وکلا ہڑتال بارے سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ جاری کر دیا
اسلام آباد: (دنیا نیوز) سپریم کورٹ نے وکلا کی ہڑتال، نظرثانی کے دائرۂ اختیار اور مقدمات میں غیر ضروری التوا سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے 12 کنال اراضی کے مقدمے میں درخواست گزار شکیل احمد کی اپیل منظور کر لی۔
جسٹس شکیل احمد کی جانب سے جاری فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ وکلا کی ہڑتال کو مدعی کی غفلت نہیں کہا جا سکتا۔
عدالت نے لاہور ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے عبدالغفار کے خلاف اراضی کا مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا اور ہدایت کی کہ کیس کا فیصلہ چھ ماہ میں کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے قانون کا غلط استعمال کیا، شواہد پیش کرنے کا حق ختم کرنا غیر قانونی ہے اور قانونی شرائط پوری کیے بغیر سزا دینے والی شق کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ واضح قانونی غلطی کی صورت میں نظرثانی کی درخواست قابل سماعت ہوتی ہے جبکہ اپیل کا حق موجود ہونے سے نظرثانی کا اختیار ختم نہیں ہوتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے نظرثانی مسترد کر کے بھی قانونی غلطی کی۔
سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ مدعی کو دوبارہ شواہد پیش کرنے کا مکمل حق دیا جائے اور اس بات پر زور دیا کہ انصاف کی راہ میں تکنیکی رکاوٹیں قابل قبول نہیں۔
عدالت عظمیٰ نے فیصلے میں مزید کہا کہ غیر ضروری التوا انصاف کے نظام کو تباہ کر رہا ہے، تاریخ پر تاریخ دینے کی روایت ختم ہونی چاہیے اور عدالتی احکامات کو مذاق نہیں بننے دیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالتی نظم و ضبط برقرار رکھنا ججوں اور وکلا دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، وکلا صرف اتنے مقدمات لیں جتنے دیانت داری سے چلا سکیں جبکہ دوسری عدالت میں مصروفیت ہر بار التوا کی معقول وجہ نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون سے ہٹ کر اختیار کا استعمال انصاف نہیں بلکہ زیادتی ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments