حکومت کا سارا دارومدار ٹیکس لگانے پر، پالیسی کا ازِ سر نو جائزہ لینا ہوگا: مفتاح اسماعیل

کراچی :(دنیا نیوز) سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت کا سارا دار ومدار ٹیکس لگانے پر ہے، پالیسی کا جائزہ لینا ہوگا۔

پروگرام ’دنیا مہربخاری کےساتھ‘میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کفایت شعاری مہم کا اعلان کیا مگر نیتجہ نہیں آیا، شہبازشریف کی چار سال حکومت میں کوئی ریفارمز نہیں ہوئی۔

اُنہوں نے کہا کہ ملک میں اصلاحات کی ضرورت ہے، عوام سے پینسل اور کاغذ خریدنے پر بھی ٹیکس لیا جا رہا ہے، شہباز شریف کی حکومت میں کوئی گروتھ نہیں ہوئی۔

سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خطے سے مہنگی ترین بجلی اور گیس کا ریٹ ہے، اس سال بھی ایکسپورٹ کم ہوئی ہے، پالیسی میں کہیں نہ کہیں تو سقم ہے، حکومت کو آئی ایم ایف کو کہنا چاہیے اپنے دو ہزار ارب کے اخراجات کم کریں گے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت کا سارا دارومدارٹیکس لگانے پر ہے، موٹرسائیکل والے فی لیٹر 150 روپے ٹیکس لیا جا رہا ہے، وزیراعظم کو اپنے اخراجات کم کرنا ہوں گے، سب کو پتا ہے ملک ڈیفالٹ کے دہانے کھڑا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کوئی بھی صوبہ اپنے پیسے تھوڑے تھوڑے چھوڑنے کو تیار نہیں، صوبوں نے وفاق کو دیوالیہ ہونے کے قریب کر دیا ہے، شہباز شریف دل پر پتھر رکھ کرسارا بوجھ عوام پر ڈال دیتے ہیں۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ 1953 کے بعد گزشتہ چار سال سب سے برے گزرے، کوئی چیز صحیح سمت میں نہیں جا رہی، ہمیں سوچنا ہو گا ملک چلانے کے لیے کیا غلطی کر رہے ہیں، ملک میں غربت اور بےروزگاری بڑھ رہی ہے۔

مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت بڑھائیں گے تو پاکستانیوں کی انکم مزید کم ہو گی، پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لینا ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں