ایران کے ساتھ جنگ معاشی محاذ پر منتقل، ٹرمپ مشکل صورتحال سے دوچار
دوحہ: (دنیا نیوز) کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو ڈگ بینڈو نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اصل کشمکش اب معاشی میدان میں داخل ہو چکی ہے، جہاں آبنائے ہرمز میں جاری دو طرفہ ناکہ بندیاں مرکزی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈگ بینڈو نے کہا ٹرمپ ایک انتہائی مشکل صورتحال میں پھنس چکے ہیں، انہوں نے غیر ارادی طور پر آبنائے ہرمز بند کر کے ایران کو ایک بہت طاقتور ہتھیار دے دیا ہے، اور وہ اس راستے کو دوبارہ کھلوانے کیلئے امریکی بحری جہازوں کو خطرے میں ڈالنے پر آمادہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب ٹرمپ کیلئے ایسا معاہدہ نہ کرنا مشکل ہو گا جو ایران کیلئے کسی حد تک قابل قبول ہو۔
ڈگ نے اس دعوے پر بھی شکوک کا اظہار کیا کہ ٹرمپ آئندہ وسط مدتی انتخابات پر جنگ کے اثرات کی پروا نہیں کرتے، وہ یہ بات تو کہہ سکتے ہیں، لیکن حقیقت میں کوئی اس پر یقین نہیں کرتا، ٹرمپ ہرگز نہیں چاہیں گے کہ نومبر میں ریپبلکن پارٹی کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر کوئی چاہتا ہے یہ صورتحال ختم ہو، مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ یہ سب سن رہے ہیں اور اس معاملے کی فکر بھی رکھتے ہیں۔