یورپ شدید گرمی کی تاریخی لہر کی لپیٹ میں، درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے

پیرس: (دنیا نیوز) یورپ اس وقت شدید گرمی کی تاریخی لہر کی زد میں ہے، جہاں کئی ممالک میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ درجہ حرارت نے کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

خبر ایجنسی کے مطابق آسٹریا، جرمنی، فرانس، اٹلی اور سربیا شدید گرمی سے متاثر ہیں، برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ میں جون کے مہینے کے دوران گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق انگلینڈ میں درجہ حرارت 36.7 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ سوئٹزرلینڈ میں پارہ 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔

پیرس میں دو روز قبل جون کا بلند ترین درجہ حرارت 40.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، اٹلی میں ہفتے کے اختتام پر درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

شدید گرمی کے باعث فرانس میں نہانے کے دوران ڈوبنے کے مزید 48 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 55 ہو گئی ہے، جرمنی میں بھی 20 افراد ڈوب کر جان کی بازی ہار گئے۔

خبر ایجنسی کے مطابق موجودہ ہیٹ ویو کے دوران درجہ حرارت گزشتہ 50 برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً ساڑھے تین ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

نیدرلینڈز میں شدید گرمی کے باعث ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے متعدد سکول بند کر دیئے گئے ہیں، جبکہ جرمنی میں گرمی کی شدت سے اے-2 موٹروے کی سڑک پھٹ گئی، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جون کے اختتام تک یورپ کے 45 فیصد سے زائد شہروں میں ریکارڈ ہیٹ اسٹریس متوقع ہے۔

انہوں نے شہریوں کو ہیٹ سٹروک سے بچاؤ کے لیے غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز، زیادہ پانی پینے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں