نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کامیابی پراللہ تعالیٰ کےشکرگزارہیں،علی پرویز ملک
  • بریکنگ :- پنجاب میں پیپلزپارٹی بےنقاب ہوگئی ،علی پرویزملک
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کی کونسی کارکردگی ہےکہ ووٹ 5 سے 20 ہزارہوگیا،علی پرویز
  • بریکنگ :- بلاول بھٹوکراچی کاکچرانہیں اٹھاسکتے،علی پرویزملک
  • بریکنگ :- ضمنی الیکشن میں ٹرن آؤٹ کم ہوتاہے،علی پرویزملک
Coronavirus Updates

فیس بک نے کمپنی کا نام تبدیل کرکے 'میٹا' رکھ دیا

ٹیکنالوجی

کیلیفورنیا(ویب ڈیسک)سماجی رابطے کی سب سےبڑی ویب سائٹ فیس بک نےاپنی کمپنی کا نام تبدیل کرکرکے 'میٹا' رکھ دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیار پورٹس کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی سوشل میڈیا کی ویب سائٹ کے بانی مارک زکر برگ نے اعلان کیا کہ ہم نے اپنی کمپنی کا نام تبدیل کرکے  میٹا  رکھ دیا ہے۔

فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب ہمارا نام وہ ہے جو ہم کرتے ہیں، صارفین ورچوئل ماحول میں کام، بات چیت اور گیم کھیل سکیں گے۔

مارک زکر برگ نے لکھا کہ اکٹھے مل کر لوگوں کو ٹیکنالوجی کے مرکز میں لاسکتے ہیں اور اکٹھے مل کر ہم زیادہ بڑی معیشت کو تشکیل دے سکیں گے۔ اس وقت ہمارا برانڈ ایک پراڈکٹ (فیس بک) سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے، مگر وقت کے ساتھ توقع ہے کہ ہمیں ایک میٹا ورس کمپنی کے طور پر دیکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ فیس بک انکارپوریشن (ایف بی او) کو اپنی پالسیز اور کاروباری ضوابط کی بنیاد پر عالمی سطح پر ریگولیٹرز اور امریکی قانون سازوں کی تنقید کا سامنا ہے جس کے بعد کمپنی نے اپنا نام بدلنے اور نئے نام کے ساتھ کام کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس منصوبے کے مطابق فیس بک کی معروف ایپس جیسے کے انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو ایک نگران کمپنی کے تحت کیا جائے گا۔ اس سے قبل گوگل بھی اسی قسم کی تبدیلی سے گزر چکا ہے جب اس نے سال 2015 میں الفابیٹ کے نام سے نئی کمپنی قائم کی تھی۔

فیس بک کے چیف ایگزیکٹیو مارک زکر برگ اس سے قبل بھی میٹا ورس کی بات کرتے رہے ہیں جو ان کے مطابق ایک ڈیجیٹل دنیا ہے جہاں لوگ ایک ورچوئل ماحول میں مختلف ڈیوائسز کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہ سکتے ہیں۔

جولائی سے ہی کمپنی نے ورچوئل ریئلٹی اور آگمینٹڈ ریئلٹی، اوکولوس وی آر جیسے سافٹ وئیرز، اے آر گلسز اور رسٹ بینڈز ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی تھی۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فیس بک کو عالمی سطح پر قانون سازوں اور ریگولیٹرز کی سخت تنقید کا سامنا ہے جس کی وجہ فیس بک پر پوسٹ کیے جانے والے مواد کے حوالے سے کمپنی کی پالیسی اور اس مواد سے جڑے خطرات ہیں۔

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں