وینزویلن اپوزیشن لیڈر ماریا مچاڈو کی ٹرمپ سے ملاقات، نوبل انعام کا تمغہ پیش کردیا
واشنگٹن: (دنیا نیوز) وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ کو اپنا نوبل امن انعام کا تمغہ پیش کر دیا۔
رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ اس تمغے کو اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم نوبل کمیٹی پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ یہ اعزاز قانونی طور پر منتقل یا مشترک نہیں کیا جا سکتا اور اصل اعزاز بدستور مچاڈو ہی کے نام رہے گا۔
صدر ٹرمپ نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر اس پیشکش کو باہمی احترام کی علامت قرار دیا اور مچاڈو کا شکریہ ادا کیا، دوسری جانب مچاڈو نے کہا کہ یہ تمغہ انہوں نے وینزویلا کے عوام کی آزادی کے لیے ٹرمپ کے کردار کے اعتراف کے طور پر پیش کیا ہے۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب مچاڈو وینزویلا کے سیاسی مستقبل میں اپنا کردار یقینی بنانے کے لیے واشنگٹن میں سرگرم ہیں، ٹرمپ نے صاف کہا تھا کہ وہ انہیں وینزویلا کا نیا قائد بنانے کے خیال کو مسترد کرتے ہیں، اس سے پہلے ٹرمپ نے کھل کر نوبل انعام کے لیے مہم چلائی تھی، اور جب انعام مچاڈو کو ملا تو انہوں نے اس پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ اور وینزویلن اپوزیشن رہنما مچاڈو کے درمیان ہونے والی ملاقات کو خوشگوار قرار دیا گیا ہے، یہ ان کی پہلی بالمشافہ ملاقات تھی، جو تقریباً ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔
وائٹ ہاؤس سے نکلنے کے بعد مچاڈو نے امریکی کانگریس میں دونوں جماعتوں کے درجن سے زائد سینیٹرز سے بھی ملاقات کی، جہاں انہیں نسبتاً زیادہ حمایت حاصل دکھائی دی، اسی دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ مچاڈو سے ملاقات کے خواہاں تھے، لیکن وہ وینزویلا کی زمینی سیاسی حقیقت کے بارے میں حقیقت پسندانہ مؤقف رکھتے ہیں۔
مچاڈو نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے امریکی صدر کو یہ میڈل وینزویلا کی آزادی کے لیے ان کے کردار کے اعتراف میں پیش کیا ہے، یہ اقدام امریکی صدر کی منفرد وابستگی کا اعتراف ہے تاہم انہوں نے اس ملاقات میں ہونے والی بات چیت کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