میر رضا علی کیس، پہلے تفتیشی افسر نے 16 دن میں کوئی کام نہیں کیا: جبران ناصر

کراچی: (دنیا نیوز) جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ آج اس کیس کے پہلے تفتیشی افسر کا بیان تھا، شبیر لغاری نے کیس کے پہلے 16 دن تک تفتیشی افسر رہے ہیں، کیس کے لیے یہ 16 دن بہت اہم تھے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ آج شبیر لغاری نے کمیشن میں اعتراف کیا کہ ان 16 دنوں میں کوئی کام نہیں کیا، ٹوٹل 33 گواہان کے بیانات ہیں، 23 بیانات کسی اور نے لیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خول کا ملنا ہو یا ہولسٹر کا ملنا ہو، سب کوئی اور لے کر آتا رہا ہے، فون اور اسمارٹ واچ اے ایس آئی فیصل رحیم نے لا کر دی ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج صرف ایک لی ہے، انہوں نے اس کا بھی ڈی وی آر لیا گیا ہے۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ نئی تحقیقاتی ٹیم کا واحد مقصد اپنے پیٹی بند بھائیوں کو بچانا ہے، اب تک 5 سے 6 پولیس افسران آئے، کمیشن نے سوائے ایک پولیس والے کے تمام پر سوالات اٹھائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ چاہتے ہیں حقیقی قاتلوں کو پکڑا جائے تو جے آئی ٹی بنائی جائے اور ان پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، دعا ہے کہ کسی اور کے ساتھ ایسا واقعہ نہ ہو۔

جبران ناصر نے کہا کہ افسران نے تحقیقات کو سرکس بنا کر رکھا ہے، موجود انویسٹی گیشن ٹیم بھی پولیس کے پرانے موقف کو سیمنٹ لگا کر مضبوط کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج متعدد بار کمیشن نے شبیر لغاری سے کہا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں، اس کے باوجود شبیر لغاری نے کہا کہ وہ مطمئن ہیں۔

جبران ناصر نے مزید کہا کہ ڈاکٹر اسامہ نے ایک پوڈ کاسٹ میں کہا ہے کہ ندیم مغل کچھ چیزیں پہلے سے لکھ کر لائے تھے، احمد اپنے آپ کو خود مشکوک کررہا ہے، ہم نے کہا کہ جو باتیں غیروں سے کررہا ہے ہم سے کرے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی بھی احمد کی باتوں کی دیکھی جائے، جو باتیں وہ فیملی سے کرے گا، ڈاکٹر اسامہ کے ساتھ فیروز آباد پولیس کا ایک اہلکار ساتھ آیا تھا۔

جبران ناصر نے کہا کہ ڈاکٹر اسامہ نے حتمی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں اپنی عبوری رپورٹ کی نفی کی، اب وہ اپنے دستخط سے جاری رپورٹ سے انکاری ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...