کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں: وزیراعظم
اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کا پہلا اجلاس ہوا، وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، تجارت کا فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیراعظم نے تجارتی عمل میں غیر ضروری تاخیر کے خاتمے، کاروباری لاگت میں کمی اور برآمدات کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات لینے کی ہدایت کی، انہوں نے کہا کہ تجارت میں سہولت کاری کے ذریعے پاکستان کو علاقائی اور عالمی سپلائی چینز کا مؤثر حصہ بنانے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کا بنیادی مقصد تجارت سے متعلق تمام طریقہ کار میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے، زیادہ حجم کی حامل بندرگاہوں پر تمام متعلقہ ادارے کاروباری برادری کو ایک ہی مقام پر سہولیات فراہم کریں۔
شہباز شریف نے مختلف اداروں کی مشترکہ انسپیکشن اور مشترکہ پروفائلنگ کے نظام کو فروغ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تمام نان ٹیرف اقدامات کا جامع آڈٹ کیا جائے اور تجارت کے راستے میں حائل غیر ضروری رکاوٹیں دور کی جائیں۔
وزیراعظم نے پاکستانی بندرگاہوں تک براہ راست شپنگ لائنز لانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت بھی کی، انہوں نے کہا کہ براہ راست شپنگ سہولت سے پاکستانی فیکٹریوں سے عالمی خریداروں تک مصنوعات کی ترسیل مزید آسان اور تیز ہوگی۔
وزیراعظم نے قومی تجارتی کارکردگی انڈیکس تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انڈیکس میں کارگو ڈویل ٹائم، کسٹمز کلیئرنس، لاجسٹکس، شپ کلیرنس ٹائم، پوسٹ کلیرنس آڈٹ، پری کلیئرنس سمیت دیگر اہم اشاریوں کی پیمائش کی جائے گی۔
شہباز شریف نے تجارت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کا حصہ بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات لینے کی ہدایت کی، انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کے تجارتی سفر کے مختلف مراحل کی میپنگ کے ذریعے انہیں درپیش رکاوٹوں کی نشاندہی کی جائے۔
وزیراعظم نے تجارت میں سہولت کے لیے رسک مینجمنٹ نظام کو مزید مؤثر بنانے اور کارگو کلیئرنس کے عمل کو تیز کرنے کے لیے کنٹرولز کو پری ارائیول سے پوسٹ ریلیز مرحلے تک وسعت دینے کی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ صرف ہائی رسک کارگو کی تفصیلی جانچ پڑتال کی جائے جبکہ رسک مینجمنٹ کو مزید مؤثر بنانے اور تجارتی عمل تیز کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت سے استفادہ حاصل کیا جائے۔
اجلاس کو تمام بندرگاہوں کے لیے ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے اہداف سے آگاہ کیا گیا، بریفنگ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک 30 فیصد پری ارائیول کلیئرنس کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ گرین چینل کا حصہ 65 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر ہے۔
بریفنگ کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک مجاز اقتصادی آپریٹرز (Authorized Economic Operators) کی تعداد 50 سے زائد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تمام بندرگاہوں کے لیے ٹائم ریلیز آٹومیٹڈ سسٹم کے مقررہ اہداف کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم نے نان ٹیرف اقدامات کے جائزے کے لیے ورکنگ گروپ کی بھی منظوری دی اور ہدایت کی کہ ورکنگ گروپ غیر ضروری قواعد کے خاتمے اور تجارت میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ایک ماہ کے اندر روڈ میپ پیش کرے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، جنید انور چوہدری، مشیر وزیراعظم ہارون اختر خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کے ممبران نے شرکت کی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments