بلوچستان حکومت کا کفایت شعاری پیکیج، اخراجات میں کمی کیلئے اہم فیصلے

کوئٹہ: (دنیا نیوز) بلوچستان حکومت کا کفایت شعاری پیکیج، اخراجات میں نمایاں کمی کیلئے اہم فیصلے کر لئے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کفایت شعاری اقدامات کی منظوری دے دی گئی۔

اجلاس میں گورنر بلوچستان، سپیکر صوبائی اسمبلی سمیت اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے خصوصی شرکت کی۔

کفایت شعاری مہم کا آغاز چیف منسٹر سیکرٹریٹ سے شروع کرتے ہوئے 8 سو کے لگ بھگ غیر ضروری آسامیاں تحلیل کردی گئیں۔

بلوچستان حکومت نے سرکاری اخراجات کم کرنے اور ایندھن کی بچت کے لئے جامع پالیسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا، صوبائی وزراء، مشیران اور پارلیمانی سیکرٹریز 2 ماہ کی تنخواہ نہیں لیں گے۔

اراکین صوبائی اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد رضاکارانہ کٹوتی کی منظوری دی گئی، گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے اعلیٰ افسران بھی 2 دن کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر دیں گے۔

فیصلے کے مطابق صحت اور تعلیم کے شعبوں کے ملازمین کو تنخواہوں کی کٹوتی سے استثنیٰ کا فیصلہ کیا گیا، سرکاری اجلاس اب زیادہ تر ویڈیو لنک کے ذریعے ہوں گے، غیر ضروری سفری اخراجات ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں پر پابندی عائد کردی گئی، سیمینارز اور ٹریننگز کے لئے پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی، سرکاری دفاتر میں 4 روزہ ورک ویک متعارف، 50 فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا۔

نجی شعبے کو بھی آدھا عملہ گھر سے کام کروانے اور چار روزہ دفتری ہفتہ اپنانے کی تجویز دی گئی، صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں 23 مارچ 2026 تک بہار کی تعطیلات کا اعلان کیا گیا۔

صوبائی کابینہ کے فیصلے کے مطابق امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہیں گے، تعطیلات کا اطلاق امتحانات پر نہیں ہوگا۔

شادی بیاہ کی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود، صرف ایک ڈش کی اجازت ہوگی، ہائی ویز پر گاڑیوں کی رفتار 65 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں حکومت نے خود مثال قائم کی ہے، وسائل عوامی فلاح پر خرچ ہوں گے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ قومی وسائل کے ضیاع کی گنجائش نہیں، تمام ادارے کفایت شعاری پالیسی پر سختی سے عمل کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں