زرعی زمینوں کی یکجائی کا 66 سال پرانا قانونی نظام ختم، گورنر نے دستخط کر دیئے
لاہور: (دنیا نیوز) پنجاب میں زرعی زمینوں کی یکجائی کا 66 سال پرانا قانونی نظام ختم کردیا گیا، گورنر پنجاب نے پنجاب کنسالیڈیشن آف ہولڈنگز ریپیل ایکٹ 2026 کی منظوری دے دی۔
پنجاب کنسالیڈیشن آف ہولڈنگز آرڈیننس 1960 منسوخ کردیا گیا، نیا قانون فوری طور پر نافذ ہوگیا، پنجاب میں 1960 کے قانون کے تحت زرعی زمینوں کی یکجائی کی کوئی نئی کارروائی شروع نہیں کی جاسکے گی۔
پرانا قانون ختم ہونے کے باوجود اس کے تحت پہلے سے کیے گئے اقدامات، حاصل شدہ حقوق، مراعات، ذمہ داریاں اور واجبات برقرار رہیں گے، پہلے سے منظور شدہ زرعی زمینوں کی یکجائی کی سکیمیں بھی ختم نہیں ہوں گی، زیرالتوا معاملات نمٹانے کے لیے عبوری طریقہ کار مقرر کردیا گیا ہے۔
پہلے سے منظور شدہ یکجائی سکیموں پر عملدرآمد کے لیے 365 روز کی حتمی مدت مقرر کردی گئی ہے، 365 روز میں سکیم مکمل نہ ہونے کی صورت میں معاملہ متعلقہ ضلع کے کلکٹر کو منتقل کردیا جائے گا۔
زیرالتوا سکیموں میں زمین کا قبضہ منتقل کرنے اور زیرالتوا اعتراضات نمٹانے کا عمل بھی مکمل کیا جائے گا۔
غیرتصدیق شدہ سکیم میں 70 فیصد یا اس سے زائد حصصِ استحقاق مکمل ہونے کی صورت میں باقی کارروائی کے لیے 180 روز کی مہلت مقرر کی گئی ہے، 180 روز میں باقی حصصِ استحقاق مکمل ہونے کے بعد تصدیق شدہ سکیم عملدرآمد کے لیے متعلقہ ضلعی کلکٹر کو منتقل کردی جائے گی۔
70 فیصد یا اس سے زائد کام والی سکیم مقررہ 180 روز میں مکمل نہ ہوئی تو زمینوں کی یکجائی کی کارروائی منسوخ تصور ہوگی۔
جن غیرتصدیق شدہ سکیموں میں حصصِ استحقاق کا کام 70 فیصد سے کم مکمل ہوا، انہیں ختم کرکے متعلقہ ریکارڈ ضلعی کلکٹر کے حوالے کردیا جائے گا۔
پرانے نظام کے خاتمے کے بعد نامکمل سکیموں پر عملدرآمد پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت متعلقہ ضلعی کلکٹر کرے گا۔
نئے قانون پر عملدرآمد کے لیے بورڈ آف ریونیو کو ہدایات اور رہنما اصول جاری کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے، زرعی زمینوں کی یکجائی سے متعلق معاملات کے لیے بورڈ آف ریونیو الیکٹرانک یا ڈیجیٹل نظام بھی قائم کرسکے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments