کوہاٹ میں پولیس لائن کے قریب دھماکا، اہلکاروں سمیت 25 افراد زخمی

کوہاٹ: (دنیا نیوز) کوہاٹ میں پولیس لائن کے قریب دھماکے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 25 افراد زخمی ہو گئے، متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق پرانی پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی ہے، تاہم دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، دھماکے کے بعد ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

کوہاٹ کی پرانی پولیس لائن کے قریب دھماکے کے بعد ریسکیو 1122 کا امدادی و ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے، جائے وقوعہ پر اس وقت ریسکیو 1122 کی 14 ایمبولینسز، ریسکیو ور ریکوری ویکلز اور 40 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

ریسکیو اہلکار زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی اور انہیں ہسپتال منتقل کرنے میں مصروف ہیں، ریسکیو آپریشن کی نگرانی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نور الامین خود کررہے ہیں، ریسکیو آپریشن مکمل ہونے تک امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کوہاٹ پولیس لائنز مسجد پر دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ سے رپورٹ طلب کر لی۔

آئی جی پی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس دہشتگردی کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑی ہے، بزدلانہ حملے حوصلہ پست نہیں کر سکتے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کوہاٹ کی پرانی پولیس لائن میں ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور متعدد افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کرلی۔

ادھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔

وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی کا یہ بزدلانہ واقعہ انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول ہے، زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ہسپتالوں میں زخمیوں کے فوری علاج اور ضروری طبی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائی جائے، شدید زخمیوں کو ضرورت کے مطابق دیگر ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...