جدید ٹیکنالوجی کے حامل موبائل کورکی بدولتموبائل فون ہماری روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، مگر معمولی سی بلندی سے گرنے پر بھی اس کے ٹوٹنے کا خدشہ رہتا ہے۔ تاہم جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط حفاظتی کیس کی تیاری نے اس تصور کو حیرت انگیز انداز میں بدل دیا ہے۔ ایک منفرد تجربے میں موبائل فون کو خلا کی انتہائی بلندی سے زمین کی جانب گرایا گیا، لیکن حفاظتی کیس کی بدولت یہ فون محفوظ رہا، اس کارنامے کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف جدید حفاظتی ٹیکنالوجی کی شاندار مثال ہے بلکہ سائنس اور انجینئرنگ کی ترقی کا بھی ایک دلچسپ ثبوت ہے۔موبائل فون کے حفاظتی کیس بنانے والی ایک کمپنی نے اپنے ڈیزائن کی مضبوطی کا انتہائی منفرد اور حیرت انگیز امتحان لیا۔ کمپنی نے ایک موبائل فون کو حفاظتی کیس میں رکھ کر خلا کی انتہائی بلندی سے زمین کی جانب گرایا، جسے بعد میں مکمل طور پر محفوظ اور بغیر کسی نقصان کے بازیاب کر لیا گیا۔راہینو شیلڈ اور ''سینٹ ان ٹو سپیس‘‘نے اس شاندار عالمی ریکارڈ کیلئے مشترکہ طور پر کام کیا۔ دونوں کمپنیوں نے زمینی سطح پر موبائل فون کو کیس سمیت سب سے زیادہ بلندی سے گرانے کا متاثر کن ریکارڈ قائم کیا۔24 جون کو سویڈن کے شہر کیرونا میں موبائل فون کو بازیاب کیا گیا اور حیرت انگیز طور پر 30,607 میٹر (ایک لاکھ 418 فٹ 8 انچ) کی بلندی سے گرنے کے باوجود اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا ۔ موازنے کے طور پر یہ بلندی تجارتی مسافر طیاروں کی معمول کی پرواز کی بلندی، یعنی تقریباً 9ہزار میٹر (30ہزار فٹ)، سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔ یہ دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کی 8,848 میٹر (29,031 فٹ) بلندی سے بھی تین گنا سے زیادہ ہے۔''راہینو شیلڈ‘‘ کے برانڈ ایکسپیرینس منیجر موجو ہسیاؤ کے مطابق، اس حیرت انگیز تجربے کا آغاز کمپنی کے بانی ایرک وانگ کے ایک ''دیوانہ وار مگر منفرد خیال‘‘ سے ہوا تھا۔یہ واقعہ گزشتہ برس کمپنی کی ''ایئر ایکس‘‘ (AirX) مصنوعات کی نئی لائن متعارف کرانے کے فوراً بعد پیش آیا۔ کمپنی ہمیشہ سے فضلہ کم سے کم کرنے کو اپنی بنیادی اقدار میں شامل رکھتی ہے اور 2017ء سے یکساں مواد پر مبنی ڈیزائن کے اصول کو اپنائے ہوئے ہے، جس کے تحت اس کے موبائل فون کیسز 100 فیصد قابلِ ری سائیکل بنائے جاتے ہیں۔ موجو نے بتایا کہ ایئر ایکس ایک انقلابی پیش رفت تھی، جسے کمپنی کی ڈیزائن اور تحقیق و ترقی کی لیبارٹریوں نے ایک سال سے زائد عرصے کی محنت کے بعد مکمل کیا۔ پائیداری پر سمجھوتا کیے بغیر صرف ایک ہی قسم کے مواد سے اعلیٰ معیار کا حفاظتی کیس تیار کرنا غیر معمولی تخلیقی انجینئرنگ کا تقاضا کرتا تھا۔ جب کمپنی کے بانی ایرک وانگ نے ٹیم کی تیار کردہ مصنوعات دیکھی تو انہوں نے سوال کیا: ''کیوں نہ گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش کرکے اس کی حدود آزمائی جائیں؟