بجلی بحران: سابق نگران وفاقی وزیر اعداد و شمار سامنے لے آئے
اسلام آباد: (دنیا نیوز) سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان میں بجلی بحران صلاحیت کا نہیں انتظام کا مسئلہ ہے۔
گوہر اعجاز نے پاکستان میں جاری بجلی بحران بارے اعداد و شمار سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر شیئر کر دیئے۔
سابق نگران وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ حیران کن ہے کہ 46,605 میگاواٹ نصب شدہ صلاحیت کے باوجود صنعت کو 2 سے 4 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے، جبکہ گھریلو اور کمرشل صارفین روزانہ 7 سے 16 گھنٹے اندھیرے میں گزارنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ آخر اس پاور مینجمنٹ کے پیچھے کون سی منطق کارفرما ہے؟، 15 اپریل 2026 تک کے اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان میں بجلی کی نصب شدہ صلاحیت 46,605 میگاواٹ، زیادہ سے زیادہ طلب 20,520 میگاواٹ، زیادہ طلب کے وقت پیداوار 13,958 میگاواٹ جبکہ خسارہ 4,090 میگاواٹ ہے۔
— Dr Gohar Ejaz (@Gohar_Ejaz1) April 17, 2026
گوہر اعجاز نے کہا کہ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ابھی گرمیوں کا موسم پوری طرح شروع بھی نہیں ہوا لیکن آج کی زیادہ سے زیادہ طلب 20,520 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ جون سے اگست کے دوران یہ طلب عموماً 30,000 سے 33,000 میگاواٹ تک جا پہنچتی ہے۔ اگر ہم آج کی طلب کو سنبھالنے میں ناکام ہیں تو اصل گرمیوں میں کیا ہوگا؟
انہوں نے کہا کہ یہ صلاحیت کا مسئلہ نہیں، بلکہ پاور سیکٹر کی گورننس اور مینجمنٹ کی ناکامی ہے، ہائیڈرو پاور کی پیداوار میں نمایاں کمی آئی ہے کیونکہ نیلم جہلم جیسے کم لاگت والے منصوبے غیر فعال ہیں، جس سے سستی بجلی کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ ،لوڈ شیڈنگ میں کمی ہوئی ہے: پاور ڈویژن کا دعویٰ
گوہر اعجاز نے کہا کہ گیس پاور پلانٹس ایندھن کی ناقص تقسیم کے باعث اپنی مکمل صلاحیت سے کام نہیں کر رہے، شمسی توانائی رات کے وقت ختم ہو جاتی ہے جب طلب اپنے عروج پر ہوتی ہے، جبکہ نہ تو کوئی ذخیرہ کرنے کا نظام موجود ہے اور نہ ہی لوڈ مینجمنٹ کی مؤثر حکمت عملی۔
سابق نگران وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹرانسمیشن کا نظام بھی دستیاب بجلی کو وہاں تک پہنچانے میں ناکام ہے جہاں اس کی ضرورت ہے۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ ان تمام مسائل کے باوجود، پاکستان کے عوام کو 46,605 میگاواٹ نصب شدہ صلاحیت کی قیمت اپنے بجلی کے بلوں میں ادا کرنی پڑ رہی ہے لیکن جب ضرورت ہوتی ہے تو یہی صلاحیت دستیاب نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھیں: ایل این جی کی دستیابی سے بجلی کی فراوانی بہتر ہوگی: اویس احمد لغاری
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو کچھ موجود ہے اور جو ہم فراہم کر رہے ہیں، اس کے درمیان فرق انجینئرنگ کا نہیں بلکہ گورننس اور مینجمنٹ کا مسئلہ ہے، ایندھن کی منصوبہ بندی، بجلی کی ترسیل کی بہتری، گرڈ کی ہم آہنگی، اور مالی نظم و ضبط وہ عوامل ہیں جو اس فرق کو ختم کر سکتے ہیں۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ صلاحیت موجود ہے، سوال یہ ہے کہ اسے چلا کون رہا ہے، اور کیسے؟