میر رضا کیس، میڈیکل بورڈ کی مختلف رپورٹس کے باعث کیس پیچیدہ ہوا: آئی جی سندھ

سکھر :(دنیا نیوز) آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہےکہ میر رضا قتل کیس میں میڈیکل بورڈ کی مختلف رپورٹس کے باعث کیس پیچیدہ ہوا۔

سکھر میں ایک روزہ دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ ان کے دورہ سکھر کا بنیادی مقصد کرائم میٹنگ کا انعقاد تھا جب کہ اس دوران بزنس کمیونٹی سے بھی ملاقات رکھی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سکھر رینج میں جرائم کی سطح میں کمی آئی ہے، سٹریٹ کرائم کی تمام کیٹیگریز میں کمی دیکھی جا رہی ہے اور جرائم میں مزید کمی کیلئے متعلقہ افسران کو احکامات جاری کردیے گئے ہیں، قبائلی تنازعات کے مستقل حل کیلئے بھی کام جاری ہے۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ سندھ پولیس کمیونٹی پولیسنگ پر توجہ دے رہی ہے جب کہ سکھر سمیت دیگر شہروں میں سیف سٹی منصوبے بھی لائے جا رہے ہیں، گھوٹکی میں دو جرائم پیشہ افراد کے فرار کے واقعے پر انہوں نے کہا کہ سکیورٹی پر مامور افسران کو معطل کردیا گیا ہے۔

پریا کماری کے اغوا کیس سے متعلق  جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ یہ پولیس کیلئے انتہائی حساس کیس ہے، جس پر نئے سرے سے کام کیا جا رہا ہے، مغوی بچی کے کیس کی نئے طریقہ کار کے تحت تفتیش کی جا رہی ہے

میر رضا قتل کیس کے حوالے سے جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ یہ انتہائی حساس نوعیت کا کیس تھا اور پولیس کا مقصد اصل محرکات تک پہنچنا تھا، میڈیکل بورڈ کی مختلف رپورٹس کے باعث کیس پیچیدہ ہوگیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ تاہم اب نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے اور عوام کی توقعات کے مطابق افسران کو بھی تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے، نئی کمیٹی کیس کو حل کرنے کیلئے دن رات کام کر رہی ہے۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور قوت سے کارروائیاں جاری ہیں، گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال سندھ میں زیادہ منشیات فروش گرفتار کئے گئے ہیں اور متعدد مقدمات بھی درج کئے گئے ہیں، اب ان کارروائیوں اور مقدمات کی تفصیلات میڈیا کو بھی فراہم کی جائیں گی۔

جان محمد مہر کے قتل پر جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا کہ مقتول ہمارے دوست تھے، ان کی فیملی کے ساتھ مل کر قاتلوں کی گرفتاری کیلئے نئی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔

آپریشن نجاتِ مہر ان کے حوالے سے اُنہوں نے بتایا کہ بہتر کوآرڈینیشن کیلئے ایک ہی ڈی آئی جی کی تعیناتی کی سفارش حکومت کو کی گئی تھی، سکھر میں مستقل ڈی آئی جی کی تعیناتی کیلئے بہت جلد حکومت سے بات کی جائے گی۔

آئی جی سندھ کا کہنا تھا  کہ صوبے میں تھانہ کلچر تبدیل کرنے کیلئے ایک مکمل پروپوزل تیار کیا گیا ہے، نئے نظام کے تحت ہر تھانے میں ایک ایڈیشنل ایس ایچ او اور ایک ایڈیشنل انویسٹی گیشن افسر تعینات کیا جائے گا جس سے سندھ کے تھانوں کے نظام میں نمایاں بہتری آئے گی۔

جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ بلوچستان کے حالات کے اثرات سے جیکب آباد اور دیگر اضلاع کو محفوظ رکھنے کیلئے بارڈر پولیس کی تعیناتی پر حکومت سندھ سے بات چیت جاری ہے جب کہ ڈرون کیمروں کی مدد سے بھی نگرانی اور چیکنگ کی جا رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے نئی بھرتیوں کا اعلان کیا ہے اور پولیس اپنی نفری میں اضافہ کر رہی ہے جس سے مجموعی سکیورٹی صورتحال جلد بہتر ہوگی، آپریشن نجاتِ مہر ان کیلئے دیگر محکموں سے حاصل کی گئی نفری بھی کافی حد تک واپس کی جا چکی ہے۔

جاوید عالم اوڈھو نے آپریشن نجاتِ مہر ان کے دوران ملنے والے تمغے کو اپنی ٹیم کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز صرف ان کا نہیں بلکہ پوری ٹیم کی کامیابی ہے۔

سندھ پولیس کے انفراسٹرکچر سے متعلق انہوں نے کہا کہ پولیس کا انفراسٹرکچر کافی وسیع ہوگیا ہے، تاہم متعدد تھانے زبوں حالی کا شکار ہیں، حکومت نے کئی تھانے تعمیر کرکے دیے ہیں۔

آئی جی سندھ کا مزید کہنا تھا کہ رواں سال بجٹ میں وسائل محدود ہونے کے باعث مزید تعمیرات ممکن نہیں، امید ہے کہ آئندہ سال مطلوبہ وسائل دستیاب ہوئے تو مزید تھانے بھی تعمیر کئے جائیں گے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...