برطانوی وزیراعظم نے پیٹر مینڈلسن کی بطور سفیر تعیناتی پر معافی مانگ لی
لندن: (دنیا نیوز) برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے ایپسٹین کے دوست پیٹر مینڈیلسن کی امریکا میں بطور سفیر تعیناتی پر معافی مانگ لی۔
یہ پیش رفت پیٹر مینڈلسن کے بدنام زمانہ شخصیت جیفری ایپسٹین سے قریبی تعلقات سامنے آنے کے بعد بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے پش منظر میں سامنے آئی ہے۔
پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران کیئر سٹارمر نے کہا کہ یہ بات پہلے سے معلوم تھی کہ پیٹر مینڈلسن دراصل جیفری ایپسٹین کو جانتے تھے، لیکن اس تعلق کی گہرائی اور تاریکی سے کوئی واقف نہیں تھا۔
وزیراعظم کیئر سٹارمر نے دسمبر 2024 میں پیٹر مینڈلسن کو امریکا میں برطانوی سفیر مقرر کیا تھا، انہوں نے متاثرین کو مخاطب کرتے ہوئے مینڈلسن کی تقرری پر معذرت کا اظہار کیا۔
سٹارمر نے گزشتہ برس ستمبر میں مینڈلسن کو برطرف کر دیا تھا، جب منظر عام پر آنیوالی میلز سے ظاہر ہوا کہ وہ 2008 میں امریکا میں کمسن افراد سے متعلق جنسی جرائم میں سزا یافتہ ایپسٹین کے ساتھ تعلق برقرار رکھے ہوئے تھے۔
تاہم اب امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ نئی دستاویزات کے بعد اس تقرری کی مخالفت مین دوبارہ دباؤ بڑھ گیا ہے، جن میں مینڈلسن اور ایپسٹین کے قریبی تعلقات کی مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
ان دستاویزات میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ پیٹر مینڈلسن نے مبینہ طور پر سرکاری دستاویزات ایپسٹین کو فراہم کیں، جبکہ جیفری ایپسٹین نے مینڈلسن یا ان کے اس وقت کے پارٹنر کو ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی رکھا۔
اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں پولیس تحقیقات کا سامنا کرنیوالے پیٹر مینڈلسن نے کہا ہے کہ انہیں کسی ادائیگی کی یاد نہیں اور انہوں نے دستاویزات لیک کرنے کے الزامات پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
دوسری جانب اسٹارمر کو اس معاملے پر شدید تنقید کا سامنا ہے، انہوں نے پہلے کہا تھا کہ وہ تقرری کے وقت حاصل کردہ جانچ پڑتال کی تفصیلات جاری کریں گے، تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ پولیس کی درخواست کے باعث وہ ایسا نہیں کر سکتے تاکہ تحقیقات متاثر نہ ہوں۔