پٹرولیم کفایت شعاری سے حاصل رقم عوامی فلاح کیلئے استعمال ہوگی: وزیراعظم
اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثرات اور حکومتی بچت اقدامات کے نفاذ کا جائزہ اجلاس ہوا جس میں طے پایا کہ کفایت شعاری سے حاصل شدہ رقم عوامی ریلیف پر خرچ ہوگی۔
اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام کیلئے پالیسی اقدامات اور حکومت کی جانب سے بچت اقدامات کے نفاذ پر پیش رفت و ان کے اثرات پر گفتگو ہوئی.
اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومتی بچت اقدامات سے حاصل شدہ رقوم کو موجودہ حالات میں عوامی ریلیف کیلئے استعمال کیا جائے گا، تمام کفایت شعاری کے اقدامات سے کی گئی بچت عوامی ریلیف کے لیے ہی استعمال ہو گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کی طرح ریاستی ملکیتی اداروں اور حکومتی سرپرستی میں خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں سے درجہ بہ درجہ 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی ہوگی جسے عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کارپوریشنز اور دیگر ادارے جن کے بورڈز میں حکومتی نمائندے موجود ہیں، وہ حکومتی نمائندے بورڈ میں شرکت کی فیس نہیں لیں گے اور اس فیس کو بچت کی رقم میں شامل کیا جائےگا.
وزیرِ اعظم نے دنیا بھر میں موجود تمام پاکستانی سفارتخانوں کو 23 مارچ کی تقریبات کو انتہائی سادگی سے منانے کی ہدایت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف بی آر پر ہفتہ وار چار دنوں کا اطلاق نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنے پرانے طریقہ کار کے مطابق فرائض سرانجام دیں گے.
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ دو ماہ تمام محکموں کی سرکاری گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد گراؤنڈ کئے جانے کے فیصلے کے حوالے سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے گا۔
اجلاس کو حکومت کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور باقی تمام سرکاری خریداریوں پر پابندی پر عملدرآمد پر بھی بریفنگ دی گئی.
اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ دو ماہ کیلئے کابینہ ارکان، وزراء مشیران اور معاون خصوصی کی تنخواہیں کو بھی بچت کے طور پر عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کے بیرونی دوروں پر بھی مکمل پابندی اور ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کے فیصلے کے اطلاق پر بھی اجلاس کو آگاہی دی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری افسران، وزراء، وزرا مملکت اور معاون خصوصی کے بیرونی دوروں پر مکمل پابندی پر عائد رہے گی، ان تمام سادگی اور کفایت شعاری کے احکامات و اقدامات پر عمل درآمد اور نگرانی متعلقہ سیکریٹریز خود کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے.
اجلاس میں وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