قدرتی آفات کے خطرے میں کمی کا عالمی دن
اسپیشل فیچر
محفوظ پاکستان کی جانب ایک قدم
ہر سال 13 اکتوبر کو قدرتی آفات کے خطرات میں کمی کا عالمی دن(International Day for Disaster Risk Reduction) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں عوام، حکومتوں اور اداروں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں لیکن بہتر منصوبہ بندی، بروقت اقدامات اور عوامی آگاہی کے ذریعے ان سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس دن کی اہمیت دوچند ہے جہاں سیلاب، زلزلے، شدید گرمی، خشک سالی، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر قدرتی خطرات لاکھوں افراد کی زندگیوں، روزگار اور مستقبل کو متاثر کرتے ہیں۔پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع، موسمیاتی حالات اور آبادی میں تیز رفتار اضافہ اسے مختلف قدرتی آفات کے حوالے سے غیر معمولی طور پر حساس بناتے ہیں۔ شمالی علاقوں میں برفانی جھیلوں کے پھٹنے، گلیشیئر پگھلنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے جبکہ پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں کو دریاؤں میں طغیانی اور شہری سیلاب کا سامنا رہتا ہے۔ بلوچستان اور تھر جیسے علاقوں میں خشک سالی اور پانی کی قلت انسانی زندگی اور زراعت کے لیے بڑے مسائل پیدا کرتی ہے۔2022 ء کے تباہ کن سیلاب نے پاکستان کو ایک تلخ حقیقت سے دوچار کیا۔ بڑے پیمانے پر آبادی متاثر ہوئی، گھر تباہ ہوئے، فصلوں اور مویشیوں کو نقصان پہنچا اور بنیادی سہولتوں کا نظام شدید متاثر ہوا۔ اس سانحے نے واضح کیا کہ قدرتی آفت صرف بارش یا سیلاب کا نام نہیں بلکہ اس کے اثرات کا انحصار غربت، کمزور تعمیرات، نکاسی آب، صحت کی سہولتوں اور حکومتی تیاری پر بھی ہوتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی نے ان خطرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ شدید بارشوں، گرمی کی لہروں اور غیر معمولی موسمی واقعات کے باعث ایسے علاقوں میں بھی خطرات بڑھ سکتے ہیں جہاں پہلے ان کی شدت نسبتاً کم تھی، لہٰذا پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی محض ہنگامی امداد تک محدود نہ رہے ۔
ناقص منصوبہ بندی اور عوامی مسائل
پاکستان کے بڑے شہروں خصوصاً کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پشاور میں شدید بارش کے بعد سڑکوں پر پانی جمع ہونابار بار پیش آنے والا مسئلہ ہے۔ اس کی وجوہات میں نکاسی آب کے ناکافی انتظامات، نالوں پر تجاوزات، کوڑا کرکٹ، غیر منصوبہ بند تعمیرات اور قدرتی آبی گزرگاہوں میں رکاوٹیں شامل ہیں۔جب بارش کا پانی گھروں، دکانوں اور سڑکوں میں داخل ہوتا ہے تو صرف ٹریفک ہی متاثر نہیں ہوتی بلکہ بجلی کے نظام، کاروبار، تعلیمی سرگرمیوں اور صحت عامہ کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ کھڑا پانی مچھروں کی افزائش اور مختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ غریب اور کم آمدنی والے خاندان جو عموماً غیر محفوظ علاقوں میں رہتے ہیں ان نقصانات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔اس صورت حال کا حل صرف بارش کے بعد پانی نکالنے میں نہیں بلکہ مؤثر شہری منصوبہ بندی میں پوشیدہ ہے۔ حکومتوں کو نکاسی آب کے نظام کی باقاعدہ صفائی، نالوں کی بحالی، تجاوزات کے مؤثر انتظام، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور تعمیرات کے لیے حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے۔ شہریوں کو بھی کچرا نالیوں میں پھینکنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اجتماعی غفلت ایک معمولی بارش کو بھی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے خطرات
پاکستان زلزلوں کے خطرے سے بھی دوچار ہے۔ 2005ء کا تباہ کن زلزلہ آج بھی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ غیر محفوظ عمارتیں اور ناقص تعمیراتی معیار کسی قدرتی واقعے کو بڑے انسانی المیے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ بالخصوص زلزلے کے خطرے والے علاقوں میں عمارتوں کے نقشوں، تعمیراتی معیار اور حفاظتی ضابطوں پر سختی سے عمل ضروری ہے۔ سکولوں، ہسپتالوں اور عوامی عمارتوں کی حفاظت کو خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔ دوسری جانب، شدید گرمی کی لہریں پاکستان میں انسانی صحت کے لیے ایک بڑھتا ہوا چیلنج ہیں۔ شمالی پاکستان میں گلیشیئر پگھلنے اور برفانی جھیلوں کے پھٹنے سے اچانک سیلاب کا خطرہ بھی موجود ہے۔ ایسے واقعات پہاڑی آبادیوں، پلوں، سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے جدید نگرانی، موسم کی درست پیش گوئی، خطرے سے دوچار آبادیوں کی نشاندہی اور بروقت انخلا کے انتظامات ضروری ہیں۔
محفوظ پاکستان کیلئے مشترکہ ذمہ داری
قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات کم کرنے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کو چاہیے کہ وہ خطرات سے متعلق معلومات عوام تک بروقت پہنچائیں، مقامی سطح پر تربیتی پروگرام منعقد کریں اور امدادی ٹیموں کو ضروری وسائل فراہم کریں۔ محکمہ موسمیات کی پیش گوئیوں اور سرکاری انتباہات کو مؤثر انداز میں عام کرنا بھی انتہائی اہم ہے۔اس سلسلے میں شہری چند بنیادی اقدامات سے اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت یقینی بنا سکتے ہیں۔ خاندان کے افراد کے ساتھ ہنگامی صورتحال میں رابطے اور محفوظ مقام تک پہنچنے کا منصوبہ بنائیں۔سکولوں اور کالجوں میں فرضی مشقیں، آگاہی لیکچرز اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت نوجوان نسل کو زیادہ ذمہ دار اور تیار بنا سکتی ہے۔