بصارت سے محرو م مگر باشعور،نابینا افراد کسی سے کم نہیں

دنیا فورم

تحریر : میزبان: مصطفیٰ حبیب صدیقی ایڈیٹرفورم رو زنامہ دنیا کراچی رپورٹ:اعجازالحسن عکاسی : ماجد حسین لے آئوٹ : توقیر عباس


شرکاء:ڈاکٹر حنا حسین کاظمی،سی ای او ٹیف فاؤنڈیشن۔عمران شیخ، کوآرڈی نیٹر وزارت محنت اورسابق وائس چیئرمین پاکستان بلائنڈ کرکٹ کونسل۔محمد فاروق بکالی ،پرنسپل نور العلم اکیڈمی فور اسپیشل چلڈرن اور سابق ہیڈ کو اسپیشل اولمپک پاکستان۔وقار یونس،عربی بریل کے معروف استاد اورصدر بلائنڈ ریسورس فائونڈیشن پاکستان ۔ سفیر ہ بی بی ،امریکا سے ‘‘یس ’’پروگرام کے تحت بلائنڈ ایجوکیشن کی خصوصی تعلیم حاصل کی ۔ بصارت سے محروم طلبہ و طالبات اور دیگر افراد کے علاوہ بڑی تعداد میں مردوخواتین بھی شریک ہوئے ۔

مجھے ملال نہیں اپنی کم نگاہی کا    جو دیدہ ور ہیں انہیں بھی نظر نہیں آتا

ٹیف فاؤنڈیشن خصوصی افراد کیلئے اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہے :ڈاکٹرحنا،والدین نابینا بچوں کو اعتماد دیں:وقار یونس

لوگ موبائل فون سے اندھے پن کا شکار ہورہے ہیں: عمران شیخ، خصوصی بچوں کے والدین اسکول نہیں آتے : فاروق بکالی

موضوع:‘‘نابینا افراد۔۔بے چارے نہیں ،ستارے ہیں،سوچ بدلیں معاشرہ بدلیں ؟’’

نابینا وہ نہیں شاید ہم ہیں جو بظاہر بصارت سے محروم ان قابل فخر افراد کے احساسات اور جذبات کو ہی محسوس نہیں کرپاتے۔ٹیف فائونڈیشن یقیناً قابل تحسین ہے جو معاشرے کے محروم طبقات کی ہر ممکن مدد کرتا ہے ٹیف کے دفتر میں دنیا فورم کے ذریعے معاشرے میں آگاہی کیلئے دنیا فورم کا انعقاد کیاگیا جہاں معروف شخصیات کے علاوہ بصارت سے محروم نوجوانوں نے بھی اپنے تجربات پیش کئے۔ بصارت ایک نعمت ہے فورم میں جہاں اور بہت سی باتیں آئیں وہیں آنکھوں والوں کیلئے بھی ایک انتباہ کیاگیا کہ موبائل فون کے بہت زیادہ استعمال سے بینا افراد میں نابینا پن بڑھ رہا ہے۔امید ہے کہ ہمیشہ کی طرح یہ دنیا فورم بھی معاشرے میں کچھ بہتری لانے میں اپنا کردار ادا کریگا۔آپ کے تبصرے اور تجاویز کا انتظار رہے گا۔

(شکریہ:مصطفیٰ حبیب صدیقی،ایڈیٹر فورم)

 دنیا:معاشرہ خصوصی افراد کی کس طرح معاونت کرسکتا ہے ؟

ڈاکٹر حنا حسین کاظمی : بدقسمتی سے معاشرہ خصوصی افراد کی معاونت نہیں کرتا۔ میں نوجوانوں سے اپیل کرتی ہوں کہ یومیہ صرف آدھا گھنٹہ نکالیں اورپروفیشنل کتابوں کو بریل میں تبدیل کریں جس سے خصوصی افراد کی معاونت ہوگی ۔ہمیں ان کیلئے وقت نکالنا ہوگا۔ٹیف فاؤنڈیشن سمیت سب مددکرسکتے ہیں،میں سب نوجوانوں خاص طورپر ان لوگوں سے جو عمر کے اس حصے میں ہیں کہ بچوں کی مصروفیت سے فارغ ہوگئے اور گھرمیں ہیں یا ان کے پاس وقت ہے سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ پی ڈی ایف سے کتاب کو ورڈ میں تبدیل کرکے بریل میں بدل سکتے ہیں۔دنیا فورم کے پلیٹ فارم سے نوجوانوں تک پیغام پہنچانا چاہتی ہوں یہ کام کوئی راکٹ سائنس نہیں بلکہ مختصر سے وقت میں یہ چھوٹا سا کام ہوسکتاہے ، اس کے اثرات دور رس ہوں گے جو نابینا افراد کیلئے بہت سود مندہوگا۔

دنیا:کیا واقعی معذور افراد بے چارے سمجھے جانے چاہئیں؟

 عمران شیخ :بنیادی طورپر معذوری سے انسان زندہ ہوتاہے ، انسان زندہ ہے تووہ معذوری ختم کرسکتاہے ۔جو انسان ہمت کے ساتھ لڑ رہا ہو ،مسائل کا سامنا کررہا ہو وہ بے چارہ کیسے ہوسکتاہے ۔بحیثیت انسان سب برابر ہیں،میری نظرمیں بے چارہ وہ ہے جو اپنے حق کیلئے لڑ نہیں سکتا۔جس شخص کے پاس شعور نہیں اسے بے چارہ کہہ سکتے ہیں ۔کچھ لوگ اپنے حق کی آواز بلند کرلیتے ہیں لیکن طاقت ان کی آواز دبادیتی ہے ،جو لوگ خصوصی افراد کی آواز کو دباتے ہیں وہ ظالم ہیں۔بدقسمتی سے خصوصی افراد کو منفی رویوں کا سامناہوتاہے ،جنہیں آگہی ہوتی ہے وہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ خصوصی افراد معاشرے میں اپنا کردار اداکر یں ۔معاشر ے میں بصارت سے محروم بہت سے لوگ اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے نظر آئیں گے ۔ان میں کاروباری حضرات بھی ہوتے ہیں یہ سارے لوگ مستحکم ہیں تو بے چارے کیسے ہوسکتے ہیں۔بد قسمتی یہ لوگ جب عام لوگوں کے پاس جاتے ہیں تو ان کو خصوصی افراد کے بارے میں آگہی نہیں ہوتی جس کے باعث ان کا رویہ حوصلہ شکنی کرتاہے ۔دنیا میں Inclusive Education جامع تعلیم کا نظام رائج ہے ،جہاں عام اور معذور بچے ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں،جبکہ ہمارے ہاں نارمل اور خصوصی افراد کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔بدقسمتی سے ہم مہذب معاشرہ کہتے تو ہیں لیکن ہیں نہیں۔ معاشرے میں جب اشرافیہ کلاس کے بچے کسی معذور بچے کے ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں تو والدین اعتراض کرنے لگتے ہیں کہ کیا ہمارا بچہ معذور بچے کے ساتھ پڑ ھے گا،معاشر ے میں ایسے منفی رویئے بہت ہیں،ہمیں رویئے بدلنے ،والدین اور عوام کو آگہی دینے کی ضرورت ہے ۔

دنیا:کیا عام کتابوں کو بریل میں تبدیل کرنا آسان ہے ؟

 عمران شیخ: اب ٹیکنالوجی بہت جدید ہوگئی ہے ،ایک ہفتے میں مکمل بریل کتا ب پی ڈی ایف میں بناسکتے اورپروف بھی کرسکتے ہیں۔بریل سسٹم یونی کوڈ زبان کو سپورٹ کرتاہے ،کوئی بھی کتاب یا تحریر ورڈ کی فائل سے یونی کوڈ کی مدد سے آسانی سے بریل میں تبدیل ہوسکتی ہے ۔

دنیا : خصوصی افراد کو معاشرے کے کن رویوں کا سامنا کرنا پڑتاہے ؟

وقار یونس : خصوصی ا فراد کو بے چارہ کہنا غلط ہے ۔ نابینا افراد یونیورسٹیوں ، بینک اور کئی ادارو ں میں ملازمت کررہے ہیں۔ معاشرے میں آگہی کی کمی ہے ،لوگ سمجھتے ہیں ہم لوگ کچھ نہیں کرسکتے ایسا نہیں ہے ۔ میں ڈرائیورکیساتھ ایک ہوٹل میں گیا ،ڈرائیو ر نے کہا آپ کو کھانا کھلاؤں اس سے کہا میں دیکھ نہیں سکتا ، کھانا کھاسکتاہوں۔ دیگر کی طرح ہمارے ساتھ نابینا پن کا مسئلہ بہت بڑا نہیں ۔بہت سے والدین بھی ایسے افراد کو گھر کے ایک کونے میں بٹھادیتے ہیں ۔کسی تقریب میں نہیں لے جاتے کہ لوگ کیاکہیں گے کہ ہمارا بچہ معذور ہے ،اگر کسی بچے کی آنکھیں ضائع یا بینائی ختم ہوجائے تو ڈاکٹر یہ نہ کہیں اسے کسی بلائنڈ ادارے بھیج دیں یااس کی زندگی ختم ہوگئی یہ اب کچھ نہیں کرسکتا بلکہ والدین کو آگہی دیں کہ اب اس نے کس طر ح زندگی گزارنی ہے وہ طریقے بتائیں مایوس نہ کرے ۔ اسکول، کالج اور سرکاری سطح پر آگہی ہونی چاہیے ،مشاہد ہ ہے زیادہ تر نابینا بچے ذہین ہوتے ہیں ان کو سپورٹ اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ۔

دنیا: نورالاکیڈمی خصوصی افراد کیلئے کیا خدمات انجام دے رہا ہے ؟

محمد فاروق بکالی : عا م طور پر بلائند کمیونٹی سر نیچے کرکے بات کرتی ہے ،ان کی تربیت کرتے ہیں کہ چہرہ دیکھ کر بات کریں تاکہ خود اعتمادی پیدا ہو۔ معاشرے میں مختلف رویے ہیں۔ایک طبقہ بہت رحم کھاتا ہے یہ تو اب دیکھ بھی نہیں سکے گا ،اسے کتنی پریشانی ہوگی ،پھر یہ طبقہ آگے بڑھ کر نابینا افراد کے کام کر تا ہے ،اسے کچھ نہیں کرنے دیتا جس سے اس نابینا کا اعتماد تباہ ہوجاتا ہے ۔بیرون ممالک میں قانون ہے کہ خصوصی افراد عام اسکول میں ہی پڑھتے ہیں۔ ہمارے ہاں خصوصی بچوں کے والدین اسکول میں میٹنگ کیلئے بھی نہیں آتے میری والدین سے گزارش ہے دیگر بچوں کی طرح ان کے ساتھ بھی نارمل رویہ رکھا جائے تاکہ یہ آگے چل کر اپنے سارے کام کرسکیں۔ایک نابینا بچے انس کے والد نے ٹرین میں ایک نابینا بچے کو دیکھا جو گانا گا کر پیسے جمع کررہا تھا ا نہیں اپنے بچے کا خیال آیا اور آنسو نکل آئے کہ یہ گاناگاکر پیسے حاصل کررہا ہے ۔ انہوں نے سوچا کہ اپنے بچے کو پڑھا ؤں گا تاکہ وہ عزت کے ساتھ اپنی زندگی گزارے ۔اس نابینا بچے انس کا کہنا تھا میں ایک طرف دنیا کے ساتھ جنگ کررہا ہوں اور دوسری طرف میرے والدین دوست احباب میری آنکھیں ہیں جن کی مدد سے مجھے حوصلہ ملتا ہے یہ لوگ مجھے روشنی دکھاتے ہیں،معاشرے میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں۔ہمارا ادارہ نابینا بچوں کو تعلیم اور ٹرانسپورٹ کی سہولت مفت فراہم کرتاہے ۔ بینائی سے محروم بچوں کو خصوصی قومی شناختی کارڈ ( ایس سی این آئی سی ) ون ونڈو آپریشن کے ذریعے دینے کیلئے کوشش کررہے ہیں لیکن صرف4والدین نے ہی رابطہ کیا۔اس شناختی کارڈ میں ایک لوگو ہوتا ہے ،اسپیشل شناختی کارڈ بنانے کیلئے معذوری کا سر ٹیفکیٹ،ڈاکٹرز کا پینل چیک کرتاہے ۔ یونیورسٹی کی طالبہ کا فون آیا مجھے اسی طرح کا ایس سی این آئی سی بنوانا ہے ،المیہ ہے کہ یہ طالبہ یونیورسٹی جارہی ہے لیکن اس کا ایس این آئی سی نہیں بنا۔اس کارڈ سے سفر اور ہیلتھ میں 50 فیصدکمی کی سہولت ملتی ہے ۔یہ معلومات والدین کو بھی نہیں ہوتی ۔دنیافو رم کے توسط سے کہنا چاہوں گا کہ ہم خصوصی بچوں کو اس قابل تو بنادیں کہ خود اعتمادی سے اپنے مسائل حل کرسکیں۔

ڈاکٹر حناحسین :ٹیف فاؤنڈیشن خصوصی افراد کیلئے اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہے تاکہ ان کے مسائل حل ہوسکیں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور خصوصی بچوں کو عام اسکول یا خصوصی اسکولز میں پڑھانا چاہیے ؟۔

فاروق بکالی: ہم Inclusive education جامع نظام تعلیم کی بات تو کرتے ہیں لیکن عمل نہیں ہوتا۔ہمار ے پاس 3 خصوصی بچے ایسے آئے جنہیں اسکول سے نکال دیاگیا کہ وہ پڑھ نہیں سکتے ۔ ہم تربیت یا آگہی نہیں دیتے بلکہ مایوس کردیتے ہیں ۔ ان بچوں کو بلائنڈاسکول بھی لینے کو تیار نہیں ۔ہمارا ادارہ ہر بچے جو ایک سے زیادہ معذوری کا شکار ہے اس کو پڑھا تا اور تربیت کرتا ہے ۔مشاہدہ ہے خصوصی بچوں کیلئے الگ اسکول ہی ہونا چاہیے تاکہ ان کو ایک جیسا ماحول ملے یہ بچے اپنی کمیونٹی کیساتھ آسانی سے ایڈجسٹ ہوجاتے ہیں۔ایک معذور بچہ کبھی بھی نارمل بچوں کے ساتھ ایڈجسٹ نہیں ہوپائے گا،جس کی بنیادی وجہ معاشرے میں اساتذہ ، والدین اور عوام کو خصوصی بچوں کے حوالے سے آگہی کا نہ ہونا ہے ۔

 دنیا : کیا دیگر ممالک میں بھی خصوصی بچوں کیلئے الگ اسکولز ہوتے ہیں ؟

فاروق بکالی : دیگر ممالک میں الگ ادارے بھی ہیں اس کے باوجود وہاں قانون ہے کہ خصوصی بچے ہر نارمل اسکول میں تعلیم حاصل کریں گے ۔ہوسٹن میں 200 سرکاری اسکول ہیں وہاں یہ بچے پڑھتے ہیں جبکہ کراچی گلستان جوہرمیں صرف ایک اسکول ہے جو وفاقی حکومت کے ماتحت تھا اب وہ صوبائی حکومت کے ماتحت آگیا ،پرائیویٹ اسکول اور کمیونٹی بلائنڈبچوں کیلئے بہت کام کررہے ہیں۔

عمران شیخ : بلائنڈ یا خصوصی بچے عام جامعات یا کالجوں میں تو تعلیم حاصل کرلیتے ہیں۔اس سطح پر بچے باشعور ہو جاتے ہیں اور دوستانہ ماحول میں خود کو ڈھال لیتے ہیں۔ میری تجویز ہے پرائمری اور میٹر ک تک الگ اسکولز ہونے چاہییں،اس میں بچوں کی طرز ز ندگی کی تربیت ہوسکتی ہے ۔

 سفیر ہ بی بی: جب تک بچے کو تعلیم کیلئے ماحول اور تربیت نہیں ملے گی وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ہماری خصوصی توجہ اسکلز ڈیولپمنٹ ،ووکیشنل ٹریننگ اوروائٹ کین پر ہوتی ہے ۔امریکا میں بلائنڈ بچوں کیلئے اسکولز میں ریسورسز کمرے ہوتے ہیں جس میں ریسورسز اساتذہ بچوں کی تربیت کرتے ہیں وہاں خصوصی بچو ں کی تعلیم کو بہت اہمیت دی جاتی ہے ۔ ہم نے گلگت بلتستان میں سروے کیا کہ خصوصی بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیسے دی جاسکتی ہے ۔جس خصوصی بچے نے ابھی تک اسکول کا دروازہ تک نہیں دیکھا اس کو عام اسکولوں میں داخل کرنا بہت بڑا چیلنج ہو گا۔ میری کئی نابینا افراد سے بات ہوئی ان کا کہنا ہے کہ ہمیں سوسائٹی میں کئی مشکلات ہیں۔ہمیں تسلیم نہیں کیا جاتا،جس کی بنیادی وجہ آگہی کی کمی ہے ۔میرا سوال ہے معاشرے میں آگہی کیسے پیدا کی جاسکتی ہے ؟اور میڈیا کیا کردار ادا کرسکتاہے ؟ پاکستا ن میں والدین کو آگہی نہ ہونا بھی ایک اہم ایشو ہے ۔ 11 سال کی عمر میں تعلیم شروع کی اس وقت بھی والدین کو آگہی نہیں تھی۔مجھے ان لوگوں کو بھی جاننا ہے جو کئی سال بعد مجھ سے ملتے ہیں او رکہتے آپ نے مجھے پہچانا میں کون ہوں،جس سے ہم پریشان ہوجاتے ہیں یہ کون ہیں ،معاشرے میں لوگ ہمارے متعلق کئی چیزوں کو فرض کرلیتے ہیں ایساکیوں ہوتا ہے اور ہم میں خود اعتمادی کس طرح پیدا ہوسکتی ہے ۔ 

عمران شیخ :جب چھوٹے تھے ا س وقت پی ٹی وی پر ایک پروگرام چلتا تھا، بولتے ہاتھ اشاروں کی زبان ۔ دنیافورم کے توسط سے بلائنڈ کمیونٹی کی طرف سے اپیل ہے کہ دنیا چینل ہفتے میں ایک دن صرف آدھے گھنٹے کیلئے آگہی کے طورپرخصوصی افراد کے حوالے سے پروگرام چلائے ،ایک بینک کے سینئر نائب صدر جو دنیا اخبار میں ہرہفتے کالم لکھتے ہیں ان سے بلائنڈ افراد کے روزگار کے حوالے سے بات ہوئی جس کے بعد انہوں نے فوری طورپر4افراد کو ملازمت دی ۔ان سے کہا آپ جوکالم لکھتے ہیں جن کی آنکھیں ہیں وہ پڑھ سکتے ہیں ہمارا کیا ہوگا،میری بات کو سنجیدہ لیتے ہوئے اگلے ہفتے کے کالم کو ریکارڈ کرکے بھیجا اور کہا اپنی بلائنڈ کمیونٹی کو کالم بھیج دیں،اب انہوں نے یو ٹیوب چینل بنالیا ہے جس پر ہر ہفتے اپنی آواز میں کالم ریکارڈ کرتے ہیں،جس کو بصارت سے محروم کئی لوگوں نے سبسکرائب کیاہواہے ۔اس طرح ہر شخص یہ محسوس کرے کہ وہ خصوصی افراد کیلئے معاشرے میں اپنا حصہ کیسے ملا سکتاہے ۔دنیا میں ایک خطرناک چیز شروع ہوچکی ہے کہ بینا افراد موبائل فون کی وجہ سے اندھے پن کا شکار ہورہے ہیں۔کئی لڑکے میرے سامنے کہتے ہیں ہمیں موبائل پر نمبرنظر نہیں آرہا ان سے کہتا ہوں پریشان مت ہو تمہیں اپنے اسکول میں بھرتی کرادوں گا دوبارہ اپنی زندگی شروع کرنا ۔ یہ بالکل حقیقت ہے اب نارمل لوگوں کی چشمے کے بغیر زندگی مشکل ہوتی جارہی ہے ۔بینا افراد اس مسئلے کو سنجیدہ لیں۔ زندگی دو چمکتے دمکتے بٹن ہیں ان کی روشنی مدھم یا ختم ہوگئی تو زندگی مشکل ہوسکتی ہے ،آپ لوگ نابینا افراد کا احساس کریں گے تو زندگی آسانی سے گزارنے کا موقع ملے گا۔

