نجکاری کمیٹی کا پوسٹل لائف انشورنس کے فنڈز فوری جاری کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: (دنیا نیوز) متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس ہوا، زرعی ترقیاتی بینک کی نجکاری سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا، کمیٹی نے پوسٹل لائف انشورنس کے فنڈز فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

فاروق ستار نے کہا کہ زرعی قرضوں کے حجم بڑھنے کے باوجود کسان خوشحال نہیں ہوا، جب بھی کسان ملک کے لیے بمپر فصل دیتا ہے، فصل کی صحیح قیمت سے محروم ہوجاتا ہے۔

سحر کامران نے کہا کہ بلوچستان میں ڈی اے پی کی بوری 20 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے، نجکاری میں مسلسل تاخیر سے معیشت کو نقصان پہنچا۔

فاروق ستار نے کہا کہ پی آئی اے کی اگر 2015 میں نجکاری ہوتی تو 900 ارب کا نقصان نہ ہوتا، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری وزارت خزانہ حکام پر برس پڑی۔

نجکاری کمیٹی نے کہا کہ پوسٹل لائف انشورنس کے واجبات کے لیے ایک سال سے کوششیں کر رہے ہیں۔

سحر کامران نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی لاڈلی بیوروکریسی کو فنڈز دینے ہوں تو فوری فنڈز ریلیز ہو جاتے ہیں، پوسٹل لائف انشورنس کے فنڈ دینے ہوں تو وزارت خزانہ کے پاس فنڈز نہیں ہوتے۔

فاروق ستار نے کہا کہ وزارت خزانہ کا پوسٹل لائف انشورنس کے فنڈز پر کوئی حق نہیں، لوگوں نے پوسٹل لائف انشورنس میں پیسے لگائے، انہیں وزارت خزانہ کو روکنے کا کوئی حق نہیں۔

نجکاری کمیٹی نے کہا کہ اگر وزارت خزانہ نے پوسٹل لائف انشورنس کے فنڈز فوری جاری نہیں کیے تو قائمہ کمیٹی استحقاق مجروح ہونے کی قرارداد پیش کرے گی۔

فاروق ستار نے کہا کہ قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے 17 ارکان استحقاق مجروح ہونے کی قرارداد پیش کریں تو وزارت خزانہ حکام سنبھالتے رہیں گے، پوسٹل لائف انشورنس کے واجبات کی عدم دستیابی ایک لمحے کے لیے بھی قابل قبول نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پوسٹل لائف انشورنس لینے والے فنڈز کو ترس رہے ہیں، کسی نے بیٹی کی شادی کرنی تھی، پوسٹل لائف انشورنس رکھنے والوں نے بچوں کی فیس دینی ہے، فنڈز روکنا ناانصافی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...