عراق کی وادی ٔ السلام: دنیا کا قدیم ترین قبرستان جس میں انبیا دفن ہیں
اسپیشل فیچر
عراق کی سر زمین ہر پہلو سے قدم قدم پر عجائبات اور حیرتوں کا مجموعہ ہے مگر نجف و کربلا اور کوفہ و بغداد کی عظمت و اہمیت تاریخ میں بھی الگ ہے اور عظمت میں بھی اعلیٰ۔ بصرہ اور مدین کے علاقے بھی اپنے اندر مبارک لمس بھی رکھتے ہیں عشق کا ادراک بھی۔ چار لاکھ سینتیس ہزار بہتر مربع کلومیٹر پر پھیلی دجلہ و فرات سے سیراب ہوتی وادی عراق انبیا و ایما کرام کا مسکن رہی مگر ہماری حیرت دنیا کے قدیم ترین اور وسیع قبرستان وادیٔ السلام کو موضوع تحریر بنا رہی ہے۔
نجف میں ہمارا دوسرا دن وادیٔ السلام قبرستان کے نام تھا۔ نبی خدا حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت ہود علیہ السلام بھی اسی قبرستان میں دفن ہیں۔ انبیاء کی قبروں سے قبرستان کی قدامت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ ہزاروں سال قبل کے زمانے اس مٹی کی تہہ میں پوشیدہ ہیں۔ طوفان نوح کے وقت بحر نجف سے اٹھتے طوفان میں جناب نوح علیہ السلام کی کشتی ہی واحد سہارا تھی جو زندگی کی ضامن بھی تھی اور بقا کا سبب بھی۔ جب اللہ تعالی نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ اپنے بیٹے اور بیوی کو بھی کشتی میں بیٹھنے کی دعوت دو۔ باپ کے بلاوے کے باوجود جناب نوح علیہ السلام کا بیٹا اپنے باپ کی کشتی پر بیٹھنے کی بجائے وادیٔ جودی پر چڑھنے کو اپنی بقا سمجھ رہا تھا اور پھر طوفان کی لہریں سب کچھ بہا کر لے گئیں، وادیٔ جودی پر چڑھے ہوئے بیٹے کو بھی اور تمام سرکش لوگوں کو بھی۔
وادیٔ السلام کی راہداریوں میں چلتے ہوئے ہم نے دیکھا کہ بے شمار سرداب بنے ہیں اور زیر زمین قبریں ہیں جن پر نامور لوگوں کے نام والے کتبے لگے ہیں۔ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے گئے ہمیں اپنی حیاتی میں بے پناہ مقبول رہ چکے علماء ، ناقابل شکست سائنس دان، دنیا میں مطلق العنان حاکم اور قبیلوں کے سردار آسودہ خاک ملے۔ اپنی بے وقعتی اور زندگی کا عارضی پن جو ہمیں وادیٔ السلام میں محسوس ہوا ، کبھی نہیں ہوا۔
دو ہزار بیس میں شمار کئے گئے اعداد کے مطابق نو مربع کلومیٹر سے زائد رقبہ پر پھیلے قبرستان میں ساٹھ لاکھ سے زائد قبریں ہیں، جن میں ایران ، عراق ، شام ، لبنان ، پاکستان اور دیگر ممالک کے لوگ اس لئے دفن ہیں کہ یہاں پر دفن کی گئی میتوں بارے معتبر ہستیوں کے فرامین مسلمانوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور دنیا کے کسی بھی حصے میں فوت ہونے والے عقیدت مندوں کی وصیت کے مطابق ان کے لواحقین انہیں یہاں لا کر دفن کرتے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند جناب اسحق علیہ السلام کے ساتھ اسی مقام پر رہائش رکھی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ''زمین پر کوئی بھی مومن نہیں مرتا مگر یہ کہ اس کی روح وادیٔ السلام میں حاضر نہ ہو اور یہ جنت عدن کا ایک گوشہ ہے ‘‘۔ یہاں پر حضرت زین العابدین اور امام جعفر الصادق کا وہ مقام بھی ہے جہاں وہ عبادت کیلئے بیٹھا کرتے تھے۔
گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق یہ دنیا کا قدیم ترین اور سب سے بڑا قبرستان ہے جس میں انبیا ء، اولیاء ، مفکر ، سکالر اور مجتہد دفن ہیں۔ قبرستان کا حجم فٹ بال کے 17میدانوں کے برابر ہے۔
ہم وادیٔ السلام قبرستان سے نکل کر حضرت علیؓ کے روضہ مبارک کی طرف آئے اور روضہ کے اندر مدفون حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھ ساتھ علما و محققین کی قبریں جو روضہ علیؓ کے اطراف میں تھیں انہیں بھی وادیٔ السلام میں شامل کرنے پر مجبور تھے کیونکہ حرم امام علی ؓ سے قبرستان کا فاصلہ زیادہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ وادیٔ جودی دور تھی جس کی بلندی پر چڑھ کر جناب نوح علیہ السلام کا بیٹا طوفان سے بچ جانے کی بات کرتا تھا۔
نجف الاشرف میں عقیدت کے ساتھ ساتھ حیرت بھی ہمارے دامن گیر تھی۔ ایسی حیرت جو بارش کی منتظر تھی ، ایسی بارش جس میں در نجف ایسے نگینے ہمارے سامنے وادیٔ السلام کی مٹی سے نکل کر ہمارے ہاتھ آ سکیں۔