بلوچستان اسمبلی نے کوڈ آف کریمنل پروسیجر ترمیمی مسودہ قانون منظور کرلیا

کوئٹہ: (دنیا نیوز) بلوچستان اسمبلی نے کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898 بلوچستان کا ترمیمی مسودہ قانون منظور کرلیا۔

صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے وزیر داخلہ کی جانب سے مسودہ قانون پیش کیا، مسودہ قانون قائمہ کمیٹی برائے محکمہ داخلہ کی سفارشات کے بموجب منظور کیا گیا۔

صوبائی اسمبلی نے بلوچستان سیٹیزن فیسیلیٹیشن اینڈ گورننس کا مسودہ قانون 2026 بھی منظور کرلیا، صوبائی وزیر میر سلیم کھوسہ نے وزیر داخلہ کی جانب سے مسودہ قانون پیش کیا، ایوان نے مسودہ قانون قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی سفارشات کے بموجب منظور کیا۔

بلوچستان کیڈٹ کالجز کا ترمیمی مسودہ قانون 2026 صوبائی اسمبلی میں پیش کردیا گیا، مسودہ قانون متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔

محکمہ جنگلات میں بھرتیوں میں بدعنوانی کے الزامات پر اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے ان الزامات پر تحقیقات کا اعلان کیا تھا، اب معلوم ہوا کہ وزیراعلیٰ نے وہ آسامیاں منسوخ کردی ہیں۔

میر یونس عزیز زہری نے استفسار کیا کہ تحقیقات کیلئے کمیٹی نہیں بنی، کیوں؟ فیصلہ اسمبلی میں ہونے کا کہا گیا تھا، چیزیں انڈر ٹیبل ہوئی ہیں۔

اس پر سپیکر اسمبلی عبدالخالق اچکزئی نے کہا کہ انڈر ٹیبل کچھ نہیں ہوا، سب کچھ سب کے سامنے کیا جارہا ہے، میں بیرون ملک تھا، اس وجہ سے کمیٹی نہ بن سکی، آئندہ دو دنوں میں کمیٹی بن جائے گی۔

صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا مشکور ہوں، انہوں نے میری شکایت کا نوٹس لیا، وزیراعلیٰ شکایت پر خوش ہوئے اور سنجیدہ کارروائی بھی کی۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے لینگویجز اکیڈیمیز کے عہدیداران نے آگاہ کیا ہے کہ ان کی فنڈز بند ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی وزیر خزانہ سے گزارش ہے لینگوئجز اکیڈیمیز کے فنڈز جاری کردیں۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ روڈ نالیاں بنتی رہتی ہیں، اکیڈیمیز کے فنڈز جاری کردیں۔

رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن نے اسماء جتک کے والد کے قتل کیس سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خضدار میں قتل کیس سے جڑے لوگوں کو مارنے کا کہا گیا ہے، اسماء جتک کے اصل اغوا کار اور اس کے والد، ماموں کے اصل قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔

مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ ہر اسمبلی اجلاس میں اٹھ کر کہوں گا۔

صوبائی وزیر علی مدد جتک نے بھی اصل قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سردار ہو یا نواب، جو بھی ہو اصل قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ سرداروں، نوابوں کے ظالم گن مینوں کی وجہ سے لوگ کہاں جائیں؟

علی مدد جتک نے کہا کہ سوشل میڈیا پر معلوم ہوا کہ تین قاتل مارے گئے ہیں۔

محکمہ جنگلات میں بھرتیوں کے معاملے پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم نے اپنا کام کردیا ہے، تین آفیسران معطل ہیں، ان کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 9 اکتوبر جمعہ سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...