آج کا دن

آج کا دن

اسپیشل فیچر

تحریر :


شائوجیوان کان حادثہ
29اگست2012ء کو چین کے صوبہ سیچوان میں واقع ژیاؤ جیوان کوئلے کی کان میں ایک ہولناک دھماکا ہوا۔ اس المناک حادثے کے نتیجے میں 26 کان کن ہلاک جبکہ 21 افراد لاپتا ہوگئے۔ دھماکے کے وقت کان میں 154 کان کن کام کر رہے تھے۔دھماکے کے بعد امدادی ٹیموں نے کان میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔
کتر ینا طوفان
29 اگست 2005ء کو سمندری طوفان کترینا نے امریکا کے خلیجی ساحلی علاقوں کو شدید تباہی سے دوچار کر دیا۔ طوفان نے لوزیانا سے لے کر فلوریڈا پین ہینڈل تک وسیع علاقے کو متاثر کیا۔ اس ہولناک قدرتی آفت کے نتیجے میں 1,392 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ املاک اور بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 125 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔ کترینا کو امریکا کی تاریخ کے تباہ کن ترین سمندری طوفانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ایف اے کمیونٹی شیلڈکا انعقاد
29 اگست 2020ء کو خواتین کا ایف اے کمیونٹی شیلڈ 2020ء منعقد ہوا۔ یہ انگلینڈ میں خواتین کی فٹ بال کا ایک اہم مقابلہ تھا، جس میں گزشتہ سیزن کی نمایاں اور کامیاب ٹیموں نے شرکت کی۔ اس میچ کا انعقاد خواتین کے فٹ بال کے فروغ اور کھیل کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی علامت تھا۔ کمیونٹی شیلڈ کو انگلش فٹ بال کے نئے سیزن کے آغاز سے قبل ایک اہم اور باوقار مقابلہ سمجھا جاتا ہے۔
رئیس قتل عام
29 اگست 1997ء کوالجزائر کے گاؤں رئیس میں ایک ہولناک قتل عام ہوا، جس میں مسلح اسلامی گروپ ''جی آئی اے‘‘کے حملے میں ابتدائی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 98 تھی جبکہ 120 شدید زخمی ہوئے۔یہ واقعہ الجزائر میں جاری خانہ جنگی کے دوران پیش آنے والے خونریز واقعات میں سے ایک تھا۔
نانکنگ معاہدہ
29اگست1842ء کو ہونے والے ''نانکنگ معاہدہ‘‘ نے برطانیہ اور چین کے درمیان پہلی افیون جنگ کا خاتمہ کیا۔چین فوجی شکست کے تناظر میں، برطانوی جنگی جہاز نانکنگ پر حملہ کرنے کی تیار کر رہا تھا۔ 29 اگست کو، برطانوی نمائندے سر ہنری پوٹنگر اور چین کے نمائندوں کینگ، ییلیبو، اور نیو جیان نے اس معاہدے پر دستخط کیے، جو13 آرٹیکلز پر مشتمل تھا۔
Netflixکا آغاز
1997ء میں Netflixکا آغاز ایک انٹرنیٹ پر مبنی ڈی وی ڈی کرایہ سروس کے طور پر ہوا۔ صارفین آن لائن ویب سائٹ کے ذریعے اپنی پسند کی فلمیں منتخب کرتے تھے، جنہیں ڈی وی ڈی کی صورت میں ان کے پتے پر بھیجا جاتا تھا۔ بعد ازاں نیٹ فلکس نے اپنی خدمات کو وسعت دیتے ہوئے اسٹریمنگ کے شعبے میں قدم رکھا اور دنیا کی معروف تفریحی کمپنیوں میں شامل ہو گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
خلاء سے گرایا گیا موبائل فون محفوظ

خلاء سے گرایا گیا موبائل فون محفوظ

جدید ٹیکنالوجی کے حامل موبائل کورکی بدولتموبائل فون ہماری روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، مگر معمولی سی بلندی سے گرنے پر بھی اس کے ٹوٹنے کا خدشہ رہتا ہے۔ تاہم جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط حفاظتی کیس کی تیاری نے اس تصور کو حیرت انگیز انداز میں بدل دیا ہے۔ ایک منفرد تجربے میں موبائل فون کو خلا کی انتہائی بلندی سے زمین کی جانب گرایا گیا، لیکن حفاظتی کیس کی بدولت یہ فون محفوظ رہا، اس کارنامے کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف جدید حفاظتی ٹیکنالوجی کی شاندار مثال ہے بلکہ سائنس اور انجینئرنگ کی ترقی کا بھی ایک دلچسپ ثبوت ہے۔موبائل فون کے حفاظتی کیس بنانے والی ایک کمپنی نے اپنے ڈیزائن کی مضبوطی کا انتہائی منفرد اور حیرت انگیز امتحان لیا۔ کمپنی نے ایک موبائل فون کو حفاظتی کیس میں رکھ کر خلا کی انتہائی بلندی سے زمین کی جانب گرایا، جسے بعد میں مکمل طور پر محفوظ اور بغیر کسی نقصان کے بازیاب کر لیا گیا۔راہینو شیلڈ اور ''سینٹ ان ٹو سپیس‘‘نے اس شاندار عالمی ریکارڈ کیلئے مشترکہ طور پر کام کیا۔ دونوں کمپنیوں نے زمینی سطح پر موبائل فون کو کیس سمیت سب سے زیادہ بلندی سے گرانے کا متاثر کن ریکارڈ قائم کیا۔24 جون کو سویڈن کے شہر کیرونا میں موبائل فون کو بازیاب کیا گیا اور حیرت انگیز طور پر 30,607 میٹر (ایک لاکھ 418 فٹ 8 انچ) کی بلندی سے گرنے کے باوجود اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔ موازنے کے طور پر یہ بلندی تجارتی مسافر طیاروں کی معمول کی پرواز کی بلندی، یعنی تقریباً 9ہزار میٹر (30ہزار فٹ)، سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔ یہ دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کی 8,848 میٹر (29,031 فٹ) بلندی سے بھی تین گنا سے زیادہ ہے۔''راہینو شیلڈ‘‘ کے برانڈ ایکسپیرینس منیجر موجو ہسیاؤ کے مطابق، اس حیرت انگیز تجربے کا آغاز کمپنی کے بانی ایرک وانگ کے ایک ''دیوانہ وار مگر منفرد خیال‘‘ سے ہوا تھا۔یہ واقعہ گزشتہ برس کمپنی کی ''ایئر ایکس‘‘ (AirX) مصنوعات کی نئی لائن متعارف کرانے کے فوراً بعد پیش آیا۔ کمپنی ہمیشہ سے فضلہ کم سے کم کرنے کو اپنی بنیادی اقدار میں شامل رکھتی ہے اور 2017ء سے یکساں مواد پر مبنی ڈیزائن کے اصول کو اپنائے ہوئے ہے، جس کے تحت اس کے موبائل فون کیسز 100 فیصد قابلِ ری سائیکل بنائے جاتے ہیں۔ موجو نے بتایا کہ ایئر ایکس ایک انقلابی پیش رفت تھی، جسے کمپنی کی ڈیزائن اور تحقیق و ترقی کی لیبارٹریوں نے ایک سال سے زائد عرصے کی محنت کے بعد مکمل کیا۔ پائیداری پر سمجھوتا کیے بغیر صرف ایک ہی قسم کے مواد سے اعلیٰ معیار کا حفاظتی کیس تیار کرنا غیر معمولی تخلیقی انجینئرنگ کا تقاضا کرتا تھا۔ جب کمپنی کے بانی ایرک وانگ نے ٹیم کی تیار کردہ مصنوعات دیکھی تو انہوں نے سوال کیا: ''کیوں نہ گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کرکے اس کی حدود آزمائی جائیں؟‘‘انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں اس تجربے کیلئے مختلف خیالات پیش کیے گئے، جن میں موبائل فون کو 15 میٹر کی بلندی سے مسلسل 50 مرتبہ گرانا یا سب سے زیادہ پائیدار یکساں مواد سے تیار کردہ موبائل کیس کا ریکارڈ قائم کرنا شامل تھا۔ تاہم کمپنی کی خواہش تھی کہ موبائل فون کی حفاظت کو لفظی طور پر نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے، اس لیے گرم ہوا کے غباروں، اسکائی ڈائیونگ اور موسمی غباروں کے ذریعے تجربات کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ بالآخر ایرک وانگ نے کہا کہ اگر ہمیں بلندی تک جانا ہی ہے تو کیوں نہ انسانی طور پر ممکنہ حد تک بلند جائیں۔ یہی سوچ آگے چل کر اسٹریٹوسفیر سے موبائل فون گرانے کے منفرد تجربے کی بنیاد بنی۔کیس کی تیاری کیلئے گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایئر بیگز اور کھیلوں کے جوتوں میں جھٹکا جذب کرنے کیلئے استعمال ہونے والے ہوائی کشنز سے تحریک حاصل کی گئی۔ اس ڈیزائن کا مقصد موبائل فون کو شدید ضرب اور اچانک جھٹکوں سے مؤثر انداز میں محفوظ رکھنا تھا۔ اس تجربے کے دوران موبائل فون کو ایک غبارے کے ذریعے خلا کی بلندی تک پہنچایا گیا اور وہاں سے آزاد چھوڑ دیا گیا۔ فون جیسے ہی تیزی سے زمین کی جانب گرنے لگا، تجربے میں شامل تمام افراد بے چینی اور حیرت کے ساتھ اس کی واپسی کا انتظار کرتے رہے۔ سب کی نظریں اس بات پر مرکوز تھیں کہ آیا جدید حفاظتی کیس موبائل فون کو اس انتہائی خطرناک سفر کے بعد محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔موجو نے کہا کہ اگر میں یہ کہوں کہ ہمیں ذرا بھی گھبراہٹ نہیں ہوئی تو یہ جھوٹ ہوگا! عام لیبارٹری میں موبائل فون کو تقریباً 1.2 میٹر کی بلندی سے گرا کر اس کی مضبوطی جانچی جاتی ہے۔ انتہائی نوعیت کے تجربات کیلئے ہم اپنے چھٹی منزل پر واقع دفتر سے بھی موبائل فونز کو تقریباً 23 میٹر کی بلندی سے گراتے رہتے ہیں۔ لیکن اسٹریٹوسفیر کی بلندی 26ہزار سے 36ہزار میٹر تک ہوتی ہے، جو ہمارے دفتر کی عمارت سے ایک ہزار گنا سے بھی زیادہ بلند ہے۔اس کارنامے کو مزید مشکل بنانے کیلئے گنیز ورلڈ ریکارڈز کی ہدایات کے تحت پیراشوٹ کے استعمال پر سخت پابندی عائد تھی اور یہ لازمی قرار دیا گیا تھا کہ فون کا کیس سب سے پہلے براہِ راست زمین سے ٹکرائے۔ تیاری کے دوران ہماری ٹیم نے بالائی فضائی تہوں جیسے انتہائی سرد حالات کی نقل کرنے کیلئے نقط انجماد سے کم درجہ حرارت پر تجربات کیے، جبکہ فضائی دباؤ کے ٹیسٹ بھی کیے گئے۔ ہم نے بدترین ممکنہ صورتحال کیلئے مکمل تیاری کی اور بہترین نتائج کی امید رکھی۔فون کو اتنی بلندی سے گرائے جانے کے بعد اسے تلاش کرنے اور واپس حاصل کرنے میں ٹیم کو سینٹ اِنٹو اسپیس کی مدد حاصل ہوئی۔کمپنی نے لانچ کیلئے سویڈن میں واقع ایسرینج اسپیس سینٹرکو استعمال کیا۔ یہ ایک محدود علاقہ ہے جس کا رقبہ تقریباً 5,200 سے 5,600 مربع کلومیٹر ہے، یعنی تقریباً لکسمبرگ کے رقبے سے دو گنا بڑا۔

صحت بخش سبزیاں بھی سرطان کا باعث؟

صحت بخش سبزیاں بھی سرطان کا باعث؟

صحت مند زندگی کیلئے سبزیوں کا استعمال ہمیشہ مفید اور ضروری سمجھا جاتا ہے، تاہم حالیہ تحقیق نے سبزیوں میں استعمال ہونے والے بعض پریزرویٹوز (Preservative) کے حوالے سے ایک تشویشناک پہلو اجاگر کیا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق ان کیمیکلز کا استعمال مردوں میں آنتوں کے سرطان کے خطرے میں 50 فیصد تک اضافے سے منسلک ہو سکتا ہے۔ یہ انکشاف خوراک کے معیار، سبزیوں کی کاشت اور محفوظ غذائی عادات کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، بعض اقسام کی پتوں والی سبزیاں کھانے سے آنتوں کے کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ سوئس چارڈ جیسی سبز سبزیوں میں پائے جانے والے ایک مرکب، جسے نائٹرائٹس کہا جاتا ہے، کی زیادہ مقدار استعمال کرنے سے اس مہلک بیماری کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ یہ بات پہلے ہی معلوم ہے کہ نائٹرائٹس نامی مرکبات آنتوں کے سرطان کی نشوؤنما میں کردار ادا کرتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت نے نائٹرائٹس کو گروپ 1 سرطان کا مادہ قرار دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ انہیں تمباکوکی طرح خطرناک سمجھا جاتا ہے۔اب تک خدشات کا مرکز زیادہ تر وہ نائٹرائٹس رہے ہیں جو پراسیس شدہ گوشت میں شامل کیے جاتے ہیں۔ ان کا استعمال گوشت کی مدتِ استعمال بڑھانے اور اس کا گلابی رنگ برقرار رکھنے کیلئے کیا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اضافی مادے گوشت میں موجود پروٹین کے ساتھ تعامل کر کے نائٹروسامینز (nitrosamines) تشکیل دیتے ہیں، جو آنتوں کے صحت مند خلیات کو سرطان زدہ بنا سکتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں آنتوں کے سرطان کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ میں ہر سال 48 ہزار سے زائد افراد میں اس بیماری کی تشخیص ہوتی ہے۔ یہ بیماری اب 50 سال سے کم عمر افراد میں موت کی بڑی وجوہات میں سے ایک بن چکی ہے۔ تحقیق، جو جرنل آف دی نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ میں شائع ہوئی، میں سویڈن سے تعلق رکھنے والے 82 ہزار درمیانی عمر کے افراد کی غذائی عادات کا تجزیہ کیا گیا۔ ان افراد نے 1997ء ، 2009ء اور 2019ء میں خوراک سے متعلق سوال نامے مکمل کیے تھے۔ایسے افراد کو تحقیق میں شامل نہیں کیا گیا جنہیں پہلے کسی قسم کے سرطان کی تشخیص ہو چکی تھی۔محققین نے شرکا کی روزانہ اوسط نائٹرائٹ مقدار کا اندازہ لگانے کیلئے فوڈ ایجنسی کے دستیاب اعداد و شمار کے علاوہ سینکڑوں غذائی اشیا میں نائٹرائٹس کی مقدار سے متعلق اپنی پیمائشوں کو بھی استعمال کیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ مردوں میں نائٹرائٹس کی مجموعی مقدار کا نصف سے کچھ زیادہ حصہ گوشت کی مصنوعات سے حاصل ہوتا تھا، جبکہ پراسیس شدہ گوشت کا حصہ تقریباً ایک چوتھائی تھا۔تقریباً 20 فیصد نائٹرائٹس سبزیوں، پنیر اور دیگر دودھ سے بنی اشیا سے حاصل ہوتے تھے۔20 سالہ مشاہداتی عرصے کے دوران 3 ہزار 170 شرکا میں کولوریکٹل یا بڑی آنت کے سرطان کی تشخیص ہوئی۔مردوں میں اس بیماری کے زیادہ کیسز سامنے آئے اور جن مردوں کی خوراک میں نائٹرائٹس کی مقدار سب سے زیادہ تھی، ان میں سب سے کم مقدار استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں آنتوں کے سرطان کی تشخیص کا امکان 23 فیصد زیادہ پایا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین میں نائٹرائٹس کے استعمال اور آنتوں کے سرطان کے درمیان کوئی نمایاں تعلق سامنے نہیں آیا۔محققین نے خوراک میں فائبر کی مقدار، جو آنتوں کے سرطان سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے معروف ہے، کے علاوہ عمر، خاندانی طبی تاریخ، وزن اور تمباکو نوشی کی عادت جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا۔ ان عوامل کے تجزیے کے بعد محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ نائٹرائٹس سے بھرپور غذا مردوں میں آنتوں کے سرطان کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے، خواہ نائٹرائٹس کسی بھی غذائی ذریعے سے حاصل ہوں۔یہ تعلق آنتوں کے نچلے حصے کو متاثر کرنے والے سرطان کے حوالے سے سب سے زیادہ مضبوط نظر آیا۔ سب سے زیادہ نائٹرائٹس استعمال کرنے والے مردوں میں اس قسم کے سرطان کا خطرہ 50 فیصد زیادہ پایا گیا۔

آج تم یاد بے حساب آئے!پرویز مہدی غزلوں اور گیتوں کونئی رمق بخشنے والا گلوکار

آج تم یاد بے حساب آئے!پرویز مہدی غزلوں اور گیتوں کونئی رمق بخشنے والا گلوکار

٭...غزل اور گیت گائیکی میں منفرد مقام رکھنے والے گلوکار پرویز مہدی 14 اگست 1947ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔٭...ان کے والد بشیر حسین راہی ریڈیو پاکستان کے ایک مقبول گلوکار تھے۔٭...گانے کا شوق انہیں بچپن سے ہی تھا۔ والد نے اپنے بیٹے کی لگن اور شوق کو دیکھتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کی۔٭... گائیکی میں پختگی لانے کیلئے پہلے انہوں نے جے اے فاروق سے موسیقی کی تربیت حاصل کی اور بعد میں مہدی حسن کے پہلے علانیہ شاگرد بنے۔٭... ان کا اصل نام پرویز حسن تھا، شہنشاہ غزل مہدی حسن کی شاگردی اختیار کرنے کے بعد اپنا نام پرویز مہدی رکھ لیا۔٭...پرویز مہدی نے 70ء کی دہائی میں اپنے فنی سفرکا آغاز کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے موسیقی کے افق پر چھا گئے۔٭...70ء کی دہائی میں ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے گیت ''میں جانا پردیس‘‘ نے انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ٭... وہ بنیادی طورپر غزل گائیک تھے، گیت اور فوک گیت گانے میں بھی خاص کمال اور مہارت رکھتے تھے۔٭... انہوں نے 30سال تک گلوکاری کے اپنے سفر میں کئی شعرا کا کلام گایا اور ان کی شاعری کو مقبول و عام کیا۔٭... پرویز مہدی نے جہاں غزل گائیکی کو نیا اور دلکش انداز دیا، وہیں ان کے پنجابی گیتوں نے بھی خوب مقبولیت حاصل کی۔٭... پرویز مہدی نے ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ یادگار گانا ''تک چن پیا جاندا ای‘‘ گایا، جو بہت پسند کیا گیا۔٭... ان کا ریشماں کے ساتھ گایا ہوا گیت ''گوریے میں جانا پردیس‘‘ بھی بے پناہ مقبول ہوا۔٭... پرویز مہدی نے امریکہ، انگلینڈ سمیت تمام یورپی ممالک کے کامیاب دورے کیے۔٭... ان کی شاندار فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں ''ستارہ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔٭... 29 اگست 2005ء کو مختصر علالت کے بعد وہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملے، انہوں نے 57برس عمر پائی۔مقبول گیت٭...گوریے میں جانا پردیس٭...ٹوٹ جائے نہ بھرم٭...چار دناں دا پیار٭...سات سروں کا بہتا دریا٭...اے دل تو میرا٭...بے درداں نال پیار٭...دل دکھانے کی بات٭... ہم تیرا اعتبار٭...تیری نفرتیں جہاں٭...راتاں نو تو وی

فون کا استعمال کم کرنے کیلئے  ہدف مقرر کریں

فون کا استعمال کم کرنے کیلئے ہدف مقرر کریں

سمارٹ فون ہماری زندگی کا تقریباً ہر شعبہ اپنے اندر سمو چکا ہے۔ رابطے، خبریں، تعلیم، بینکنگ، خریداری، تفریح اور سوشل میڈیا،سب کچھ چند انگلیوں کی حرکت پر دستیاب ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ضرورت اور عادت کے درمیان فرق ختم ہونے لگتا ہے۔ انسان بار بار فون اٹھاتا ہے، سکرین دیکھتا ہے اور کئی مرتبہ اسے احساس بھی نہیں ہوتا کہ دن کا کتنا قیمتی وقت اس چھوٹی سی سکرین کے سامنے گزر گیا۔ایک حالیہ تحقیق نے فون کے ضرورت سے زیادہ استعمال کو کم کرنے کے لیے ایک نہایت سادہ مگر دلچسپ طریقہ پیش کیا ہے: لوگوں کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ انہیں اپنے فون کا استعمال کتنا کم کرنا ہے۔ تحقیق کے مطابق اپنا ہدف خود مقرر کرنے والے افراد دوسروں کی طرف سے مقرر کردہ ہدف حاصل کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب رہے۔روزانہ کئی گھنٹے فون کے ساتھسمارٹ فون کا استعمال اب محض ایک تکنیکی عادت نہیں رہا بلکہ روزمرہ زندگی کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔ ایک اوسط صارف دن میں تقریباً چھ گھنٹے فون پر گزارتا ہے اور ہر گھنٹے میں تقریباً دو مرتبہ فون کھولتا ہے۔ اگرچہ ہر فرد کا استعمال مختلف ہوتا ہے لیکن یہ اعداد اس بات کا اندازہ ضرور دیتے ہیں کہ موبائل فون ہماری روزمرہ زندگی میں کس قدرسرایت کر چکا ہے۔مسئلہ صرف وقت کے ضیاع کا نہیں، مسلسل فون استعمال کرنے کی عادت ہماری توجہ، کام کرنے کی صلاحیت اور بعض صورتوں میں ذہنی سکون کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں محققین ایسے طریقے تلاش کر رہے ہیں جن کے ذریعے لوگوں کو اپنے سکرین ٹائم کو منظم کرنے میں مدد مل سکے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کیلئے شاید کسی مہنگی ایپ، پیچیدہ ٹیکنالوجی یا سخت پابندی کی ضرورت نہیں۔ انسان کو صرف یہ اختیار دینا کافی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے لیے ایک ایسا ہدف منتخب کرے جسے وہ حقیقتاً حاصل کرنا چاہتا ہے۔ سپین کے مختلف اداروں سے وابستہ تحقیقی ٹیم نے 149 رضاکاروں پر 35 دن کا ایک تجربہ کیا۔شرکا کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔پہلے گروپ کے 55 افراد کو اختیار دیا گیا کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ وہ اپنے فون کے استعمال میں 10، 20 یا 30 فیصد کمی کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرے گروپ میں 62 افراد کو محققین کی جانب سے 14 فیصد کمی کا ہدف دیا گیا۔ تیسرے گروپ میں شامل 32 افراد کو کوئی مخصوص ہدف نہیں دیا گیا البتہ ان کے فون استعمال کی نگرانی جاری رہی۔نتائج میں سب سے نمایاں فرق ان افراد میں دیکھا گیا جنہوں نے اپنا ہدف خود مقرر کیا تھا۔ ان لوگوں نے اوسطاً روزانہ 49 منٹ فون کا استعمال کم کیا جبکہ محققین کی طرف سے مقرر کردہ ہدف والے گروپ میں کمی تقریباً 23 منٹ روزانہ رہی۔ یعنی خود ہدف مقرر کرنے والے گروپ میں کمی تقریباً دو گنا زیادہ تھی۔اختیار ملنے سے عزم مضبوط ہوتا ہےاس تحقیق کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر اپنا ہدف خود مقرر کرنے سے اتنا فرق کیوں پڑتا ہے؟محققین کے خیال میں اس کی ایک ممکنہ وجہ ذمہ داری اور اختیار کا احساس ہے۔ جب کوئی دوسرا شخص ہمارے لیے ہدف مقرر کرتا ہے تو وہ ہدف بسا اوقات غیر حقیقی، مشکل یا ہماری ذاتی ترجیحات سے مختلف محسوس ہو سکتا ہے لیکن جب انسان خود فیصلہ کرتا ہے کہ اسے 10، 20 یا 30 فیصد کمی کرنی ہے تو وہ اپنے حالات اور عادات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتا ہے۔یہ اصول صرف فون کے استعمال تک محدود نہیں، ورزش، وزن کم کرنے، مطالعہ، بچت یا کسی نئی عادت کے معاملے میں بھی انسان اس وقت زیادہ سنجیدہ ہو سکتا ہے جب اسے اپنے مقصد کے انتخاب میں کچھ آزادی حاصل ہو۔یہ نتیجہ اس امکان کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مستقل مزاجی کے ساتھ ایک مخصوص ہدف پر عمل کرنے سے نئی عادت پیدا ہو سکتی ہے۔ چھوٹا تجربہ بڑا سبقاس تحقیق سے یہ سبق حاصل ہوتاہے کہ اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ فون آپ کا بہت زیادہ وقت لے رہا ہے تو فوراً یہ فیصلہ کرنے کے بجائے کہ اب میں فون بہت کم استعمال کروں گا پہلے اپنا موجودہ استعمال دیکھیں اور پھر خود قابلِ حصول ہدف مقرر کریں مثلاً اگر آپ روزانہ چار گھنٹے فون استعمال کرتے ہیں تو پہلے مرحلے میں 20 فیصد کمی کا ہدف تقریباً 48 منٹ بنتا ہے۔ یہ ہدف نہ صرف واضح ہے بلکہ آسانی سے حاصل بھی کیا جاسکتا ہے۔ فون سے دور رہنے کا بہترین طریقہ فون کو دشمن سمجھنا نہیں بلکہ اپنے استعمال پر اختیار حاصل کرنا ہے۔ اس تحقیق کا پیغام بھی یہی ہے کہ جب مقصد آپ کا اپنا ہو تو اسے حاصل کرنے کا عزم بھی زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے۔

نینسی گریس رومن

نینسی گریس رومن

کائنات کو دیکھنے والی ناسا کی نئی آنکھ30 اگست کو انسان ایک بار پھر کائنات کی طرف ایک غیر معمولی نظر ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ناسا کیNancy Grace Roman Space Telescope جسے مختصراً رومن سپیس ٹیلی سکوپ کہا جاتا ہے، شیڈول کے مطابق فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سنٹر سے SpaceX کے Falcon Heavy راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کی جائے گی۔اس دوربین کا مقصدصرف دور دراز کہکشاؤں کی خوبصورت تصاویر بنانا نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ کائنات بنی کیسے، وقت کے ساتھ تبدیل کیسے ہوئی، اس کی توسیع تیز کیوں ہو رہی ہے اور ہماری کہکشاں میں کتنے ایسے سیارے موجود ہیں جو ہماری موجودہ تکنیکی نظروں سے چھپے ہوئے ہیں۔رومن کا سب سے بڑا کمال اس کی وسیع نظر ہے۔ اس کا بنیادی عدسہ2.4 میٹر کا ہے جو ہبل کے عدسے کے برابر ہے لیکن اس کا وائیڈ فیلڈ انسٹرومنت ایک ہی مشاہدے میں ہبل کے مقابلے میں کم از کم 100 گنا زیادہ آسمانی رقبہ دیکھ سکتا ہے۔ ناسا کے مطابق رومن ہبل کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے خلاؤں کا سروے کر سکے گی۔کائنات کو وسیع پیمانے پر دیکھنے والی آنکھ1990ء میں ہبل کی لانچ کے بعد انسان نے کائنات کو ایک نئی نظر سے دیکھنا شروع کیا۔ ہبل نے اربوں نوری سال دور کہکشاؤں، ستاروں کی پیدائش، نیبولا اور کہکشانی ارتقا کے بارے میں ہماری سوچ بدل دی۔ لیکن ہبل بنیادی طور پر انتہائی تفصیلی مگر نسبتاً محدود حصوں کا مشاہدہ کرتی ہے۔رومن قدرے مختلف ہے۔ یہ آسمان کے بہت بڑے حصے کو تیزی سے سکین کرے گی یوں سائنسدان صرف چند دلچسپ کہکشاؤں کا مطالعہ نہیں کریں گے بلکہ اربوں کہکشاؤں اور دیگر کائناتی اجسام کا وسیع ڈیٹا حاصل کر سکیں گے۔ ناسا کا کہنا ہے کہ رومن اپنی زندگی کے دوران تقریباً ایک ارب کہکشاؤں سے آنے والی روشنی کی پیمائش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ فرق ایسا ہی ہے جیسے ایک ماہرِ آثارِ قدیمہ صرف ایک تاریخی عمارت کا انتہائی باریک مطالعہ کرے جبکہ دوسرا پورے شہر کا نقشہ تیار کر کے ہزاروں عمارتوں کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی کوشش کرے۔رومن کا مقصد یہی وسیع کائناتی نقشہ تیار کرنا ہے۔اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ سائنسدان کہکشاؤں کی تقسیم، ان کے جھرمٹ، ان کے ارتقا اور کائنات کے بڑے پیمانے پر ڈھانچے کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔ یوں رومن ہمیں صرف یہ نہیں بتائے گی کہ کائنات میں کیا موجود ہے بلکہ یہ بھی سمجھنے میں مدد دے گی کہ یہ سب ایک دوسرے سے کس طرح جڑا ہوا ہے۔ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر کا رازرومن مشن کی سب سے بڑی سائنسی اہمیت شاید کائنات کے دو بڑے معموں، ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر کو سمجھنے میں اس کا کردار ہے۔ہم جانتے ہیں کہ کائنات پھیل رہی ہے لیکن مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ اس پھیلاؤ کی رفتار وقت کے ساتھ تیز ہو رہی ہے۔ اس تیز رفتار پھیلاؤ کو سمجھانے کے لیے سائنسدان ایک پراسرار عامل کو ''ڈارک انرجی‘‘ کہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ ڈارک انرجی حقیقت میں ہے کیا ۔رومن مختلف کائناتی مشاہدات کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ کائنات کی توسیع تاریخ میں کس طرح تبدیل ہوئی۔ اس کے وسیع سروے سائنسدانوں کو ایسے بڑے ڈیٹا سیٹ فراہم کریں گے جن سے کائنات کے پھیلاؤ اور اس کے بڑے پیمانے پر ڈھانچے کے درمیان تعلق کا زیادہ درست مطالعہ ممکن ہوگا۔نئے سیارے اور زندگی کی تلاش رومن کا ایک اور دلچسپ مشن ہماری اپنی کہکشاں یعنی ملکی وے میں نئے سیاروں کی تلاش ہے۔ناسا کے مطابق رومن ہزاروں نئے exoplanets دریافت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ہماری کہکشاں میں سیاروی نظاموں کا ایک وسیع شماریاتی جائزہ لے گی۔رومن کے پاس ایک کورنوگراف انسٹرومنٹ بھی ہوگا جو ستارے کی تیز روشنی کو روکنے کی ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کرے گا تاکہ اس کے قریب موجود نسبتاً مدھم سیاروں کا براہِ راست مشاہدہ ممکن ہو سکے۔ یہ مستقبل کی ان دوربینوں کے لیے ایک اہم تکنیکی قدم ہوسکتا ہے جو ممکنہ طور پر زمین جیسے سیاروں کے ماحول کا مطالعہ کریں گی۔ہبل کے بعد ایک نیا کائناتی بابرومن کو ہبل کا متبادل سمجھنا درست نہیں؛ بلکہ دونوں کی صلاحیتیں ایک دوسرے کو مکمل کریں گی۔ ہبل انتہائی تفصیلی مشاہدات کے لیے اپنی اہمیت برقرار رکھے گا، جبکہ رومن وسیع کائناتی سروے کرنے میں ایک نئی سطح پیدا کرے گی۔رومن زمین کے گرد نہیں بلکہ سورج اور زمین کے نظام کے L2 مقام کے قریب کام کرے گی جو زمین سے تقریباً 1.5 ملین کلومیٹر دور ہے۔اس مشن کی اصل طاقت صرف اس کے لینز یا کیمروں میں نہیں بلکہ اس کے جمع کیے جانے والے ڈیٹا میں ہے۔ اتنی بڑی مقدار میں کائناتی معلومات مستقبل کے سائنسدانوں کے لیے بھی خزانہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ممکن ہے رومن جس چیز کی تلاش کے لیے بنائی گئی ہے اس سے کہیں زیادہ اہم کوئی ایسی دریافت کر دے جس کا آج ہمیں اندازہ بھی نہ ہو۔

آج کا دن

آج کا دن

گلیلیو کی دوربین 25 اگست 1609ء کو اطالوی سائنسدان گلیلیو گلیلی کی دوربین سے متعلق سرگرمیوں نے یورپ میں سائنسی تحقیق کی سمت بدلنے والے نئے دور کی بنیادرکھی۔گلیلیو نے دوربین کو محض دور کی چیزیں دیکھنے کے آلے کے بجائے فلکیاتی تحقیق کا سائنسی ذریعہ بنا دیا۔ 1610ء میں اس نے مشتری کے چار بڑے چاند دریافت کیے جنہیں اس وقت میڈیسیئن سیارے کہا گیا۔ اس نے چاند کی سطح، سورج کے دھبوں اور دیگر آسمانی مظاہر کا بھی مشاہدہ کیا۔ اس طرح آسمان کے بارے میں قدیم تصورات کو براہِ راست مشاہدے کے ذریعے جانچنے کا راستہ کھلا۔ گلیلیو کے مشاہدات نے کوپرنیکس کے اس تصور کو مضبوط کیا کہ زمین کائنات کا ساکن مرکز نہیں بلکہ سورج کے گرد گردش کرنے والے اجرام میں سے ایک ہے۔یوراگوئے کی آزادی25 اگست 1825ء کو فلوریڈا میں منعقد ہونے والی نمائندہ اسمبلی نے اس علاقے کی برازیلی اقتدار سے آزادی کا اعلان کیا جو بعد میں یوراگوئے کے نام سے ایک آزاد ملک بنا۔ 1816ء میں پرتگالی افواج نے اس خطے پر حملہ کیا اور بالآخر یہ علاقہ پرتگالی برازیل کے زیرِ اقتدار آ گیا۔ برازیل نے 1822ء میں پرتگال سے آزادی حاصل کی تو یہ برازیلی سلطنت کا صوبہ بن گیا۔ 1825میں جان اینٹونیو لاوالیجا کی قیادت میں انقلابی تحریک شروع ہوئی اور1828ء کے ٹریٹی آف ماؤنٹو ڈیو کے ذریعے یوراگوئے کی آزاد ریاست تسلیم کر لیا گیا۔ 25 اگست یوراگوئے کی تاریخ میں محض ایک اعلان کی تاریخ نہیں بلکہ قومی خودمختاری کی جدوجہد کا بنیادی سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔امریکی نیشنل پارک سروس25 اگست 1916ء کو امریکی صدر وڈرو ولسن نے نیشنل پارک سروس قائم کی جس کا مقصد نیشنل پارکوں، تاریخی مقامات، قدرتی علاقوں اور دیگر محفوظ مقامات کو محفوظ کرنا تھا۔یہ تصور اپنے وقت کے لحاظ سے بہت اہم تھا۔ اس نے تحفظِ فطرت اور عوامی رسائی کو ایک دوسرے کا مخالف سمجھنے کے بجائے دونوں کو ایک مشترکہ مقصد کا حصہ بنایا۔بعد کے عشروں میں نیشنل پارک سروس نے اپنی ذمہ داریاں وسیع کیں۔ تاریخی مقامات، جنگی میدان، یادگاریں، ساحلی علاقے، قدرتی ذخائر اور ثقافتی ورثے کے متعدد مقامات اس نظام کا حصہ بنے۔ NPS کو امریکہ کے قدرتی اور تاریخی ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کے جدید تصور کی تاریخ میں اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔پیرس کی آزادی25 اگست 1944ء دوسری جنگِ عظیم کی تاریخ کا ایک اہم دن تھا کیونکہ اسی روز اتحادی افواج اور فرانسیسی مزاحمتی قوتوں نے پیرس کو نازی جرمنی کے قبضے سے آزاد کرایا۔ پیرس جون 1940ء سے جرمن قبضے میں تھا اس لیے اس کی آزادی فرانسیسی عوام اور اتحادی افواج دونوں کے لیے بہت بڑی علامتی اور سیاسی اہمیت رکھتی تھی۔پیرس کی آزادی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ صرف بیرونی اتحادی فوج کی فتح نہیں تھی فرانسیسی مزاحمت نے شہر کے اندر جرمن انتظامیہ اور فوجی قوت پر مسلسل دباؤ ڈالا۔25 اگست کی آزادی نے فرانس کی سیاسی بحالی کی بنیاد رکھی۔ اگلے دن چارلس ڈیگال نے پیرس میں ایک بڑے عوامی جلوس کی قیادت کی جو آزاد فرانس کی علامت بن گیا۔ وائجر 2 کا سفر25 اگست 1989ء کو انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خلائی جہاز نے نیپچون کے قریب سے پرواز کی۔ ناسا کاوائجر 2 خلائی جہاز اس روز نیپچون کے بادلوں کے اوپر سے تقریباً 4800 کلومیٹر کے فاصلے سے گزرا۔ یہ انسانی ساختہ کسی بھی خلائی جہاز کا نیپچون کاپہلا قریبی مشاہدہ تھا اور اس نے نظامِ شمسی کے اس دور دراز سیارے کے بارے میں ہماری معلومات کو یکسر تبدیل کر دیا۔وائجر 2 کو 1977ء میں لانچ کیا گیا تھا۔ اس مشن کا ایک غیر معمولی پہلو یہ تھا کہ خلائی جہاز نے مشتری، زحل، یورینس اور بالآخر نیپچون یعنی نظامِ شمسی کے چار بڑے بیرونی سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ ناسا کے مطابق نیپچون تک پہنچنے کے لیے وائجر 2 نے تقریباً 7 ارب کلومیٹر کا سفر کیا۔