قدیم مقبرہ، جدید دور کا خوف
اسپیشل فیچر
فرعون کی آخری آرام گاہ کے پراسرار حصارکا راز آج بھی برقرار
قدیم مصر کے فرعون توتن خامن کا مقبرہ صرف آثارِ قدیمہ کی ایک حیرت انگیز دریافت نہیں بلکہ صدیوں پرانے اسراراور پراسرار کہانیوں کا مرکز بھی بن چکا ہے۔ 1922ء میں ہاورڈ کارٹر کی جانب سے اس مقبرے کی دریافت نے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا تھا، مگر اس کے بعد مقبرے سے وابستہ ''فرعون کی لعنت‘‘ کی داستان نے لوگوں کے تجسس کو مزید بڑھا دیا۔ مقبرے کی دریافت کے بعد بعض افراد کی اموات اور بدقسمتی کے واقعات کو توتن خامن کی مبینہ لعنت سے جوڑا گیا، اگرچہ ان دعوؤں کے سائنسی شواہد موجود نہیں۔ اب ماہرین آثارِ قدیمہ کی جانب سے مقبرے کے اندر ممکنہ پوشیدہ حصوں کی تلاش اور ملکہ نیفرتیتی سے متعلق قیاس آرائیوں نے اس قدیم راز کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
اس غیر معمولی دریافت کے ساتھ آثارِ قدیمہ کی ایک ایسی داستان بھی جنم لیتی گئی جو آج تک لوگوں کے تجسس کا باعث ہے۔ کھدائی سے وابستہ افراد میں بیماریوں، حادثات اور بعض غیر متوقع اموات کے واقعات سامنے آنے کے بعد یہ دعوے کیے جانے لگے کہ کم عمر فرعون کی آخری آرام گاہ کسی مہلک لعنت کے حصار میں ہے۔اب ماہرین آثارِ قدیمہ مقبرے کے اندر ممکنہ طور پر موجود پوشیدہ کمروں کی تلاش کیلئے ڈرلنگ پر غور کر رہے ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ ان خفیہ حصوں میں ملکہ نیفرتیتی کا طویل عرصے سے گمشدہ مقبرہ موجود ہو سکتا ہے۔ اس امکان نے توتن خامن کے مقبرے سے وابستہ پراسرار کہانیوں اور نام نہاد ''فرعون کی لعنت‘‘ کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔
مقبرہ کھلنے کے صرف پانچ ماہ بعد ایک اہم شخص کو مبینہ طور پر اس لعنت کا پہلا شکار قرار دیا گیا۔ اس منصوبے کے اہم مالی معاون لارڈ کارناروون5 اپریل 1923ء کو خون میں زہریلے جراثیم پھیلنے اور نمونیا کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کے چہرے پر مچھر کے کاٹنے کا زخم انفیکشن کا شکار ہوگیا تھا۔ تاہم بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ فرعون کے مقبرے میں موجود جراثیمی ذرات یا پھپھوندی کے بیضے سانس کے ذریعے اندر جانے سے بھی ان کی بیماری اور موت میں کردار ادا کیا ہو سکتا ہے۔
ان افواہوں کو معروف مصنف سر آرتھر کونن ڈوئل کے بیان سے بھی تقویت ملی۔ شرلاک ہومز کے خالق نے گلاسگو ہیرالڈ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں اس خیال کا اظہار کیا کہ ممکن ہے کسی ''شرپسند مافوق الفطرت قوت‘‘ نے لارڈ کارناروون کی مہلک بیماری کا سبب بنی ہو۔ ان کے مطابق اس دور میں موجود مافوق الفطرت قوتوں کی نوعیت کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم قدیم مصری شاید ان معاملات کے بارے میں ہم سے کہیں زیادہ جانتے تھے۔
توتن خامن کے مقبرے کا دورہ کرنے والے ایک اور شخص جسے ''لعنت‘‘ کا مبینہ شکار قرار دیا گیا، جارج جے گولڈ تھا، جو ایک دولت مند امریکی سرمایہ کار تھا۔ اس نے 1923ء میں لارڈ کارناروون کی دعوت پر مقبرے کا دورہ کیا، لیکن وہاں سے واپسی کے تقریباً فوراً بعد بیمار پڑ گیا۔ وہ صحت یاب نہ ہو سکا اور چند ماہ بعد نمونیا کے باعث انتقال کر گیا۔
آرتھر میس بھی ان ماہرین آثارِ قدیمہ میں شامل تھا جنہوں نے مقبرے کے خزانے کو صاف کرنے، محفوظ کرنے اور ان کی فہرست مرتب کرنے میں مدد کی۔ مقبرے میں کام کرنے کے بعد اس کی صحت مسلسل خراب ہوتی گئی اور 53 سال کی عمر میں نمونیا سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث اس کا انتقال ہوگیا۔اس سلسلے میں ایک زیادہ پراسرار واقعہ ماہر آثارِ قدیمہ ہیگ ایولین وائٹ کی موت کا ہے، جو مقبرے کے تدفینی حجرے میں داخل ہوا تھا۔ اس نے 1924ء میں اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
حیرت انگیز طور پر ''لعنت‘‘ کے بعض مبینہ شکار ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے مقبرے میں قدم تک نہیں رکھا تھا۔ لارڈ کارناروون کے سوتیلے بھائی آبری ہربرٹ بھی 1923ء میں، مقبرہ کھلنے کے کچھ عرصے بعد، دانتوں کے علاج کے بعد خون میں زہریلے جراثیم پھیلنے کے باعث انتقال کر گئے۔ اس واقعے نے کارناروون خاندان کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کو مزید تقویت دی اور بعض لوگوں نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ صرف لارڈ کارناروون سے خاندانی تعلق کی وجہ سے مبینہ لعنت کا شکار ہوئے۔
کہا جاتا ہے کہ فرعون کے مقبرے کی مبینہ لعنت کا ایک اور شکار آرون ایمبر تھا، جو 1926ء میں ہلاک ہوا۔ اگرچہ وہ براہِ راست مقبرے کی کھدائی میں شامل نہیں تھا، تاہم اس ماہر مصریات کی کھدائی کرنے والی ٹیم کے بعض ارکان سے دوستی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ قدیم مصری عقائد سے متعلق ایک قلمی نسخے کو بچانے کی کوشش کے دوران گھر میں لگنے والی آگ کی لپیٹ میں آکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
مقبرہ دریافت کرنے والے ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر بظاہر ایسی کسی پراسرار نحوست سے متاثر نہیں ہوئے، تاہم ان کے بعض دوستوں کے بارے میں بھی ایسی کہانیاں مشہور ہیں۔اشاعتی صنعت سے وابستہ معروف شخصیت سر بروس انگریم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہاورڈ کارٹر نے انہیں ایک حنوط شدہ ہاتھ بطور تحفہ دیا تھا، جسے وہ کاغذات دبانے کیلئے بطور پیپر ویٹ استعمال کرتے تھے۔ کچھ ہی عرصے بعد مبینہ طور پر ان کے گھر میں آگ لگ گئی، اور تعمیر نو کے دوران عمارت سیلاب سے بھی متاثر ہوئی۔
توتن خامن: قدیم مصر کا پراسرار فرعون
توتن خامن مصر کے 18ویں شاہی خاندان کا فرعون تھا، جس نے 1332 قبل مسیح سے 1323 قبل مسیح تک حکومت کی۔وہ فرعون اخناتون کا بیٹا تھا اور تقریباً 9 یا 10 سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔توتن خامن کا انتقال تقریباً 18 سال کی عمر میں ہوا، تاہم اس کی موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ 1907ء میں لارڈ کارناروون نے انگریز ماہر آثارِ قدیمہ اور مصریات کے ماہر ہاورڈ کارٹر کو وادیِ ملوک میں کھدائی کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی۔4 نومبر 1922ء کو ہاورڈ کارٹر کی ٹیم نے ایسی سیڑھیاں دریافت کیں جو توتن خامن کے مقبرے تک جاتی تھیں۔ کارٹر نے تدفینی حجرے کو کھولنے سے پہلے کئی ماہ تک مقبرے کے ابتدائی حصے میں موجود اشیا کی فہرست اور درجہ بندی کا کام کیا۔ فروری 1923ء میں تدفینی حجرہ کھولا گیا اور وہاں توتن خامن کا تابوت دریافت ہوا۔
مقبرے کے اندر بے شمار قیمتی اور تاریخی اشیا موجود تھیں، جن کی کثرت کے باعث کارٹر اور اس کی ٹیم کو مقبرے کے تمام خزانے کو محفوظ کرنے، دستاویزات مرتب کرنے اور باہر نکالنے میں دس سال لگے۔ بہت سے لوگوں کیلئے توتن خامن قدیم مصر کی عظمت اور شان و شوکت کی علامت بن گیا، کیونکہ اس کا مقبرہ ایسی چمکتی دمکتی دولت اور قیمتی اشیا سے بھرا ہوا تھا جو 18ویں شاہی خاندان کی خوشحالی اور عظمت کی عکاسی کرتی تھیں۔