حقوں کو دلفریب نقش و نگار سے آراستہ کرنے کی صنعت زوال پذیر

حقوں کو دلفریب نقش و نگار سے آراستہ کرنے کی صنعت زوال پذیر

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد سرفراز


حقہ محض تمباکو نوشی کا ذریعہ نہیں بلکہ دیہی تہذیب کا اہم حصہ بھی ہے۔ لوگ آج بھی اس کی آرائش پر ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ حقے کی جنم بھومی برصغیر کا علاقہ ہے اور ہزاروں سال گذرنے کے باوجود بھی اس کی بناوٹ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔دو تین دہائیاں پہلے حقہ گھر کے فرد کی طرح ہوتا تھا اور گاؤں میں ہر گھر کا لازمی جز ہوا کرتا تھا تاہم تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے آگاہی اور سگریٹ کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بعد یہ منظر سے غائب ہوتا جا رہا ہے۔یہ دن میں کئی بار’تازہ ‘ کیا جاتا ہے۔ گھر کے افراد ہی نہیں ہر آئے گئے کے سامنے چائے پانی کی طرح اس کی ’ نے‘ بھی گھما دی جاتی ہے۔مہمان حسب ضرورت کش لگانے کے بعد اس کا رخ کسی اور کی جانب موڑ دیتا ہے۔حقے کا نچلا حصہ نیَچہ کہلاتا ہے۔ یہ مٹی یا دھات سے بنا بیضوی برتن ہوتا ہے جس میں پانی بھرا جاتا ہے۔ صراحی کی ایک لیکن اس کی دو گردنیں ہوتی ہیں۔دونوں گردنوں سے بانس کی دو نالیاں گزرتی ہیں۔ ان نلیوں کو ’گز‘ یا ’نڑی‘ بھی کہا جاتا ہے۔ایک نلی عمودی اور دوسری تقریباً 45 درجے پر مڑی ہوتی ہے۔عمودی نلی کا نچلا حصہ نیَچہ پانی میں ڈوبا رہتا ہے۔ اس کے باہری سرے کے آخر پر چلم دھری جاتی ہے۔ چلم میں تمباکو اور دہکتے کوئلے ڈالے جاتے ہیں۔ترچھی نلی نیَچہ میں پانی کی سطح سے قدرے بلند ہوتی ہے۔ یہ چکر کی گردن سے نکل کر کچھ فاصلے کے بعد چلم کی مخالف جانب مڑ جاتی ہے اسے ’ نے‘ کہا جاتا ہے۔حقہ نوش ’نے ‘کے سرے پر منہ رکھ کر کش لگاتا ہے۔ کش لگاتے ہی چلم سے دھواں پہلے نلی، پھر پانی اور اس کے بعد ’نے ‘ سے گزرتا ہوا حقہ نوش کے منہ میں پہنچ جاتا ہے۔مختلف علاقوں میں حقوں کی بناوٹ مختلف ہوتی ہے تاہم بنیادی اصول میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔حقے کی مرکزی حیثیت کی وجہ سے اس کی آرائش پر بھی توجہ دی گئی تو رنگ برنگے حقے بنانے کی گھریلو صنعت وجود میں آ گئی۔ساہیوال میں حقوں پر نقش نگاری کا کام پل بازار، کوٹ خادم علی شاہ، کچا پکا ہڑپہ روڈ پر گاؤں الف سو، چک 97 /6 آر، منظور کالونی اور میر داد مافی کے علاقوں میں کیا جاتا ہے۔حقے پر کیے جانے والے نقش نگار اپنی خوبصورتی، نفاست اور مہارت میں اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔پل بازار میں حقہ سازی کے کام سے منسلک محمد افضل بتاتے ہیں کہ وہ گزشتہ 40 سال سے حقے بنا رہے ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ حقے پر دستکاری کا کام خواتین کرتی ہیں۔خواتین حقے کی نلیاں لے جاتی ہیں اور ہفتے دس دن بعد ان پر دستکاری کر کے واپس دے جاتی ہیں۔انہیں فی نلی 28 روپے سے 35 روپے تک مزدوری ملتی ہے۔حقے کی نالیوں کو مضبوط بنانے کے لیے ان پر نائلون، تانبے، لوہے یا پیتل کی تار چڑھائی جاتی ہے۔ کچھ حقوں پر ڈوری یا سوتی کپڑا استعمال کیا جاتا ہے۔محمد افضل بتاتے ہیں کہ ایک مزین حقے کی اوسط قیمت ایک ہزار سے پانچ ہزار روپے تک ہوتی ہے۔نلی حقے کا سب سے نمایاں اور اہم حصہ ہوتی ہے۔بانس کی یہ نلیاں بنگلہ دیش اور چین سے درآمد کی جاتی ہیں۔ بازار میں ایک ٹکڑے کی قیمت 40 سے 50 روپے ہوتی ہے۔دستکاری اور آرائش کا زیادہ کام انہی پر کیا جاتا ہے۔کوٹ خادم علی شاہ کے دستکار محمد کاشف کہتے ہیں کہ وہ 15 سال سے کام کر رہے ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ ان کا خاندان گھریلو دستکاری کے فن میں مہارت رکھتا ہے۔نلی پر ڈوری چڑھانے کی اجرت صرف 15 سے 25 روپے ہوتی ہے اور ایک نلی تیار کرنے کے لئے آدھے گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک کاریگر دن میں 15 سے 20 نگ تیار کر لیتا ہے۔ اس کام کے لئے انہیں جن اوزاروں کی ضرورت ہوتی ہے ان میں قینچی، بلیڈ، ہتھوڑی، سندران، چرخی، اْوراہ اور سٹینڈ شامل ہیں۔نواحی بستیوںچک میر داد مافی اور چک الف سو میں دست کاری کرنے والی خواتین بتاتی ہیں کہ نقش نگاری کے ڈیزائنوں میں کپڑے، نائلون اور ڈوری سے دھاری ڈالنا، موہری بنانا، چھلے بنانا، گدا پٹا اور پِڑیاں ڈالنا شامل ہیں۔نلی پر پہلے کپڑا لپیٹا جاتا ہے۔ پھر اس پر باریک نائلون کی تہہ لپیٹی جاتی ہے۔اس کے اوپر ڈوری سے ڈیزائن بنائے جاتے ہیں جسے دھاری ڈالنا کہتے ہیں۔نلی پر ڈوری لپیٹنے کے خاص ڈیزائن کو موہری کہا جاتا ہے۔ڈیزائن کے دوران ڈوری کو نیچے سے اوپر کی طرف لپیٹنا گدا پٹا کہلاتا ہے۔ ڈیزائن کے ذریعے پھول بنانے کو مقامی طو پر پڑیاں ڈالنا کہتے ہیں۔تانبے کی تار سے مڑھی نلی کی قیمت تین سے چار سو روپے ہوتی ہے۔تانبے سے کئے گئے کام کی اجرت 25 سے 30 روپے ہوتی ہے۔مہنگائی نے حقے کی آرائش کے کام کو بھی متاثر کیا ہے۔دستکار کہتے ہیں کہ ان کے کام کی مانگ کم ہو رہی ہے۔پیسے والے لوگ تو ویسے ہی حقے سے سگریٹ پر منتقل ہو گئے اور غریب آدمی کی اتنی سکت نہیں کہ وہ پانچ ہزار کا حقہ خریدے۔(بہ شکریہ: سجاگ)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
عالمی یومِ ترجمہ

عالمی یومِ ترجمہ

فروغِ علم میں ترجمے کی اہمیتہر سال 30 ستمبر کو عالمی یومِ ترجمہ (International Translation Day) منایا جاتا ہے۔ یہ دن دنیا بھر میں مترجمین، ترجمانوں اور زبان و ادب سے وابستہ ماہرین کی خدمات کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ترجمہ محض ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ علم، فکر، تہذیب، ادب اور تجربات کو ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ انسانی تاریخ میں علم کے پھیلاؤ اور تہذیبوں کے باہمی رابطے میں ترجمے نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ علم کی منتقلی کا ذریعہدنیا میں مختلف زبانوں کے وجود نے جہاں انسانی تہذیب کو رنگا رنگی عطا کی وہیں زبان کا فرق علم کے تبادلے میں ایک رکاوٹ بھی بن سکتا تھا۔ ترجمے نے اس رکاوٹ کو بڑی حد تک ختم کیا۔ ایک زبان میں پیدا ہونے والا علمی سرمایہ دوسری زبان بولنے والے لوگوں تک ترجمے کے ذریعے پہنچا اور یوں علم کسی ایک خطے یا قوم تک محدود نہیں رہا۔قدیم زمانے سے ہی فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات، جغرافیہ اور دیگر علوم کی کتابوں کے تراجم نے انسانی علم کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلامی تاریخ میں عباسی دور کا علمی و ترجمے کا کام اس کی نمایاں مثال ہے جب یونانی، فارسی اور دیگر زبانوں کے علمی ذخیرے کا عربی میں ترجمہ ہوا۔ اس علمی سرگرمی نے مسلمانوں کے علمی اور سائنسی ارتقا میں اہم کردار ادا کیا اور بعد ازاں یہی علمی سرمایہ مختلف راستوں سے یورپ تک پہنچا۔آج بھی یہی اصول برقرار ہے۔ دنیا کے کسی ایک حصے میں ہونے والی سائنسی تحقیق، نئی دریافت، ادبی تخلیق یا فکری بحث اس وقت عالمی سطح پر زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب اسے دوسری زبانوں میں منتقل کیا جائے۔ادب اور ثقافت کے درمیان رابطہترجمہ صرف سائنسی اور فنی معلومات تک محدود نہیں۔ عالمی ادب کے فروغ میں بھی اس کا کردار بنیادی ہے۔ ایک ملک کے ناول، افسانے، شاعری اور فلسفیانہ ادب جب دوسری زبانوں میں منتقل ہوتے ہیں تو مختلف معاشروں کے لوگ دوسری تہذیبوں کے جذبات، روایات، تاریخ اور طرزِ فکر کو سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔اسی طرح ترجمہ ثقافتی فاصلے کم کرنے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ کسی معاشرے کو سمجھنے کے لیے صرف اس کے اعداد و شمار جاننا کافی نہیں، بلکہ اس کی زبان، ادب اور ثقافتی اظہار کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اچھا مترجم صرف الفاظ منتقل نہیں کرتا بلکہ مفہوم، سیاق و سباق اور ثقافتی حساسیت کو بھی دوسری زبان کے قارئین تک پہنچاتا ہے۔آئی ٹی نے ترجمے کی دنیا بدل دیگزشتہ چند دہائیوں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ترجمے کے شعبے میں غیر معمولی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ پہلے ایک طویل کتاب یا دستاویز کا ترجمہ کرنے میں کئی ماہ یا بعض اوقات سال لگ سکتے تھے، جبکہ آج کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور جدید سافٹ ویئر نے اس عمل کو کہیں زیادہ تیز اور منظم بنا دیا ہے۔کمپیوٹر اسسٹڈ ٹرانسلیشن (CAT) ٹولز، آن لائن لغات، اصطلاحاتی ڈیٹابیس، ٹرانسلیشن میموری اور مشینی ترجمے کے نظام نے مترجمین کی کارکردگی میں اضافہ کیا ہے۔ اب ایک مترجم پہلے سے ترجمہ کیے گئے جملوں اور اصطلاحات کو دوبارہ استعمال کر سکتا ہے، جس سے وقت کی بچت اور زبان میں یکسانیت پیدا ہوتی ہے۔انٹرنیٹ نے بھی اس شعبے میں انقلاب برپا کیا ہے۔ مترجم کو اب لغت یا حوالہ جاتی کتاب کے لیے لازماً کتب خانے جانے کی ضرورت نہیں۔ مختلف آن لائن ذرائع، ڈیجیٹل لغات، علمی جرائد اور اصطلاحاتی ذخائر چند لمحوں میں دستیاب ہو جاتے ہیں۔مصنوعی ذہانت اور مشینی ترجمہحالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت (AI) نے ترجمے کے شعبے میں ایک نئی تبدیلی پیدا کی ہے۔ AI صرف لفظ بہ لفظ ترجمہ کرنے کے بجائے جملے کے سیاق و سباق، زبان کے انداز اور بعض اوقات پورے متن کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مشینی ترجمہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ رواں اور قابلِ فہم ہوا ہے۔AI کی مدد سے اب بڑی مقدار میں مواد مختصر وقت میں دوسری زبان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ویب سائٹس، تعلیمی مواد، کاروباری دستاویزات، تکنیکی معلومات اور عام مواصلات میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ آواز کی شناخت اور خودکار سب ٹائٹلنگ جیسی ٹیکنالوجیز نے زبانوں کے درمیان فوری رابطے کے امکانات وسیع کیے ہیں۔تاہم مصنوعی ذہانت نے مترجم کی ضرورت ختم نہیں کی۔ پیچیدہ ادبی، قانونی، طبی، سفارتی اور حساس نوعیت کے متن میں انسانی فہم اور دانش اب بھی اہم ہے۔ AI بعض اوقات اصطلاح، محاورے، مفہوم یا مخصوص پس منظر کو غلط سمجھ لیتا ہے۔ اس لیے مستقبل میں انسان اور AI کے اشتراک پر مبنی ترجمہ زیادہ اہم دکھائی دیتا ہے۔مترجم کا کردار بدل گیا مستقبل کا مترجم AI سے تیار کردہ ابتدائی ترجمے کی جانچ، اصلاح، ثقافتی مطابقت اور حتمی معیار کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ اس کے لیے زبان پر عبور کے ساتھ ٹیکنالوجی کو سمجھنا بھی ضروری ہوگا۔

مصنوعی ذہانت کے دور میں تنقیدی سوچ کیسے برقرار رکھی جائے؟

مصنوعی ذہانت کے دور میں تنقیدی سوچ کیسے برقرار رکھی جائے؟

مصنوعی ذہانت خصوصاً جنریٹو اے آئی نے معلومات حاصل کرنے، لکھنے، تحقیق کرنے اور مسائل حل کرنے کے طریقوں کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ چند برس پہلے جس کام کے لیے گھنٹوں مطالعہ، تلاش اور تجزیہ درکار ہوتا تھا، آج وہ چند سیکنڈ میں مکمل ہو جاتا ہے۔ تاہم اس سہولت کے ساتھ ایک اہم سوال بھی سامنے آیا ہے کہ اگر انسان ہر مشکل ذہنی کام مصنوعی ذہانت کے حوالے کر دے تو کیا اس کی اپنی سوچنے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے؟ بعض مطالعات میں اے آئی سے سیکھنے میں مدد ملنے کے شواہد سامنے آئے ہیں جبکہ کچھ تحقیقات یہ اشارہ دیتی ہیں کہ اگر طالب علم ہر کام کے لیے تیار جواب پر انحصار کرے تو اس کی اپنی علمی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔اے آئی سہولت بھی اور آزمائش بھیچین کی Tsinghua University کے محقق Lixiang Yan کا تجربہ اس بحث کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ انہوں نے ایک آن لائن کورس کے لیے AI ایجنٹ استعمال کیا تو معلوم ہوا کہ یہ ٹیکنالوجی اسائنمنٹس مکمل کرنے، سوالات کے جواب دینے اور مباحثوں میں حصہ لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس صورت حال میں طالب علم بظاہر کورس کی تمام سرگرمیاں مکمل کر سکتا تھا مگر ضروری نہیں کہ وہ خود علمی طور پر ان سرگرمیوں میں شریک بھی ہو۔یہی وہ مقام ہے جہاں مصنوعی ذہانت اور انسانی تعلیم کے درمیان بنیادی فرق سامنے آتا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف صحیح جواب حاصل کرنا نہیں بلکہ جواب تک پہنچنے کے عمل میں علم، دلیل، تجزیے اور تجربے کو استعمال کرنا بھی ہے۔ماہرین کے مطابق انسانی ذہن بھی عضلات کی طرح ہے، جس طرح جسمانی عضلات کو مضبوط رکھنے کے لیے مشق ضروری ہے، اسی طرح یادداشت، reasoning اور پرابلم سالونگ کے لیے ذہنی مشق ضروری ہے۔ اگر ہر مشکل سوال کا جواب فوری طور پر اے آئی سے حاصل کر لیا جائے تو انسان کو خود سوچنے کی مشق کم ہو گی۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی لازماً ذہنی صلاحیتوں کو کم کرتی ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اسے کس انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر اے آئی صرف تیار جواب فراہم کرے تو انسان کی اپنی کوشش محدود ہو سکتی ہے لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی سوالات اٹھانے، غلطیوں کی نشاندہی کرنے، مختلف نقطہ نظر پیش کرنے اور فیڈ بیک دینے کے لیے استعمال ہو تو یہ سیکھنے کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔تنقیدی سوچ ہے کیا؟Critical thinking یا تنقیدی سوچ کو عام طور پر معلومات کو صرف قبول کرنے کے بجائے ان کا تجزیہ کرنے، شواہد کا جائزہ لینے، مختلف امکانات پر غور کرنے اور منطقی نتیجے تک پہنچنے کی صلاحیت کہا جا سکتا ہے۔ اس میں یہ صلاحیت بھی شامل ہے کہ انسان اپنے خیال کے مخالف نقطہ نظر کو سن سکے اور ضرورت پڑنے پر اپنی رائے تبدیل کر سکے۔تاہم تنقیدی سوچ محض ایک عمومی ہنر نہیں جسے ایک مرتبہ سیکھنے کے بعد ہر شعبے میں یکساں طور پر استعمال کیا جا سکے۔ کسی شعبے میں بنیادی علم بھی ضروری ہے۔اے آئی کے دور میں تعلیم کا نیا چیلنجتعلیمی اداروں کے لیے مصنوعی ذہانت کا سب سے بڑا سوال شاید یہ نہیں کہ اسے روکا جائے یا استعمال کیا جائے بلکہ یہ ہے کہ طلبہ کو اسے صحیح طریقے سے استعمال کرنا کیسے سکھایا جائے۔سائنسی جریدے 'نیچر ‘کی رپورٹ کے مطابق ابھی اس بارے میں حتمی سائنسی نتیجہ موجود نہیں کہ جنریٹو اے آئی مجموعی طور پر طلبہ کی Critical thinking کو کم کر رہا ہے۔ مطالعات نسبتاً نئے ہیں، نتائج مختلف ہیں اور طویل مدتی تحقیق محدود ہے۔ 2024ء کی ایک تحقیق میں ایسے طلبہ کا جائزہ لیا گیا جنہوں نے ریاضی کے سوال حل کرنے کے لیے جنریٹو اے آئی استعمال کی۔ اے آئی کی مدد کے دوران ان کی کارکردگی بہتر ہوئی لیکن جب اے آئی کی سہولت ہٹا دی گئی تو ان کی کارکردگی ان طلبہ سے بھی کم رہی جنہوں نے ابتدا سے اے آئی استعمال نہیں کی تھی۔اس طرح کے نتائج یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ کیا بہتر کارکردگی واقعی بہتر سیکھنے کی علامت ہے یا صرف بہتر ٹیکنالوجی کے استعمال کا نتیجہ۔تعلیمی ماہرین کے مطابق طلبہ کو صرف جواب حاصل کرنے کے بجائے سوال پوچھنے، دلیل دینے، شواہد تلاش کرنے اور اپنے نتیجے کا دفاع کرنے کی مشق کرانا ضروری ہے۔ مقابلہ نہیں ذمہ دارانہ تعاونمصنوعی ذہانت کی ترقی کو روکنا نہ ممکن ہے اور نہ ہی ضروری۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنی بنیادی علمی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کے حوالے نہ کرے۔ اے آئی کو ایک معاون، استاد، تحقیقی ساتھی یا فیڈ بیک دینے والے نظام کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن حتمی سوچ اور فیصلہ سازی میں انسانی کردار برقرار رہنا چاہیے۔معلومات کی فراوانی کے دور میں اصل طاقت صرف معلومات تک رسائی نہیں بلکہ یہ سمجھنے میں ہے کہ کون سی معلومات قابلِ اعتماد ہیں، ان کے پیچھے کیا شواہد ہیں اور ان سے کیا نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت انسان کے لیے ایک طاقتور ذریعہ بن سکتی ہے مگر سوچنے کی ذمہ داری انسان ہی کی رہنی چاہیے۔مستقبل میں وہ معاشرے زیادہ مضبوط علمی بنیاد قائم کر سکیں گے جہاں لوگ مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اس کے نتائج پر سوال اٹھانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔

آج کا دن

آج کا دن

پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بنا30 ستمبر 1947ء پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم دن ہے۔ پاکستان کے قیام کے صرف چند ہفتوں بعد اسی روز اسے اقوام متحدہ کی باقاعدہ رکنیت حاصل ہوئی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی رکنیت منظور کی اور یوں نئی ریاست نے عالمی سفارتی نظام میں اپنا باضابطہ مقام حاصل کرلیا۔ پاکستان کی جانب سے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں نے اقوام متحدہ میں ملک کی نمائندگی کی۔ رکنیت حاصل کرنے کے بعد پاکستان کو جنرل اسمبلی اور اقوام متحدہ کے دوسرے اداروں میں بین الاقوامی مسائل پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملا۔ برلن ایئر لفٹ کا اختتام30 ستمبر 1949ء کو برلن ایئر لفٹ باضابطہ طور پر اختتام پذیر ہوئی۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد شروع ہونے والی سرد جنگ کے ابتدائی دور کی سب سے بڑی انسانی اور لاجسٹک کارروائیوں میں سے ایک تھی۔ جنگ کے بعد جرمنی اور برلن اتحادی طاقتوں کے مختلف انتظامی علاقوں میں تقسیم تھے۔ 1948 ء میں سوویت یونین نے مغربی برلن کی طرف جانے والے زمینی اور آبی راستوں کو بند کردیا جس سے مغربی برلن کے تقریباً بیس لاکھ باشندوں کو خوراک، ایندھن اور دیگر ضروری سامان کی شدید ضرورت پیش آئی۔ امریکہ، برطانیہ اور ان کے اتحادیوں نے ہزاروں پروازوں کے ذریعے خوراک، کوئلہ، ادویات اور دیگر ضروری سامان مغربی برلن پہنچایا گیا۔ یہ آپریشن تقریباً 15 ماہ تک جاری رہا۔پہلی جوہری آبدوز30 ستمبر 1954ء کو امریکی بحریہ کی یو ایس ایس ناٹیلس کو باقاعدہ طور پر بحریہ میں شامل کیا گیا۔ یہ دنیا کی پہلی جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز تھی۔ اس کی تیاری امریکی بحریہ اور جوہری انجینئرنگ کے ماہرین کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ تھی۔ اس آبدوز کی کامیابی نے دنیا کی بحری حکمت عملی کو تبدیل کردیا اور بعد میں امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک نے جوہری آبدوزیں تیار کیں۔ جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزیں بعد میں طویل فاصلے تک خفیہ سفر، جوہری ہتھیاروں کی ترسیل اور سمندری نگرانی کے لیے انتہائی اہم بن گئیں۔ فلنسٹونز نشر ہوا30 ستمبر 1960ء کو مشہور امریکی ٹیلی ویژن سیریز فلنسٹونز(The Flintstones) پہلی مرتبہ نشر ہوئی۔ اس پروگرام کی کہانی ماقبل تاریخ کے ایک خیالی معاشرے میں رہنے والے فلنسٹون خاندان اور ان کے پڑوسیوں کے گرد گھومتی تھی۔ پروگرام کی انفرادیت یہ تھی کہ اگرچہ اس کا ماحول پتھر کے زمانے جیسا تھا لیکن کرداروں کی روزمرہ زندگی جدید امریکی متوسط طبقے سے مشابہ تھی۔بعد میں اس کے کردار امریکی مقبول ثقافت کا حصہ بن گئے۔ کئی دہائیوں تک اس کے خصوصی پروگرام، فلمیں، کھلونے اور دیگر مصنوعات سامنے آتی رہیں۔ بوٹسوانا آزاد ہوا30 ستمبر 1966ء کو بوٹسوانا نے برطانوی نوآبادیاتی انتظام سے آزادی حاصل کی۔ آزادی سے پہلے یہ علاقہ بیچوانالینڈ پروٹیکٹوریٹ کے نام سے برطانوی انتظام کے تحت تھا۔ آزادی کے دن ملک کا نام جمہوریہ بوٹسوانا رکھا گیا اور سیرتسے خاما ملک کے پہلے صدر بنے۔ آزادی کے وقت ملک کی معیشت محدود تھی اور بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور انتظامی اداروں کے حوالے سے کئی مشکلات موجود تھیں۔ بعد کے برسوں میں ملک میں ہیروں کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے، جنہوں نے اس کی معیشت کو نمایاں طور پر تبدیل کردیا۔

ورلڈ ہارٹ ڈے:اپنے دل کی سنیں!

ورلڈ ہارٹ ڈے:اپنے دل کی سنیں!

ہر سال 29 ستمبر کو ورلڈ ہارٹ ڈے منایا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر میں لوگوں کو دل کی صحت، امراضِ قلب کے خطرات اور ان سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے آگاہ کیا جا سکے۔ دل انسانی جسم کا وہ اہم ترین عضو ہے جو زندگی کے ہر لمحے خون کو پورے جسم تک پہنچانے کا کام انجام دیتا ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ جدید طرزِ زندگی نے دل کو مختلف بیماریوں کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔دنیا بھر میں امراضِ قلب انسانی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 2022ء میں دنیا بھر میں تقریباً 19.8 ملین افراد امراضِ قلب کے باعث وفات پاگئے، جو عالمی سطح پر ہونے والی مجموعی اموات کا تقریباً 32 فیصد بنتا ہے۔ ان میں ہارٹ اٹیک ایک نمایاں وجہ ہے۔پاکستان بھی اس صورتحال سے مستثنیٰ نہیں۔ ملک میں بلند ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپا، تمباکو نوشی، غیر متوازن خوراک اور جسمانی سرگرمی کی کمی جیسے عوامل امراضِ قلب کے خطرے میں اضافہ کر رہے ہیں۔ امراضِ قلب کی صورتحالپاکستان میں غیر متعدی امراض صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2021 ء میں پاکستان میں تقریباًآٹھ لاکھ71 ہزار اموات غیر متعدی بیماریوں کے باعث ہوئیں جو مجموعی اموات کا تقریباً 52 فیصد تھیں۔ عالمی ادارہ صحت کے پاکستان ہائپرٹینشن پروفائل کے مطابق 2019ء میں پاکستان میں تقریباً ساڑھے چار لاکھ اموات امراضِ قلب سے ہوئیں۔ اسی سال امراضِ قلب سے ہونے والی اموات میں تقریباً 58 فیصد کا تعلق ہائی بلڈ پریشر سے جوڑا گیا۔ 2019ء کے ڈبلیو ایچ او کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں 30 سے 79 سال کی عمر کے بالغ افراد میں ہائپرٹینشن کی عمر کے لحاظ سے معیاری شرح تقریباً 43 فیصد تھی جبکہ ہائپرٹینشن کے شکار افراد میں سے صرف تقریباً 11 فیصد کا بلڈ پریشر کنٹرول میں تھا۔یہ اعداد واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں امراضِ قلب کے مسئلے کا تعلق صرف علاج کی سہولیات سے نہیں بلکہ بیماری کے بنیادی خطرے کے عوامل سے بھی ہے۔ اگر ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، ذیابیطس، موٹاپے اور تمباکو نوشی جیسے عوامل پر بروقت قابو پایا جائے تو دل کے بہت سے مسائل سے بچاؤ ممکن ہے۔بدلتا طرزِ زندگی، بڑھتے خطراتامراضِ قلب عموماً اچانک پیدا نہیں ہوتے۔ کئی برسوں تک جاری رہنے والی غیر صحت مند عادات دل اور خون کی شریانوں کو بتدریج متاثر کرتی ہیں۔ ہماری روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی کم اور بیٹھنے کا دورانیہ زیادہ ہو گیا ہے جبکہ فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشیا، میٹھے مشروبات، زیادہ نمک اور غیر متوازن خوراک کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے STEPS سروے میں بھی امراضِ قلب سے متعلق متعدد خطرے کے عوامل سامنے آئے۔ پنجاب اور سندھ میں کیے گئے اس سروے کے مطابق تقریباً 19.7 فیصد بالغ افراد تمباکو استعمال کرتے تھے، 46 فیصد میں جسمانی سرگرمی ناکافی تھی جبکہ 96.5 فیصد افراد روزانہ پھلوں اور سبزیوں کی مطلوبہ مقدار سے کم استعمال کر رہے تھے۔اسی سروے میں تقریباً 26 فیصد افراد زیادہ وزن اور 14.9 فیصد موٹاپے کا شکار پائے گئے۔اگرچہ یہ اعداد پرانے سروے سے متعلق ہیں اور انہیں موجودہ پاکستانی آبادی کی تازہ شرح نہیں سمجھنا چاہیے تاہم یہ ہمارے طرزِ زندگی میں موجود اہم خطرات کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں۔ دل کو محفوظ رکھنے کیلئے کیا کیا جائے؟امراضِ قلب سے بچاؤ کا آغاز گھر سے ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلے بلڈ پریشر کو باقاعدگی سے چیک کرنا چاہیے۔ ہائی بلڈ پریشر اکثر بغیر کسی واضح علامت کے موجود رہتا ہے اس لیے صرف سر درد یا چکر آنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر بلڈ پریشر مسلسل زیادہ آ رہا ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔اسی طرح کولیسٹرول اور خون میں شوگر کی مناسب وقفوں سے جانچ بھی اہم ہے۔ خاص طور پر درمیانی عمر کے افراد کو اپنی مجموعی صحت، وزن، بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول سے باخبر رہنا چاہیے۔تمباکو نوشی ترک کرنا دل کی حفاظت کے لیے انتہائی اہم قدم ہے۔ ورزش کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ روزانہ تیز قدموں سے چہل قدمی، سائیکلنگ، تیراکی یا کوئی دوسری مناسب ورزش دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔خوراک میں بھی بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔ نمک، تلی ہوئی اشیا، بیکری مصنوعات، میٹھے مشروبات اور انتہائی پراسیسڈ خوراک کا استعمال کم کیا جائے۔ اس کے مقابلے میں سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج اور مناسب مقدار میں صحت مند پروٹین کو خوراک کا حصہ بنایا جائے۔اسی طرح صحت مند وزن برقرار رکھنا بھی اہم ہے۔ اضافی وزن ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور خون میں چکنائی سمیت متعدد خطرے کے عوامل کو بڑھا سکتا ہے۔دل کے دورے کی علامات ہر شخص میں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ سینے میں دباؤ یا درد، درد کا بازو، کندھے، کمر یا جبڑے تک پھیلنا، سانس پھولنا، اچانک پسینہ آنا، متلی یا غیر معمولی کمزوری اہم علامات ہو سکتی ہیں۔ایسی علامات کو صرف گیس یا بدہضمی سمجھ کر نظرانداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہارٹ اٹیک کا شبہ ہو تو فوری طبی امداد حاصل کرنا چاہیے۔ بروقت علاج زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

 مصنوعی ذہانت

مصنوعی ذہانت

سائنس کی نئی رفتار اور محفوظ مستقبل کا سوالمصنوعی ذہانت (AI) اب محض سوالات کے جواب دینے، تصاویر بنانے یا کمپیوٹر کوڈ لکھنے تک محدود نہیں رہی۔ یہ سائنسی تحقیقات، ادویات کی دریافت، سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اور خود AI کی ترقی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ جدید AI ماڈلز نہ صرف انسانوں کے ساتھ مل کر تحقیق کر رہے ہیں بلکہ ایسے مرحلے کی طرف بھی بڑھ رہے ہیں جہاں وہ تجربات، کوڈنگ، مسئلہ حل کرنے اور تحقیقی کام کے بعض مراحل کو نسبتاً خودمختاری سے انجام دے سکیں گے۔سائنسی جریدے Nature میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں OpenAI کے چیف ریسرچ آفیسر مارک چن نے AI کے مستقبل، سائنسی تحقیق میں اس کے استعمال، ماڈلز کی حفاظت اور خود کو بہتر بنانے والی مصنوعی ذہانت کے امکانات پر گفتگو کی۔ ان کے خیالات اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کی ایک اہم جھلک پیش کرتے ہیں۔ تحقیق کے طویل عمل کو مختصر کرنے کی کوششسائنسی تحقیق ایک طویل اور محنت طلب عمل ہے۔ کسی نئی دوا کی تیاری میں سائنسی لٹریچر کا مطالعہ، ممکنہ اہداف کی شناخت، تجربات، ڈیٹا کا تجزیہ اور متعدد مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات ابتدائی تحقیق ہی میں ہفتوں یا مہینوں کا وقت صرف ہو جاتا ہے۔مارک چن کے مطابق AI کا ایک اہم کردار اس عمل کو تیز کرنا ہو سکتا ہے۔ ان کے خیال میں AI ماڈلز لٹریچر ریویو، تحقیقی پراجیکٹس اور ممکنہ اہداف کی تلاش جیسے کاموں میں انسانی محققین کی مدد کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سائنسدان غیر ضروری ہو جائیں گے بلکہ یہ کہ انہیں معمول کے محنت طلب کاموں سے کچھ حد تک نجات مل سکتی ہے اور وہ زیادہ پیچیدہ سائنسی سوالات پر توجہ دے سکیں گے۔AIکے استعمال کا دائرہ ادویات تک محدود نہیں سیمی کنڈکٹرز کی ڈیزائننگ اور تیاری میں بھی مصنوعی ذہانت کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ریاضی بھی AI کے لیے ایک اہم میدان بن چکی ہے۔AI، افادیتکے ساتھ نگرانی بھی ضروریمصنوعی ذہانت جتنی زیادہ طاقتور ہوتی جا رہی ہے اس کی حفاظت کا سوال بھی اتنا ہی اہم ہو رہا ہے۔ AI کے بارے میں ایک بنیادی خدشہmisalignment ہے، یعنی ایسی صورت حال جس میں AI نظام کے مقاصد یا رویے انسانی اقدار اور مقاصد سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔مارک چن کے مطابق AI کی حفاظت کے لیے متعدد طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں لیکن ان کے نزدیک مستقبل کے لیے ایک اہم حل monitoring ہے۔ ان کے مطابق ایک AI ماڈل دوسرے AI ماڈل کے اندرونی عمل کی نگرانی کر کے یہ شناخت کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ وہ کسی کام کو کس انداز سے انجام دے رہا ہے۔ عام طور پر AI کسی سوال کا جواب دینے سے پہلے اندرونی طور پر متعدد مراحل سے گزرتا ہے۔ جوں جوں ماڈلز زیادہ طاقتور ہوتے جائیں گے ان کے کام کی پیچیدگی اور مطلوبہ کمپیوٹنگ بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس صورت میں صرف آخری جواب کی نگرانی کافی نہیں ہوگی؛ محققین کو یہ جاننے کے نئے طریقے تلاش کرنا ہوں گے کہ ماڈل کے اندر کیا ہو رہا ہے۔یہ چیلنج AI کی ترقی کے ساتھ مزید اہم ہو سکتا ہے کیونکہ زیادہ خودمختار نظاموں میں غلطی، غیر متوقع رویے یا غلط سمت میں پیش رفت کی صورت میں بروقت نگرانی ضروری ہوگی۔خود کو بہتر بنانے والا AI AI کی ترقی کا ایک انتہائی اہم مرحلہ وہ ہو سکتا ہے جب AI ماڈلز مستقبل کے زیادہ طاقتور AI ماڈلز کی تیاری میں خود مدد کرنے لگیں۔OpenAIکی موجودہ کوششوں میں ایک تصورresearch intern کا ہے۔ اس تصور کے تحت AI ایجنٹ کو محدود اور واضح دائرہ کار میں تحقیقی کام دیا جا سکتا ہے مثلاً بنیادی تجربات کرنا، کوڈ میں خرابی تلاش کرنا یا کسی تحقیقی عمل کے مخصوص حصے کو جانچنا۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ AI مستقبل میں صرف تحقیق کا معاون نہیں بلکہ تحقیق کے عملی عمل کا ایک فعال حصہ بھی بن سکتا ہے۔اس سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ AI خود تحقیق کرنے لگے تو اسے یہ کیسے سکھایا جائے کہ کون سا سوال اہم ہے، کون سا تجربہ وقت اور وسائل کے قابل ہے اور کون سا خیال آگے بڑھانے کے قابل نہیں؟ مستقبل کے AI کے لیےنئی صلاحیتAI تحقیق کے مستقبل کے حوالے سے مارک چن نےresearch taste کاتصور پیش کیا۔ اس سے مراد یہ سمجھنے کی صلاحیت ہے کہ کون سے خیالات قابلِ تحقیق ہیں، کون سا مسئلہ زیادہ اہم ہے اور محدود وسائل کو کس سمت میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ سائنسدان برسوں کے تجربے، علم، مشاہدے اور ناکامیوں سے یہ صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ ایک تجربہ کار محقق اکثر کسی نئے خیال کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتا ہے کہ اس میں حقیقی سائنسی امکانات موجود ہیں یا نہیں۔ AI کے لیے ایسی بصیرت پیدا کرنا ایک مشکل مگر اہم مرحلہ ہوگا۔اگر مستقبل کا AI صرف تجربات چلانے کے بجائے تحقیقی سوالات منتخب کرنے، مفروضے تشکیل دینے، نتائج کا جائزہ لینے اور نئے راستے تجویز کرنے کے قابل ہو گیا تو سائنسی تحقیق کی رفتار میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔تاہم اس ترقی کے ساتھ انسانی نگرانی، شفافیت اور سائنسی اصولوں کی اہمیت کم نہیں بلکہ زیادہ ہوگی۔ AI کو سائنس کا متبادل بنانے کے بجائے ایک ایسا طاقتور آلہ بنانے کی ضرورت ہوگی جو انسانی محققین کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے۔

