غزہ میں جنگ بندی کو ایک سال مکمل، فلسطینیوں کو تاحال امن نصیب نہ ہو سکا

غزہ: (دنیا نیوز) غزہ میں امریکا کی ثالثی میں اعلان کردہ جنگ بندی کو ایک سال مکمل ہو گیا، تاہم بے گھر فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود انہیں امن نصیب نہیں ہوا اور اسرائیلی حملے اب بھی جاری ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے حملوں کی شدت میں کمی ضرور کی ہے، لیکن غزہ کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ اسرائیل اب بھی غزہ کے تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے۔

جنگ بندی معاہدے کے تحت تباہ حال غزہ کی تعمیر نو تاحال شروع نہیں ہو سکی، لاکھوں فلسطینی خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2026 کے وسط تک غزہ کی 82 فیصد عمارتیں نقصان کا شکار ہو چکی تھیں یا مکمل طور پر تباہ ہو گئی تھیں۔

غزہ کے رہائشیوں کو صاف پانی، خوراک اور مالی امداد کی شدید قلت کا سامنا ہے، جبکہ گنجان آباد عارضی کیمپوں میں صفائی کی ناقص صورتحال کے باعث بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے، ڈاکٹروں اور بے گھر شہریوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود زمینی حالات میں کوئی نمایاں بہتری نہیں آئی۔

معاہدے کے دوسرے مرحلے میں غزہ کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اور بین الاقوامی فورس کی تعیناتی شامل تھی، تاہم مذکورہ فورس نے تاحال علاقے میں کام شروع نہیں کیا۔

اسرائیل کی جانب سے داخلی راستوں پر کنٹرول اور امدادی سامان کی محدود آمد کے باعث بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی عام فلسطینیوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔

جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی غزہ میں تعمیر نو، بنیادی سہولتوں کی بحالی اور بے گھر افراد کی آبادکاری بڑے چیلنجز ہیں، جبکہ فلسطینی شہری مستقل امن اور معمولاتِ زندگی کی بحالی کے منتظر ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...