جیل میں طبی معائنے کیلئے اہلخانہ کی موجودگی قانون میں لازم نہیں: رانا ثنا اللہ
اسلام آباد: (دنیا نیوز) مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جیل میں طبی معائنے کیلئے اہلخانہ کی موجودگی قانون میں لازم نہیں۔
رانا ثنا اللہ نے اپوزیشن کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا جیل رولز میں لکھا ہے ان کے گھر والوں کو بلایا جائے گا اور انکی نگرانی میں علاج ہو گا؟ ایسا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سزا یافتہ افراد کے بنیادی حقوق جیل رولز اور قانون کے مطابق ہوتے ہیں، سانحہ 9 مئی جیسے واقعات پر مقدمات کا اندراج ظلم نہیں، پارلیمنٹ کے پاس عدالتی سزائیں کالعدم قرار دینے کا اختیار نہیں۔
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ ہر معاملے پر بات چیت کیلئے تیار ہے، اپوزیشن آگے بڑھے وزیراعظم کی طرف سے آفر موجود ہے، آپ کی وزیر اعظم سے 24 گھنٹے میں ملاقات ہو سکتی ہے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا بحث کو چار پانچ لوگوں سے جوڑ دیا گیا جو عدالتی کسٹڈی میں ہیں، کبھی کہتے ہیں بشریٰ بی بی کو الگ کیوں رکھا جاتا ہے، کبھی کہتے ہیں جرائم پیشہ خواتین کے ساتھ رکھا جاتا ہے۔