آج کا دن

آج کا دن

امریکی فوج کی بنیاد29 ستمبر 1789ء کو امریکی کانگریس نے ایک اہم قانون منظور کیا جس نے نئی وفاقی حکومت کے تحت امریکی فوج کے تنظیمی ڈھانچے کو قانونی بنیاد فراہم کی۔اس سے پہلے امریکی جنگِ آزادی کے دوران قائم ہونے والی کانٹی نینٹل آرمی اور مختلف ریاستی ملیشیائیں موجود تھیں لیکن نئے آئینی نظام میں فوج کے انتظام اور ذمہ داریوں کو باقاعدہ قانونی شکل دینا ضروری تھا۔ اس قانون نے موجودہ فوجی دستوں کو نئے وفاقی نظام کے تحت منظم کیا اور صدر کو فوج کے سربراہ کی حیثیت سے عملی اختیار فراہم کرنے کے نظام کو مضبوط کیا۔ یہ واقعہ امریکی ریاستی اداروں کی ابتدائی تشکیل میں اہم تھا کیونکہ اس نے قومی دفاع کو ریاستی سطح کے بجائے وفاقی ذمہ داری بنانے کی سمت میں پیش رفت کی۔لندن میٹروپولیٹن پولیس 29 ستمبر 1829ء کو برطانیہ میں لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے قیام سے جدید پیشہ ورانہ پولیس نظام کی ایک اہم بنیاد رکھی گئی۔ اس وقت لندن یورپ کے بڑے اور تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں میں شامل تھا اور جرائم، چوری، بدامنی اور شہری نظم و نسق کے مسائل بڑھ رہے تھے۔ وزیر داخلہ سر رابرٹ پیل کی کوششوں سے نیا پولیس نظام قائم کیا گیا۔ پولیس اہلکاروں کو باقاعدہ وردی، تنظیمی ڈھانچہ اور مخصوص علاقوں میں ذمہ داریاں دی گئیں۔ بعد میں ان اہلکاروں کو غیر رسمی طور پر بوبیز کہا جانے لگا، جو رابرٹ پیل کے نام سے نکلا ہوا لقب تھا۔ لندن کا یہ پولیس ماڈل بعد میں دنیا کے کئی شہروں کے جدید پولیس نظام کے لیے ایک مثال بنا۔ بلیک پول ٹرام سروس29 ستمبر 1885ء کو انگلینڈ کے ساحلی شہر بلیک پول میں برقی ٹرام سروس کا آغاز ہوا جسے دنیا کی ابتدائی عوامی الیکٹرک ٹرام وے شمار کیا جاتا ہے۔ اس دور میں شہری آمدورفت زیادہ تر گھوڑا گاڑیوں پر منحصر تھی۔ بجلی سے چلنے والی ٹرام ایک نئی ٹیکنالوجی تھی اور اس نے شہری نقل و حمل کے مستقبل کے امکانات تبدیل کردیے۔ بلیک پول میں شروع ہونے والے اس نظام نے یہ ثابت کیا کہ بجلی کو باقاعدہ عوامی آمدورفت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس نظام کی کامیابی کے بعد یورپ اور شمالی امریکہ کے متعدد شہروں میں برقی ٹرام کے منصوبے شروع ہوئے۔ برقی ٹراموں کا ایک بڑا فائدہ یہ تھا کہ انہیں گھوڑوں کی ضرورت نہیں ہوتی تھی اس لیے وہ بڑے شہروں میں زیادہ منظم اور وسیع پیمانے پر استعمال ہوسکتی تھیں۔ بلیک پول شہر اپنی تاریخی ٹرام سروس کے لیے مشہور ہوگیا۔سیرن کا باضابطہ قیام29 ستمبر 1954 ء کو یورپ میں بنیادی ذرات اور جوہری طبیعیات کی تحقیق کے لیے بین الاقوامی ادارہ سیرن قائم ہوا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپی ممالک کو یہ احساس ہوا کہ جدید سائنسی تحقیق کے لیے بڑے اور مہنگے تحقیقی منصوبوں میں مشترکہ تعاون ضروری ہے۔ امریکہ اور سوویت یونین کے مقابلے میں یورپی سائنسی برادری اپنی تحقیق کو مضبوط کرنے کے لیے ایک مشترکہ ادارہ قائم کرنا چاہتی تھی۔ اسی مقصد کے لیے مختلف یورپی ممالک نے مل کر سیرن کی بنیاد رکھی۔ یہاں سائنسدانوں نے بنیادی ذرات، مادے کی ساخت اور کائنات کے بنیادی قوانین کے بارے میں تحقیق کی۔ سیرن کی تحقیق نے جدید طبیعیات میں کئی اہم پیش رفتوں میں کردار ادا کیا۔ ڈسکوری کی تاریخی پرواز29 ستمبر 1988ء کو امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلائی شٹل ڈسکوری کو خلا میں روانہ کیا۔ یہ مشن خاص طور پر اہم تھا کیونکہ یہ 1986 کے چیلنجر حادثے کے بعد امریکی خلائی شٹل پروگرام کی پہلی انسانی پرواز تھی۔ چیلنجر کے حادثے میں 7 خلا باز ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد ناسا نے شٹل پروازیں تقریباً ڈھائی سال کے لیے روک دیں۔ اس دوران شٹل کے ڈیزائن، راکٹ بوسٹرز، حفاظتی نظام اور پرواز سے پہلے کی جانچ کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیاں کی گئیں۔ 29 ستمبر 1988ء کو ڈسکوری کی کامیاب پرواز نے یہ ثابت کیا کہ شٹل پروگرام کو حفاظتی اصلاحات کے بعد دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