روس کے شہر نزنی کامسک میں ڈرون حملے، بچے سمیت 13 افراد ہلاک، 39 زخمی

ماسکو: (شاہد گھمن) روس کے جمہوریہ تاتارستان کے شہر نزنی کامسک میں بڑے پیمانے پر ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی ہے، جبکہ 39 افراد زخمی ہوئے ہیں، روسی تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

تاتارستان کے سربراہ کی پریس سروس کے مطابق ڈرون حملے میں شہر کی صنعتی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، ابتدائی طور پر 12 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی، تاہم بعد میں یہ تعداد بڑھ کر 13 ہو گئی۔

روسی وزارت صحت کے مطابق 28 زخمیوں کو نزنی کامسک کے اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے قریبی شہر نابریژنی چیلنی سے اضافی طبی ٹیمیں بھی نزنی کامسک روانہ کر دی گئی ہیں۔

روسی تحقیقاتی کمیٹی کی ترجمان سویتلانا پیترینکو کے مطابق تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ یوکرین نے ڈرونز کے ذریعے نزنی کامسک کے رہائشی علاقوں اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

حملے کے بعد تاتارستان میں ہلاک ہونے والوں کے سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے، جبکہ متاثرین کی مدد اور حملے کے نقصانات کے ازالے کے لیے متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔

تاتارستان کے وزیر صحت المیر اباشیف کے مطابق نزنی کامسک کے مرکزی ضلعی اسپتال میں طبی امداد کے لیے خصوصی آپریشنل ہیڈکوارٹر قائم کر دیا گیا ہے، ایمبولینس سروس کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نابریژنی چیلنی سے پانچ اضافی ٹیمیں اور ریپبلکن سینٹر فار ڈیزاسٹر میڈیسن کی ایک ٹیم بھی تعینات کی گئی ہے۔

روسی وزیر صحت میخائل موراشکو نے زخمیوں کو فراہم کی جانے والی طبی امداد کی ذاتی طور پر نگرانی شروع کر دی ہے۔

روسی تحقیقاتی کمیٹی نے تاتارستان کی صنعتی اور شہری تنصیبات پر حملے کے سلسلے میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت فوجداری مقدمہ بھی درج کر لیا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...