‘‘انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں اس تجربے کیلئے مختلف خیالات پیش کیے گئے، جن میں موبائل فون کو 15 میٹر کی بلندی سے مسلسل 50 مرتبہ گرانا یا سب سے زیادہ پائیدار یکساں مواد سے تیار کردہ موبائل کیس کا ریکارڈ قائم کرنا شامل تھا۔ تاہم کمپنی کی خواہش تھی کہ موبائل فون کی حفاظت کو لفظی طور پر نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے، اس لیے گرم ہوا کے غباروں، اسکائی ڈائیونگ اور موسمی غباروں کے ذریعے تجربات کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ بالآخر ایرک وانگ نے کہا کہ اگر ہمیں بلندی تک جانا ہی ہے تو کیوں نہ انسانی طور پر ممکنہ حد تک بلند جائیں۔ یہی سوچ آگے چل کر اسٹریٹوسفیر سے موبائل فون گرانے کے منفرد تجربے کی بنیاد بنی۔کیس کی تیاری کیلئے گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ایئر بیگز اور کھیلوں کے جوتوں میں جھٹکا جذب کرنے کیلئے استعمال ہونے والے ہوائی کشنز سے تحریک حاصل کی گئی۔ اس ڈیزائن کا مقصد موبائل فون کو شدید ضرب اور اچانک جھٹکوں سے مؤثر انداز میں محفوظ رکھنا تھا۔ اس تجربے کے دوران موبائل فون کو ایک غبارے کے ذریعے خلا کی بلندی تک پہنچایا گیا اور وہاں سے آزاد چھوڑ دیا گیا۔ فون جیسے ہی تیزی سے زمین کی جانب گرنے لگا، تجربے میں شامل تمام افراد بے چینی اور حیرت کے ساتھ اس کی واپسی کا انتظار کرتے رہے۔ سب کی نظریں اس بات پر مرکوز تھیں کہ آیا جدید حفاظتی کیس موبائل فون کو اس انتہائی خطرناک سفر کے بعد محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔موجو نے کہا کہ اگر میں یہ کہوں کہ ہمیں ذرا بھی گھبراہٹ نہیں ہوئی تو یہ جھوٹ ہوگا! عام لیبارٹری میں موبائل فون کو تقریباً 1.2 میٹر کی بلندی سے گرا کر اس کی مضبوطی جانچی جاتی ہے۔ انتہائی نوعیت کے تجربات کیلئے ہم اپنے چھٹی منزل پر واقع دفتر سے بھی موبائل فونز کو تقریباً 23 میٹر کی بلندی سے گراتے رہتے ہیں۔ لیکن اسٹریٹوسفیر کی بلندی 26ہزار سے 36ہزار میٹر تک ہوتی ہے، جو ہمارے دفتر کی عمارت سے ایک ہزار گنا سے بھی زیادہ بلند ہے۔اس کارنامے کو مزید مشکل بنانے کیلئے گنیز ورلڈ ریکارڈز کی ہدایات کے تحت پیراشوٹ کے استعمال پر سخت پابندی عائد تھی اور یہ لازمی قرار دیا گیا تھا کہ فون کا کیس سب سے پہلے براہِ راست زمین سے ٹکرائے۔ تیاری کے دوران ہماری ٹیم نے بالائی فضائی تہوں جیسے انتہائی سرد حالات کی نقل کرنے کیلئے نقط انجماد سے کم درجہ حرارت پر تجربات کیے، جبکہ فضائی دباؤ کے ٹیسٹ بھی کیے گئے۔ ہم نے بدترین ممکنہ صورتحال کیلئے مکمل تیاری کی اور بہترین نتائج کی امید رکھی۔فون کو اتنی بلندی سے گرائے جانے کے بعد اسے تلاش کرنے اور واپس حاصل کرنے میں ٹیم کو سینٹ اِنٹو اسپیس کی مدد حاصل ہوئی۔کمپنی نے لانچ کیلئے سویڈن میں واقع ایسرینج اسپیس سینٹرکو استعمال کیا۔ یہ ایک محدود علاقہ ہے جس کا رقبہ تقریباً 5,200 سے 5,600 مربع کلومیٹر ہے، یعنی تقریباً لکسمبرگ کے رقبے سے دو گنا بڑا۔