پنجاب اسمبلی میں سندھ طاس معاہدہ، ماحولیاتی آلودگی سمیت متعدد قراردادیں منظور

لاہور: (دنیا نیوز) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر مذمتی قرارداد سمیت اقلیتی قیدیوں کو مذہبی تعلیم کی فراہمی اور غذائی وسائل کے ضیاع و ماحولیاتی آلودگی کے تدارک سے متعلق قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں جبکہ صفائی ورکرز کی حفاظت کے بل پر حکومت سے مشاورت کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن نرگس فیض ملک نے راولپنڈی میں مون سون کی بارشوں اور حکومتی اقدامات پر شدید تنقید بھی کی۔

بھارت کیخلاف مذمتی قرارداد منظور

پنجاب اسمبلی میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ قرارداد حکومتی ارکان اسمبلی رانا محمد ارشد اور احسن رضا کی جانب سے پیش کی گئی۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان کے جائز آبی حقوق اور بین الاقوامی اصول کی خلاف ورزی ہے، ایوان عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی تائید کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے۔

قرارداد میں وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور اسحاق ڈار سمیت پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا گیا، ایوان نے مطالبہ کیا کہ سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کیا جائے اور پاکستان کو دریاؤں کے جائز حصے کے حصول کے لیے تمام ذرائع بروئے کار لائے جائیں، قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پاکستان کے پانی پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

اقلیتی قیدیوں کو مذہبی تعلیم اور اساتذہ کی فراہمی کی قرارداد منظور

پنجاب اسمبلی میں اقلیتی قیدیوں کو مذہبی عقائد کے متعلق تدریسی کتب اور اساتذہ کی فراہمی کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی گئی، قرارداد حکومتی رکن راحیلہ خادم حسین نے ایوان میں پیش کی۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب پریزن رولز 1978ء کے رول 215 کے تحت مذہبی تعلیم کی بنیاد پر قیدیوں کو سزاؤں میں رعایت اور قید کی مدت میں قانون کے مطابق کمی دی جاتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2020 سے 2025 کے دوران تقریباً 2558 مسلم قیدیوں نے دینی تعلیم حاصل کرکے اس سہولت سے استفادہ کیا۔

ایوان نے قرار دیا کہ مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو بھی مذہبی نصاب کی تعلیم، امتحانات میں شرکت اور کامیابی کی بنیاد پر قانون کے مطابق سزاؤں میں رعایت حاصل کرنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔

قرارداد کے متن کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں موجود تقریباً 1624 اقلیتی قیدیوں کے پیش نظر اس نظام کو عملی اور مؤثر بنانا نہایت ضروری ہے، حکومت پنجاب سے رول 215 پر بلا امتیاز فوری عمل درآمد اور اقلیتی قیدیوں کے لیے مذہبی تعلیم و امتحانات کا باقاعدہ انتظام کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

غذائی وسائل کے ضیاع اور ماحولیاتی آلودگی روکنے کیلئے قرارداد منظور

پنجاب اسمبلی میں غذائی وسائل کے ضیاع کو روکنے، ماحولیاتی آلودگی کے تدارک اور نئی معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے قرارداد منظور کر لی گئی، قرارداد حکومتی رکن سنبل مالک حسین نے ایوان میں پیش کی۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب اور پاکستان بھر میں ڈیری فارمنگ اور ڈیری پروسیسنگ انڈسٹری سے بڑی مقدار میں فضلہ پیدا ہوتا ہے جو غذائیت سے بھرپور ہونے کے باوجود مناسب استعمال نہ ہونے کے باعث ضائع ہو جاتا ہے۔

متعدد ڈیری فیکٹریاں ویسٹ اور دیگر نامیاتی فضلہ بغیر مناسب ٹریٹمنٹ کے سیوریج، ندی نالوں اور آبی گزرگاہوں میں خارج کرتی ہیں، جس سے آبی آلودگی، ماحولیاتی خرابی، زیرزمین پانی کے معیار میں کمی اور عوامی صحت کو خطرات لاحق ہیں۔

