کے پی پولیس ایکٹ وفاقی قوانین سے متصادم ہے: بیرسٹر عقیل ملک

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کا مجوزہ پولیس ایکٹ سیاسی بنایا گیا ہے، پی ایس پی افسران کی تعیناتی صرف وفاق کرسکتا ہے، نیا رواج سیٹ کرنے کی کوشش غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے اختیار ولی خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس کو تابع لانے کے لیے ایکٹ لایا گیا، مجوزہ کے پی پولیس ایکٹ کو سیاسی بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایس پی افسران کی تعیناتی صرف وفاق کرسکتا ہے، خیبرپختونخوا کابینہ کے پاس ایسا قانون پاس کرنے کا اختیار نہیں، صوبے خود سے پی ایس پی افسران کی تعیناتی پر عملدرآمد نہیں کرسکتے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 سال سے سرکس لگا ہوا ہے، صوبے میں دہشت گردی بڑھ رہی ہے اور یہ احتجاج کررہے ہیں، اب یہ پولیس کو اپنے تابع لانے کے لیے ایکٹ پاس کررہے ہیں۔

خیبرپختونخوا کابینہ نے 23 ستمبر کو پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے کی منظوری دی تھی، جس میں پولیس کے پالیسی، انتظامی، آپریشنل اور مالی معاملات میں صوبائی حکومت کے اختیارات بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔

وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے بھی مجوزہ قانون کو آئین اور پاکستان پولیس سروس کے قواعد سے متصادم قرار دیا ہے۔

پی ٹی آئی والے پولیس کو اپنا عسکری ونگ بنانے جارہے ہیں: اختیار ولی خان

اختیار ولی خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پی ٹی آئی والوں کی انتشار کی سیاست آئے دن پروان چڑھ رہی ہے، یہ پولیس کو اپنا عسکری ونگ بنانے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا صوبہ انتظامی حوالے سے لاوارث ہوچکا، یہ پولیس کو ٹائیگر فورس میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی والوں کی انتشار کی سیاست میں اضافہ ہورہا ہے، "چلو، چلو اسلام آباد چلو، چلو، چلو لاہور چلو" میں سارا مال کھا گئے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے شہدا کے جنازوں میں شامل نہیں ہوتے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی خیبرپختونخوا پولیس کو انتشار اور فساد کے لیے استعمال کرنا چاہ رہے ہیں۔

اختیار ولی خان نے کہا کہ ان کا بنایا ہوا قانون وفاقی حکومت کے ساتھ متصادم ہے، یہ تصادم کی طرف جانا چاہتے ہیں، یہ ایمرجنسی لگانے کے لیے سارا مواد فراہم کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم آخری حد تک صبر کریں گے، جب تک صوبے کے لوگ اور سیاسی جماعتیں نہیں بولیں گی تب تک گورنر راج نہیں لگائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...