دنیا :نابینا افراد بینک اکائونٹس کھلواسکتے ہیں؟

عمران شیخ :پہلے جب بینکنگ نظام میں اکاؤنٹ کھلواناہوتا تھا تومنیجر کے پاس جاؤ اکاؤنٹ کھل جاتا اور اے ٹی ایم مل جاتا تھالیکن بینک کا عملہ سوال کرتا تھا آپ کیسے آپریٹ کریں گے ۔کیسے پیسے نکالیں گے ۔آپ سے پیسے چھن جائینگے ۔بے شمار مسائل تھے ۔بین الاقوامی قوانین بننے کے بعدہم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان تک رسائی حاصل کی۔ ہمارے سمجھانے پراللہ کے فضل سے 2014ء سے اسٹیٹ بینک نے نابینا افراد کے حقوق کیلئے پالیسی متعارف کرائی لیکن 2سال تک اس پر عمل نہیں ہوا۔2016ء کے بعد پالیسی کو تفصیل سے پڑھا اور لوگوں سے کہا جاؤ بینک میں اکاؤنٹ کھلواؤ،اس دوران جب بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے جاتے تو پہلا سوال ہوتا آپ تو نابینا ہیں،کیسے آپریٹ کریں گے ،آپ کو جوائنٹ اکاؤنٹ کھلوانا ہوگا ،ایک گواہ بھی ہوگا دیگر مسائل بتائے جاتے ،جس پر ہماری کئی بینک سے ایک جنگ شروع ہوگئی ان سے کہا اسٹیٹ بینک آف پاکستان تمام بینکوں پر اتھارٹی ہے اس کی پالیسی آپ کو فالو کرنا پڑ یگی۔پھر بینکوں نے اکاؤنٹ کھولنا شروع کیے ۔2014ء سے آج تک بلائنڈافراد کے جتنے بھی اکاؤنٹ کھولے گئے ان میں ان افراد کی شکایات نہیں ،بینک کے عملے کو بتایا دنیا بہت آگے چلے گئی ہے ،نابینا افراد سوفٹ ویئر کے ذریعے موبائل فون ،ایپس اور سوشل میڈیاکو استعمال کررہے ہیں۔

خصوصی طلبہ وطالبات اور دیگر افراد کی گفتگو

 گریجویٹ نابینا نوجوان جہانزیب نے بتایا کہ میرپور خاص سے خصوصی طورپردنیا فورم میں شرکت کیلئے کزنزکیساتھ آیا ہوں کہنا چاہتاہوں کہ ہم معذور ہیں مجبور نہیں ۔معاشرہ ہمیں بھی انسان سمجھے ۔ کچھ لوگ دیکھ کر کہتے ہیں ا س کو دیکھو یہ دیکھ نہیں سکتامیں ان باتوں کا اثر نہیں لیتا بلکہ محسوس کرتا ہوں میں ان سے بہتر زندگی گزار رہا ہوں۔کچھ دوست کہتے ہیں یہ مووی دیکھی کہتا ہوں ہاں پوچھتے ہیں کیسے دیکھتے ہو کہتا ہوں پہلے سنتا ہوں پھر مشاہدہ کرتا ہوں ،کہتے ہیں اچھا تمہیں گاڑی کی ٹکر کا معلوم ہوجاتاہے کہتا ہوں ہاں گاڑی کی ہٹ ہونے کی آواز آتی ہے جس پر تمام شرکاء نے قہقہ لگایا ۔کچھ لوگوں کے منفی رویوں سے حوصلہ شکنی ہوتی ہے ۔جتنی بھی انگلش بولتا ہوں کسی کلاس میں نہیں سیکھی بہن نے سکھائی ہے ،مجھے والدین اور بہن پرفخرہے جنہوں نے ہر قدم پر میری رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی۔ایڈیٹر فور م نے سوال کیا کہ آپ کی مصروفیات اور دوستو ں سے ملاقات کیسے ہوتی ہے ،جہانزیب نے کہا کہ بالکل عا م لوگوں کی طرح خاندان یا دوستوں کے پاس آنا جانا اور ہنسی مذاق کی محفلیں ہوتی ہیں۔ تیزاب گردی کی وجہ سے بینائی سے محرو م احمر اقبال نے کہا کہ جب باہر آنا جاناہوتا ہے دوست بتاتے ہیں احمر تمہیں لوگ پلٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں ان سے کہتا ہوں گریٹ ہوں اسلئے دیکھتے ہیں میں اس عمل سے پریشان نہیں بلکہ انجوائے کرتا ہوں میرا خصوصی افراد کو مشورہ ہے آگے بڑھنے کیلئے ایسے لوگوں کی باتوں کومنفی نہیں مثبت لینا چاہیے ۔4 سال پہلے مجھ پر تیزاب پھینک دیا گیا تھا جس کے باعث چہرہ جھلس گیا اور میں بینائی سے محروم ہوگیا۔بینائی سے محروم طالب علم احسن اقبا ل نے بتایاکہ میری فیملی مجھے اتنا سپورٹ کرتی ہے جو میں بتا نہیں سکتا بلکہ سوچتا ہوں میں ان کا بدلہ کیسے دوں گا،کلاس فیلو اور دوست بھی بہت تعاون کرتے ہیں جو زیادہ تر میرے ساتھ ہوتے اور تقریبات میں جاتے ہیں معاشرے میں ہم عمر لوگوں کا کردار بہت اہم ہوتاہے ۔ والدین مجھے کہیں بھی اکیلے جانے نہیں دیتے وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں میرا بہت خیال رکھتے ہیں ،میراسوال ہے کیاان کی محبت مجھے آگے چل کر فائدہ دے گی ؟

عمران شیخ نے اس موقع پر کہا کہ میری بیوی بھی نابیناہے ان کی دو باتیں ہرجگہ یاد رکھتا ہوں وہ کہتی ہیں بصار ت سے محروم لوگوں کے والدین ان سے محبت میں دشمنی کرتے ہیں،والدین انہیں خودمختار نہیں ہونے دیتے ۔ایک آدمی کی صلاحیت کو زنگ لگادیتے ہیں،دوسرا نابینا افراد کے والدین پڑھے لکھے ہوں یا ان پڑھ وہ برابر ہوتے ہیں،میں سب کچھ کرسکتا ہوں صرف ایک چیز کی کمی ہے میں لوگوں سے آنکھیں نہیں ملا سکتا لیکن اور بہت کچھ کرسکتا ہوں۔اس لیے لوگوں کی مجھ سے زیادہ دیر بات کرنے میں دلچسپی نہیں ہوتی ۔احسن اقبال جیسے نابینا افراد خود کچھ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں تو اس کا مطلب ہے یہ باشعور ہے ایسے لوگوں کو سپورٹ اور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ۔بصارت سے محروم بی اے فائنل کی طالبہ صائمہ نے بتایا کہ کلاس میں زیادہ تر طلباء پڑھائی کے بارے میں معلوم کرتے ہیں کہ کیسے پڑھتی ہو،والدین بہت سپورٹ کرتے ہیں ،پور ے کالج میں اکیلی نابینا ہوں طلباء اور اساتذہ زیادہ تریہی کہتے ہیں آپ ایک کلاس میں بیٹھی رہیں باہر مشکلات ہوں گی ،جو برا لگتا ہے لیکن یہ میرے لیے کسی حد تک صحیح بھی ہے ،برا اس لیے لگتاہے کہ میں کیوں ایسی ہوں، کیوں بیٹھی ہوئی ہوں اوراچھا اس لیے لگتا ہے لوگ خود آکر کام کردیتے ہیں جس میں آسانی لگتی ہے ۔جس کا جواب دیتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ سب سے پہلے آپ کو اپنے نابینا پن کو تسلیم کرنا ہے ،نابینا پن اتنا بڑا ایشو نہیں،یہ سوچنا چھوڑ دیں میں ایسی کیوں ہوں،جب ایسا سوچیں گی تو مشکلات میں اضافہ ہوگا۔عمران شیخ نے کہا کہ اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اورہمیں ایک اسپیشل ٹاسک دیا ہے کہ میری تخلیق میں ایک ایساانسان بھی ہے جو بصارت سے محروم یا اور کوئی معذوری ہے اس کے باوجود وہ تمام انسانوں کے برابر زندگی گزارتاہے ،اس کا انعام بعد میں ضرور ملے گا،لیکن ایک بات یاد رکھیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو کسی خاص مقصد کیلئے چنا ہے اور آپ کواس مقصد کو پوراکرنا ہے ،ایک مشہور گانا سنا ہوگا مولا سب کی سنتا ہے پرکسی کسی کو چنتا ہے ۔آپ ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ نے ایک خاص مقصد کیلئے چنا ہے ،دنیا عارضی ہے اس میں چیلنج کا سامنا کرنے والا بڑاہوتاہے ۔ ایک خاتون ارم ہارون نے ایڈیٹر فورم سے سوال کیا کہ آپ کی بہن بھی نابینا ،کم سنتی اور بول نہیں سکتی ،مورل سپورٹ کے علاوہ اس کی کیا مدد کی ،جس کا جواب دیتے ہوئے ایڈیٹرفورم نے بتایاکہ بہن سے بات چیت کیلئے اس کے اسکول دیوا اکیڈمی سے باقائدہ تربیت لی ۔جب میں محفل میں اشاروں کی زبان میں اس سے بات کرتا تھا تو لوگ مجھ سے بھی اشاروں کی زبان میں بات کرنے کی کوشش کرتے تھے ان سے کہتا تھا میں بول سکتاہوں۔بہن کو گھرمیں چلنے پھرنے میں آزادی ہے روک ٹوک نہیں کرتے ۔ امی اسکا خیال رکھتی تھیں انکے انتقال کے بعداپنی مصروفیات محدود کرلیا۔نابینا طالب علم محمد امام دین نے کہا کہ یہاںخود بے چارہ کہلانے کیلئے نہیں بلکہ زندگی کے تجربات شیئرکرنے آیاہوں،1997 میں پیدا ہوا،2005کے زلزلے میں بدقسمتی سے میں تیسری منزل سے گر ا جس سے بینائی ختم ہوگئی ،لیکن نابینا ہونے کے بعد کچھ کھویا نہیں،اللہ کے فضل سے 80فیصدنمبروں سے میٹرک کیا اور انٹر پاس کرلیا ہے اور خوشی ا س بات کی ہے پڑھ تو رہاہوں اوربلائنڈکرکٹ ٹیم میں کھیل بھی چکا ہے ۔دکھ یہ نہیں کہ معذور ہوں دکھ ہے جن کا مجھے ساتھ چاہیے وہ مجھ سے دور ہیں۔ فورم میں موجود لوگوں نے تالیاں بجا کر امام دین کی حوصلہ افزائی کی۔

 حماد متین(ٹیف فائونڈیشن): ہم نے صرف نابیناافراد کو معاشرے میں ایڈجسٹ نہیں کرانا بلکہ معاشرے کو بھی سکھانا ہے کہ خصوصی افراد کیساتھ کس طرح رویہ رکھناہے ،میرا فاروق بکالی سے سوال ہے کہ معاشرے میں اپنے بچوں کی کس طرح تربیت کریں کہ وہ خصوصی افراد کومعاشرے کا حصہ سمجھیں اور معاشرے میں خصوصی بچوں میں پھیلی مایوسی ختم ہو۔ فاروق بکالی نے کہا کہ خصوصی افراد کے ساتھ والدین اور عوام کو بھی آگہی کی ضرورت ہے ۔معاشرے میں صرف ایک فیصد طبقہ خصوصی افراد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،والدین ایسے بچوں کو محبت میں صرف گھر میں رہنے پر ترجیح دیتے ہیں آگے نہیں بڑھنے دیتے ۔

عمران شیخ :میرا مشورہ ہے عام طلباء ایک دن کی ایکٹویٹی خصوصی بچوں کے اسکول میں کریں ایسا کرنے سے معاشرے میں کئی چیزوں کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔

 روبینہ سلیم(ٹیف فائونڈیشن): جو لوگ خصوصی افراد کے حوالے سے تربیت لے رہے ہیں وہ ان بچوں میں سب سے پہلے خود اعتماد ی پیدا کریں،ہر شخص میں کوئی نہ کوئی خامی ضرور ہوتی ہے کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا،ہمیں خصوصی افراد کے ساتھ مثبت رویہ اپنا نا چاہیے ۔

 نیاز علی خا ن(ٹیف فائونڈیشن) آ ج کافورم بھی عوام کو آگہی دینے کا ایک ذریعہ ہے ۔میری دنیا اخبار سے درخواست ہے اس طرح کے فورم کا انعقادکرتارہے تاکہ معاشرے میں مسائل اجاگر اور حل ہوسکیں۔ٹیف فاؤنڈیشن ایک قدم اٹھا چکا جس کی واضح مثال یہ نابینا افراد ہیں جو ہمارے پلیٹ فارم سے مختلف کورسز کررہے ہیں۔ٹیف فاؤنڈیشن کی غزالہ طارق نے کہا کہ آج کے فورم سے بہت کچھ سیکھا ہے ، کوشش ہوگی کی معاشرے میں خصوصی افراد کی جتناہوسکے گا مدد کروں۔

 تیزاب گردی کے شکار احمر کی روداد

دنیا فورم کے بعد تیزاب گردی کا شکار نوجوان احمر اقبال نے ایڈیٹرفورم سے گفتگو کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت کھلے عام تیزاب کی فروخت پر پابندی عائد کرے ۔تیزاب گردی سے میری زندگی تباہ ہوگئی ۔راہ چلتے لوگ پلٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں۔احمر اقبال نے اپنی روداد سناتے ہوئے بتایا کہ ان کا ایک لڑکی سے رشتہ طے پاچکا تھا اور دونوں شادی کے بندھن میں بندھنے والے تھے تاہم لڑکی کو کوئی اور لڑکا بھی پسند کرتا تھا اور وہ یہ شادی رکوانا چاہتا تھا۔احمر نے بتایا کہ اس لڑکے نے ایک دن اچانک احمر کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا جس سے انکی آنکھوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ چہرہ بھی بری طرح جھلس گیا۔احمر نے اس لڑکے کیخلاف عدالت میں مقدمہ لڑا جبکہ وہ لڑکی بھی ان کے ساتھ مقدمہ لڑتی رہی اور یہ یقین دلاتی رہی کہ وہ اب بھی احمر کو ہی پسند کرتی ہے اور اسی سے شادی کریگی تاہم مقدمہ ختم ہوتے ہی اس نے شادی سے انکار کردیا۔احمر کا کہنا تھا کہ لڑکی نے اسے استعمال کیا اور مقدمے سے باہر نکلنے کیلئے شادی کیلئے رضامندی ظاہر کرتی رہی ۔ 

