نئی آٹو پالیسی، ہائبرڈ گاڑیوں کی پیداوار بند ہونے کا انکشاف
اسلام آباد: (دنیا نیوز) سینیٹ کی صنعت و پیداوار کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کے باعث ملک میں ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی پیداوار 22 روز سے بند ہے۔
سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی صنعت و پیداوار کمیٹی کے اجلاس میں آٹو نمائندے نے بتایا کہ پورے پاکستان میں 22 دن سے ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑی نہیں بن رہی، گاڑیوں کی پیداوار ٹیرف نہ ہونے کے باعث رکی ہوئی ہے۔
آٹو نمائندے نے کہا کہ اگر صورتحال مزید 7 دن جاری رہی تو ملازمین کو تنخواہیں دینا مشکل ہو جائے گا، اس پر معاون خصوصی ہارون اختر نے کہا کہ ٹیرف پالیسی بورڈ کا اجلاس بلا کر مسئلہ حل کیا جائے گا، نئی آٹو پالیسی فائنل ہونے کے بعد معاملہ حل ہو جائے گا۔
اجلاس میں نئے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کے قیام سے متعلق بھی بریفنگ دی گئی، حکام نے بتایا کہ نئے ای پی زیڈز کے قیام پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ملک میں نئے ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کے قیام کا عمل فی الحال روک دیا گیا ہے۔
وزارت صنعت و پیداوار حکام نے بتایا کہ ٹیرف ایریا کو برآمدی کوٹہ ختم کرنے کی تجویز ایف بی آر کو بھجوائی جا رہی ہے، جس پر عملدرآمد ستمبر 2026 تک کرنے کی تجویز ہے۔
حکام کے مطابق یہ فیصلہ وزارت صنعت یا ای پی زیڈ اے کا نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کا نتیجہ ہے۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ای پی زیڈز پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور مؤقف تھا کہ ان زونز میں آنے والے ادارے ٹیکس ادا نہیں کرتے، ایکسپورٹرز کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ای پی زیڈ سہولت بحال کی جائے۔
صنعتکاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ بار بار کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف یہ سب کہہ رہا ہے، تاہم ان کے پاس تحریری ریکارڈ موجود ہے کہ یہ آئی ایم ایف کی ڈیمانڈ نہیں ہے۔
چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ وزارت اور آئی ایم ایف کو قائل کیا جائے تاکہ مسئلے کا حل نکالا جا سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments