دو سال بعد بھی عام انتخابات کی ایک تہائی درخواستیں زیرالتوا ہیں: فافن

اسلام آباد:(دنیا نیوز) دو سال گزرنے کے باوجودعام انتخابات کی ایک تہائی سے زائد انتخابی درخواستیں تاحال زیر التوا ہیں۔

فافن رپورٹ کے مطابق انتخابی ٹربیونلز نے 374 میں سے 246 انتخابی درخواستوں کا فیصلہ کردیا، 128 انتخابی عذداریاں تاحال اب بھی زیر سماعت ہے، قومی اسمبلی نشستوں سے متعلق 124 میں سے 73 درخواستیں نمٹائی گئیں۔

اِسی طرح صوبائی اسمبلیوں سے متعلق 250 میں سے 173 درخواستیں نمٹادی گئیں، انتخابی عذاردایوں پر فیصلے کی قانونی مدت اکتوبر 2024 میں ختم ہوگئی تھی، حالیہ مہینوں میں انتخابی درخواستوں کے فیصلوں کی رفتار مزید سست پڑگئی۔

فافن رپورٹ میں بتایا گیا کہ 31 جولائی 2025 کے بعد نو ماہ میں صرف 75 درخواستوں کا فیصلہ ہوا، بلوچستان انتخابی درخواستوں کے فیصلوں میں سرفہرست، 94 فیصد درخواستیں نمٹا دی گئیں۔

پنجاب میں 77، خیبر پختونخوا60جبکہ سندھ میں 29 فیصد درخواستوں کا فیصلہ ہوا، اسلام آباد کی کسی نشست سے متعلق کوئی انتخابی درخواست تاحال نمٹائی نہ جاسکی، اسلام آباد میں انتخابی درخواستوں کی منتقلی سے متعلق مقدمات زیر التوا ہیں۔

فافن رپورٹ میں لکھا گیا کہ فیصلہ شدہ 246 میں سے 123 ٹربیونل فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا، سپریم کورٹ نے اب تک 18 انتخابی اپیلوں کا فیصلہ کیا،سپریم کورٹ نے انتخابی اپیلوں میں 3 منظور جبکہ 15 مسترد کردیں۔

دوسری جانب رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 105 انتخابی اپیلیں اب بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہیں، سندھ، بلوچستان اور پشاور ہائیکورٹ کے ٹربیونلز میں ریکارڈ تک عوامی رسائی بہتر قرار پائی، پنجاب کے ٹربیونلز میں درخواستوں کے متن اور فیصلوں تک رسائی فراہم نہیں کی جا رہی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں