بلوچستان حکومت کا تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کیلئے انقلابی اقدامات کا فیصلہ

کوئٹہ: (دنیا نیوز) بلوچستان حکومت نے تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کے لئے انقلابی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی کی زیر صدارت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس ہوا جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 679 پرائمری اور 409 مڈل سکولوں کو اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں صوبے میں آؤٹ آف سکول بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے کیلئے 5 سالہ پروگرام اور تعلیم نسواں کے فروغ کے لئے طالبات کو معقول ماہانہ وظیفہ دینے کی تجویز زیر غور آئی۔

اجلاس چیف سیکرٹری بلوچستان نے بجٹ کے خدوخال پر بریفنگ دی، دوران بریفنگ بتایا گیا کہ ایک ہزار سکولوں کی اپ گریڈیشن سے گزشتہ 15 سال کا تعلیمی عدم توازن ختم ہونے کی توقع ہے، محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی جانب سے 174 ارب روپے کی لاگت سے 308 محکمانہ سکیمات پر بھی بریف کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اولین ترجیح ہیں، ہر بچے کو سکول تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ترجیح ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم میں سرمایہ کاری دراصل بلوچستان کے روشن مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، ہم تعلیمی سہولیات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنا رہے ہیں تاکہ نوجوان نسل کو بہتر مواقع میسر آئیں۔

سرفراز بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں بھی تعلیمی اداروں کی بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے، تعلیمی شعبے میں بہتری کے لئے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں