مغربی کنارے میں بگڑتی صورتحال سے امدادی سرگرمیاں شدید متاثر، اقوام متحدہ کا انتباہ

نیویارک: (ویب ڈیسک) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی بدامنی، نقل و حرکت پر عائد پابندیوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کے باعث انسانی امدادی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔

عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ بعض امدادی اداروں کو دشوار گزار علاقوں میں رہنے والے افراد کو ذہنی صحت اور نفسیاتی معاونت سمیت دیگر خدمات آن لائن یا دور دراز ذرائع سے فراہم کرنا پڑ رہی ہیں۔

اوسی ایچ اے کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام سے آبادکاروں کے حملوں کے زیادہ تر واقعات نابلس، قلقیلیہ اور جنین کے اضلاع میں رپورٹ ہوئے ہیں، ادارے نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے مبینہ طور پر نابلس شہر، اس کے نواحی علاقوں اور تل گاؤں کا محاصرہ کر رکھا ہے جہاں حالیہ ہلاکتیں پیش آئی تھیں۔

اس کے علاوہ فلسطینی آبادیوں کے قریب نئی اسرائیلی بستی قائم کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

مشرق وسطیٰ امن عمل کے لئے اقوام متحدہ کے نائب خصوصی رابطہ کار رمیز الاکبروف نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مغربی کنارے کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔

ان کے مطابق بڑھتے ہوئے تشدد کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں، بے گھر ہونے کے واقعات، املاک کو نقصان اور متاثرہ علاقوں میں عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ فوری اقدامات نہ کئے گئے تو مزید کشیدگی کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔

انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ آبادکاروں کے تشدد کو روکنے، فلسطینی برادریوں کا تحفظ یقینی بنانے اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔

فلسطینی قیادت سے بھی اپیل کی کہ وہ تشدد اور اشتعال انگیزی کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیلی شہریوں پر حملوں کی روک تھام کے لئے ضروری اقدامات کرے۔

او سی ایچ اے نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیلی فوج مغربی کنارے کے ایک اور پناہ گزین کیمپ کا کنٹرول سنبھالتی ہے تو اس کے ہزاروں افراد پر شدید انسانی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ادارے کے مطابق گزشتہ برس سے جنین، طولکرم اور نور شمس کے پناہ گزین کیمپوں میں اسرائیلی کارروائیوں کے باعث 30 ہزار سے زائد افراد جن میں بچے بھی شامل ہیں، بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ گھروں، روزگار اور بنیادی سہولیات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...