انجینئرنگ کی دنیا کا دیوقامت عجوبہ
اسپیشل فیچر
انسان نے اپنی ضروریات اور تعمیراتی منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ایسی حیرت انگیز مشینیں تیار کی ہیں جنہیں دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ان میں دنیا کی سب سے بڑی کھدائی کرنے والی مشین (Excavator) بھی شامل ہے، جو اپنے غیرمعمولی حجم، طاقتور بازوؤں اور دیوہیکل ساخت کے باعث کسی چلتے پھرتے پہاڑ سے کم دکھائی نہیں دیتی۔
ذرا تصور کیجیے کہ اگر آپ 14 ہزار ٹن وزنی ''باگر 293‘‘ (Bagger 293) نامی دیوہیکل بکٹ وہیل ایکسکیویٹر کو کھلی سڑک پر لے آئیں تو کس قدر افراتفری پھیل جائے گی۔ اگر یہ مشین کبھی صبح کے دفتری اوقات میں سڑکوں پر نکل آئے تو ٹریفک کی صورتِ حال سے متعلق خبریں بھی یقیناً کچھ مختلف ہوں گی۔
اوپر دکھائی گئی تصاویر جوزف او نیل (Joseph O`Neil)کی تیار کردہ ایک ڈیجیٹل تخلیق ہے، جس میں ایک درست تھری ڈی ماڈل کی مدد سے اس مکمل طور پر چلائی جا سکنے والی مٹی کھودنے کی مشین کو سڑک پر رواں دواں دکھایا گیا ہے۔ یہ منظر اس وقت کی ممکنہ صورتِ حال پیش کرتا ہے جب شہر کے ایک پورے بلاک سے بھی زیادہ لمبی کھدائی کرنے والی مشین کسی شاہراہ پر سفر کرے۔ جیسا کہ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے، روزانہ دفتر جانے کے دوران کوئی بھی شخص اپنی گاڑی کے آگے اس دیوہیکل مشین کو دیکھنا پسند نہیں کرے گا۔
یہ مشین صرف دنیا کی سب سے بڑی متحرک صنعتی مشین ہی نہیں بلکہ زمین پر چلنے والی سب سے بڑی اور بھاری ترین گاڑی بھی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسے باقاعدہ چلایا جا سکتا ہے۔جرمنی کی کمپنی ٹاکراف (TAKRAF) کی تیار کردہ ''باگر‘‘ (Bagger) ایک دیوہیکل کان کنی کی مشین ہے، جس کی بلند ترین اونچائی 94.5 میٹر (310 فٹ) جبکہ لمبائی 220 میٹر (722 فٹ) ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ مشین اپنے پیڈسٹل سمیت مجسمہ آزادی جتنی بلند اور فٹ بال کے دو میدانوں سے بھی زیادہ طویل ہے۔
اگر آپ کے پاس اس مشین کی چابیاں ہوں تو یقیناً آپ اسے سیر کیلئے لے جاسکتے ہیں۔ تاہم، اسے چلانے کا تجربہ کسی عام خاندانی گاڑی کو چلانے جیسا نہیں ہوگا بلکہ یوں محسوس ہو گا جیسے آپ کسی شاہراہ پر ایک عظیم الشان گوتھک طرز کے گرجا گھر کو چلا رہے ہوں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس دیوہیکل مشین کا وزن، خصوصاً کسی کنکریٹ کے فلائی اوور سے گزرنے کا تصور کرتے ہوئے، حیران کن حد تک زیادہ ہے۔ ''باگر 293‘‘ کا مجموعی وزن 14 ہزار 196 ٹن (3 کروڑ 13 لاکھ پاؤنڈ) ہے۔ یہ وزن 130 سے زائد نیلی وہیل مچھلیوں یا مکمل سامان سے لدے 170 سے زیادہ بوئنگ 737 طیاروں کے مجموعی وزن سے بھی زیادہ ہے۔
باگر مشینوں کے پورے سلسلے میں سب سے بڑی مشین ''باگر 293‘‘ کو شمالی جرمنی کی ایک کھلی کوئلے کی کان سے روزانہ 2 لاکھ 40 ہزار مکعب میٹر (84 لاکھ مکعب فٹ) مٹی اور زمین کھودنے کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ کھدائی کی یہ مقدار اولمپک معیار کے 100 سوئمنگ پولز کو بھرنے کیلئے کافی ہے۔
یہ مشین اپنے 21.6 میٹر (71 فٹ) چوڑے دیوہیکل پہیے پر نصب 18 بالٹیوں کی مدد سے زمین کھودتی ہے۔ بعدازاں نکالی گئی مٹی اور کوئلے کو ایک طویل کنویئر بیلٹ کے ذریعے مشین کے بڑے بازو (بوم) کی پوری لمبائی تک منتقل کرکے دوسری جگہ پہنچا دیا جاتا ہے۔
اپنے غیرمعمولی حجم اور بھاری بھرکم ساخت کے باوجود ''باگر 293‘‘ کو چلانے اور اس کے تمام نظام فعال رکھنے کیلئے پانچ افراد پر مشتمل عملے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک ڈرائیور مشین کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرتا ہے، جبکہ دیگر چار آپریٹرز اس کے دیوہیکل گھومنے والے وہیل، کنویئر بیلٹس اور دوسرے مشینی نظاموں کی نگرانی کرتے ہیں۔
زمین سے خاصی بلندی پر قائم کنٹرول کیبن میں بیٹھ کر عملے کے ارکان کھدائی کے پورے عمل کا جائزہ لیتے، مشینری کی ضرورت کے مطابق ترتیب تبدیل کرتے اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ یہ دیوہیکل مشین محفوظ اور مؤثر انداز میں کام کرتی رہے۔ یہ پانچ افراد مل کر ایک ہی دن میں اتنی بڑی مقدار میں زمین کھودنے کے عمل کی نگرانی کرسکتے ہیں، جسے وہاں سے منتقل کرنے کیلئے 10 ہزار ڈمپر ٹرکوں کے چکر لگانے پڑیں گے۔