قرارداد میں محکمہ ماحولیات پنجاب سے بغیر ٹریٹمنٹ ویسٹ یا دیگر آلودہ فضلے کے اخراج کی مؤثر نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والے یونٹس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

صفائی ورکرز کی حفاظت کا بل دوبارہ لانے کی ہدایت

سپیکر پنجاب اسمبلی نے احمد اقبال کو صفائی ورکرز کی حفاظت کا بل پیش کرنے سے روک دیا، سپیکر نے دی پنجاب ویسٹ اینڈ سینیٹیشن ورکرز، ڈگنیٹی، سیفٹی، سکیورٹی اینڈ ویلفیئر بل 2026 کو پیش کرنے سے روک دیا۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اس بل پر حکومت کے ساتھ مل کر مشاورت کریں، تمام پہلوؤں پر بات کریں اور اس کے مالی تناظر کو دیکھ کر دوبارہ اسی اجلاس میں بل لایا جائے، احمد اقبال نے کہا کہ اگر حکومت اس بل کو اڈاپٹ کرنا چاہتی ہے تو مجھے خوشی ہوگی۔

احمد اقبال چوہدری نے کہا کہ افسوس ہوتا ہے جب سینیٹری ورکر بغیر کپڑوں کے گٹروں میں اترتا ہے، ان کی اموات میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بل ان ورکرز کے تحفظ کے لیے ہے، میں چاہتا ہوں یہ بل کسی صورت نظر انداز نہ ہو۔

سپیکر پنجاب اسمبلی نے پارلیمانی سیکرٹری کو ہدایت کی کہ خالد رانجھا کل یا پرسوں احمد اقبال کے ساتھ بیٹھ کر اس پر کام کریں اور بل کو پرسوں کے ایجنڈے پر لے کر آئیں۔

احمد اقبال نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ان لوگوں کے لیے سیفٹی کے معیارات طے کیے جائیں۔ سمیع اللہ خان نے کہا کہ ہمیں حکومت کو مجبور کرنا چاہیے، اگر یہ منی بل ہے تو بھی اس پر راستہ نکالیں کیونکہ جو لوگ گراؤنڈ پر کام کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیرو ہیں۔

نرگس فیض ملک کی حکومت پر تنقید

پنجاب اسمبلی اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نرگس فیض ملک نے پینل آف چیئرپرسن راجہ شوکت بھٹی کو کھری کھری سنا دیں، نرگس فیض ملک نے کہا کہ راولپنڈی میں مون سون کی بارش کے باعث سب کچھ پانی میں ڈوب گیا ہے اور حکومت کچھ نہیں کر رہی۔

نرگس فیض ملک نے کہا کہ آپ کا تعلق راولپنڈی سے ہے اور وہیں سے ووٹ لے کر آپ ایوان میں آئے ہیں، اس پر بات کیوں نہیں کرتے۔ لوگوں کے گھروں میں تین تین فٹ تک پانی جمع ہے۔

انہوں نے کہا کہ سارا پیسہ اگر لاہور پر لگانا ہے تو باقی صوبے کا کوئی والی وارث بھی ہے یا نہیں۔ پاک فوج کے جوانوں کو خراج تحسین جنہوں نے صورتحال کو سنبھالا ہے۔

نرگس فیض ملک نے کہا کہ ستھرا پنجاب کہاں ہے، ہمیں نظر تو نہیں آرہا، سب کیس کھلیں گے اور سب سے زیادہ بڑا کرپشن ستھرا پنجاب میں سامنے آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز گیارہ ارب کے جہاز میں گھومتی ہے مگر عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔

پینل آف چیئرپرسن راجہ شوکت بھٹی نرگس فیض ملک کے بیان پر وضاحتیں دیتے رہے، انہوں نے کہا کہ پانی کے مسئلے پر جواب دینا میرا کام نہیں بلکہ متعلقہ محکمہ جوابدہ ہے۔

اجلاس بدھ کی دوپہر 2 بجے تک ملتوی

ایجنڈا مکمل ہونے پر پینل آف چیئرپرسن راجہ شوکت بھٹی نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس بدھ کی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...