 بیٹری والی چھڑی اور بریل کتاب

 فاروق بکالی نے بیٹری سے چلنے والی چھڑی(وائٹ کین) بنوائی ہے ۔ اونچی نیچی جگہ،گڑھا یا کسی بھی قسم کی رکاوٹ آئے تو سفید چھڑی پر لگے سینسر کے ذریعے وائبریشن ہوتا ہے اور ہلکی سے گھنٹی بجتی ہے ۔اس کوبنانے میں 4ہزار روپے لاگت آئی ،اگردرآمد کریں تو 100ڈالر کی فروخت ہوسکتی ہے ۔ چھڑی مخیرحضرات کی مدد سے مفت دیں گے ۔ وقار یونس نے عربی بریل بنائی۔انہوں نے بتایا کہ یہ نظام نقطوں پر ہوتا ہے ۔جو کئی ممالک میں پڑھایا جاتا ہے ۔ جنوبی افریقا سے آنے کے بعد خواہش تھی عربی بھی پڑھائی جائے تاکہ نابینا افراد قرآن پڑھ سکیں ۔ اللہ کے فضل سے بچے مدرسوں میں خود جاکر قرآن پڑھتے ہیں ۔کتاب میں6 نقطوں کی مدد سے پڑھائی ہوتی ہے ۔ اس میں اے بی سی ،الف ب ت،اردو ،سندھی ،حساب ،عربی تمام مضامین شامل ہیں۔اس کو3سے 4 دن میں سیکھاجاسکتا ہے ۔ لیار ی کے نابینا بچوں کو راضی کیا وہ بچے اللہ کے فضل سے لیاری سے گرومندر سیکھنے کیلئے روزانہ آتے تھے ایک مہینے میں بریل کتاب پڑھنا سیکھ لی۔اب کمپیوٹر،موبائل او ر بہت کچھ چیزیں استعمال کر تے ہیں اورکراچی بھر میں گھومتے ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

توانائی اور معاشی بہتری کیلئے عوام کو بدلنا ہوگا

شرکاء: پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ وزارت ،ماہر معاشیات اورڈین کالج آف اکنامکس اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ آئی او بی ایم کراچی۔انجینئر خالد پرویز،چیئرمین انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرونکس انجینئرز(آئی ای ای ای پی)۔انجینئر آصف صدیقی،سابق چیئرمین آئی ای ای ای پی ۔پروفیسر ڈاکٹر رضا علی خان، چیئرمین اکناکس اینڈ فنانس این ای ڈی ۔ڈاکٹر حنا فاطمہ ،ڈین بزنس ایڈمنسٹریشن محمد علی جناح یونیورسٹی۔سید محمد فرخ ،معاشی تجزیہ کار پاکستان اکنامک فورم۔ احمد ریحان لطفی ،کنٹری منیجر ویسٹنگ ہائوس۔

گھریلو ملازمین پر تشدد معاشرتی المیہ،تربیت کی اشدضرورت

شرکاء: عمران یوسف، معروف ماہر نفسیات اور بانی ٹرانسفارمیشن انٹرنیشنل سوسائٹی ۔ اشتیاق کولاچی، سربراہ شعبہ سوشل سائنس محمد علی جناح یونیورسٹی ۔عالیہ صارم برنی،وائس چیئرپرسن صارم برنی ٹرسٹ ۔ ایڈووکیٹ طلعت یاسمین ،سابق چیئرپرسن ویمن اسلامک لائرز فورم۔انسپکٹر حناطارق ، انچارج ویمن اینڈ چائلڈ پرو ٹیکشن سیل کراچی۔مولانا محمود شاہ ، نائب صدرجمعیت اتحادعلمائے سندھ ۔فیکلٹی ارکان ماجو اورطلبہ و طالبات

درسگاہوں کا احترام لازم،پراپیگنڈا خطرناک ہوسکتا ہے

شرکاء:پروفیسر ڈاکٹر طلعت وزارت ماہر تعلیم آئی بی اے ۔ مظہر عباس،معروف صحافی اور تجزیہ کار۔ ڈاکٹر صائمہ اختر،سربراہ شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن جامعہ کراچی ۔ ڈاکٹرایس ایم قیصر سجاد،سابق جنرل سیکریٹری پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ۔ پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال شعبہ سائیکالوجی جامعہ کراچی ۔ ڈاکٹر مانا نوارہ مختار ،شعبہ سائیکالوجی جامعہ کراچی ۔ اساتذہ اورطلبہ و طالبات کی کثیر تعداد۔

انتخابی منشور:حقیقت یا سراب۔۔۔۔۔؟

شرکاء: ڈاکٹر اسامہ رضی نائب امیر جماعت اسلامی کراچی محمد ریحان ہاشمی،رکن رابطہ کمیٹی ایم کیوایمسردارعبدالرحیم ، صدرمسلم لیگ فنکشنل سندھ ڈاکٹرحنا خان ،انچارج شعبہ تاریخ جامعہ کراچیڈاکٹر معیز خاناسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تاریخ جامعہ کراچیاساتذہ اورطلبہ و طالبات کی کثیر تعداد

بجٹ:انتخابی یا عوامی۔۔حکومت سنجیدگی اختیارکرے

شرکاء: احمد علی صدیقی، ڈائریکٹرسینٹر فار ایکسی لینس اسلامک فنانس آئی بی اے کراچی ۔ڈاکٹر شجاعت مبارک، ڈین کالج آف بزنس مینجمنٹ اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ کراچی۔ڈاکٹر حنافاطمہ ، ڈین فیکلٹی آف بزنس ایڈمنسٹریشن محمد علی جناح یونیورسٹی ۔ محمد ادریس ،سابق صدر ایوان صنعت و تجار ت کراچی۔ضیا ء خالد ، سینئرپروگرام منیجر سی ای آئی ایف آئی بی اے کراچی ۔

کراچی مویشی منڈی سے ملکی معیشت کو اچھی امیدیں

شرکاء: یاوررضا چاؤلہ ، ترجمان مویشی منڈی ۔زریں ریاض خواجہ ،رکن کنزیومر پروٹیکشن کونسل سندھ۔کموڈور سید سرفراز علی ،رجسٹرار سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اورطلبہ و طالبات کی کثیر تعداد۔