بالی نہ تو کسی ناول کا نام ہے اور نہ کسی افسانے کا عنوان اور نہ ہی یہ کسی ناول یا افسانے کا مرکزی کردار، بلکہ بالی نام ہے انڈونیشیا کے 17ہزار جزیروں میں سے ایک جزیرے کا جس کو زندگی میں ایک دفعہ دیکھنے کیلئے دُنیا کے سیاحوں کے دل میں ایک حسرت رہتی ہے۔ اگر ایک دفعہ سیاح اس خوبصورت جزیرے کو بچشم خود دیکھ لیں تو دوبارہ دیکھنے کی کسک سینے میں دھڑکتی رہتی ہے۔بالی کا شمار دُنیا کے ٹاپ ٹین سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے بالی کا جزیرہ یونان کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیا کے آٹھ پر کشش اور خوبصورت مقامات میں بالی کا مقام سب سے اوّل نمبر پر ہے۔ اس عالمی رینکنگ سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ بالی کے جزیرہ میں دُنیا بھر کے سیاحوں کیلئے کشش کے بے پناہ لوازمات موجود ہیں۔ جن کی ہر زبان کے سفرنامہ نگار اپنے الفاظ میں تصویر کشی تو ضرور کرتے ہیں مگر پھر بھی بالی کی خوبصورتی کا مکمل احاطہ کرنے کیلئے ان کے پاس الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔بالی کا جزیرہ انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے مشرق میں واقع ہے۔ جزیرہ جاوا پر انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتہ واقع ہے۔ بالی کا جزیرہ جاوا سے 3.2 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے اور آبنائے بالی دونوں جزیروں کو ایک دوسرے سے جُدا کرتی ہے۔بالی کے مشرق میں لومباک (Lombak ) کا جزیرہ واقع ہے۔ بالی کا جزیرہ شرقاً غرباً 140 کلو میٹرلمبا اور جنوباً شمالاً 90 کلو میٹر چوڑا ہے۔ اس کا کل رقبہ 5633 مربع کلو میٹر ہے۔ یہ جزیرہ خط ِاستوا سے 8 ڈگری جنوب میں واقع ہے۔ بالی کا اوسط درجہ حرارت سارا سال 26 سے 28 ڈگری کے درمیان رہتا ہے۔ انڈونیشیا کے 32 انتظامی صوبوں میں سے بالی کا جزیرہ بھی ایک مکمل صوبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ بالی جزیرے کی کل آبادی تقریباً چالیس لاکھ ہے۔ جزیرے کے جنوبی حصہ میں ڈینپاسر (Denpasar) کا شہر صوبے کا صدر مقام ہے، جس کی آبادی پانچ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ صوبے کے گورنر کی رہائش بھی اسی شہر میں ہے۔ یہ بالی جزیرے کا انتظامی مرکز اور نہایت پر رونق شہر ہے۔ بالی کا بڑا بین الاقوامی ائیر پورٹ اسی شہر کے قریب پندرہ کلو میٹر جنوب میں واقع ہے۔ بالی کے شمالی سمت سنگارا جابالی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ سنگاراجا بالی کا بندر گاہی شہر (پورٹ سٹی) ہے۔ بالی کی تمام درآمدات و برآمدات اسی بندر گاہ سے ہی کی جاتی ہیں۔ یہ بالی جزیرے کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ سنگاراجا کی آبادی ایک لاکھ ہے۔اوبود بالی کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ جو ڈینپاسر کے شمال میں آدھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ پہاڑی پر واقع ہے۔ اوبودکا شہر بالی جزیرے کے کلچر اورہر طرح کے فن ِ ثقافت کا جیتا جاگتا شہر ہے۔ یہ شہر ہے جزیرہ بالی کے مشہور فن کاروں اور مجسمہ سازوں کا۔ لکڑی میں کھدائی کر کے خوبصورت بیل بوٹے بنائے جاتے ہیں۔ مصور شاعر، سنگ تراش اور ماہر رقاص اسی شہر میں قیام پذیر ہیں۔ پورا شہر ایک طرح کا عجائب گھر معلوم ہوتا ہے۔ بڑے شہر ڈینپاسر کے مقابلہ میں یہاں پر افراتفری دکھائی نہیں دیتی۔ بلکہ بہت پر سکون شہر ہے۔ فن ِ وثقافت کے شائقین سیاح ائیر پورٹ سے باہر آتے ہی اسی شہر کا رُخ کرتے ہیں۔ ڈینپاسر کے بعد بالی کا دوسرا بڑا شہر اوبود ہی ہے۔ ایک صوبہ ہونے کی حیثیت سے بالی جزیرے کی اپنی صوبائی انتظامی حکومت ہے۔ گورنر صوبے کا نگران اعلیٰ ہوتا ہے۔ صوبہ بالی کی معیشت کا زیادہ تر حصہ جکارتہ میں مرکزی حکومت ہی کے کنٹرول میں ہے۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے بالی 1000 کلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے اور پرواز کا دورانیہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ہے۔ جبکہ بالی سنگاپور سے سوا دو گھنٹے، ہانگ کانگ سے 4.5 گھنٹے اور سڈنی اور ملبورن سے بالی پانچ چھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ نگورا رائے بالی کا انٹرنیشنل ایئر پورٹ ہے جو دارالحکومت ڈینپاسر سے جنوب میں شہر سے پندرہ کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ اس بین الاقوامی ائیرپورٹ پر دُنیا کی تیس سے زائد ائیر لائنزکے جہاز لینڈ کرتے ہیں۔ سڈنی، ملبورن، نیویاک، لاس اینجلز، سان فرانسسکو، لندن، پیرس، شنگھائی، بیجنگ، فرنیکفرٹ اور ٹوکیو سے پروازیں براہِ راست بالی کے ائیر پورٹ پر اُترتی ہیں۔ہر سال 28 لاکھ سے زائد سیاح بالی آتے ہیں۔ سب سے زیادہ سیاح چین سے آتے ہیں۔٭...بالی میں ایک بندروں کا جنگل بھی ہے، یہاں کے ہندو لوگ اسے بہت مقدس مانتے ہیں۔ ٭...کبھی یہ جزیرہ ہاتھیوں، چیتوں اور شیروں کی آماجگاہ تھا لیکن اب یہ جانور ناپیدہوچکے ہیں۔٭...چاول یہاں کی بڑی فصل ہے جو سال میں دو دفعہ کاشت کی جاتی ہے۔٭... اس کے پھل دار باغات میں پپیتا، ناریل، انناس کی پیداوار بہت زیادہ ہے۔ ٭...شمالی علاقہ میں کافی بھی پیدا ہوتی ہے۔٭...سمندر سے بڑی مقدار میں مچھلی،مرجان، مونگا اور سیپ حاصل کیا جاتا ہے۔ ٭...بالی جزیرے میں چار زندہ آتش فشاں پہاڑ موجود ہیں۔٭...مائونٹ آگنگ یہاں کا سب سے بلند پہاڑ ہے،جو 10328 فٹ بلند ہے۔بالی میں فلموں کی عکس بندییوں توبالی جزیرے میں دُنیا کی کئی فلموں کی عکسبندی کی جا چکی ہے۔ لیکن اس جزیرے کو زیادہ شہرت اُس ناول سے ملی جسے الزبتھ گلبرٹ نے تحریر کیا اور پھر بعد میں اس ناول کی عکس بندی کا بیشتر حصہ بالی کے پہاڑوں، میدانوں اور بیچز (Beaches ) پر فلمایا گیا۔ اس ناول اور فلم کا نام Eat, Pray, Love تھا۔ اس فلم نے ریلیز ہونے کے بعد بہت رش لیا اور ناظرین نے اس فلم کو بے حد پسند کیا۔ اس فلم کی بے پناہ مقبولیت کے بعد دُنیا کی کئی فلمی کمپنیوں نے بالی میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