اسرائیل کا غزہ میں کام کرنے والے درجنوں امدادی اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان

تل ابیب: (دنیا نیوز) اسرائیل نے جنگ سے تباہ حال غزہ میں کام کرنے والے درجنوں امدادی اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔

عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جن اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں ان اداروں میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز، نارویجن ریفیوجی کونسل، کیئرانٹرنیشنل، انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی، آکسفیم اور کیریٹاس جیسے بڑے بین الاقوامی ادارے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے کہا کہ آج سے شروع ہونے والی پابندیوں کا سامنا کرنے والے تقریباً تین درجن امدادی اداروں نے اپنے عملے، فنڈنگ اور آپریشنز کے بارے میں معلومات شیئر کرنے کے لیے نئے تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔

اسرائیل نے ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز پر الزام عائد کیا کہ یہ ادارہ عملے کے کچھ ارکان کے کردار کو واضح کرنے میں ناکام رہا اور الزام لگایا کہ وہ فلسطینی عسکریت پسندوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، اسرائیلی وزیر امیچائی چکلی نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے لیے انسانی ہمدردی کے فریم ورک کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ڈاکٹرزودآؤٹ بارڈرز( فرانسیسی نام کا مخفف ایم ایس ایف) غزہ میں کام کرنے والے سب سے بڑے طبی اداروں میں سے ایک ہے جہاں اسرائیل نے جنگ کے دوران ہسپتالوں سمیت صحت کے شعبے کو تباہ کر دیا ہے۔

ایم ایس ایف کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فیصلے سےغزہ میں اس کی امدادی سرگرمیوں پر تباہ کن اثر پڑے گا، ادارے نے اپنے عملے بارے اسرائیل کے الزامات کی بھی تردید کی۔

برطانیہ نے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جیمز سمتھ جنہوں نے غزہ میں رضاکارانہ خدمات انجام دیں اور پھر اسرائیلی حکام نے انہیں دوبارہ داخلے سے منع کر دیا نے امدادی گروپوں پر پابندیوں کی مذمت کی ہے، انہوں نے بتایا کہ ایسی صورتحال جو پہلے سے ہی خوفناک ہے اسے مزید بھیانک بنا دیا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں