جدید ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو جس تیزی سے سہل بنایا ہے، اب اس کے اثرات پالتو جانوروں کی نگہداشت تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ اگر آپ کو اس بات کی فکر رہتی ہے کہ گھر میں آپ کے پالتو جانور تنہا ہو جاتے ہیں تو سائنس دانوں نے آپ کی اس پریشانی کا حل ''اورا‘‘ (Aura) نامی ایک جدید روبوٹک پالتو بٹلر تیار کر کے نکال لیا ہے۔ جو مالکان کی غیر موجودگی میں جانوروں کو کھانا کھلانے، ان کے ساتھ کھیلنے اور ان کی مصروفیت برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ''اورا‘‘ ایک روبوٹک پالتو بٹلر ہے، جسے اس مقصد کیلئے تیار کیا گیا ہے کہ جب آپ دفتر میں مصروف ہوں تو یہ آپ کے پیارے جانوروں کا ساتھ دے سکے۔ اے آئی سروس فراہم کرنے والی کمپنی ''تویا‘‘ (Tuya) کی تیار کردہ یہ مسکراتی روبوٹک اسسٹنٹ گھر میں پہیوں کے ذریعے گھوم سکتی ہے، ویڈیو بنا سکتی ہے اور آپ کے پالتو جانوروں سے تعامل بھی کر سکتی ہے۔ڈیجیٹل مسکراہٹ، وائس ماڈیول اور اپنے چہرے سے ٹریٹس (خوراک) پھینکنے کی صلاحیت سے لیس ''اورا‘‘ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ جانوروں کی گہری جذباتی ضروریات کو بھی پورا کرتی ہے۔ یہ سب کچھ اس ٹیکنالوجی کے باعث ممکن ہوتا ہے جسے تویا پالتو جانوروں کیلئے ''جذباتی مترجم‘‘ قرار دیتی ہے۔یہ روبوٹ رویّے اور آوازوں کے تجزیے کے ذریعے جانور کی جذباتی کیفیت کو درست طور پر سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بعد ازاں مالکان کو سمارٹ فون پر خودکار رپورٹس موصول ہوتی ہیں، جن میں بتایا جاتا ہے کہ ان کا پالتو جانور خوش، اداس، بے چین یا پُرجوش ہے۔ ''اورا‘‘ ایک خاندانی فوٹوگرافر کا کردار بھی ادا کر سکتی ہے اور آپ کی مصروفیت کے دوران خودکار طور پر آپ کے پالتو جانوروں کے یادگار لمحات محفوظ کر لیتی ہے۔لاس ویگاس میں منعقدہ کنزیومر الیکٹرانکس شو (CES) میں متعارف کرایا گیا ''اورا‘‘ ایک تین پہیوں والا روبوٹ ہے، جو کچھ اس طرح دکھائی دیتا ہے جیسے ایک آئی پیڈ کو ہیمسٹر وہیل کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہو۔ اس کا بڑا، چپٹا ''چہرہ‘‘ آنکھوں کے ایک جوڑے اور مسکراتے ہوئے منہ پر مشتمل ہے، جو اردگرد موجود لوگوں کو دیکھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ دوسری جانب اس کا جسم اندر سے خالی ہے، بظاہر اس لیے کہ بلیاں اس کے اندر بیٹھ کر ادھر اُدھر گھوم سکیں۔ یہ ننھا روبوٹ گہرائی کا ادراک حاصل کرنے کیلئے دو کیمروں کا استعمال کرتا ہے اور خودکار طور پر گھر میں نقل و حرکت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی صلاحیت کی بدولت ''اورا‘‘ بغیر کسی چیز سے ٹکرائے گھر میں راستہ بنا لیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر خود ہی اپنے چارجنگ ڈاک پر واپس پہنچ جاتا ہے۔البتہ گھبرائی ہوئی بلیوں کیلئے یہ خبر کچھ پریشان کن ہو سکتی ہے، کیونکہ کمپنی کے مطابق یہ روبوٹ پورے گھر میں آزادانہ گھومتا ہے اور خود ہی پالتو جانوروں کو تلاش کر کے ان سے تعامل کرتا ہے۔ تاہم ''اورا‘‘ کی اصل کشش اس کی وہ صلاحیت ہے جس کے تحت یہ بلیوں کے جذبات کو بہتر طور پر سمجھنے اور ان سے جذباتی سطح پر رابطہ قائم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اگرچہ خودکار فیڈرز، کیمرے اور حتیٰ کہ ٹریٹس پھینکنے والے کھلونے پہلے ہی موجود ہیں، مگر تویا کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی پالتو جانور کی تنہائی کے احساس کو کم کرنے میں واقعی مددگار ثابت نہیں ہوتا۔اپنے متحرک چہرے اور اے آئی سے تقویت یافتہ صوتی تعامل کے ذریعے ''اورا‘‘ کو ایک ''ردِعمل دینے والا اور گرم جوش‘‘ ساتھی بنانے کیلئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ روبوٹ پالتو جانور سے جذباتی وابستگی کس طرح قائم کرے گا، تاہم اسے مختلف کھلونوں سے لیس کیا گیا ہے، جن میں لیزر پوائنٹر، ٹریٹس دینے والا آلہ اور ''فرضی پالتو جانوروں کی آوازیں‘‘ شامل ہیں۔ اپنے ''جذباتی مترجم‘‘ کی مدد سے تویا کا دعویٰ ہے کہ ''اورا‘‘ مالکان کو ان کے پالتو جانوروں کی خیریت سے باخبر رکھ سکے گا اور دلچسپ لمحات محفوظ بھی کرے گا۔''اورا‘‘ جانوروں کی حرکات و سکنات پر نظر رکھتا ہے، جن میں اچانک جوش و خروش، کھیل کود اور نیند کے لمحات شامل ہیں اور خود فیصلہ کرتا ہے کہ کون سے مناظر مالک کی جانب سے تصویر یا ویڈیو کیلئے موزوں ہیں۔کمپنی کے مطابق یہ خودکار طور پر مختصر ویڈیوز بھی تیار کر سکتا ہے تاکہ قیمتی یادوں کو محفوظ کیا جا سکے اور جذباتی رشتوں کو مضبوط بنایا جا سکے۔ کمپنی نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ یہ روبوٹ کب تجارتی طور پر دستیاب ہوگا اور اس کی قیمت کیا ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ انوکھا پالتو بٹلر ان کے روبوٹک عزائم کی صرف ابتدا ہے۔ اس کے ذریعے مستقبل میں بزرگوں کی دیکھ بھال، گھریلو نگرانی اور خاندانی رابطے جیسے شعبوں میں مختلف ہارڈویئر شکلوں کے ساتھ نئی ایپلی کیشنز کی بنیاد رکھ رہی ہے۔مصروف طرزِ زندگی میں یہ ایجاد نہ صرف پالتو جانوروں کی بہتر دیکھ بھال کی امید دلاتی ہے بلکہ انسان اور مشین کے باہمی تعلق کے ایک نئے دور کی جھلک بھی پیش کرتی ہے۔