زمین کے مدار میں پراسرار اشیا چھوڑنے کا معاملہ، خفیہ مشن پر نئی بحثخلائی دنیا میں برتری حاصل کرنے کی عالمی دوڑ اب ایک نئے اور پراسرار مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ چین کا انتہائی خفیہ خلائی طیارہ طویل عرصے سے ماہرین اور انٹیلی جنس اداروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، خصوصاً اس کے زمین کے مدار میں پراسرار اشیاء چھوڑنے کے واقعات نے کئی سوالات جنم دیے ہیں۔ اب امریکی انٹیلی جنس کی ایک رپورٹ نے اس خفیہ خلائی طیارے کی پہلی واضح جھلک پیش کرکے اس کے مشن، صلاحیتوں اور ممکنہ مقاصد کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔امریکی انٹیلی جنس کی ایک رپورٹ میں پہلی مرتبہ چین کے زمین کے مدار میں گردش کرنے والے خلائی طیارے کی واضح تصویر سامنے آئی ہے، جس سے اس کی صلاحیتوں کے بارے میں ممکنہ اہم اشارے ملے ہیں۔ روبوٹک خلائی جہاز ''شین لونگ‘‘ (Shenlong) اس سے قبل زمین کے نچلے مدار میں پراسرار اشیاء خارج کرتے ہوئے دیکھا جا چکا ہے۔2020ء میں اپنے پہلے خلائی مشن کے آغاز کے بعد سے یہ طیارہ مختلف حکومتوں، خلائی اداروں اور نجی کمپنیوں کی گہری نگرانی کا مرکز بنا ہوا ہے۔تاہم اب تک اس کی صرف ایک دھندلی تصویر ہی دستیاب تھی، جس میں اس کے پینلز سے منعکس ہونے والی روشنی دکھائی دیتی تھی۔ اس خلائی طیارے کی پہلی ہائی ریزولوشن تصویر امریکی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کی تازہ ترین رپورٹ میں جاری کی گئی ہے۔130 صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں ایک ایسی تصویر بھی شامل تھی جو اس سے پہلے کبھی منظرعام پر نہیں آئی تھی۔ یہ تصویر 2024ء میں خلائی ٹیکنالوجی کی نجی کمپنی میکسار ٹیکنالوجیز نے کھینچی تھی، جو اب وینٹور (Vantor) کے نام سے کام کر رہی ہے۔رپورٹ میں اس تصویر کے ساتھ صرف ''عوامی جمہوریہ چین کا خلائی طیارہ‘‘ کا عنوان درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے کہ خلائی طیارے مدار میں پہنچ کر خلا میں اشیاء چھوڑ سکتے ہیں، ان کی آزمائش کرسکتے ہیں اور بعدازاں زمین پر واپس بھی آسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ تو رپورٹ میں اور نہ ہی تصویر کے عنوان میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی تصویر ہے یا اس سے قبل اسے خفیہ دستاویز کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ اس صورتِ حال نے یہ سوالات بھی جنم دیے ہیں کہ آخر اب اس تصویر کو منظرعام پر لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں؟امریکی خلائی شٹل کی طرح چین کا خلائی طیارہ ''شین لونگ‘‘ بھی ایک راکٹ کے ذریعے زمین سے روانہ کیا جاتا ہے۔ خلا میں پہنچ کر یہ زمین کے مدار میں داخل ہوتا ہے اور بعدازاں ایک عام ہوائی جہاز کی طرح لینڈنگ کرتے ہوئے زمین پر واپس آتا ہے۔ اس خلائی طیارے کا تازہ ترین مشن رواں سال 7 فروری کو شروع ہوا، جب اسے چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے ''لانگ مارچ 2 ایف‘‘ راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کیا گیا۔ تاہم چین نے اپنے اس تجرباتی خلائی طیارے کے بارے میں رازداری برقرار رکھی اور اب تک اس کی کوئی باضابطہ تصویر جاری نہیں کی۔اس صورتِ حال میں سامنے آنے والی یہ تصویر پہلی مرتبہ عوام کو شین لونگ کا قریب سے جائزہ لینے اور اس کی ممکنہ صلاحیتوں کے بارے میں جاننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔خلائی ٹیکنالوجی کی کمپنی وینٹور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ رپورٹ خلا میں چین کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور قابلِ استعمال خلائی نظاموں سمیت دیگر سرگرمیوں کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ اس میں 2024ء کے دوران مدار میں موجود چینی خلائی طیارے کی وینٹور کی ''ورلڈ ویو اسپیس‘‘ سے حاصل کردہ تصاویر بھی شامل ہیں۔کمپنی کی جانب سے تصویر پر درج کردہ اضافی نشانات اور وضاحتوں میں اس خلائی طیارے کو ''عوامی جمہوریہ چین کا تجرباتی خلائی جہاز نمبر 3‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس کی لمبائی 26 فٹ بتائی گئی ہے۔تصویر میں یہ بھی نمایاں کیا گیا ہے کہ خلائی طیارے کے ''پے لوڈ بے ‘‘(Payload Bay) کے دروازے جزوی طور پر کھلے ہوئے ہیں، جبکہ اس کے پچھلے حصے میں ایک دوسرا سیٹلائٹ بھی منسلک ہے۔تقریباً 32 فٹ (10 میٹر) چوڑایہ سیٹلائٹ غالباً ایک ''سروس ماڈیول‘‘ ہے۔ اس قسم کے سیٹلائٹ خلائی جہازوں کے ساتھ منسلک ہوکر انہیں اضافی بجلی، حرکت دینے کی قوت اور دیگر معاون نظام فراہم کرتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ اس تصویر سے ماہرین کے اس سابقہ اندازے کی بھی تصدیق ہوتی دکھائی دیتی ہے کہ چین کا شین لونگ خلائی طیارہ امریکی خلائی فوج کے اپنے روبوٹک خلائی طیارے سے تقریباً مماثلت رکھتا ہے۔امریکی خلائی طیارہ ''ایکس 37 بی‘‘ابتدا میں ناسا کے ایک تحقیقی منصوبے کے طور پر تیار کیا گیا تھا، تاہم بعدازاں اسے امریکی محکمہ دفاع کے حوالے کردیا گیا۔ یہ بھی ساخت و ڈیزائن کے اعتبار سے چین کے شین لونگ سے غیرمعمولی مشابہت رکھتا ہے۔