پاکستان کا ویٹو پاور کے خاتمے، مشرقی کانگو میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ
نیویارک: (دنیا نیوز) پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کے خاتمے اور مشرقی کانگو میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا، سلامتی کونسل میں مستقل اراکین کی تعداد میں کسی بھی اضافے کی بھی مخالفت کی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل اصلاحات سے متعلق بین الحکومتی مذاکرات کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان غیر مستقل نشستوں میں اضافے کا حامی ہے تاکہ ویٹو پاور کے اثر کو متوازن کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ منتخب اراکین کی تعداد بڑھانے سے طاقت کا توازن مستقل اراکین کے حق میں جھکاؤ کم ہوگا، سلامتی کونسل میں اہم عالمی معاملات پر تعطل کی بڑی وجہ مستقل اراکین کی جانب سے ویٹو پاور کا غلط یا بے جا استعمال ہے، ویٹو پاور میں توسیع یا نئے مستقل اراکین کو یہ اختیار دینا مسائل کو مزید بڑھائے گا، اس لیے پاکستان اس کی اصولی طور پر مخالفت کرتا ہے۔
پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اٹلی اور پاکستان کی قیادت میں قائم ’یونائٹنگ فار کنسینسس‘ گروپ مستقل نشستوں میں اضافے کے خلاف ہے، جبکہ بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل G-4 گروپ مستقل نشستوں کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ ویٹو پاور آج کے دور میں ایک فرسودہ تصور بن چکا ہے اور اس کے خلاف عالمی سطح پر مضبوط رائے موجود ہے، اس کے باوجود اس اختیار کو بڑھانے کی تجاویز دی جا رہی ہیں، جو ایک تضاد ہے، سلامتی کونسل کی اصلاحات جامع ہونی چاہئیں اور ویٹو پاور سمیت تمام معاملات کو ایک ساتھ حل کیا جانا چاہئے، جبکہ اس کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانے کی ضرورت ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور تیز تر سفارتی اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ خطے میں جاری تشدد، انسانی بحران کی شدت اور بے گھر افراد کی بڑھتی تعداد اس امر کی عکاس ہے کہ امن کا قیام فوری ضرورت بن چکا ہے۔
انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2773 پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار جنگ بندی ہی خطے میں دیرپا استحکام کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے، مشرقی کانگو میں قدرتی وسائل کی غیر قانونی کان کنی اور سمگلنگ بدامنی کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں جن کے تدارک کے لیے علاقائی تعاون، شفاف سپلائی چین اور مؤثر حکمت عملی ناگزیر ہے تاکہ یہ وسائل عوام کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بن سکیں۔
پاکستان نے جمہوریہ کانگو کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ اور مؤثر اقدامات کرے۔