ انسانی غلطی کا عنصر ختم ہو جائے گا۔خلا میں صنعت اور چاند پر آبادی2050ء تک خلائی دوڑ بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چاند پر قابلِ رہائش بیس قائم ہو جائے گی جبکہ کچھ صنعتیں مکمل طور پر خلا میں منتقل ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر ادویات سازی میں مائیکرو گریوٹی ماحول فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے، جہاں بننے والے کرسٹل زمین کے مقابلے میں زیادہ معیاری ہوتے ہیں۔سائنس فکشن سے حقیقت تکماضی کی کئی سائنس فکشن فلمیں جیسے Minority Report مستقبل کی ٹیکنالوجی کی جھلک دکھا چکی ہیں۔ آج ان میں دکھائے گئے کئی تصورات حقیقت بنتے نظر آ رہے ہیں جیسا کہ اشاروں سے چلنے والی سکرینیں اور پیشگی ڈیٹا پر مبنی فیصلے۔ اگرچہ کچھ ماہرین مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات سے خبردار کرتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سائنس نے انسانیت کو بے شمار سہولیات فراہم کی ہیں اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔

روزانہ 30 منٹ کی واک:صحت مند زندگی کی جانب بڑا قدم

روزانہ 30 منٹ کی واک:صحت مند زندگی کی جانب بڑا قدم

نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی اکثر لوگ صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کا عزم کرتے ہیں۔ کوئی جم جوائن کرتا ہے کوئی سخت ورزش کے منصوبے بناتا ہے مگر چند ہی ہفتوں بعد یہ جوش اکثر ماند پڑ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت مند رہنے کے لیے ہمیشہ مہنگے جم، مشکل ورزشوں یا سخت روٹین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ماہرینِ صحت کے مطابق اگر روزانہ صرف تیس منٹ کی واک کو اپنی زندگی کا معمول بنا لیا جائے تو متعدد جسمانی اور ذہنی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) سے وابستہ جنرل فزیشن ڈاکٹر عامر خان کے مطابق واک ایک ایسی جسمانی سرگرمی ہے جو نہ صرف آسان ہے بلکہ ہر عمر کے افراد کے لیے مفید بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ورزش کے بارے میں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ صحت کے لیے سرگرم رہنا ہمیشہ شدید جسمانی مشقت کا نام نہیں۔دل کی صحت کیلئے ناگزیردل کی بیماریاں دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال تقریباً ایک کروڑ 79 لاکھ افراد دل کی مختلف بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ایسے میں روزانہ کی واک ایک سادہ مگر مؤثر حفاظتی تدبیر ثابت ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق روزانہ 30 منٹ یا اس سے زیادہ ،تیز قدموں سے چلنا دل کے پٹھوں کو مضبوط بناتا ہے، بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتا ہے اور کولیسٹرول کی سطح کو بہتر کرتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے واک کرتے ہیں ان میں دل کے دورے کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ واک خون میں شوگر کی مقدار کو متوازن رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔جوڑوں اور ہڈیوں کی مضبوطیاکثر لوگ بڑھتی عمر کے ساتھ جوڑوں کے درد، اکڑاؤ اور حرکت میں دشواری کی شکایت کرتے ہیں جس کی بڑی وجہ جسمانی سرگرمی کی کمی ہے۔ واک جوڑوں کو متحرک رکھتی ہے اور ان میں لچک برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ماہرین کے مطابق چلنے کے دوران جوڑوں کے گرد موجود عضلات مضبوط ہوتے ہیں، خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور کارٹلیج کو غذائیت ملتی ہے جس سے اوسٹیو آرتھرائٹس اور اوسٹیو پوروسس جیسے امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ حالیہ مطالعات سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ گھٹنوں کے درد میں مبتلا افراد کے لیے واک درد میں کمی اور حرکت میں آسانی کا سبب بن سکتی ہے۔کینسر کے خطرات میں کمیحالیہ سائنسی تحقیقات نے واک کے ایک اور اہم فائدے کی نشاندہی کی ہے، وہ یہ کہ بعض اقسام کے کینسر کے خطرے میں کمی۔ ماہرین کے مطابق باقاعدہ واک کرنے سے آنتوں، چھاتی اور گردوں کے کینسر کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جو افراد روزانہ سات ہزار قدم چلتے ہیں ان میں کینسر کا خطرہ 11 فیصد کم ہو جاتا ہے جبکہ نو ہزار قدم چلنے والوں میں یہ کمی 16 فیصد تک دیکھی گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس فائدے کے لیے دس ہزار قدم کی شرط بھی نہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ کی گئی واک بھی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔مدافعتی نظام کی بہتریمدافعتی نظام انسانی جسم کا قدرتی دفاعی حصار ہے جو ہمیں بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ واک نہ صرف جسمانی صحت بلکہ مدافعتی نظام کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ ماہرین کے مطابق واک ذہنی دباؤ میں کمی، بہتر نیند اور خون کی روانی کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے جس کے نتیجے میں جسم میں سوزش کم ہوتی ہے اور مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔خصوصاً اگر واک کسی پارک یا سبزہ زار میں کی جائے تو اس کے فوائد دوگنا ہو جاتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ قدرتی ماحول میں چہل قدمی کرنے سے دماغی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، توجہ میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے۔ذہنی صحت اور خوشگوار زندگیجدید دور میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور ڈپریشن تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق واک ذہنی صحت کے لیے قدرتی علاج کی حیثیت رکھتی ہے۔ چہل قدمی کے دوران جسم میں ایسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو خوشی اور سکون کا احساس پیدا کرتے ہیں۔باقاعدہ واک کرنے والے افراد میں تناؤ کم، موڈ بہتر اور خود اعتمادی زیادہ دیکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین روزانہ کم از کم تیس منٹ واک کو ذہنی سکون کے لیے بھی ضروری قرار دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو واک ایک ایسی سادہ عادت ہے جو دل، جوڑوں، مدافعتی نظام اور ذہنی صحت سمیت پورے جسم پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس کے لیے نہ کسی خاص ساز و سامان کی ضرورت ہے اور نہ ہی زیادہ وقت یا پیسے کی۔ بس روزانہ چند منٹ نکال کر باقاعدگی سے چلنے کی عادت اپنا لی جائے تو صحت مند اور متوازن زندگی کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔ماہرینِ صحت کا مشورہ ہے کہ روزانہ کم از کم آدھے گھنٹے کی واک کو معمول بنایا جائے کیونکہ یہ چھوٹا سا قدم مستقبل میں بڑی بیماریوں سے بچاؤ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

ہیرولڈ گوڈونسن کی تاج پوشی6 جنوری 1066ء کو ہیرولڈ گوڈونسن انگلینڈ کا بادشاہ بنا۔ یہ تاج پوشی بادشاہ ایڈورڈ دی کنفیسر کی وفات کے فوراً بعد ہوئی جو لاولد انتقال کر گیا تھا۔ ایڈورڈ کی موت کے بعد انگلینڈ میں جانشینی کا شدید بحران پیدا ہو گیا کیونکہ تخت کے کئی دعویدار موجود تھے جن میں نارمنڈی کا ڈیوک ولیم (بعد ازاں ولیم فاتح) اور ناروے کا بادشاہ ہارالڈ ہارڈراڈا شامل تھے۔ہیرولڈ گوڈونسن انگلینڈ کی اشرافیہ کے سب سے طاقتور خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور ویٹن (انگلش کونسل) نے اسے بادشاہ منتخب کیا۔ تاہم اس کی بادشاہت انتہائی مختصر ثابت ہوئی کیونکہ اسی سال انگلینڈ کو دو بڑے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ہنری ہشتم کی شادی6 جنوری 1540ء کو انگلینڈ کے بدنام زمانہ بادشاہ ہنری ہشتم نے اپنی چوتھی بیوی این آف کلیوز سے شادی کی۔ این آف کلیوز سے شادی دراصل ایک سیاسی فیصلہ تھا جس کا مقصد یورپ میں پروٹسٹنٹ ریاستوں کے ساتھ اتحاد قائم کرنا تھا، خصوصاً جرمن ریاست کلیوز کے ساتھ۔یہ شادی ہنری ہشتم نے این کی تصویر دیکھ کر طے کی تھی جو جرمن مصور ہانس ہولبائن نے بنائی تھی۔ مگریہ شادی صرف چھ ماہ ہی قائم رہ سکی اور جولائی 1540ء میں اسے منسوخ کر دیا گیا۔ خوش قسمتی سے این آف کلیوز کو سزائے موت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جیسا کہ ہنری کی بعض دیگر بیویوں کو ہوا۔ تھیوڈور روزویلٹ کا انتقال6 جنوری 1919ء کو امریکہ کے 26ویں صدر تھیوڈور روزویلٹ کا انتقال ہوا۔ وہ امریکہ کے سب سے متحرک، طاقتور اور اصلاح پسند صدور میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسے 1906ء میں نوبل امن انعام دیا گیا تھا، جو کسی بھی امریکی صدر کو ملنے والا پہلا نوبل انعام تھا۔تھیوڈور روزویلٹ نے امریکی صدارت کے دوران ''سکوائر ڈیل‘‘ کے نام سے اصلاحاتی پروگرام متعارف کرایا جس کا مقصد عام شہریوں کو منصفانہ مواقع فراہم کرنا تھا۔اسکے دور حکومت میں امریکہ نے لاطینی امریکہ اور بحرالکاہل میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ پاناما کینال کی تعمیر بھی اسی کے دور میں ہوئی۔فور فریڈمز تقریر6 جنوری 1941ء کو امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے اپنی مشہور زمانہ ''Four Freedoms‘‘ تقریرکی۔ یہ تقریر دوسری جنگِ عظیم کے پس منظر میں کی گئی تھی جب امریکہ ابھی باقاعدہ جنگ میں شامل نہیں ہوا تھا مگر عالمی حالات تیزی سے بگڑ رہے تھے۔اس تقریر میں روزویلٹ نے دنیا بھر کے انسانوں کیلئے چار بنیادی آزادیوں کا تصور پیش کیاتھا:اظہارِ رائے کی آزادی،مذہبی آزادی،خوف سے آزادی،افلاس سے آزادی۔ روزویلٹ کا مؤقف تھا کہ اگر دنیا میں جبر اور آمریت کو نہ روکا گیا تو یہ آزادی پسند اقوام کے لیے بھی خطرہ بن جائیگا۔ امریکی کیپٹل ہِل پر حملہ6 جنوری 2021ء کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی کانگریس (کیپٹل ہِل) پر حملہ کر دیا۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب کانگریس 2020ء کے صدارتی انتخابات کے نتائج کی توثیق کر رہی تھی جن میں جو بائیڈن کامیاب قرار پائے تھے۔حملہ آوروں نے زبردستی عمارت میں داخل ہو کر قانون سازوں کو خوف زدہ کیا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور جمہوری عمل کو عارضی طور پر روک دیا۔ اس واقعے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا دوسرا مواخذہ بھی ہوا،۔ ٹرمپ نے دوسری بار صدر بننے کے بعد صدارتی حکومت نامے کے ذریعے اس واقعے میں شامل سزا یافتہ افراد کو معافی دیدی۔