معرکۂ حق: جب پاکستان نے بھارت کیخلاف جدید جنگ کے اصول بدل دیئے
لاہور (دنیا نیوز) پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن ''بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص'' کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے جو کہ وسیع تر تنازع کے اُس مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے جسے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ISPR) نے 'معرکۂ حق' کا نام دیا۔
یہ مہم 22 اپریل سے 10 مئی 2025 تک جاری رہی اور جنوبی ایشیا کی سکیورٹی صورتحال میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی، اس کا آغاز پہلگام کے علاقے میں ایک مہلک واقعے سے ہوا، جس کے بعد سفارتی، معلوماتی اور عسکری سطح پر تیزی سے کشیدگی بڑھی۔
یہ سلسلہ 22 اپریل 2025 کو اس وقت شروع ہوا جب بائسران ویلی، پہلگام (جو لائن آف کنٹرول سے تقریباً 200 کلومیٹر دور ہے) میں ایک حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے، یہ حملہ دوپہر 1 بج کر 50 منٹ پر شروع ہوا اور آدھے گھنٹے میں ختم ہو گیا۔
واقعے کے چند ہی منٹ بعد بھارتی حکام نے بغیر کسی باضابطہ تحقیقات کے پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا، پاکستان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔
حکام اور تجزیہ کاروں نے اس واقعے کو "فالس فلیگ آپریشن" قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک حساس سفارتی وقت میں پیش آیا، بھارتی بیانیے کو مقامی میڈیا کے کچھ حصوں نے بغیر تصدیق کے بڑھاوا دیا، جس پر تنقید بھی ہوئی جبکہ عالمی سطح پر سکیورٹی خامیوں اور انٹیلی جنس ناکامیوں پر سوالات اٹھائے گئے۔
بیانیے کی جنگ
بھارت کے اندر عوامی ردعمل میں بے چینی دیکھی گئی، مقبوضہ جموں و کشمیر میں تقریباً دس لاکھ فوجیوں کی موجودگی کے باوجود حملہ نہ روک پانے پر سوالات اٹھے، اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے انٹیلی جنس کی بڑی ناکامی قرار دیا۔
پاکستان نے اس دوران معلوماتی محاذ پر بھرپور جواب دیا اور مبینہ طور پر منظم ڈس انفارمیشن مہم کا مقابلہ کیا، ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین نے اس میں اہم کردار ادا کیا، آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی نوجوان "سائبر اور انفارمیشن وارئیرز" کے طور پر سامنے آئے۔
فضائی برتری
کشیدگی کا پہلا عسکری مرحلہ فضائی محاذ پر سامنے آیا، پاکستان ایئر فورس اور بھارتی فضائیہ کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت کے چھ جنگی طیارے مار گرائے گئے، جن میں جدید رافیل طیارے بھی شامل تھے۔
ان فضائی جھڑپوں کو آپریشنل تیاری، بی وی آر (Beyond Visual Range) صلاحیت اور مؤثر کمانڈ اینڈ کنٹرول کی مثال قرار دیا گیا، اگرچہ بھارت نے ان نقصانات کو اسی انداز میں تسلیم نہیں کیا لیکن پاکستانی حکام کے مطابق یہی جھڑپیں آگے آنے والے زمینی مراحل کی بنیاد بنیں۔
آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص
6 اور 7 مئی کی رات صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی جب بھارتی کارروائیوں میں پاکستان میں شہری ہلاکتیں ہوئیں، اس کے جواب میں 10 مئی کو پاکستان نے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص شروع کیا، جسے ایک "محدود مگر فیصلہ کن ردعمل" قرار دیا گیا۔
یہ آپریشن چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں شروع کیا گیا اور اس کا نام سورۃ الصف سے اخذ کیا گیا، جو اتحاد اور عزم کی علامت ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ایک مکمل مشترکہ (ٹرائی سروسز) آپریشن تھا جس میں بری، بحری، فضائی اور سائبر صلاحیتوں کو یکجا استعمال کیا گیا، اس دوران بھارت کے زیر انتظام کشمیر اور بھارت کے دیگر علاقوں میں 26 فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ان میں سورت گڑھ، سرسا، بھوج، آدم پور، پٹھان کوٹ اور ادھم پور کے فضائی اڈے شامل تھے، جبکہ براہموس میزائل کے ذخائر (بیاس اور نگروٹا) بھی نشانہ بنائے گئے، ایئر ڈیفنس سسٹمز جیسے S-400 یونٹس کو بھی ہدف بنایا گیا۔
ٹیکنالوجی اور جدید جنگ
آپریشن میں جدید ہتھیاروں اور نیٹ ورکڈ وارفیئر کا استعمال نمایاں رہا، فتح سیریز کے میزائل، لوئٹرنگ میونیشنز اور مربوط حملے اس کی بنیاد تھے۔
پاکستانی ڈرونز نے نئی دہلی سمیت بڑے بھارتی شہروں کے اوپر پروازیں کیں جبکہ سائبر حملوں کے ذریعے مواصلاتی نظام کو بھی متاثر کیا گیا، حکام کے مطابق تمام حملے صرف فوجی اہداف تک محدود رکھے گئے۔
کثیر محاذی جنگ
اسی دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شدت پسند سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا، جسے حکام نے بیرونی حمایت یافتہ عناصر سے جوڑا، سکیورٹی فورسز نے مغربی محاذ پر بھی کارروائیاں جاری رکھیں۔
قومی یکجہتی
معرکۂ حق کے دوران ملک میں غیر معمولی اتحاد دیکھنے میں آیا، سیاسی قیادت، سفارتی حلقے اور عوام سب ایک صف میں کھڑے نظر آئے، سائنسدانوں اور انجینئرز نے بھی مقامی ٹیکنالوجی کے ذریعے اہم کردار ادا کیا۔
ایک سال بعد بھی، پاکستانی حکام اس آپریشن کو مربوط جنگی حکمت عملی، مؤثر قیادت اور قومی اتحاد کی ایک نمایاں مثال قرار دیتے ہیں۔